’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی طرف واپس آئیں: چینی صدر کا امریکہ اور ایران پر زور
چینی میڈیا کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔ چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش
لائیو کوریج
کینیڈا کی ایران کے پانچ اعلیٰ حکام اور پانچ اداروں پر نئی پابندیاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا نے ایران کے پانچ اعلیٰ حکام اور پانچ اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان افراد اور اداروں کو ایرانی عوام کے خلاف ’پرتشدد اقدامات‘ پر پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’پابندیوں کی زد میں ایران کے پانچ اعلیٰ سکیورٹی اور حکومتی عہدیدار اور پانچ سرکاری ادارے آئے ہیں، تاہم ان کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔‘
کینیڈا کا کہنا ہے کہ ’ان افراد اور اداروں نے اختلافِ رائے کو دبانے اور ایرانی عوام کی بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔‘ ان اقدامات میں ڈیجیٹل نگرانی، سنسرشپ، طاقت کا غیر قانونی استعمال، من مانی حراست اور دھمکیاں دینا شامل ہیں۔
ایران اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور دونوں ممالک کے دارالحکومتوں میں ایک دوسرے کے سفارت خانے بھی بند ہیں۔
عمان کے قریب تجارتی جہاز پر حملے میں ایک انڈین ملاح ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا نے عمان کے مشرقی ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات تشویش کا باعث ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تجارتی جہاز ایم وی کیپ ڈاؤ پر حملے کے وقت اس میں 20 انڈین ملاح سوار تھے۔ ان میں سے 19 کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ ایک انڈین شہری ہلاک ہو گیا۔
انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ عمان میں انڈین سفارت خانہ مسلسل صورتِ حال کی نگرانی کر رہا ہے اور عمانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ ملاحوں کی جلد وطن واپسی یقینی بنائی جا سکے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انڈیا نے کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق تجارتی جہازوں، ملاحوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کی بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں میں جہاز رانی اور تجارتی سرگرمیوں کی بلا تعطل بحالی بھی جلد از جلد یقینی بنائی جانی چاہیے۔
افغان فضائیہ نے پاکستان پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا: افغانستان کی وزارت دفاع
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان صدیق اللہ نصرت نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ افغانستان کی جانب سے آٹھ ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ نصرت نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کے ’آٹھ ڈرون مار گرائے‘ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’افغان فضائیہ نے ابھی تک کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا اور جوابی کارروائی کا وقت اور نوعیت وہ خود طے کرے گی۔‘
ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا، ایرانی صدر کا ٹرمپ کو پیغام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ کا نام لے کر ان پر تنقید کی اور کہا کہ ’ہم بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔‘
ایرانی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کی گذشتہ روز کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ دھمکیاں ایرانی قوم کو متحد کرتی ہیں۔ ایران جارحیت کرنے والوں کو پچھتانے پر مجبور کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور وہ لوگ جو ہمیں دھونس کے ذریعے جھکانا چاہتے ہیں، انھیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا آغاز میناب سکول پر امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھا کر کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایٹم بم اسرائیل کے پاس ہے لیکن وہاں کبھی معائنہ نہیں کیا گیا جبکہ ایران کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل ہلاکتیں کرتا ہے مگر پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں۔‘
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں تاہم وہ ’جوہری سائنس‘ اور ’پُرامن ٹیکنالوجی‘ کے حصول سے دستبردار نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایران یہ تسلیم نہیں کرتا کہ جوہری علم چند ممالک کی اجارہ داری ہو۔‘
مسعود پزیشکیان نے مزید کہا کہ ’ایران یہ اجازت نہیں دے گا کہ ہم سے جہاز رانی کا حق چھین لیا جائے، حتیٰ کہ ہمارے اپنے پانیوں میں بھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ساحلی ریاستوں کی سلامتی کو نقصان پہنچا کر جہاز رانی کی سلامتی حاصل نہیں کی جا سکتی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس خطے میں کوئی بھی تنہا محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یا تو ہم مل کر سلامتی قائم کریں گے یا پھر ہم سب مل کر عدم تحفظ کا سامنا کریں گے۔‘
اگر پڑوسی ممالک نے امریکی فضائی پابندیاں نافذ کیں تو ان کے اڈے بھی غیر فعال ہو جائیں گے: ایران
