آبنائے باب المندب کو لاحق خطرہ براہ راست عالمی تجارت کو متاثر کرے گا: یمنی صدارتی کونسل
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد محمد علیمی نے کہا ہے کہ ایران حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خلاصہ
عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے
ایران نے امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے تہران پر یمن میں دخل اندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود لیتے ہیں اور وہ کسی ملک کی پراکسی نہیں ہیں
ایران کی آئل ٹینکروں پر امریکی حملے کی مذمت: ’ایسے حملے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے واضح خطرہ ہیں‘
،تصویر کا ذریعہX/Centcom
ایران نے امریکہ
کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے
حملے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے واضح خطرہ ہیں۔
بدھ کے روز ایران
کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے نہ صرف خطے
میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث ہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و
سلامتی کے لیے بھی ایک واضح خطرہ ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی
فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے گذشتہ دو
دنوں میں خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق
یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گذشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک
جہاز پر دو بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔
دوسری جانب ایرانی
پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کے جواب میں امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں
سے حملے اور ا اردن کے الازرق اڈے پر امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
کیا ہے۔
اگلے ہفتے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
پاکستان کے زیرِ
انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے
ہفتے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
تنظیم کی کور کمیٹی
کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم کی درحواست
پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ
ان کی تنظیم کی جانب سے ایک دن کی ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔
عابد شاہین کا کہنا
ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ان سے براہ راست رابطہ نہیں کیا ہے
تاہم علما اور مشائح کی نشست پر منتخب ہونے والے ممبر قانون ساز اسمبلی پیر مظہر سعید
نے ان کی تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا
تھا کہ یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔
عابد شاہین کا کہنا
ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگلے ہفتے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
دوسری جانب مظفرآباد
کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہر میں زندگی معمول کے مطابق ہے اور سڑکوں پر ٹریفک رواں دوراں
ہے جبکہ راولاکوٹ اور باغ کی انتظامیہ کے مطابق کچھ مارکیٹیں بند ہیں لیکن ان علاقوں
میں بعض مارکیٹیں کھلی بھی ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔
برطانیہ میں ایئر ٹریفک کنٹرول کے سسٹم میں ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث تقریباً 2,000 پروازیں منسوخ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
برطانیہ میں ایئر ٹریفک
کنٹرول کے ایک مسئلے کے باعث تقریباً 2,000 پروازیں منسوخ ہونے کے بعد بدھ کے روز بھی
پروازوں میں تاخیر کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
ہوابازی کے شعبے
کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق اس خلل سے ہزاروں مسافر متاثر
ہوئے ہیں۔ منگل کو 1,750 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ بدھ کو مزید 153
پروازیں منسوخ کی گئیں۔
ایئر ٹریفک کنٹرول
کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے نیٹس نے اس کی وجہ ایک تکنیکی خرابی کو قرار
دیا ہے۔
ادارے نے تسلیم
کیا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے میں ’امید سے زیادہ وقت‘ لگا جس پر نیٹس کے سربراہ مارٹن رولف نے معذرت کی
ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
برطانوی وزیر
خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ یہ تعطل ’ناقابل قبول‘ ہے، جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے اس معاملے
پر وضاحت کے لیے مارٹن رولف کو طلب کر لیا ہے۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ
ہیڈی الیگزینڈر بدھ کو ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) سے خطاب کریں گی، جہاں توقع کی
جا رہی ہے کہ وہ اس خرابی کے پیچھے قطعی طور پر کسی سائبر حملے کی تردید کریں گی۔
مسافروں کو مشورہ
دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے بارے میں مسلسل اپنی ایئر لائنز سے معلومات حاصل
کرتے رہیں، کیونکہ فضائی آپریشن مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بدھ کے روز عالمی
منڈی میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے (فیوچرز) 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلے گئے۔ یہ چھ ہفتوں سے زیادہ عرصے
میں خام تیل کی بلند ترین سطح ہے۔
پاکستانی وقت کے
مطابق دن ایک بج کر دو منٹ پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.01 ڈالر، یا 2.05 فیصد
اضافے کے ساتھ 99.93 ڈالر فی بیرل پر تھے، جبکہ اس سے قبل تیل کی فی ڈالر قیمت
