لائیو, ریاض جانے والی بعض پروازیں منسوخ، سفارتکاروں اور بین الاقوامی سکولوں کی جانب سے حفاظتی اقدامات

ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے حوثی دعوے کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں جبکہ شہر میں سکیورٹی خدشات کے باعث سفارت کاروں اور تعلیمی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

خلاصہ

  • کل چارسدہ میں آگے کے لائحہ عمل کا کچھ حصہ بتاؤں گا: سہیل آفریدی
  • دو بسوں پر روس کا حملہ، کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے: یوکرینی حکام
  • چند روز میں امریکی تجویز کا جواب دیں گے: عباس عراقچی
  • ریاض میں میزائل کا ملبہ گرنے سے بچوں کی نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے: سعودی سول ڈیفنس
  • پی ٹی آئی کے ایم پی اے عبدالسلام آفریدی مردان سے مبینہ طور پر اغوا: اہلِ خانہ کا دعویٰ
  • پاکستان کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستانی فضائیہ کے طیارے استعمال کیے جانے کی تردید

لائیو کوریج

  1. ریاض جانے والی بعض پروازیں معطل، سفارت کاروں اور سکولوں کی جانب سے حفاظتی اقدامات

    لفتھانسا ایئرلائن

    ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے حوثی دعوے کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں جبکہ شہر میں سکیورٹی خدشات کے باعث سفارت کاروں اور تعلیمی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایئرانڈیا اور لفتھانسا گروپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔

    لفتھانسا گروپ کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث گروپ کی فضائی کمپنیاں 16 اکتوبر تک ریاض کے لیے پروازیں معطل رکھیں گی۔ دوسری جانب ائیر انڈیا نے کہا ہے کہ اس نے 10 اکتوبر تک سعودی دار الحکومت کے لیے تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق جمعرات کی صبح ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک طیارے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ خبر رساں ادارے نے یہ بات ایک عینی شاہد اور معاملے سے آگاہ تین افراد کے حوالے سے بتائی ہے۔

    حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ریاض کے کنگ خالد انڑنیشنل ائیرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی دار الحکومت میں تعینات سفارت کاروں اور مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ جمعرات کو شہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد سفارتی عملے کو اپنی عمارتوں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی۔

    یہ دھماکے اس وقت سنے گئے جب چند گھنٹے قبل یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے تازہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے دار الحکومت کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    اب تک سعودی حکام کی جانب سے واقعے پر کوئی با ضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی عوام کو موبائل پیغامات کے ذریعے کوئی انتباہ دیا گیا، جیسا کہ ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔

    کئی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ بین الاقوامی سکولوں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے۔ کم از کم ایک سکول میں بچوں کو احتیاطاً تہہ خانے میں منتقل کیا گیا۔

    اس سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے آگاہ کیا تھا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔

    جبکہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

  2. کل چارسدہ میں آگے کے لائحہ عمل کا کچھ حصہ بتاؤں گا: سہیل آفریدی

    سہیل آفریدی

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل چارسدہ میں کارکنوں کو آئندہ کے لائحہ عمل کا کچھ حصہ بتایا جائے گا، جبکہ مکمل منصوبہ صوابی پہنچ کر ظاہر کیا جائے گا۔

    سہیل آفریدی نے کہا: ’ہم نے پہلے صوابی کا رخ کرنا ہے، اور صوابی سے آگے جو میں پلان دوں گا تو ان کی نیندیں حرام کر دوں گا۔‘

    اس سے قبل پشاور میں ایک اور مقام پر خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کارکنوں کو آئندہ مرحلے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’صوابی پہنچ کر ہم جو پلان دیں گے، اس کے بعد واپسی نہیں ہو گی!‘

  3. دو بسوں پر روس کا حملہ، کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے: یوکرینی حکام

