’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی طرف واپس آئیں: چینی صدر کا امریکہ اور ایران پر زور

چینی میڈیا کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔ چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران کے جنوب مشرق میں جھڑپوں کے دوران آئی آر جی سی کمانڈر جنرل حسین ظریفی ہلاک

    ایران کی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین ظریفی جنوب مشرقی ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ہلاک ہونے والے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین ظریفی سجاد بیس کے کمانڈر تھے۔

    آئی آر جی سی کی زمینی فورس کے تحت قدس ریجنل بیس سے منسلک یہ یونٹ جنوب مشرقی ایران میں گارڈز کی شاخ ہے۔

    قدس ریجنل بیس کے ایک بیان کے حوالے سے تسنیم نے کہا کہ ضلع سراوان میں ہونے والی جھڑپوں میں بریگیڈیئر جنرل ظریفی ہلاک ہوئے جبکہ پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ظریفی ’دشمن سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ تصادم میں مارے گئے۔‘

    گزشتہ روز شائع ہونے والی تسنیم کی ایک اور رپورٹ میں ان جھڑپوں کا ذمہ دار جیش العدل کو قرار دیا گیا تھا۔ اس گروپ نے 2025 میں دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ انضمام کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے ’پیپلز ریزسٹنس فرنٹ‘ رکھ لیا تھا۔

    سیستان و بلوچستان، جہاں ایران کی بلوچ آبادی کا ایک بڑا حصہ آباد ہے، ملک کے کئی دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ غربت اور کم ترقی کا شکار ہے۔

    ماہرین کے مطابق سماجی و اقتصادی مشکلات، نسلی اور مذہبی تفاوت کے ساتھ مل کر، عوامی بے چینی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

    گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اس شورش زدہ صوبے میں عسکریت پسند گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بارہا جھڑپیں ہو چکی ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان سے ملحق سرحدوں پر منشیات اور دیگر اشیا کی سمگلنگ بھی ایک مسلسل مسئلہ رہی ہے۔

  2. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے قبل ہم صبح سے اب تک کی اہم خبروں کے خلاصے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

    • پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت نے فوج کو تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر دنیا میں ایک مؤثر اور فعال بین الاقوامی نظام موجود ہو تو یہ پاکستان اور انڈیا سمیت مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اور ممکنہ تصادم سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
    • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو معمولی کمی دیکھی گئی، جب ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا۔
    • اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
    • امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے انکشاف کیا ہے کہ طویل تعیناتی کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے وابستہ آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔
    • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں ’اجتماعی قتل‘ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں
    • امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا دباؤ تین ممکنہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’امن مشن‘ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے 2.45 بلین ڈالر کے منصوبے کو پیش کیا۔۔
    • وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوا اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنی کردار ادا کرتا رہے گا۔
  3. یورپی رہنماؤں کا ایران۔امریکہ کشیدگی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لیین سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    یورپی رہنماؤں نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، مکالمے کے فروغ اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ استحکام اور سلامتی کے مشترکہ اہداف پر مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

    انتونیو کوسٹا اور اُرسلا وان ڈیر لیین نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کم کرنے کے لیے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیرِاعظم آفس کے مطابق ملاقات میں فریقین نے خطے اور دنیا کو درپیش اہم چیلنجز پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور پُرامن ذرائع ہی مؤثر راستہ ہیں۔

    بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔

  4. امریکی وفاقی جج نے وائٹ ہاؤس کے تین میڈیا اداروں پر پابندی کو عارضی طور پر روک دیا

    White House

    امریکہ میں ایک وفاقی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کے تین میڈیا کے اداروں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے اقدام کو عارضی طور پر روک دیا ہے اور ان کی انتظامیہ کو ان آؤٹ لیٹس تک رسائی بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سی این این، ایم ایس ناؤ، اور پولیٹیکو نیوز نیٹ ورکس نے اس پابندی کو آزادی صحافت کے قانونی حق کی ’صاف خلاف ورزی‘ اور امتیازی سلوک سمجھا۔

    ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس تک دکانوں کی رسائی اس لیے منقطع کر دی ہے کیونکہ وہ ’جعلی خبریں‘ پھیلا رہے تھے۔ لیکن بعد میں وائٹ ہاؤس نے ثبوت فراہم کیے بغیر ان پر ’قومی سلامتی‘ کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔

    یہ عارضی حکم امتناعی، جو میڈیا کو وائٹ ہاؤس تک رسائی پر پابندی سے روکتا ہے، 14 دنوں کے لیے نافذ العمل رہے گا تاکہ عدالت کو کیس کا مزید بغور جائزہ لینے کی اجازت دی جا سکے۔

    ٹرمپ کی جانب سے تعینات جج ٹموتھی کیلی نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس تک میڈیا کی رسائی کو منقطع کرنے کے قانونی عمل کی درست طریقے سے پیروی نہیں کی گئی۔

  5. حکومت کا پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے فوج تعینات نہ کرنے کا فیصلہ, عثمان زاہد، بی بی سی نیوز

    Talal Chaudhry

    پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت نے فوج کو تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے فوج کو اس احتجاج کے معاملے میں تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے ذریعے ہی وزارت داخلہ اس احتجاج سے نمٹے گی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب پولیس سے اہلکار لینے کے لیے بھی درخواست کی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ’فورس‘ کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور شاپنگ سینٹرز کو بند کرنے کا فی الحال کوئی پلان نہیں ہے۔ ان کے مطابق معمول کے مطابق کاروبار زندگی جاری رہیں گے۔

  6. شہباز شریف ایران۔امریکہ تنازع ختم کرانے کے لیے پُرامید، ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

    Shehbaz Sharif

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوا اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنی کردار ادا کرتا رہے گا۔

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مخلص اور غیر جانب دار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم بعد کے واقعات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ ان کے بقول، ’ہم نے امید نہیں چھوڑی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان کسی نئی ملاقات کا امکان ہے، وزیرِاعظم نے کہا کہ سفارت کاری ایک مسلسل عمل ہے اور خطے کے دوست اور برادر ممالک بھی امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نائب وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی مشاورت اور قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    یہ ملاقات اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ہوئی، جس میں پاکستانی وزیرِخارجہ نے ایران پر زور دیا تھا کہ خلیجی خطے میں توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے۔

  7. پاکستانی وزیر خزانہ کی امریکی ایکسِم بینک کے چیئرمین سے ملاقات: پی آئی اے، ریکوڈک اور ریفائنری منصوبوں پر تعاون پر گفتگو

    @Financegovpk

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسِم بینک) کے چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے اہم اقتصادی اور صنعتی منصوبوں کے لیے مالی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی توسیع، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور ریکوڈک منصوبے کے لیے ممکنہ مالی معاونت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    وزیرِ خزانہ نے پی آئی اے کی جانب سے بوئنگ طیاروں، خصوصاً بوئنگ 787 ڈریم لائنرز، کے حصول میں دلچسپی سے آگاہ کرتے ہوئے طیاروں اور ان کے انجنوں کی خریداری کے لیے مالیاتی پیکج میں تعاون کی درخواست کی۔ انھوں نے گراؤنڈڈ بوئنگ 777 طیاروں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے درکار سپیئر پارٹس کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

    دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ مخصوص منصوبوں پر پیش رفت کے ساتھ ساتھ وسیع تر تعاون کے فریم ورک پر بھی کام جاری رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں طیاروں کی پیشگی ادائیگیوں کے لیے ممکنہ فنانسنگ اور ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر امریکی ایکسِم بینک کے تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    ریکوڈک منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے اسے پاکستان کی مستقبل کی برآمدات اور اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ منصوبے میں تاخیر کے بھاری معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے ریکوڈک کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی مسلسل دلچسپی اور تعاون کا خیرمقدم بھی کیا۔

  8. برطانوی فضائیہ کا ہاک فائٹر جیٹ آبادی کے قریب گر کر تباہ، دونوں پائلٹ محفوظ

    Screenshot

    برطانوی فضائیہ (آر اے ایف) نے ایک ہاک ٹی 2 تربیتی جنگی طیارے کے حادثے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ہاک طیاروں کی تربیتی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔

    طیارہ ویلز کے جزیرے اینگلسی میں واقع آر اے ایف ویلی اڈے سے تربیتی پرواز پر تھا کہ قریب ہی پینکارنیسیوگ کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے سے چند لمحے قبل دونوں پائلٹ طیارے سے ایجیکٹ کر کے پیراشوٹ کی مدد سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔

    شمالی ویلز پولیس کے مطابق دونوں پائلٹوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے، جبکہ زمین پر کسی شخص کے زخمی ہونے یا بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں پائلٹ طیارے سے نکلنے کے بعد فضا میں پیراشوٹ کے ذریعے نیچے آ رہے ہیں، جبکہ طیارہ زمین سے ٹکرا کر آگ کے شعلوں میں گھِر جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق طیارہ رہائشی علاقے اور ایک کارواں پارک کے قریب گرا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کارواں پارک کے مالک رچرڈ اوون نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حادثے کے وقت انھوں نے دو دھماکوں کی آوازیں سنیں اور بعد ازاں جائے وقوعہ کے قریب آگ کے شعلے اور طیارے کا ملبہ دیکھا۔ ان کے مطابق طیارے کا کچھ حصہ کارواں پارک کے قریب آ گرا تھا۔

    ایک اور عینی شاہد اولی زیلوٹ نے بتایا کہ انھوں نے پہلے دھماکے کے بعد دھواں اٹھتے دیکھا اور جب قریب پہنچے تو آگ کے بڑے شعلے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں سب سے زیادہ تشویش اس بات کی تھی کہ حادثہ عمارتوں کے بہت قریب پیش آیا۔

    برطانوی فضائیہ نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک ہاک طیاروں کی پروازیں معطل رہیں گی۔ اطلاعات کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ریڈ ایروز ایروبٹک ٹیم پر بھی ہوگا، کیونکہ وہ بھی ہاک طیارے استعمال کرتی ہے۔ تاہم ٹیم کی اگلی طے شدہ فضائی نمائش فرانس کے لی ٹوکے ایئر شو میں ہے۔

    مقامی حکام نے اس واقعے کو ’بڑی تباہی سے معجزانہ بچاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ آبادی اور کارواں پارک کے انتہائی قریب گرا، جس کے باعث جانی نقصان کا خدشہ تھا۔

    اینگلسی کے مقامی کونسلر نیویل ایونز نے کہا کہ یہ خوش قسمتی تھی کہ طیارہ گرنے کے باوجود زمین پر موجود کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

  9. غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش

    USA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’امن مشن‘ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے 2.45 بلین ڈالر کے منصوبے کی نقاب کشائی کی۔

    منصوبے کے مطابق یہ بجٹ 66 پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے چھ ماہ کے دوران خرچ کیا جائے گا۔ رہائش کی فراہمی، ڈیزل جنریٹرز کے ساتھ بجلی کی پیداوار، اور کچرا اور ملبہ جمع کرنا اس پروگرام کے اہم حصوں میں شامل ہیں۔

    تاہم امن ٹیم نے کہا ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید فنڈنگ ​​کی ضرورت ہے۔ اب تک ممالک اور عطیہ دہندگان سے 18 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن اس منصوبے کے لیے صرف 280 ملین ڈالر ہی دستیاب ہوئے ہیں۔ ٹیم کا اندازہ ہے کہ غزہ کی مکمل تعمیر نو اور بحالی کے لیے اگلی دہائی میں تقریباً 71.4 بلین ڈالر درکار ہوں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور امن کمیشن کے غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے رکن جیرڈ کشنر نے تسلیم کیا کہ اس منصوبے کو ’مختلف علاقوں میں مختلف طرح کے التوا‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    کشنر نے امن وفد کے ارکان اور مختلف ممالک کے نمائندوں کے اجلاس میں کہا کہ آج کے اجلاس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ’مکمل طور پر پرعزم‘ ہیں۔

    امریکی ایلچی سٹیو وٹکو، جنھوں نے نیویارک میں ہونے والی میٹنگ میں بھی شرکت کی، کہا کہ گروپ نے گذشتہ سال کے دوران ’حقیقی پیش رفت‘ کی ہے۔

    سٹیو وٹکوف نے کہا کہ تمام یرغمالی اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور جنگ بندی، ’نامکمل ہونے کے باوجود‘ اپنی جگہ برقرار ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انسانی ہمدردی کی کوششوں کے ’تاریخی‘ نتائج برآمد ہوئے ہیں، اربوں ڈالر فوری طور پر ضروریات کو پورا کرنے اور تعمیر نو کے طویل مدتی عمل کی حمایت کے لیے عطیہ کیے گئے یا عہد کیے گئے۔

    تاہم، اس منصوبے کو نافذ کرنے میں فنڈنگ ​​کا حصول صرف ایک چیلنج ہے۔ غزہ میں کام کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، داخلی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، اور اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان معاہدہ طے پانا اس منصوبے کو درپیش دیگر اہم مسائل ہیں۔

    حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 300 بچوں سمیت کم از کم 1,381 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ غزہ کی وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتا ہے۔

  10. اسحاق ڈار، عباس عراقچی ملاقات: علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی روابط بڑھانے پر اتفاق

    Pak, Iran

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور مختلف امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  11. ایران مذاکرات کی صورت میں کسی بھی معاہدے کی مکمل پابندی کرے اور اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے: امریکہ

    USA
    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خزانہ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا دباؤ تین ممکنہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے آنے اور جانے والی 80 سے 90 فیصد بین الاقوامی پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔ انھوں نے ایرانی نمائندوں کی اقوام متحدہ میں موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ انھیں یقین نہیں کہ ایرانی وفد واپس کیسے جائے گا۔

    انھوں نے ایران سے منسلک مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایرانی مالیاتی نیٹ ورک کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔

    سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی حکمت عملی کے تین ممکنہ اہداف ہیں۔ ایرانی حکومت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر جائیں اور نظام اندرونی طور پر کمزور ہو جائے۔ ایرانی عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف عوامی بغاوت یا احتجاجی تحریک جنم لے اور ایران مذاکرات کی صورت میں کسی بھی معاہدے کی مکمل پابندی کرے اور اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے۔

  12. ایران کے سفارتی اشارے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو معمولی کمی دیکھی گئی، جب ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 94 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 102.13 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 59 سینٹ یا 0.7 فیصد کم ہو کر 91.56 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

    یہ کمی ایک روز قبل قیمتوں میں تقریباً چار فیصد اضافے کے بعد سامنے آئی، جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا ہوئے تھے۔

    مارکیٹ میں قدرے اطمینان اس وقت پیدا ہوا جب ایران نے اشارہ دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اب بھی اختلافات کے حل کے طریقہ کار پر ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کوششوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو تیل کی عالمی رسد سے متعلق خدشات کم ہو سکتے ہیں، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  13. مؤثر عالمی نظام ہوتا تو پاکستان۔انڈیا سمیت کئی تنازعات سے نمٹا جا سکتا تھا: مارکو روبیو

    USA

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر دنیا میں ایک مؤثر اور فعال بین الاقوامی نظام موجود ہو تو یہ پاکستان اور انڈیا سمیت مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اور ممکنہ تصادم سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی نظام اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور عالمی رہنماؤں میں اس بات پر وسیع اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ اسے اپنی اصل ترجیحات اور کردار کی جانب واپس لانے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا کے کئی بڑے تنازعات کو حل کرنے میں بین الاقوامی ادارے مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے۔ ان کے بقول، ’یہ بہت اچھا ہوتا اگر ہمارے پاس ایسا فعال بین الاقوامی نظام موجود ہوتا جو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ یا انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ تنازع سے نمٹ سکتا۔‘

    مارکو روبیو نے مزید کہا کہ جب بین الاقوامی نظام مؤثر ثابت نہ ہو تو ریاستیں اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، عالمی اداروں کو اپنی توجہ بنیادی ذمہ داریوں اور تنازعات کے حل پر مرکوز کرنا ہوگی تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹ سکیں۔

  14. اقوام متحدہ میں ہسپانوی وزیراعظم کی اسرائیل پر کڑی تنقید، نیتن یاہو پر غزہ میں ’اجتماعی قتل‘ جاری رکھنے کا الزام

    Spanish

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں ’اجتماعی قتل‘ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    بدھ کو اپنے خطاب میں پیڈرو سانچیز نے کہا کہ سپین غزہ کی صورتحال کے ردعمل میں پہلے ہی اسرائیل کے خلاف پابندیوں سمیت متعدد اقدامات کر چکا ہے اور مزید اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔

    ہسپانوی وزیراعظم حالیہ مہینوں کے دوران غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں کے نمایاں ناقد رہے ہیں۔ اس سے قبل ہسپانوی حکومت اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات محدود کرنے اور بعض فوجی تعاون کو روکنے جیسے اقدامات کا اعلان بھی کر چکی ہے۔

    پیڈرو سانچیز نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات کے دوران غزہ اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ہسپانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جاری تنازعات کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس بھی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انھوں نے جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خونریزی اور تباہی کی شدت ان کے دورِ سیکریٹری جنرل کے دوران دیکھی جانے والی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔

  15. امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی، حکام کا انکشاف

    USA

    امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے انکشاف کیا ہے کہ طویل تعیناتی کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے وابستہ آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔

    یہ انکشاف منگل کو نیویارک سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ کو لکھے گئے ایک خط میں کیا گیا، جس میں انھوں نے جہاز پر تعینات اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

    اہلکاروں کے اہل خانہ نے پہلے ہی طویل مشن، خراب حالات اور ذہنی دباؤ کے باعث عملے کی ذہنی صحت بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز گذشتہ نومبر سے تعینات تھا اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود رہا۔ اب یہ جہاز واپس امریکہ لوٹ رہا ہے۔

    ہنگ کاؤ نے اپنے خط میں کہا کہ جہاز پر عملے کی روحانی اور نفسیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانچ فوجی مذہبی پیشوا (چیپلنز) اور متعدد ذہنی صحت کے ماہرین موجود تھے۔ ان کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والے آٹھ افراد میں صرف ابراہم لنکن کا عملہ ہی نہیں بلکہ فضائی ونگ، سٹرائیک گروپ، تباہ کن جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) اور دیگر معاون یونٹوں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

    اگرچہ امریکی بحریہ نے ماضی میں رسد سے متعلق بعض مسائل تسلیم کیے تھے، تاہم اس نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جہاز پر ذہنی صحت کا کوئی بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ جہاز پر تقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات تھے۔

    کاؤ نے یہ بھی کہا کہ ٹوٹے ہوئے پلمبنگ نظام اور تازہ خوراک کی شدید قلت سے متعلق اطلاعات بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں، البتہ انھوں نے بعض مقامات پر پائپ لائن خرابیوں، سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس میں مسائل اور کچھ عرصے کے لیے خوراک کے محدود انتخاب کا اعتراف کیا۔

    دوسری جانب سینیٹر گلیبرانڈ نے ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ ایسا سلوک ’قطعی ناقابل قبول‘ ہے۔ ان کے مطابق جن مسائل کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا جا رہا تھا، وہ درحقیقت خدمت انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے سنگین اور مسلسل بگڑتے ہوئے حالات تھے۔

    ابراہم لنکن گذشتہ نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔ اس کی تعیناتی مئی میں ختم ہونا تھی، لیکن مشن میں بار بار توسیع کی گئی۔ اگست میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو نو ماہ کی طویل تعیناتی مکمل کرنے والے ابراہم لنکن کی جگہ مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ اور میرین کور میں خودکشی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ جنوری 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 956 بحری اہلکاروں کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ بحری جہازوں پر تعینات اہلکار امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق ناقص رہائشی حالات، مسلسل شور، سخت ڈیوٹی شیڈول اور مناسب آرام و نیند کی کمی ایسے عوامل ہیں جو ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

  16. چینی صدر شی جن پنگ کے استقبال کے لیے ٹرمپ خود فوجی اڈے پر پہنچ گئے

    Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے استقبال کے لیے ایک ایسا قدم اٹھایا جسے مبصرین نے غیر معمولی قرار دیا۔ بدھ کی شام واشنگٹن کے قریب واقع اینڈریوز ملٹری بیس پر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے خود ریڈ کارپٹ پر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا استقبال کیا۔

    بی بی سی کے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار برنڈ ڈیبوسمین جونیئر، جو اس تقریب کی کوریج کے لیے اینڈریوز ایئر فورس بیس پر موجود تھے، کے مطابق چینی صدر کے خیرمقدم کے لیے غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار فوجی انتظامات کیے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے اتحادی رہنماؤں اور اہم امریکی شراکت داروں کے متعدد دوروں کی کوریج کی ہے، لیکن اس نوعیت کا استقبال پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

    چینی صدر
    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر خود رَن وے کے قریب چینی صدر شی جن پنگ کا استقبال کیا

    عام طور پر سرکاری دوروں پر آنے والے غیر ملکی رہنما وائٹ ہاؤس کے شمالی داخلی دروازے سے داخل ہوتے ہیں اور ان کا استقبال وہاں کیا جاتا ہے، جبکہ غیر رسمی ملاقاتوں میں انھیں کسی نسبتاً کم نمایاں راستے سے اندر لایا جاتا ہے۔ تاہم شی جن پنگ کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار ان دونوں روایات سے مختلف تھا۔