100.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ دوسری جانب ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.49 ڈالر، یا 1.60 فیصد اضافے کے ساتھ 94.52 ڈالر فی بیرل
پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
گذشتہ ماہ کے آغاز
کے بعد سے برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ
امریکہ اور ایران کے درمیان چھ ماہ سے جاری تنازع کے مستقل حل کی امیدیں مدھم پڑتی
جا رہی ہیں۔
28 فروری کو ایران
جنگ کے آغاز کے بعد سے برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 30 اپریل کو 126.41 ڈالر فی
بیرل تک جا پہنچی تھی۔
اس ہفتے ایران کے
حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں بعض
تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے اس تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے
ہیں۔
ان حملوں سے
بحیرۂ احمر کے راستے خام تیل کی ترسیل کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ راستہ
آبنائے ہرمز کا ایک اہم متبادل سمجھا جاتا ہے، جہاں 28 فروری کو ایران جنگ شروع
ہونے کے بعد سے تیل کی ترسیل شدید متاثر رہی ہے۔
سماجی تنظیموں کا بلوچستان میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار
ایواجی الائنس اور عورت
فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار
کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بدھ کے روز ان
تنظیموں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں
کے خلاف تشدد، قتل، تیزاب پھینکنے اور جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش
کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے
کہ کچلاک میں ایک 15 سالہ کمسن لڑکی کا مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل، مستونگ
کے کلی ببری میں ایک خاتون پر مبینہ تیزاب پھینکنے اور تشدد، تربت میں ایک خاتون کی
لاش کی برآمدگی اور نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی،
قتل اور لاش چھپانے جیسے واقعات معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
تنظیموں نے بلوچستان
حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات
کا فوری اور سخت نوٹس لیا جائے۔
بیان میں صوبے میں بعض
ضروری سہولیات کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
’طبی و فرانزک سہولیات کا فقدان‘
ایواجی الائنس اور عورت
فاؤنڈیشن نے سول ہسپتال نوشکی میں پوسٹ مارٹم کے لیے سرجن کی عدم دستیابی اور بلوچستان
کے دیگر اضلاع میں پولیس سرجن کے نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
بیان میں کہا گیا کہ
ایسے حساس مقدمات میں طبی اور فرانزک سہولیات کی کمی انصاف کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔
حکومت سے مطالبہ کیا
گیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب فرانزک، طبی، نفسیاتی اور قانونی
سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف اور معاونت مل سکے۔
’جامع حفاظتی نظام کی ضرورت‘
دونوں تنظیموں کا
کہنا ہے کہ صرف مقدمات کا اندراج کافی نہیں بلکہ ایسے واقعات میں متاثرہ خواتین اور
بچیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسا ردِعمل دینا ضروری ہے جس میں تحفظ، رازداری، طبی علاج،
نفسیاتی معاونت، قانونی امداد اور بحالی شامل ہوں۔
بیان میں مزید کہا
گیا ہے کہ پولیس، صحت، پراسیکیوشن، سماجی بہبود اور محکمہ حقوق نسواں کے درمیان مربوط
نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیر انتظام
کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج
کو تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔
مقامی صحافی فرحان طارق
کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے چارٹر آف
ڈیمانڈ کے حق میں نو جون کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغا کیا تھا
جسے آج (نو ستمبر) کو تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔
رواں ماہ کی پانچ
تاریخ کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر اپنے بار پھر اپنے مطالبات کے حق میں شٹر
ڈاون ہڑتال کی کال دی تھی۔
تنظیم کی کال پر پاکستان
زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاون ہے۔ پلیٹ اپر اڈہ میں واقع
مارکیٹس مکمل بند ہیں جبکہ بینک روڈ ٹالی منڈی کے علاقوں میں دکانیں کھلی ہیں۔ ضلع
باغ میں مکمل شٹر ڈاون ہے جبکہ ضلع کوٹلی میں بھی ہڑتال جاری ہے۔
خطے میں سڑکوں پر ٹرانسپورٹ
کی روانی معمول سے بہت کم ہے۔
فرحان طارق کا کہنا ہے کہ ضلع باغ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہڑتال کرنے پر متعدد
دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔
انڈیا کی سرحدی تنازع پر چین کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق: چھ، سات ستمبر کوسینیئر فوجی کمانڈروں کی دو فلیگ میٹنگز ہوئیں، وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images
انڈین وزارتِ خارجہ نے آٹھ ستمبر کو
تصدیق کی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے دوران متنازع ریاست اروناچل پردیش کی سرحد پر انڈیا
اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان
کے مطابق متنازع سرحد، یعنی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر کشیدگی کی
اطلاعات کے پس منظر میں یہ مذاکرات ریاست کے اپر سبانسری علاقے میں ہوئے۔
نئی دلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے
ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ اعلیٰ سطح فوجی کمانڈروں کی
پہلی فلیگ میٹنگ چھ ستمبر کو اروناچل پردیش میں انڈیا کی جانب واقع واچا میں ہوئی،
جبکہ دوسری ملاقات اگلے روز چین کی جانب واقع دامائی میں ہوئی۔
جیسوال کے مطابق اگست 2025 اور اگست