    یوکرین میں بس پر حملہ

    یوکرین کے ریسکیو حکام کے مطابق مشرقی محاذ پر کراماتورسک شہر میں روسی گلائیڈ بم حملے میں دو سویلین بسوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کراماتورسک کمیونٹی کے گاؤں بیلینکے میں بھی تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    علاقائی سربراہ وادیم فیلاشکن کے مطابق حملوں میں مزید 18 افراد زخمی ہوئے۔ ان کا الزام ہے کہ روس نے جان بوجھ کر مسافروں کو لے جانے والی بسوں کو نشانہ بنایا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ہلاکتیں ہوں۔

    کراماتورسک اور اس کے پڑوسی شہر سلوویانسک یوکرین کے صنعتی علاقے ڈونباس میں واقع اُس دفاعی پٹی کا حصہ ہیں جس پر روس قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ: ’اس حملے کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

    روس نے تا حال اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  4. چند روز میں امریکی تجویز کا جواب دیں گے: عراقچی

    عباس عراقچی، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اب بھی اس تجویز پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، عراقچی نے کہا: ’ہم نے اپنا منصوبہ، جسے ’سات روزہ منصوبہ‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا تھا، سامنے رکھا اور اس پر امریکی فریق کے خیالات بھی سنے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’اس وقت ہم امریکیوں کے مؤقف کا جائزہ لے رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ آئندہ چند روز میں اپنا جواب پیش کر دیں گے۔‘

    عراقچی کے مطابق، سفارتی عمل بدستور جاری ہے اور ثالثوں کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

  5. ریاض میں میزائل کا ملبہ گرنے سے بچوں کی نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے: سعودی سول ڈیفنس

    سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

    ترکی المالکی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے جبکہ ریاض کی جانب داغے گئے دو مزید بیلسٹک میزائل بھی فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔

  6. پی ٹی آئی کے ایم پی اے عبدالسلام آفریدی مردان سے مبینہ طور پر اغوا، اہلِ خانہ کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    Muhammad Abdul Salam PK-58 Mardan-V
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کے اہل خانہ نے کا دعویٰ کیا ہے کہ عبدالسلام آفریدی کو مردان میں واقع ان کے ہجرے کے باہر سے (مبینہ طور پر) بعض نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے ہیں۔

    بی بی سی سی اردو کے عزیز اللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالسلام آفریدی کے بھانجے اور داماد ڈاکٹر سجاد نے الزام عائد کیا کہ عبدالسلام آفریدی تقریبا پونے تین بجے کے قریب چمتار کے علاقے میں جانے کے لیے نکلے تاکہ سہیل آفریدی کی قیادت میں وہاں ایک سے دو روزمیں پہنچنے والے آزادی مارچ کی تیاروں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    ڈاکٹر سجاد نے الزام عائد کیا کہ ’عبدالسلام آفریدی ابھی ہجرے سے باہر نکلے ہی تھے کہ چار گاڑیاں آئیں جن میں سادہ لباس میں مسلح افراد نے ان کو روک کر گاڑی سے اتارا اور کہا کہ آپ آ جائیں۔ ‘

    ّاکٹر سجاد کے مطابق ’ان کے ساتھ گن مین اور گارڈ موجود تھے تاہم عبدالسلام آفریدی نے انھیں کسی قسم کی مزاحمت کرنے سے روکا اور جس کے بعد وہ مسلح افراد انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کے لے گئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ایف آئی ار درج نہیں ہوئئ تاہم پولیس کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او آئے اور واقعے سے متعلق تفصیل لے کر گئے ہیں۔‘

    ڈاکٹر سجاد کے مطابق اس خبر کے فورا بعد بیرسٹر گوہر بھی آئے اور اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔

    دوسری جانب عبدالسلام آفریدی کے ڈرائیور بلال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ گاڑی چلا رہے تھے کہ اچانک اھراف سے چار گاڑیاں آئیں اورعبدالسلام آفریدی کی گاڑی کو روک کر ان سے ساتھ چلنے کو کہا۔