،تصویر کا ذریعہIRIB
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ’اگر وہ امریکہ کی فضائی پابندیوں میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے ہوائی اڈے بھی پروازیں چلانے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘
ایرانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ’آپ ہمارے تاجروں کے سفر پر پابندیاں نہیں لگا سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ’ہماری پروازیں نہ چلیں، ہمارا سامان فضائی راستے سے نہ آ سکے جبکہ آپ امریکیوں کے ساتھ تعاون کریں اور ہم خاموش کھڑے دیکھتے رہیں۔‘
خیال رہے کہ ایرانی ایئرلائنز پر امریکی فضائی پابندیاں آج سے نافذ ہو گئی ہیں۔ متعدد ممالک کے لیے ایرانی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں تاہم بعض ممالک اب بھی ایرانی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر اترنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر مختلف وفود کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے متعلق اطلاعات ’مذاکرات نہیں بلکہ محض شرائط سے آگاہ کرنے کا عمل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ شرائط میں ’اضافے یا کمی کے حوالے سے کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی اور آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک یہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘
رضائی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی ’تین نہیں بلکہ سات شرائط ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی حکام دو یا تین دن سے متفق ہیں اور یہ طے پایا تھا کہ ہم ثالثوں کو ایران کی شرائط سے آگاہ کریں گے۔‘
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ عباس عراقچی اور مسعود پزشکیان کے امریکہ کے دورے سے قبل صدر نے ایک اجلاس طلب کیا تھا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ نیویارک میں کون سے معاملات اٹھائے جائیں گے اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ انھی شرائط سے آگاہ کیا جائے گا۔
یمن کے تنازعے میں امریکی مداخلت سرخ لکیر ہے، حوثیوں کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے حوثی باغیوں کے ایک فوجی مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے یمن کے تنازعے میں سعودی عرب کی حمایت کے لیے مداخلت کی یا آبنائے باب المندب کو کھولنے کی کوشش کی تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عبدالمحمد الثور نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر امریکہ اپنے بحری بیڑے کے ذریعے فوجی مداخلت کی جرات کرتا ہے یا باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ان کے اور کسی بھی دوسرے فریق کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس پر لڑیں گے۔‘
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے حال ہی میں اس تنگ بحری گزرگاہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جو بحیرہ احمر کا راستہ ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوجی مدد طلب کی ہے۔
حوثیوں کی جانب سے باب المندب کی ناکہ بندی نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اعلامیے میں انڈیا سے متعلق حوالوں کی مذمت کرتے ہیں: نئی دہلی
،تصویر کا ذریعہMEA
انڈین وزارت خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی
سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے مشترکہ اعلامیے میں انڈیا کا حوالہ دیے جانے کی مذمت کی ہے۔
نئی دہلی نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا ’او
آئی سی کے نام نہاد جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں انڈیا سے متعلق
غیر ضروری اور حقائق کے منافی حوالوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔‘
انڈیا کا
کہنا ہے کہ او آئی سی کو ’ایسے معاملات پر اظہارِ رائے کا کوئی اختیار حاصل نہیں
جو مکمل طور پر انڈیا کے اندرونی معاملات ہیں۔‘
’جموں و
کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہیں اور سیاسی مقاصد پر مبنی
پروپیگنڈا اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ایسے محرکات پر مبنی بیانیوں کی بار
بار توثیق صرف او آئی سی کی ساکھ کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔‘
انڈین وزارت خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان
کو اپنے من گھڑت اور محرکات پر مبنی پروپیگنڈے کی تشہیر کے لیے پلیٹ فارم فراہم
کرنے کے بجائے او آئی سی کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ پاکستان کو خود احتسابی کا مشورہ
دے کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے جاری دہشت گردی کے مسلسل خطرے سے نمٹنے پر
توجہ دے۔‘
انڈیا نے
اس بیان میں پاکستان پر دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا جس کی ماضی میں کئی
بار اسلام آباد تردید کر چکا ہے۔
خیال رہے کہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے رکن ممالک آذربائیجان، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور نائجر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کا نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اجلاس ہوا ہے۔