2026 میں انڈیا اور چین کے خصوصی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں جس
مفاہمت پر اتفاق ہوا تھا، اور اس کے بعد مئی اور اگست 2026 میں بالترتیب بیجنگ اور
نئی دلی میں ہونے والے ورکنگ میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے اجلاسوں میں
جو گفتگو ہوئی تھی، حالیہ ملاقاتیں اسی کے مطابق ہوئیں۔
ترجمان نے حالیہ مذاکرات کے نتائج کے
بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ مشرقی سیکٹر میں انڈیا اور چین کے
درمیان کور کمانڈر سطح کا پہلا رابطہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں
کے درمیان مذاکرات کا اسی نوعیت کا نظام مغربی سیکٹر میں 2020 سے موجود ہے، جو
وادیٔ گلوان میں خونریز جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
فوجی
مذاکرات کا یہ تازہ دور چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے
متوقع دورۂ انڈیا سے چند روز قبل ہوا ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنز، 11 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر کا دعویٰ
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ
(آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چھ اور سات ستمبر کو
بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشک میں کارروائی کر کے 11 شدت پسندوں کو ہلاک کیا
ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شدت
پسندوں نے چھ ستمبر کو خاران میں سڑک بند کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوشش
کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کا مقابلہ کیا، جس کے
نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سات
ستمبر کو واشک ضلع میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ان کے ٹھکانے کو نشانہ
بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین شدت پسند ہلاک ہوئے۔
آئی
ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 2.9 ٹن بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا، جو بم تیار
کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
کیچ: 30 سالہ خاتون کے اغوا اور لاش برآمدگی کیس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, محمد کاظم، بی بی سی اُردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہماری بچی کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا اُس نے نہ صرف ہمارے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کیا بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کیا ہے۔‘
یہ کہنا ہے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہ گُل بلوچ کے والد عبدالعزیز کا۔ ماہ گُل کو اتوار کی شب نامعلوم مسلح افراد نے اُن کے گھر سے اغوا کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد اُن کی لاش قریبی علاقے سے ملی تھی۔
30 سالہ ماہ گل دو بچوں کی والدہ تھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خاتون کے والد عبدالعزیز بلوچ نے بتایا کہ انھیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ اُن کی بیٹی کو کس نے اور کیوں اِس ظلم کا نشانہ بنایا۔
ضلع کیچ کی سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کے خاندان کو انصاف فراہم کرنےکا مطالبہ کیا ہے جبکہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جائیں گے۔
اغوا اور قتل کا واقعہ
ماہ گل بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کلگ سہرانی سے تھا۔ یہ علاقہ تربت شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ماہ گل بلوچ کے والد عبدالعزیز بلوچ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اُن کی بیٹی نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی، وہ شادی شدہ تھیں اور اُن کی پانچ اور آٹھ سال کی دو بیٹیاں ہیں۔
عبدالعزیز کے مطابق اُن کی بیٹی کا کسی سیاسی تنظیم یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ گھریلو خاتون تھی۔
ماہ گل کے اغوا اور قتل کی ایف آئی آر اُن کے والد عبدالعزیز کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق چھ ستمبر (اتوار) کی شب لگ بھگ آٹھ بجے ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر گاڑی اُن کےگھر آئی جس میں چھ سے سات افراد سوار تھے۔
والد کے مطابق یہ نقاب پوش اور مسلح افراد اُن کے گھر زبردستی داخل ہوئے اور پوچھا کہ ماہ گُل کون ہے، اور اس کی تصدیق کے بعد مسلح افراد نے اُن کی بیٹی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
والد کے مطابق گھر والوں نے مزاحمت کی کوشش کی جس پر مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ کی اور بندوق کی نوک پر اُن کی بیٹی کو اغوا کر کے لے گئے۔
والد کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی یا ماہ گل کے شوہر کی نہ تو کسی کے ساتھ کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی ماہ گُل کسی سیاسی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھیں۔
ایک سوال پر اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں کسی جانب سے کسی دھمکی کا کوئی سامنا نہیں تھا۔
اس علاقے سے تعلق رکھنے والے نذیر بلوچ ایڈووکیٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس واقعے نے اہل علاقہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
واقعے کے خلاف سیاسی جماعتوں کا ردعمل
منگل کے روز تربت میں آل پارٹیز کیچ اور ضلع کے تاجران کے مسائل کے حوالے سے جو مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی اس میں ماہ گُل بلوچ کے اغوا اور قتل کے واقعے کی مذمت کی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی موجود تھے ۔