    ڈرائیور کے مطابق ’اس وقت ایم پی اے نے کہا کہ آپ لوگ مزاحمت نہ کریں۔‘

  7. پاکستان کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستانی فضائیہ کے طیارے استعمال کیے جانے کی تردید

    Pakistan jet

    پاکستان کی حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان فضائیہ کے طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں امریکی جریدے دی نیویارک ٹائمز کی اُس خبر کو ’جھوٹی اور من گھڑت‘ قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان فضائیہ کے طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے ایک بار پھر کہا جاتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایسی کسی تعیناتی یا کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔

    دی نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کے خلاف حملوں میں پاکستانی فضائیہ کے جیٹ استعمال کیے جا رہے۔

    اس کے علاوہ اخبار نے امریکی فوج کے سابق افسر کرنل ڈیوڈ او سمتھ، جو پاکستان میں امریکی فوجی اتاشی اور ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سینیئر تجزیہ کار بھی رہ چکے ہیں، کا ایک بیان بھی اپنی خبر میں شامل کیا تھا۔

    ڈیوڈ او سمتھ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اگرچہ انھیں خفیہ اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

  8. پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پانچواں روز، سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ پشاور پہنچ گیا

    PTI Long March at Pishawar
    ،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کی قیادت میں حیات ٹول پلازہ، پشاور پہنچ گیا

    پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کی قیادت میں حیات ٹول پلازہ، پشاور پہنچ گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد اتوار کے روز سے ضلع لکی مروت سے شروع ہونے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر پشاور کے حوالے سے ایک شیڈول بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق آٹھ اکتوبر کو پشاور میں حیات آباد ٹول پلازہ سے یہ مارچ بھانے ماڑی چونگی جائے گا۔

    شیڈول کے مطابق جمعرات کے روز پشاور میں کوہاٹی چوک سرکلر روڈ،جمیل چوک، پیر زکوڑی پل، کبوتر چوک سے ہوتا ہوا رات تقریبا نو بجے چار سدہ روڈ پر پہنچے گا۔

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود تصاویر اور کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قافلے میں شرکاء کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم، عمران خان کی تصاویر اور پارٹی پرچم ہیں، جبکہ کارکنان اس دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔

  9. حوثیوں کی جانب سے ریاض اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے تین بلیسٹک میزائل تباہ کر دیے: ترکی المالکی

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

    ترکی المالکی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے جبکہ ریاض کی جانب داغے گئے دو مزید بیلسٹک میزائل بھی فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔

    ان کے مطابق یہ میزائل حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تھے۔

    اس سے قبل حوثی گروہ انصار اللہ نے جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    بی بی سی عربی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے خبر دی تھی کہ جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

  10. مکہ معاہدے کے تحت ترکی پر لازم نہیں کہ فوجی دستے کسی دوسرے ملک جارحانہ کارروائیوں کے لیے بھیجے: ہاکان فیدان

    fidan

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق انھوں نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے تحت کسی دوسرے ملک پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    جمعرات کے روز انقرہ میں ہنگری کی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انیتا اوربان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’معاہدے کو پارلیمان میں پیش کرنے کے لیے ضروری تمام کام مکمل کر لیا گیا ہے۔‘

    ہاکان فیدان کے مطابق اس معاہدے کے تحت اگر دستخط کنندہ ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر فریق اس کے دفاع میں اس کا ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جارحانہ نہیں دفاعی معاہدہ ہے۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کے تحت ترکی پر لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے فوجی دستے کسی دوسرے ملک میں جارحانہ کارروائیوں کے لیے تعینات کرے۔

    روس یوکرین جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے خبردار کیا کہ اس تنازعے کو بحیرہ اسود تک پھیلنے نہیں دینا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بحیرہ اسود کو تنازعے کے ایک نئے محاذ میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘

  11. ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، حوثیوں کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