اس گروپ نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں
پائیدار امن اور استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کے اقوام متحدہ کی
سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل پر منحصر ہیں۔
پاکستان کی جانب سے شیئر کیے گئے اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں ’بعض انڈین رہنماؤں کے بے بنیاد دعوے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔‘
اس بیان میں انڈیا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’غیر قانونی طور پر انڈیا کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنائے، تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، کالعدم قرار دی گئی کشمیری سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی ختم کرے، تمام سخت گیر قوانین منسوخ کرے اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔‘
ادھر سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستان
کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام
کی ’غیرمتزلزل اور اصولی حمایت پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، رابطہ گروپ کے
اراکین اور او آئی سی کے خصوصی ایلچی اور آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن کا شکریہ
ادا کیا۔‘
اسلام آباد کو سومنات بنانے کے اعلان پر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے خلاف ایف آئی آر درج
،تصویر کا ذریعہfacebook/Junaid Akbar
پاکستان کی نیشنل
سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی
ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کے خلاف پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ
کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
این سی سی آئی کی
جانب سے درج ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنید اکبر کت ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر
تقریباً تین لاکھ 40 ہشزار فالوورز ہیں۔
ایف آئی آر میں
دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنید اکبر نے اپنی پروفائل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں انھوں
نے رایست مخالف بیانات دیے ہیں۔
این سی سی آئی اے
کے مطابق جنید اکبر نے اپنے بیان میں، جس کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے، اسلام آباد
پر حملوں اور دارالحکومت کو سومنات بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ایف آئی آر کے
مطابق، جنید اکبر نے کہا تھا کہ ’جس طرح 17 حملے سومنات پر ہوئے، اس طرح 17 اسلام
آباد ہوں گے۔‘
این سی سی آئی اے نے
مزید الزام لگایا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما نے کارکنان کو مشتعل کرنے کی بھی کوشش
کی ہے۔
پنجاب حکومت کی وفاقی حکومت سے راولپنڈی اور اٹک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس ڈاؤن گریڈ کرنے کی درخواست, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب حکومت نے وفاقی وزارتِ داخلہ سے رالپنڈی
اور اٹک کے اضلاع میں موبائل فون اور
انٹرنیٹ سروس ڈاؤن گریڈ (رسائی محدود کرنا) کرنے اور بعض مقامات پر انٹرنیٹ سروس مکمل جیم (ختم)
کرنے کی درخواست کی ہے۔
پنجاب کی وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجے گئے اس
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ یہ درخواست سینٹرل پولیس آفس (لاہور) کی جانب سے صوبے
میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر موصول ہوئی ہے۔
مراسلے میں وفاقی حکومت سے درخواست کی
گئی ہے کہ راولپنڈی کے مخصوص مقامات پر ٹو جی، تھری جی
اور فور جی موبائل سروسز کی جیمنگ کی جائے۔ جبکہ برہما
بہتر تا موٹر وے ایم-1، گنگو، اہاتہ، ٹیکسلا سٹی، واہ صدر، ٹھلیاں اور چکری میں 27 ستمبر
2026 کی صبح 9 بجے سے موبائل اور انٹرنیٹ
سروسز کی مکمل معطلی کی جائے۔
اسی طرح اٹک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پورے
ضلع میں 27 ستمبر سے تاحکم ثانی موبائل اور انٹرنیٹ سروس ڈاؤن گریڈ کی جائے۔
پاکستان فوج کے سابق جنرل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل تعینات: لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کون ہیں؟
،تصویر کا ذریعہMoFA
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے اتحاد کے پہلے
سیکریٹری جنرل کے طور پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ
جنرل (ریٹائرڈ) نعمان
محمود سیکرٹری
جنرل کے طور پر جنرل نمان محمود اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کی سربراہی کریں گے جس کا سیکرٹیریٹ
ریاض میں قائم کیا جا رہا ہے۔
نعمان محمود کون
ہیں؟
نعمان محمود پاک فوج
کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ پاکستان فوج کے بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے نعمان
محمود کو اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جس کے بعد انھیں دسمبر
2019 میں پشاور کور کا کمانڈر تعینات کیا گیا جہاں انھوں نے 23 نومبر 2021 تک فرائض
انجام دیے۔
بعد ازاں انھوں نے
نومبر 2021 سے اپریل 2023 تک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 35ویں صدر کی حیثیت سے خدمات