    یہ 1962 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے ذاتی طور پر کسی غیر ملکی رہنما کا فوجی اڈے پر استقبال کیا ہو۔ اس سے قبل اُس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میکملن کا ایک فوجی اڈے پر خیرمقدم کیا تھا۔

    یہ غیر معمولی استقبال اس اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ اس دورے کو دے رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مصنوعی ذہانت، دوطرفہ تجارت، ایران سے متعلق کشیدگی اور تائیوان پر بیجنگ کے دعوے سمیت متعدد اہم امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سال مئی میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا تو انھیں اس نوعیت کا خصوصی استقبال نہیں ملا تھا، جس سے موجودہ دورے کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

    چینی صدر کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے اس خبر کو پڑھیے۔ شی جن پنگ: وہ ’شہزادہ‘ جس نے چین کا طاقتور رہنما بننے سے پہلے سب کچھ کھو دیا

  17. گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ رہیں گی: احمد الشرع کا اقوامِ متحدہ میں خطاب

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنشام کے صدر احمد الشرع

    شام کے صدر احمد الشرع نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ رہیں گی۔‘

    ان کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب کولمبیا نے گزشتہ ماہ اس سٹریٹیجک اہمیت کے حامل اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا تھا۔

    نیویارک میں عالمی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ ’ہماری خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے گا۔ گولان شام کا حصہ رہے گا۔ کسی بھی دوسری کوشش کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کے مطابق ناکام بنا دیا جائے گا۔‘

    احمد الشرع نے اس سے قبل جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ ’نیو جرسی اسرائیل کو دے دیں کیونکہ ان کے مطابق نیو جرسی ٹرمپ کی ملکیت ہے، جبکہ گولان ان کے عوام کا ہے۔‘

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک ملاقات میں احمد الشرع نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ وہ شخص ہیں جو شام کے ساتھ کھڑے ہوئے، انھوں نے اس کی حمایت کی اور شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔‘

  18. امریکی فوج نے ایک اور اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی فوج نے بدھ کو اعلان کیا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک حاضر سروس فوجی ’غیر جنگی واقعے‘ میں ہلاک ہو گیا۔

    پینٹاگون کے مطابق ورجینیا کے شہر نورفولک سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ کیپٹن بیانکا سی ولکرسن پانچ روز قبل، 18 ستمبر کو ہلاک ہوئی تھیں۔

    بیان کے مطابق کیپٹن ولکرسن کی ہلاکت کا سبب بننے والے واقعے کی تفصیلات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق انھیں ہلاکت کے بعد میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ وہ جنوبی کیرولائنا میں شا ایئر فورس بیس پر قائم امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اور تھرڈ آرمی کے ہیڈکوارٹر میں تعینات تھیں۔

    پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد ہلاک ہونے والی امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔ ان میں ’جنگی اور غیر جنگی کارروائیوں‘ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔

    اس دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی 800 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

    چند روز قبل واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی اصل ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کم از کم چار زیادہ ہے۔

  19. آبنائے ہرمز میں مال بردار بحری جہاز پر ’نامعلوم سمت سے پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات، دو افراد زخمی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار بحری جہاز کو ’نامعلوم سمت سے پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    برطانوی بحریہ کے میری ٹائم سیفٹی واچ ڈاگ کے مطابق واقعے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور وہ آبنائے ہرمز میں پھنس گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جہاز کے تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بدھ کو پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ادارے کے مطابق اب تک ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

  20. جنگ کے باعث کئی ماہ سکول بند رہنے کے بعد ایران میں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیمی اداروں میں واپسی

    Getty Images

    جنگ کے باعث کئی ماہ سکول بند رہنے کے بعد ایران کے ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد طلبہ دوبارہ تعلیمی اداورں میں پہنچے اور نئے تعلیمی سال کا پہلا دن مکمل کیا۔

    29 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کے بیک وقت حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے پہلے ہی روز صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 178 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

    جنگ شروع ہونے کے بعد سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔

    میناب میں ایران کے نائب صدر برائے سائنس و ٹیکنالوجی حسین افشین نے آج ایک پرائمری سکول میں گھنٹی بجا کر نئے تعلیمی سال کے آغاز کا اعلان کیا۔

    اس سال نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی موجودگی میں منعقد کی گئی تھی، جس کے بعد وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو گئے۔