    King Khalid Airport
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو۔

    بی بی سی عربی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ سفارت کاروں نے بتایا کہ انھیں اپنی سفارت خانوں کی عمارتوں کے اندر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صورتِ حال سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سکولوں نے احتیاطی اقدامات اپنائے ہیں اور کم از کم ایک سکول میں بچوں کو حفاظت کے لیے تہہ خانے میں منتقل کر دیا گیا۔

    کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں کام کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ بعض کمپنیوں نے اپنے دفاتر خالی کروا لیے ہیں۔

    ریاض میں موجود نیویارک ٹائمز کے ایک نامہ نگار نے بھی مختصر وقفے کے دوران یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

    امریکی جریدے کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی حکام کی جانب سے شہریوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق معلومات شیئر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایسی معلومات پھیلانے کی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق حوثی گروہ انصار اللہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ میزائل اپنے ہدف پر لگا جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تاہم اس دعوے کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  12. افغانستان: طالبان مخالف گروہوں کے ’انڈین ساختہ ہیلی کاپٹر مار گرانے‘ اور طالبان کے حملے پسپا کرنے کے دعوے, بی بی سی مانیٹرنگ

    Cheetah Helicopter
    ،تصویر کا کیپشنانڈین ساختہ چیتا ہیلی کاپٹر (فائل فوٹو)

    طالبان مخالف گروپ ’افغانستان گرین ٹرینڈ‘ (اے جی ٹی)، جس کی قیادت افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کرتے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی فورسز نے سات اکتوبر کو صوبہ پنجشیر میں ایک ’سمارٹ آپریشن‘ کے دوران طالبان کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

    جمعرات (آٹھ اکتوبر) کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ’اے جی ٹی‘ نے کہا کہ ’انڈیا میں تیار کردہ چیتا ہیلی کاپٹر، جو طالبان کے زیرِ استعمال تھا، شام سوا سات بجے ایک آپریشن میں مار گرایا گیا ہے۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار دو پائلٹ اور طالبان کے زیرِ انتظام فضائیہ کے چیف آف سٹاف اس واقعے میں شدید زخمی ہوئے جنھیں رات گئے کابل لے جایا گیا جہاں وہ سردار داؤد خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ دفاع یا پنجشیر کے مقامی طالبان حکام نے تاحال اس مبینہ حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اسی طرح طالبان مخالف دوسری بڑے گروہ ’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ (اے ایف ایف) نے مشرقی صوبہ نورستان اور شمال مشرقی صوبہ بدخشان میں طالبان کے خلاف مزید نئے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایک بیان میں گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بدھ کی شب نورستان کے ضلع کامدیش میں طالبان کے حملوں کو پسپا کیا اور تقریباً چھ گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران 11 طالبان جنگجو ہلاک اور کم از کم آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

    افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان نے بدھ کی صبح اُن کے متعدد ٹھکانوں اور مورچوں پر حملے کیے، جن کا ’شدید مزاحمت‘ کے ساتھ جواب دیا گیا۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے ’دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور انھیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اے ایف ایف کے جنگجو نورستان کے ضلع کامدیش میں ’آزاد کرائے گئے علاقوں‘ میں فعال ہیں اور اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اردگرد کے دیہات اور علاقوں میں صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

    جمعرات کو جاری کردہ ایک اور بیان میں اے ایف ایف نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے بدخشان کے ضلع کوران و منجان سے صوبہ پنجشیر جانے والی شاہراہ پر ایک حملے میں طالبان کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا۔

    اس معاملے پر طالبان حکام کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔

    اس سے قبل طالبان مخالف گروپ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وسطی صوبہ غور میں ایک حملے کے دوران طالبان کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

    دوسری جانب طالبان کی پولیس سپیشل فورس (پی ایس ایف) نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے چار ایسے افراد پر مشتمل گروہ کو پکڑا ہے جن کا تعلق طالبان مخالف مسلح گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) سے ہے اور وہ کابل میں اقوام متحدہ کے ایک دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    افغان حکام کے مطابق ان چاروں افراد کو افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن ’یوناما‘کے کابل میں واقع دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے ’اس گروہ نے حال ہی میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے یوناما کے دفتر اور اس کے عملے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم سپیشل پولیس فورسز نے حملہ کرنے سے پہلے ہی انھیں گرفتار کر لیا۔‘