انجام دیں۔
اس سے قبل انھوں
نے انفینٹری رجمنٹ کے کمانڈنگ افسر اور کور کے چیف آف سٹاف کے طور پر کام کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے
پر ترقی پانے سے قبل، انھوں نے بطور ’ٹو اسٹار‘ جنرل (میجر جنرل) شمالی وزیرستان میں انفینٹری ڈویژن کی کمانڈ
کی اور آخر میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی
خدمات انجام دیں۔
نعمان محمود راولپنڈی
میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آئی جی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طور پر بھی
تعینات رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل نعمان
محمود کا تعلق راولپنڈی سے ہے، وہ 11 ستمبر 1987 کو پاکستان آرمی میں کمیشنڈ ہوئے تھے۔
انھوں نے پاکستان کمانڈ
اینڈ سٹاف کالج، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج (مصر) اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد
سے گریجویشن کی۔
میر رضا علی کیس: پولیس اور خاندان کے درمیان رابطوں کا فقدان، کمیشن کا اظہارِ تشویش, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی
،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast
،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش برآمد ہوئی
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کے اسباب اور اس سے جڑے حالات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے کہا ہے کہ متعلقہ ریکارڈ کا مکمل حصہ تاحال اس کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جبکہ پولیس اور میر رضا کے اہلِ خانہ کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان عوامی سطح پر قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل کمیشن کے تحریری حکم نامے کے مطابق 22 ستمبر کی سماعت میں اے ایس پی ندا جنید، عاصف فاروق سومر، عابد فاروق سومر اور فیض الرحمن کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گواہ سارم بن طاہر کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلم بند کیا گیا۔
کمیشن نے سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور پی ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن کو 24 ستمبر کو صبح 11 بجے طلب کیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈی ایس پی اور تفتیشی افسر سراج احمد لاشاری اور سی پی ایل سی کے اسسٹنٹ چیف کاشف افتخار کو 28 ستمبر کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
سراج احمد لاشاری نے گواہ احسن اللہ سے متعلق اپنی رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کر دی، جسے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ آج کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات سے ایک بار پھر یہ بات سامنے آئی کہ مکمل ریکارڈ اب تک فراہم نہیں کیا گیا۔ حکم نامے کے مطابق متعدد یاد دہانیوں کے باوجود مطلوبہ دستاویزات پیش نہ کیے جانے پر کمیشن نے افسوس کا اظہار کیا۔
کمیشن کے مطابق سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ میر رضا کے اہلِ خانہ ایک اور سپیشل میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر غور کر رہے ہیں۔ خاندان نے بتایا کہ اس حوالے سے ڈاکٹر فاروقی سے کئی بار وضاحت اور تصدیق طلب کی گئی، تاہم انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر اہلِ خانہ کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں تو ایسے اقدام سے کمیشن کی اب تک کی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے اور حتمی نتائج تک پہنچنا مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی سندھ نے تجویز دی ہے کہ خاندان سے رابطے اور میڈیا کو سرکاری معلومات کی فراہمی کے لیے پولیس کا ایک بااختیار فوکل پرسن مقرر کیا جائے۔
سماعت کے دوران پولیس سرجن نے اپنے خلاف چلائی جانے والی مبینہ سوشل میڈیا مہم کے حوالے سے ایک خط اور متعدد دستاویزات بھی کمیشن میں جمع کرائیں۔
کمیشن کے مطابق پولیس سرجن نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں اور ان کے خلاف گردش کرنے والے مواد نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔
کمیشن نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سمیعہ سید ایک تجربہ کار پیشہ ور ہیں اور ان کے خلاف مبینہ ہراسانی ناقابلِ قبول ہے۔
کمیشن نے اپنے سابقہ حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ شیخ کے طرزِ عمل پر بھی سخت مشاہدات درج کیے اور کہا کہ ان کے اقدامات سے کمیشن کے وقار اور مقصد کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
کمیشن نے ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی سے درخواست کی ہے کہ ایک تجربہ کار افسر کو پولیس سرجن اور ڈاکٹر اسامہ شیخ کے درمیان پیغامات کے تبادلے سے متعلق معاملے کی تفصیلی تحقیقات سونپی جائیں۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے مبینہ ہتک آمیز پیغامات فرانزک اعتبار سے قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں، اور یہ مواد کس طرح اور کس کی جانب سے آن لائن منظرِ عام پر آیا۔