پریس کانفرنس میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے اسے بلوچ روایات کے منافی قرار دیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ اُن کے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے چند سال قبل ڈھننُک کے علاقے میں ملک ناز نامی خاتون کو ان کے گھر میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔
آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ماہ گُل بلوچ کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے انصاف کے جو تقاضے ہیں، وہ پورے کیے جائیں گے۔ بی بی سی نے ڈی آئی جی پولیس مکران رینج اور ایس ایس پی کیچ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی لیکن اُن کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔
متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او منصور احمد کا کہنا ہے کہ جب اس خاتون کی اغوا کی خبر ملی تو پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی اور مغوی خاتون کے والد، شوہر اور خاندان کے دیگر افراد سے اس واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ اگلی صبح پولیس کو یونیورسٹی کے عقب میں ایک خاتون کی لاش موجود ہونے کی اطلاع ملی اور بعدازاں اس کی شناخت مغوی ماہ گُل کے طور پر ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اُن کے مطابق خاتون کی لاش جہاں پڑی ہوئی تھی انھیں وہاں گولی نہیں ماری گئی تھی بلکہ کہیں اور گولی مارنے کے بعد لاش کو لا کر پھینک دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج ہوا ہے اور اس کے محرکات اور ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔
سعودی عرب میں یمنی حوثیوں کے حملے کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنیمنی حوثیوں کے حملے کے بعد سعودی عرب کے شہر ابہا بلک میں واقع تیل کمپنی آرامکو کے آئل ڈپو میں آگ اور دھواں
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے گذشتہ روز سعودی عرب کے
اقتصادی اور عسکری اہداف پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغنے کا دعویٰ کیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کی
ہیں، جن میں حملوں کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسیٹلائٹ تصویر: سعودی عرب کے شہر ابہا بلک میں تیل کمپنی آرامکو کے ڈسٹری بیوشن سینٹر سے اٹھتا دھواں
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے
ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’یمنی مسلح افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی ایک
بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی انجام دی، جس میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز
کا استعمال کیا گیا۔‘
انھوں
نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ حملے سعودی عرب کے مختلف اقتصادی اور فوجی اہداف کو نشانہ
بنانے کے لیے کیے گئے اور ان کا مقصد حالیہ سعودی حملوں کا جواب دینا تھا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسیٹلائٹ تصویر: یمنی حوثیوں کے حملے کے بعد سعودی عرب کے شہر جازان میں واقع آرامکو ریفائنری کے اطراف سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے منگل کو کہا
کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں
شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 سعودی
شہری زخمی ہوئے ہیں۔
سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی وزارتِ خارجہ کے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ
’حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ
جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کیے: حوثیوں کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے
دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں میں ان کے ٹھکانوں پر 32 سے
زائد فضائی حملے کیے ہیں۔
ایک روز قبل حوثیوں نے اپنے پڑوسی
ملک سعودی عرب کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد
زخمی ہوئے۔
حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے
رپورٹ کیا ہے کہ ’سعودی طیاروں نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں پر 32
فضائی حملے کیے ہیں۔‘
سعودی عرب نے تا حال حوثیوں کی جانب
سے ان حملوں کے دعوؤں پر کوئی با ضابطہ ردِعمل نہیں دیا ہے۔
سعودی
حکام کہہ چکے ہیں کہ منگل کی صبح حوثیوں کے حملوں کے باعث بعض تیل تنصیبات کی
سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئی تھیں اور 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔
کرک میں پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، ایک زخمی
پولیس کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع
کرک میں تھانہ صابر آباد کی حدود میں پولیس موبائل پر نا معلوم مسلح افراد کی
فائرنگ کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل ظفران ہلاک جبکہ کانسٹیبل محمد امتیاز زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق گذشتہ شب شنکئی ڈیم
کے علاقے میں معمول کی گشت پر مامور پولیس موبائل کو نا معلوم مسلح ملزمان کی جانب
سے نشانہ بنائے جانے کے بعد علاقے میں ’سرچ اینڈ سٹرائیک‘ آپریشن کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر
اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا
رہی ہے۔
زخمی اہلکار کو فوری طبی امداد کے
لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انھیں ضروری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
پولیس
کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے
لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنچھ ستمبر کی تصویر: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن اور حامی حیدرآباد میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے جمع ہیں
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی
کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر سماعت کا تحریری حکم
نامہ جاری کر دیا ہے، جبکہ معاملے کی سماعت کے لیے تین رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل
دے دیا گیا ہے۔
لارجر بینچ میں اسلام آباد ہائی
کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے ساتھ جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی شامل
ہوں گے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے گذشتہ سماعت
کا تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے چیف
سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرلز (آئی جیز) کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا
حکم دیا ہے۔
عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد، آئی
جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق ایک تاجر
کی جانب سے پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست
گزار کے وکیل نے عدالت کو احتجاج کے باعث ہونے والے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا اور
مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانون پہلے سے موجود ہے۔
عدالت
نے قرار دیا کہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے، اس لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالتی
معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اُن کے
اہلخانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے پر 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ
کا اعلان کر رکھا ہے۔
پاسداران انقلاب کا دو امریکی جہازوں اور آٹھ آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ
کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے پانچ آئل ٹینکروں پر حملے کے ردعمل میں ان
کی بحریہ نے ’دو امریکی جہازوں اور آٹھ آئل ٹینکروں‘ پر حملہ کیا اور انھیں ’بہت
زیادہ نقصان‘ پہنچایا ہے۔
بدھ کی صبح جاری کیے گئے بیان میں یہ
بھی دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کے ’ممنوعہ اور غیر محفوظ علاقے‘ سے گزرنے کی
کوشش کرنے والے 10 جہازوں پر حملہ کیا گیا۔
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران جاری کیے
گئے بیانات میں ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن اور بحرین میں امریکی ٹھکانوں پر
میزائل حملوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
ان اطلاعات کی ابھی تک آزاد ذرائع سے
تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
تاہم، امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام)
نے منگل کی نصف شب جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنے جنگی بحری
جہازوں پر حملے کے ردعمل میں ایران کے پانچ آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، اور یہ
بھی کہا تھا کہ ان جنگی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ اپنی کارروائیاں
جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کا ’دوسرا مرحلہ‘
پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا ایک اور مرحلہ شروع کیا ہے، جس میں مشرقی اردن میں واقع پرنس حسن فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران ایرانی ذرائع نے اردن پر میزائل حملوں کے پہلے مرحلے سے منسوب کئی ویڈیو تصاویر جاری کی ہیں، جن میں سے بعض میں ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام سے گزر کر براہِ راست اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بدھ کی صبح پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا امریکی جہازوں پر میزائل حملے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کی صبح جاری کیے گئے ایک نئے بیان میں کہا: طاقت ور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے DDG-119 اور DDG-53 جنگی تباہ کن جہازوں کو، جو کروز میزائلوں اور ایجس (Aegis) نظام سے لیس تھے، نشانہ بنایا گیا، اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے انھیں نقصان پہنچا ہے۔
اس سے ایک گھنٹہ قبل سینٹکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنے جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی کوششوں کے جواب میں پانچ ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ کر کے انھیں تباہ کر دیا ہے۔
امریکی جہازوں پر ایران کے میزائل حملوں کا معاملہ گذشتہ چند دنوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان اہم چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
محسن رضائی نے چند روز قبل کہا تھا کہ ایرانی افواج بحری جہاز شکن میزائلوں کے ذریعے امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔
امریکہ نے اپنے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی تھی، تاہم ایسی کوششوں کے جواب میں اس نے ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے امریکی خودکار آبدوز پر حملے کی تصاویر جاری کر دیں
منگل کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک امریکی خودکار آبدوز کے قبضے میں لیے جانے کا اعلان کیے جانے اور سینٹکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ امریکی بحریہ کی زیہپد کو 24 گھنٹے قبل فنی خرابی کا سامنا ہوا تھا، سپاہ نیوز ویب سائٹ نے ایسی تصاویر شائع کیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان میں خودکار آبدوز کو پانی سے نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سینٹکام کے ترجمان فرسٹ کیپٹن ٹم ہاکنز نے منگل کو بی بی سی سے گفتگو میں کہا: امریکہ سے تعلق رکھنے والی ایک زیہپد کو فنی خرابی کا سامنا ہوا تھا۔ زیہپد جاری کارروائیوں کی حمایت میں علاقے کے پانیوں میں گشت کر رہی تھی۔
