توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے۔ انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ کی غلطی کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، ایران کی فوجی قیادت کا انتباہ

    ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف ’کوئی غلطی‘ کی تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی تنصیبات، تعیناتی مراکز اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے ردعمل کا منتظر ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ خطہ اس وقت ’سلامتی کے انتہائی حساس مرحلے‘ سے گزر رہا ہے، جہاں امریکی فوجی نقل و حرکت کشیدگی میں اضافے کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، جبکہ سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق تہران کا مؤقف یہ ہے کہ ’ایران جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اگر دشمن جنگ مسلط کرتا ہے تو ایران اپنی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘

  2. امریکی پابندیوں اور اسرائیلی مؤقف کے باوجود ایران ثابت قدم رہے گا، صدر پزشکیان

    Masood Pezeshkian

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے یہ سمجھا کہ پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو نشانہ بنا کر انھیں کمزور کیا جا سکتا ہے، انھوں نے غلط اندازہ لگایا۔ ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل ایران کو خود انحصاری سے روکنا چاہتے ہیں، تاہم ایران اپنے عوام اور داخلی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

    قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے خطے کے بعض ممالک کو جنگ میں گھسیٹ لیا، کیونکہ انھیں یقین تھا کہ ایرانی نظام چند دنوں میں گر جائے گا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے ڈٹے رہے ہیں اور آئندہ بھی ثابت قدم رہیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے اور خطے کو کسی ’چوکیدار‘ یا بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں۔

    ’امریکہ اور اسرائیل مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں‘

    مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور امریکہ خطے کی دولت پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ایران پر حملے بعض مسلم ممالک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے کیے گئے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دشمن‘ ایرانی حکام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن آج ایران میں غیر معمولی اتحاد اور یکجہتی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    ’یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ایران سے تعلق نہیں‘

    یمن کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ حوثی گروہ اور سعودی عرب کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہییں اور ایران اس تنازع کے حل میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں‘ اور ایران ہر اس قوم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جو ناانصافی کا شکار ہو۔

    مسعود پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور ’ایک بھائی کو اپنے بھائی سے نہیں لڑنا چاہیے‘۔

  3. ایرانی پروازوں پر امریکی پابندیاں، عراق کا بعض ہوائی اڈوں کے لیے استثنیٰ کا مطالبہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراقی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ نئے امریکی پابندیوں سے عراق کے بعض ہوائی اڈوں کو استثنیٰ دلانے کے لیے امریکی حکام سے براہِ راست مذاکرات کر رہا ہے۔

    امریکہ نے حالیہ پابندیوں کے تحت ان ہوائی اڈوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کی دھمکی دی ہے جہاں ایرانی پروازوں کو سہولت یا خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ چند روز کے دوران عراق سمیت پڑوسی ممالک کے لیے متعدد ایرانی پروازیں معطل ہو گئی ہیں۔

    عراقی وزیر اعظم کے دفتر نے سنیچر کو جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کا مقصد ایسا استثنیٰ حاصل کرنا ہے جس سے طبی علاج، تعلیم، مذہبی زیارات اور شہری امور سمیت انسانی بنیادوں پر فضائی سفر بحال کیا جا سکے۔

    بیان میں کہا گیا کہ عراق خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور دیتا ہے کہ بحران کا جاری رہنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

    عراق نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ موجودہ بحران اور تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ایسے حل تلاش کیے جائیں جو خطے کے ممالک اور عوام کے مفاد میں ہوں۔

  4. اسرائیلی فوج کے مقبوضہ مغربی کنارے کی کئی بستیوں پر چھاپے

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے آج صبح مقبوضہ مغربی کنارے میں یروشلم کے شمال میں واقع کفر عقب قصبے اور البیرہ شہر پر چھاپے مارے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے کفر عقب کی سڑکوں پر اپنی گاڑیاں چلائیں اور پھر البیرہ کی جانب روانہ ہوئیں، جہاں انھوں نے مختلف علاقوں میں داخل ہو کر العماری پناہ گزین کیمپ میں سٹن گرینیڈ پھینکے۔

    ابھی تک اس حملے کے بارے میں کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔

  5. اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ای سی او وزرائے خارجہ کا غیر رسمی اجلاس، علاقائی تعاون پر زور

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کے 27ویں غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والے اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے خطے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی ای سی او کی 2026-27 کی صدارت کے دوران ترجیحات میں علاقائی تجارت، معاشی انضمام، وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے ملانے والے رابطہ اور ٹرانزٹ منصوبوں کو مضبوط بنانا اور موسمیاتی لچک کے لیے تعاون بڑھانا شامل ہے۔

    اجلاس میں ای سی او کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اسد مجید خان نے بھی اجلاس کو بریفنگ دی۔

  6. جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی بمباری

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے صور کے علاقے میں منصوری اور مجدل زون کے علاقوں پر گولہ باری کی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مجدل زون کے مضافات میں واقع وادی حسن کو بھی توپ خانے سے نشانہ بنایا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مقامی وقت کے مطابق نصف شب کے بعد نبطیہ گورنری کے علاقے بنت جبیل میں برعشیت اور حداثا کے علاقوں پر بھی بمباری کی۔

    اس دوران صور شہر اور اس کے اطراف کے قصبوں اور دیہات کے اوپر اسرائیلی جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  7. دُکی میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر مسلح افراد کا حملہ، 12 مزدور اغوا، سکیورٹی گارڈ ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع دُکی میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے ایک سکیورٹی گارڈ کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کر دیا، جبکہ 12 مزدوروں کو اغوا کر لیا گیا۔

    دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار نے بتایا کہ گذشتہ شب تقریباً ساڑھے 10 بجے 30 سے زائد مسلح افراد نے پلڑی کے علاقے میں سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کیا۔

    ان کے مطابق حملے میں ایک نجی سکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا اور فرار ہوتے ہوئے 12 مزدوروں کو اغوا کر لیا، جن میں سے 10 کا تعلق پنجاب سے ہے۔

    منصور احمد بزدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جبکہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی اور مغوی مزدوروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمپنی ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے سکیورٹی کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔

    دُکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 315 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ ضلع کے بعض علاقوں میں طویل عرصے سے وقفے وقفے سے بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور ماضی کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

  8. این اے 168 بہاولپور میں ضمنی انتخاب کی تیاری مکمل، چار لاکھ سے زائد ووٹرز کل اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے: الیکشن کمیشن آف پاکستان

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشست ’این اے 168 بہاولپور‘ میں کل یعنی بروز اتوار ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔

    بہاولپور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ 27 ستمبر کو ہوگی جہاں چار لاکھ 83 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جبکہ پولنگ کے لیے 292 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔

    ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن نے مرحوم اقبال چنڑ کے صاحبزادے ملک منیر اقبال چنڑ کو امیدوار نامزد کیا ہے، جبکہ دیگر امیدواروں میں ولی داد چیمہ بھی شامل ہیں جو سابق وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے صاحبزادے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخاب کے حوالے سے عوام کی شکایات کے اندراج اور بروقت ازالے کے لیے الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سنٹر (EMCC) قائم کیا ہے۔

    کمیشن کے مطابق شکایات کے فوری ازالے کے لیے چار سطحوں پر کنٹرول سنٹر قائم کیے گئے ہیں، جن میں الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد کے علاوہ صوبائی، ڈویژن اور ضلعی سطح کے کنٹرول روم شامل ہیں۔

    کنٹرول سنٹر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہے، جبکہ ای ایم سی سی آج سے نتائج موصول ہونے تک شکایات وصول کرے گا اور پولنگ کے دن سے نتائج موصول ہونے تک مسلسل کام کرے گا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق عوام انتخاب سے متعلق شکایات complaints@ecp.gov.pk پر ای میل کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 051111327000 ہیلپ لائن اور 0519204404 فیکس نمبر کے ذریعے بھی شکایات بھیجی جا سکتی ہیں۔

  9. ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد نیویارک سے تہران روانہ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان تہران کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    دورے کے دوران مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، لبنان اور پاکستان سمیت بعض ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جبکہ فاکس نیوز اور سی بی ایس کو انٹرویوز بھی دیے۔

    اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے پہلے نیویارک پہنچے تھے، اتوار تک وہیں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  10. ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’ٹرمپ سٹریٹ‘ کہا، نام تبدیل کرنے کا نقشہ جاری کر دیا

    @realDonaldTrump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ جاری کیا ہے، جس پر ’ٹرمپ سٹریٹ‘ کے الفاظ درج ہیں۔

    یہ نقشہ ایسے وقت میں دوبارہ جاری کیا گیا ہے جب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’تہران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو اپنا سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔‘ ان کے مطابق اگر واشنگٹن اس منصوبے کو قبول کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے اور وہاں بحری آمدورفت معمول پر آ سکتی ہے۔

    دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے۔

  11. خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل کی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ریاض اور خمیس مشیط شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    البدیوی نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کو ان کے اقدامات کا جواب دہ بنانے کے لیے دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔

    اس سے قبل یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے ریاض کے علاقے اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔

  12. امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں یورپ کو جوابدہ ہونا چاہیے: اسماعیل بقائی

    IRNA
    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی (فائل فوٹو)

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین، اس کے رکن ممالک اور نیٹو کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی میں اپنے کردار اور شرکت پر جوابدہ ہونا چاہیے۔‘

    اسماعیل بقائی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا بیان اس بات کا ایک اور واضح اعتراف ہے کہ یورپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں جان بوجھ کر اور فعال طور پر حصہ لیا، حالانکہ جنگ کے دوران اس کی بارہا تردید کی جاتی رہی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یورپی حکومتوں کی جانب سے فوجی، سیاسی، لاجسٹک یا دیگر معاونت، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور تباہی ہوئی، کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘

    ان کے بقول یورپی شہریوں کو اپنی حکومتوں سے اس جنگ کی حمایت یا اس میں شرکت سے متعلق فیصلوں پر جواب طلب کرنے کا حق ہے۔

    بقائی نے مزید کہا کہ ’ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دیگر مشکلات کو بھی اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ یورپی حکومتوں نے اس جنگ کی حمایت اور معاونت میں کیا کردار ادا کیا۔‘

  13. خمیس مشیط کی جانب آنے والا بیلسٹک میزائل مار گرایا گیا: ترکی المالکی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنخمیس مشیط فوجی ایئربیس (فائل فوٹو)

    یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ’اتحاد کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔‘

    کرنل ترکی المالکی نے سنیچر کی صبح ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’میزائل کا رخ سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کی جانب تھا۔‘

    اس سے قبل اتحاد نے کہا تھا کہ ’دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف بھیجے گئے دو ڈرونز کو بھی روک کر تباہ کر دیا۔‘

  14. ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک امریکہ کو سزا دینے کا سلسلہ جاری رہے گا: پاسدارانِ انقلاب

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی کا کہنا ہے کہ ’ایران کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی سزا کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تہران کی مطلوبہ سات شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی افواج بھیج کر ایران سے ہتھیار ڈالنے کی توقع کی تھی، لیکن اسے ’مختلف نوعیت کی مزاحمت‘ کا سامنا کرنا پڑا۔‘

    آئی آر جی سی کے ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’دنیا کی سب سے بڑی بحریہ رکھنے کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز کو چند گھنٹوں کے لیے بھی کھلا رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول اب بھی ایران کی بحری افواج کے ہاتھ میں ہے۔‘

    حسین محبی کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ درجنوں اور بعض اوقات ایک سو سے زیادہ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن اب اس راستے سے صرف ایران کے تجارتی شراکت داروں سے متعلق تیل تہران کی اجازت سے گزر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’حالیہ جنگ کے دوران امریکی فضائی، بحری اور زمینی افواج کے جدید سازوسامان کو ایرانی مسلح افواج نے نشانہ بنایا۔‘

  15. ایران جنگ کے اثرات نے یورپ کو توانائی کی قیمتوں کے بحران سے دوچار کر دیا: یورپی یونین

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یورپی یونین کے کمشنر برائے توانائی کا کہنا ہے کہ ’تیل اور گیس کی منڈیوں پر ایران جنگ کے اثرات نے یونین کو توانائی کی رسد میں مُشکلات کے باعث ’بحران‘ کا شکار کر دیا ہے۔