کمیشن نے این سی سی آئی اے سے درخواست کی ہے کہ وہ، حتی الامکان، اپنی جامع رپورٹ کمیشن کی مدت ختم ہونے سے قبل پیش کرے تاکہ سندھ حکومت کو بھیجی جانے والی حتمی رپورٹ میں اس معاملے سے متعلق مناسب مشاہدات شامل کیے جا سکیں۔
کمیشن نے سندھ حکومت سے اپنی رپورٹ جمع کرانے کی مدت 15 اکتوبر 2026 تک بڑھانے کی بھی درخواست کی ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: آغا روح اللہ نے نیشنل کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر لی, ریاض مسرور/بی بی سی اُردو، سرینگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے گذشتہ برس جس انتخابی نعرے کے بل پر مقامی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی تھی، وہی نعرہ اب اس جماعت کے اقتدار کے لیے مشکلات پیدا کرتا نظر آ رہا ہے۔ پارٹی کے رکنِ پارلیمان اور معروف شیعہ رہنما آغا روح اللہ نے طویل ناراضی کے بعد جماعت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان کی جماعت آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد کے اسی وعدے سے مکر گئی ہے جس کی بنیاد پر عوام نے اسے ووٹ دیا تھا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے بتایا کہ وہ نومبر میں پارٹی اور پارلیمنٹ کی نشست، دونوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’2019 میں انڈین پارلیمنٹ میں ایک بل کے ذریعے کشمیریوں کو نیم خودمختاری دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو کشمیریوں کی رضامندی کے بغیر اور غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا۔ نیشنل کانفرنس واحد جماعت ہے جس کا بنیادی سیاسی نظریہ ہی کشمیر کی خودمختاری ہے، اس لیے ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم اپنے آئینی اختیارات کی بحالی کے لیے پیش پیش رہتے، لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس انتخابات میں بڑی کامیابی کے بعد توقع تھی کہ حکومت آئینی خودمختاری کی بحالی کے لیے تگ و دو کرے گی، لیکن پارٹی قیادت اور حکومت نے اپنی تمام تر توجہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرانے پر مرکوز کر دی۔ واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت جموں و کشمیر کا درجہ ایک باقاعدہ ریاست سے گھٹا کر نئی دہلی کے براہِ راست انتظام والی یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا تھا۔
آئینی خودمختاری سے متعلق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کے محتاط رویے پر آغا روح اللہ کہتے ہیں کہ ’ظاہر ہے یہ سودا اقتدار میں رہنے کے لیے ہوا ہوگا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس کی وجہ خوف ہے، لالچ ہے یا کچھ اور، لیکن یہ جماعت اپنے بنیادی ایجنڈے سے مکر گئی ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ عوام کے اعتماد کا سودا ہوا ہے۔ یہ سودا کس کے عوض ہوا، یہ قیادت ہی بہتر جانتی ہوگی، مگر میں اس لیے مستعفی ہو رہا ہوں کیونکہ میں اس سودے بازی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔‘
’فاروق عبداللہ کی خواہش پوری کر دی‘
اکتوبر 2024 میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہونے کے بعد آغا روح اللہ نے آرٹیکل 370 کے معاملے پر پارٹی کی خاموشی اور محتاط رویے پر متعدد بیانات اور انٹرویوز دیے۔ اس کے نتیجے میں انھیں رواں سال پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں آغا روح اللہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’جس طرح آغا صاحب خود کو ایک قد آور لیڈر کے طور پر پیش کرنے کے لیے پارٹی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں، وہ درست راستہ نہیں۔ میں انھیں کہتا ہوں کہ اگر ان میں دم ہے تو استعفیٰ دیں، پارلیمنٹ کی نشست چھوڑیں اور دوبارہ الیکشن لڑیں، پھر دیکھتے ہیں کہ انھیں کون ووٹ دیتا ہے۔‘
فاروق عبداللہ کے اس بیان کے فوراً بعد آغا روح اللہ نے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید خودمختاری کے مطالبے پر صرف وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا رویہ سرد ہے۔ مجھے امید تھی کہ پارٹی قیادت اس معاملے میں سنجیدہ ہوگی، لیکن جب پارٹی سربراہ نے بھی اسی انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جسے آرٹیکل 370 چاہیے، وہ جا کر تلاش کرے کہ اسے کہاں سے لانا ہے، تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ فاروق عبداللہ کی بہت عزت کرتے ہیں اور ’اسی لیے میں نے استعفے کا فیصلہ کر کے فاروق صاحب کی خواہش پوری کر دی۔‘ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کے خلاف ایک گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا، ’حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرائی، جس میں آرٹیکل 370 کی بحالی اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا پُرزور مطالبہ شامل ہے۔ آغا صاحب ایک سینیئر سیاست دان ہیں، انھیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے تھی۔‘
’قرارداد کو لے کر پورے ملک کو متحرک کرنا تھا‘