انھوں نے کہا: یہ ایک پرانا ماڈل تھا جو حساس معلومات جمع نہیں کرتا تھا اور اس میں خفیہ ریڈار یا سینسر کا سامان موجود نہیں تھا۔ علاقائی پانیوں میں امریکی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
سینٹکام کے ترجمان کے بیان کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبدوز کا فعال ہونا اور کارروائیوں کے دوران استعمال میں ہونا ان بحری ہتھیاروں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا اردن کے الازرق اڈے پر امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاسدارانِ انقلاب نے گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران اردن میں مختلف مقامات پر میزائل حملے سے منسوب کئی تصاویر جاری کی ہیں اور ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی الازرق اڈے کو نشانہ بنایا۔
منگل کی نصف شب جاری کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا: اس کارروائی میں ٹھوس ایندھن اور مائع ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں نے ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 جنگی طیاروں کی دیکھ بھال، تیاری اور تعیناتی کے مقامات، نیز جنگی طیاروں کے ہینگر کو نشانہ بنایا، جس سے بھاری نقصان ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے یہ حملے ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے ردعمل میں کیے۔
اس سے چند منٹ قبل، سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے جنگی جہازوں پر ایران کے حملے کے جواب میں پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان جہازوں پر حملے کی ایران کی کوشش سے نہ تو ان جہازوں کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی امریکی افواج کو۔
سینٹکام کا ایرانی خام تیل لے جانے والے پانچ آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے گذشتہ دو دنوں میں خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کر دیا، یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گذشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر دو بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔
سینٹکام کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی جہاز، ایرانی میزائل حملوں سے کامیابی کے ساتھ بچ نکلے اور علاقائی پانیوں میں گشت جاری رکھا۔ کمانڈ کے مطابق حملوں میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
ایران کے تازہ ناکام حملوں کے جواب میں سینٹکام نے کہا کہ اس نے بحیرۂ عمان میں ایم ٹی کاویز، ایم ٹی چارمینار، ایم ٹی ہورائزن ون اور ایم ٹی رسکو نامی ٹینکروں کو، جبکہ خارک جزیرے کے قریب ایم ٹی دریا کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کے مطابق جہازوں پر حملے سے پہلے ان کے عملے کو جہاز چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد ٹینکروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔
سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ان ٹینکروں کو پاسدارانِ انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی مالی معاونت کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے ایک خفیہ تیل منتقلی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر استعمال کر رہا تھا، اور یہ بھی کہا کہ ایران ان جہازوں کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سینٹکام کی افواج نے 5 ستمبر کو مزید تین ایرانی آئل ٹینکر تباہ کر دیے تھے، جب انقلابی گارڈز نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک میزائل تباہ کن جنگی جہاز پر حملے کی کوشش کی تھی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے بندرگاہ جاسک کے ساحل سے دور ایک آئل ٹینکر پر حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم دیگر آئل ٹینکروں پر حملوں کے متعلق کوئی خبر نہیں دی گئی۔
دریں اثنا، پاسدارانِ انقلاب نے ایک ہنگامی نوٹس جاری کرتے ہوئے بحرین اور کویت کی بندرگاہوں میں موجود ٹینکروں کے عملے کو فوری طور پر ڈیک چھوڑنے کی تنبیہ کی، کیونکہ انھیں جلد نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران نے اردن اور ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا بھی اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایک آبدوز میں تکنیکی خرابی ہوئی تھی: امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایرانی دعوے پر ردِعمل
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آبدوز علاقے کے پانیوں میں جاری آپریشنز کی معاونت کے لیے گشت کر رہی تھی۔
اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی سمارٹ آبدوز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
فارس کے مطابق یہ امریکی فوج کی ’انتہائی جدید، ذہین اور بغیر عملے کے چلنے والی (ان مینڈ) آبدوزوں‘ میں سے ایک ہے۔
فارس نے یہ بھی کہا کہ اس آبدوز کو ’آبنائے ہرمز کے داخلی راستے‘ پر قابو کیا ہے۔
سینٹکام کے ترجمان لیفٹیننٹ کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا: ’ایک روز قبل امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آبدوز علاقے کے پانیوں میں جاری آپریشنز کی معاونت کے لیے گشت کر رہی تھی۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرون آبدوز کا ایک پرانا ماڈل تھا جو حساس معلومات اکٹھی نہیں کرتا تھا اور اس میں کوئی خفیہ (کلاسیفائیڈ) ریڈار یا سینسر کا سامان نصب نہیں تھا۔