    ڈین جورگنسن نے یورپی یونین کے وزرائے توانائی کے نام ایک خط میں کہا کہ یورپ اب 2021 کے موسمِ سرما کے مقابلے میں بہتر طور پر تیار ہے، جب روس نے براعظم کو گیس کی فراہمی میں کمی کر دی تھی، تاہم حکومتوں کو آئندہ موسمِ سرما کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ گیس کے ذخائر بھرنے میں مدد کے لیے اقدامات کرنے یا جاری رکھنے پر غور کریں، جبکہ گیس اور بجلی کی طلب میں بھی ’جب تک ضروری ہو‘ کمی لائی جائے۔

  16. اسلام آباد مفاہمت کی جانب واپسی کے لیے چین کی حمایت قابلِ قدر ہے: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بحالی کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی اور اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے شی جن پنگ کی ’دانش مندانہ اور ذمہ دارانہ حمایت‘ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی جانب واپسی کو اہم سمجھتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ وعدوں کا احترام اور سنجیدہ، با مقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق خود مختاری کے احترام، کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے حوالے سے تہران اور بیجنگ کے درمیان ہم آہنگی مستقبل میں تعمیری تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی طرف واپسی کی حمایت کی تھی۔

    واضح رہے کہ رواں سال جون میں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔

  17. ایران کے بحری محاصرے کے باعث 122 تجارتی جہازوں نے رخ تبدیل کیا: امریکی فوج کا دعویٰ

    آبنائے ہرمز

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے بحری محاصرے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد اب تک 122 تجارتی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق محاصرے کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔

    آبنائے ہرمز میں چند آئل ٹینکروں پر حملوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد جولائی کے آخر میں ایران کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے قبل دنیا کے تیل اور گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم بحری گزر گاہ میں جہاز رانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

  18. مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ممالک کے عسکری سربراہان کا ریاض میں اجلاس

    مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ممالک کے عسکری سربراہان

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل سٹاف کا اجلاس جمعہ کے روز ریاض میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔

    بیان کے مطابق اجلاس میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے مکہ، شہری تنصیبات اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک کے عسکری حکام نے باہمی دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے، انٹیلی جنس کے تبادلے، فوجی رابطوں اور آپریشنل ہم آہنگی میں اضافے سمیت دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    شرکا کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے دفاعی صلاحیت اور اجتماعی دفاع کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے شرکا نے اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تینوں ممالک سعودی عرب کی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔

  19. پاکستان کا پانی روکنے یا رخ موڑنے کی کوشش اعلان جنگ سمجھی جائے گی: شہباز شریف

    شہباز شریف

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یک طرفہ فیصلہ کیا جسے اقوام متحدہ اور ثالثی عدالت بھی غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر چکی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کے پانی کو ’روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔‘

    اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل خطے میں امن کے کے لیے ضروری ہے۔

    انھوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے متعلق اپنی قراردادوں اور وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی نسلوں سے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو بھی دنیا کے کسی دوسرے حصے میں پیدا ہونے والے بچے کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویش ناک ہے، اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔

    وزیر اعظم نے لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔

    اپنے خطاب میں شدت پسندی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شدت پسند تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

  20. آبنائے ہرمز اور باب المندب کا کھلا رہنا نا گزیر ہے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی ’شہ رگ ہیں اور ان کا کھلا رہنا نا گزیر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ آبی گزر گاہیں تصادم اور کشیدگی کے مراکز کے بجائے ممالک کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ ہونی چاہییں۔ ’ان سمندری راستوں کو جنگ کے خطرات کے بجائے خوشحالی اور ترقی کا پیغام لے کر چلنا چاہیے۔‘

    وزیراعظم نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حالیہ کارروائیوں کی مذمت کی۔

    انھوں نے کہا کہ مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے امن، تحفظ اور تقدس کو کسی بھی قسم کا خطرہ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔

    شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ کا ضامن ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کا یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن اور استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کا مظہر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کا اظہار ہے اور اس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