آغا روح اللہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے حساس معاملات پر قراردادیں صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے منظور نہیں کی جاتیں، ان پر عملدرآمد کے لیے پیش رفت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اسی منظور شدہ قرارداد کو لے کر ملک کی تمام غیر بی جے پی جماعتوں کے پاس جانا چاہیے تھا، اور عوامی رائے کو خودمختاری کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ میں ہماری تعداد نہیں ہے، وہاں اس وقت کچھ نہیں ہو سکتا، لیکن ہم ملک بھر میں رائے عامہ کو متحرک کر کے دباؤ ضرور پیدا کر سکتے تھے۔‘
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آغا روح اللہ اپنے سیاسی نظریات کی تکمیل جماعت کے اندر رہ کر زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتے تھے، کیونکہ استعفے کے بعد وہ نیشنل کانفرنس کی واحد اختلافی آواز بن کر رہ جائیں گے۔
مصنف اور تجزیہ نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر آغا صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہی بات بہت سے کشمیریوں کے دل کی آواز ہے، اور کوئی بھی کشمیری سیاسی جماعت اس موقف کو یکسر غلط نہیں قرار دے سکتی۔ موقف درست ہے، مگر ان کا طریقۂ کار درست نہیں۔‘
ان کے مطابق آغا روح اللہ کو یہی موقف لے کر تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانا چاہیے تھا اور انھیں اس مطالبے پر متحد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔
’اگر اس کے نتیجے میں نیشنل کانفرنس انھیں پارٹی سے نکال دیتی تو وہ الگ بات تھی، لیکن پارٹی اور پارلیمنٹ دونوں سے علیحدہ ہو کر وہ اکیلے زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔‘
امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی ایئر لائنز کی پروازیں جاری
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق تہران سے روانہ ہونے
والی ماہان ایئر کی ایک پرواز آج جنوبی چین میں لینڈ کی ہے۔
یریوان سے تہران کے لیے کئی ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں اب بھی شیڈول
کے مطابق ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے خبردار کیا تھا بدھ کے روز سے وہ اُن
ممالک کے خلاف کارروائی کرے گا جو ایرانی ایئرلائنز کو اپنے ہوائی اڈوں پر اترنے
کی اجازت دیں گے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دھمکی دی تھی کہ جو بھی ملک ایرانی
طیاروں کو ’لینڈنگ
سروسز‘ فراہم کرے گا وہ ’ڈالر نظام سے خارج ہو جائے گا۔‘
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، ماہان ایئر کی پرواز
093 بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 39 منٹ پر چین کے شہر گوانگژو
میں اتری۔
تاہم اس پرواز کی لینڈنگ کے متعلق گوانگژو بائی یون ہوائی اڈے کی
سرکاری ویب سائٹ پر تفصیلات درج نہیں تھیں۔ تاہم ماہان ایئر کی پرواز سے متعلق
معلومات میں اسی ہوائی اڈے کو لینڈنگ پوائنٹ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
یریوان کے زوارتنوتس ہوائی اڈے کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق
آج ایرانی ایئرلائنز کیسپین اور فلائی کیش کے طیارے بھی آرمینیا کے دارالحکومت سے
تہران کے لیے روانہ ہوئے۔
ہوائی اڈے کی معلومات کے مطابق یریوان سے تہران کے لیے مقرر کل چھ
پروازوں میں سے دو منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ایرانی ایئرلائنز یریوان اور چین کے دیگر شہروں بشمول بیجنگ، شنگھائی
اور گوانگژو کے لیے براہِ راست اور باقاعدہ پروازیں چلاتی ہیں۔
بریکنگ, ’پاکستان نے افغان طالبان کے آٹھ ڈرونز مار گرائے‘
،تصویر کا ذریعہISPR
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں افغانستان سے داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز مار گرائے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ڈرونز کا تعلق افغان طالبان رجیم سے تھا جن میں سے چار کو طورخم سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مار گرایا گیا جبکہ دیگر چار کو کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔
تاحال افغانستان میں طالبان حکومت نے اس الزام پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی ’خودکش بمباروں‘ سمیت 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں خواتین سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت کی وزارتِ اطلاعات و ثقافت کے نائب ڈائریکٹر مہاجر فراہی نے تھا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں کا ’مناسب وقت پر مناسب جواب دیا جائے گا۔‘
امریکہ کے ساتھ رابطہ قطری ثالث کے ذریعے ہوا: ایران
،تصویر کا ذریعہEPA
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف کے
درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے ایران نے کہا ہے کہ ’امریکی
فریق کے ساتھ رابطہ قطری ثالث کے ذریعے ہوا تھا۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے گذشتہ
ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی اور سفارتکاری سے متعلق ایران کا
مؤقف اور شرائط واضح کی گئیں طور پر پیش
کیے گئے۔
بقائی نے مزید
کہا کہ نیویارک میں ایرانی وفد کی موجودگی کو غنیمت
جانتے ہوئے ان ہی نکات کو امریکی فریق تک نہایت واضح انداز میں پہنچایا گیا۔ ان کا
کہنا تھا کہ ایران نے خطے کی سلامتی اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف کے ساتھ
ساتھ سفارتی عمل کے لیے درکار شرائط سے بھی آگاہ کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے
آیا ہے جب عراقچی اور وٹکوف کے درمیان مبینہ گفتگو کی رپورٹس کو ایران میں وسیع
کوریج ملی اور اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں اپنی
تقریر کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکام نے ایرانی وفد کے
ساتھ تین گھنٹے پر محیط ایک ’انتہائی مثبت‘ ملاقات کی۔ تاہم بعد میں انھوں نے
وضاحت کی کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے صرف ثالثوں سے ملاقات کی تھی۔
خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کے آغاز پر ٹرمپ
نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے نمائندوں نے ’آج ایرانی ثالثوں کے ساتھ ایک نہایت
نتیجہ خیز ملاقات کی، لیکن یہ رابطہ صرف ثالثوں تک محدود تھا۔‘
ادھر سٹیو وٹکوف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے
بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے ایرانی
حکام کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی۔
وٹکوف کے مطابق مذاکرات کے دوران ثالث دونوں وفود کے درمیان
مسلسل آتے جاتے رہے اور پیغامات کا تبادلہ کراتے رہے۔ انھوں نے ان مذاکرات کو ’امید
افزا، تعمیری اور کامیاب‘ قرار دیا۔
ایم ٹو، ایم تھری اور ایم فور موٹرویز کے مختلف حصوں پر مرمت کے کام کے باعث متعدد لینز بند رہیں گی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس
(این ایچ ایم پی) نے کہا ہے کہ ملک کی مختلف موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر مرمت کا
کام جاری ہے، جس کے باعث بعض مقامات پر لینز بند کی گئی ہیں یا ٹریفک کو متبادل
راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
این ایچ ایم پی کی جانب سے 23 ستمبر
2026 کو جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق ایم ٹو، ایم تھری اور ایم فور موٹرویز
کے مختلف حصوں میں مرمت کا کام جاری ہے۔
لاہور تا اسلام آباد ایم ٹو موٹروے پر
بلکسر، کیپیٹل سمارٹ سٹی، نیلہ دلہا، کلر کہار اور شاديوال کے قریب بعض لینز عارضی
طور پر بند ہیں جبکہ ہڈیالہ وکراں پر ٹریفک کو متبادل راستے پر منتقل کیا گیا ہے۔
لاہور کو
عبدالحکیم سے ملانے والی ایم تھری
موٹروے پر ننکانہ صاحب، جڑانوالہ اور سمندری کے قریب مرمت کے باعث بعض لینز بند
ہیں۔
پنڈی بھٹیاں اور عبدالحکیم کے درمیان
واقع ایم فور موٹروے پر فیصل آباد کے قریب مرمتی کام جاری ہے اور دو لینز بند کی
گئی ہیں۔
واضح رہے کہ این ایچ ایم پی نے آج
(بدھ) رات سے ایم ون موٹروے اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف
سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
بیان کے مطابق اس موٹروے کے تمام
پوائنٹس بشمول اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج، سنگجانی/اے ڈبلیو
ٹی انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج، برہان انٹرچینج، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی
انٹرچینج اور چھچھ انٹرچینج بند رہیں گے۔
موٹروے پولیس کا مزید کہنا ہے کہ
موٹروے ایم 14 ’ہکلہ تا کنڈل دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘
جبکہ جی ٹی روڈ این فائیو ’اٹک خورد
کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی
23 ستمبر 2026 کو جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق قومی شاہراہ این فائیو کے
شمالی، وسطی، جنوبی اور مغربی زونز کے مختلف حصوں میں بھی تعمیراتی سرگرمیوں کے
باعث بعض مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
کھاریاں تا
لاہور جانے والی سڑک پر دو مقامات، اور میاں چنوں تا بہاولپور جانے والی سڑک پر تین
مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستے کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔
اسی
طرح کوٹ سبزل تا ہالانی، ہالانی تا ہالا، اور قلات تا کوئٹہ سڑکوں پر بھی کئی
مقامات پر ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے چار اضلاع میں رینجرز کی خدمات طلب کر لیں
،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
پاکستان میں صوبہ پنجاب کی حکومت نے راولپنڈی،
اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کو خط
لکھ دیا ہے۔
حکومتِ پنجاب کے مراسلے کے مطابق
رینجرز تعینات کرنے کی درخواست ’امن و امان کی متوقع صورتحال کے پیشِ نظر‘ کی گئی
ہے۔
ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کا کہنا
ہے کہ مراسلہ صوبائی پولیس کی درخواست پر ’سکیورٹی میں معاونت‘ کے لیے بھیجا گیا۔
ترجمان کے بیان کے مطابق راولپنڈی
میں رینجرز کی تین کمپنیوں، اٹک میں پانچ ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک،
ایک کمپنی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ چاروں
اضلاع میں رینجرز کے دستے پانچ اکتوبر 2026 تک تعینات رہیں گے۔
ترجمان کے مطابق رینجرز کی تعیناتی
کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں دی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کی
تعیناتی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 245، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 اور پاکستان
رینجرز آرڈیننس 1959 کی متعلقہ دفعات کے تحت کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق عوام کے
جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
جنوبی افریقہ میں گھر پر فائرنگ، 11 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہSAPS
جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن کے قریب
ایک رہائشی عمارت میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق منگل کی رات کوا
ماکھوتھا ٹاؤن شپ میں مسلح افراد ایک گھر میں داخل ہوئے اور وہاں موجود 14 افراد
پر فائرنگ کر دی۔ 10 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ چار زخمیوں کو ہسپتال
منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض متاثرین غیر
قانونی سرگرمیوں سے متعلق ان کی نگرانی میں تھے، تاہم جاری تحقیقات کے باعث مزید
تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
فائرنگ کے محرکات فوری طور پر واضح
نہیں ہو سکے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ حریف گروہوں کے درمیان تنازع کے امکان کو رد
نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس کے بیان کے مطابق ایک حاملہ
خاتون سمیت 13 مرد اور ایک خاتون گھر میں ایک تقریب میں موجود تھے کہ تین مسلح
افراد وہاں پہنچے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ہلاک ہونے والوں میں مذکورہ
خاتون بھی شامل ہیں۔
مقامی ٹی وی چینل ای این سی اے کے
مطابق حملہ آور فرار ہونے سے قبل متاثرین میں سے ایک کی گاڑی کو بھی آگ لگا گئے۔
جنوبی افریقہ کا شمار دنیا میں قتل
کی بلند ترین شرح رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق
ملک میں اوسطاً روزانہ 60 سے زیادہ افراد قتل کیے جاتے ہیں۔
حالیہ
ہفتوں میں کم از کم نو خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعات نے بھی ملک میں جرائم سے
متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ گذشتہ سال جوہانسبرگ کے ایک شراب خانے میں فائرنگ
کے واقعے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے: او آئی سی رابطہ گروپ
،تصویر کا ذریعہMinistry of Foreign Affairs - Pakistan
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ
گروپ برائے جموں و کشمیر نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار
مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کی پریس ریلیز کے
مطابق او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور
سینیئر حکام نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں ملاقات
کی۔
پاکستان، آذربائیجان، ترکی، سعودی
عرب اور نائیجر پر مشتمل رابطہ گروپ کی ملاقات کی صدارت او آئی سی کے سیکریٹری
جنرل نے کی۔
ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے
میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد ’سکیورٹی کریک ڈاؤن کیا گیا،
تقریباً 2800 افراد گرفتار اور درجنوں گھر مسمار کیے گئے۔‘
اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ 2019 کے بعد سے انڈیا کے
زیرِ انتظام کشمیر میں 34 لاکھ سے زائد ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس جاری کیے گئے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری
پریس ریلیز کے مطابق، اعلامیہ میں درج ہے کہ رابطہ گروپ نے کشمیری رہنماؤں یاسین
ملک، آسیہ اندرابی اور شبیر احمد شاہ کی ’مسلسل حراست‘ پر بھی تشویش ظاہر کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ شبیر احمد شاہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔
اعلامیے
کے مطابق اجلاس کے اختتام پر او آئی سی رابطہ گروپ نے ’انڈیا پر زور دیا کہ وہ اپنے
زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنائے، تمام کشمیری سیاسی
قیدیوں کو رہا کرے، پابندیوں کا خاتمہ کرے اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ
کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کی بل گیٹس سے ملاقات، پولیو کے خاتمے اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office
پاکستان کے
وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام
متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں گیٹس فاؤنڈیشن کے
چیئرمین بل گیٹس سے ملاقات کی ہے۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ
بیان کے مطابق شہباز شریف نے پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، حفاظتی
ٹیکہ جات، ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے شعبوں میں گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون کو
سراہا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان پولیو کے
مکمل خاتمے کے لیے پُر عزم ہے۔ بیان کے مطابق بل گیٹس نے کہا کہ آئندہ نسلوں کو محفوظ
رکھنے کے لیے پولیو کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز
شریف نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں گیٹس فاؤنڈیشن کو ایک قابل اعتماد
شراکت دار قرار دیتے ہوئے صحت عامہ، زراعت، ڈیجیٹل جدت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں
میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔
وزیر
اعظم آفس کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران بہتر بیجوں، مویشیوں کی جینیاتی بہتری
اور نئی زرعی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