  13. ہماری کوشش ہے جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا: پی ٹی آئی چیئرمین

    BarristerGohar

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ ہم بہتری کی طرف جائیں اور جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم اگر معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔

    جمعرات کے روز پی ٹی آئی کے چیئرمین چارسدہ میں صوبائی وزیر فضل شکور کی رہائش گاہ کا دورہ کیا

    بیرسٹر گوہر نے نے فضل شکور کی گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ

    ہماری کوشش ہے کہ عوام اگر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے نکلتے ہیں تو اس کے جواب میں کوئی ایسا اقدام نہ ہو جس سے پورا نظام درہم برہم ہو جائے، چاہے وہ ایمرجنسی یا گورنر راج ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھی حالانکہ وہ اپنے لیڈر سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات میں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ اتحاد میں ہوں اور انھیں اتحاد میں شامل کرنے کی بڑی کوششیں کیں۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی طرف ایک حکومتی وفد جا چکا ہے، امید ہے کہ مولانا صاحب اچھا کردار ادا کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت ڈیڈ لاک ہے اور چیزیں بہتری کی طرف نہیں جا رہیں۔

    ’اگر اسی طرح لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اے این پی، جماعتِ اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کا مشکور ہیں کہ انھوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

    ’تمام افراد یہی سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو حالات ہیں ان کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک حکومت یا پی ٹی آئی کے خلاف اقدام نہیں ہوگا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی غصے میں ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا تو صوبے میں تناؤ بڑھے گا۔

    ’صوبہ پہلے ہی بہت گھمبیر صورتحال سے گزر رہا ہے، اختیارات نام کی کوئی چیز نہیں، پہلے ہی غیر اعلانیہ گورنر راج ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی عروج پر ہے، یہ وقت نہیں کہ ایسے اقدامات کیے جائیں۔

  14. مصر ’مکہ دفاعی اتحاد‘ میں شامل ہونے سے کیوں ہچکچا رہا ہے؟, اومنیہ النجار، ماہر مشرق وسطیٰ، بی بی سی مانیٹرنگ

    Makkah Defence Agreement

    سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدےکو فعال بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جسے خطے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس سب کے بیچ مصر کی اِس اتحاد میں ممکنہ شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں کئی مہینوں سے جاری ہیں، تاہم قاہرہ نے اب تک اس اتحاد کی رُکنیت اختیار کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    مصر کا محتاط رویہ ایک وسیع تر سٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ قاہرہ کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان تینوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن وہ ایسے کسی بھی فوجی انتظام میں شامل ہونے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے جو اس کی سفارتی حدود کو محدود کر سکتے ہوں یا اسے علاقائی تنازعات میں الجھا سکتے ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے غزہ، بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں سنگین سلامتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    چنانچہ مصر کی ہچکچاہٹ کی وجہ اتحاد کی مخالفت نہیں بلکہ اس کی وہ دیرینہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ متوازن شراکت داریوں کو ترجیح دیتا ہے۔

    مکہ اتحاد میں شامل ہونے کے حوالے سے مصر کی سست روی بظاہر صدر عبدالفتاح السیسی کے اُن سابقہ بیانات کے برعکس دکھائی دیتی ہے جن میں انھوں نے ایک مشترکہ عرب فوجی قوت اور علاقائی سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور رابطے کے ایک نئے عرب۔اسلامی فریم ورک کے قیام کی حمایت کی تھی۔

    یاد رہے کہ مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر ترکی کا متعدد معاملات میں ایک اہم شراکت دار ہے اور بعض نامعلوم تکنیکی مسائل کے حل کے بعد وہ مستقبل میں مکہ اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔

    13 اگست کو مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا تھا کہ قاہرہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے معاہدے میں مصر کو شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ مصر کے آئین اور اس کے نتیجے میں قانونی ذمہ داریوں کی روشنی میں اس معاملے پر گہرائی سے غور کیا جائے گا۔

    سنہ2014 کے مصری آئین کے آرٹیکل 152 کے مطابق مصر کا صدر نہ تو جنگ کا اعلان کر سکتا اور نہ ہی ریاست کی حدود سے باہر مصری فوجی دستے تعینات کر سکتا ہے، جب تک کہ ’قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت سے منظوری‘ حاصل نہ کر لی جائے۔

    عبدالعاطی نے یہ بھی کہا تھا کہ مصر، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طریقہ کار کے تحت مکمل رابطہ اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

    فی الحال یہ واضح ہے کہ مصر مکہ اتحاد میں باضابطہ شمولیت کے حوالے سے اپنے آپشنز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے اور اس ضمن میں بظاہر دو اہم عوامل اُس کے فیصلے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

    Makkah Defense Agreement

    جغرافیائی و سیاسی ترجیحات میں توازن

    قاہرہ اپنے موجودہ معاہدوں اور اتحادوں، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے بھی محتاط ہے۔

    مکہ اتحاد میں شمولیت مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے، ایران کے ساتھ تعلقات اور ریاض و ابوظہبی کے درمیان جاری رقابت کے تناظر میں جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    معاہدے میں شمولیت کا مطلب حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مصر نے سعودی عرب پر یمنی تحریک کے حملوں کی سرکاری سطح پر مذمت کی ہے، تاہم قاہرہ ایسی کسی کشیدگی سے بچنا چاہے گا جو بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں اس کے مفادات کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

    اسرائیل کے خلاف حوثی حملوں کے باعث بحیرہ احمر سے گزرنے والی بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مصر کو نہرِ سویز کی آمدنی میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    اسی دوران ایتھوپیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں شدت اختیار کرتی رقابتوں نے قاہرہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی افریقہ سے متعلق خارجہ پالیسی کی ترجیحات، بالخصوص بحیرہ احمر کی سلامتی سے متعلق امور، پر زیادہ توجہ دے۔

    یمن میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کی مصر کی خواہش کی ایک وجہ 1960 کی دہائی میں وہاں کی گئی اس کی مہنگی فوجی مداخلت بھی ہو سکتی ہے۔

    چھوٹے پیمانے کے انتظامات کو ترجیح

    مصر بظاہر محدود دائرۂ کار اور کم فوجی خطرات والے علاقائی سلامتی انتظامات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

    مصر پہلے ہی ریجنل فور (R4) گروپ کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان شامل ہیں، اور یہ ممالک باقاعدگی سے علاقائی امور پر مشاورت کرتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد مصر 13 اگست کو ریاض کی قیادت میں قائم ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد میں بھی شامل ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ مصر نے ترکی کے ساتھ اپنے دفاعی شراکت داری اور فوجی پیداوار کے تعاون میں بھی اضافہ کیا ہے، خصوصاً مشترکہ ڈرون اور یو اے ویز کی تیاری کے شعبے میں۔

  15. پاکستان اور بحرین کا آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور

    Pak Bahrain

    پاکستان اور بحرین نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    جمعرات کے روز اسلام آباد میں پاکستان۔بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس ہوا جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ کارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔

    بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اجلاس کے نتیجے میں مختلف مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بنا کر ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام باقاعدہ رابطے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، زراعت اور غذائی تحفظ، مہارتوں کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیرِ خارجہ کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی، کیونکہ یہ راستے علاقائی اور عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی صورتحال، بشمول افغانستان اور سندھ طاس معاہدہ، بھی زیرِ بحث آئے۔ انھوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ کسی غیر ملکی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

    سندھ طاس معاہدے کے متعلق بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک خطرناک کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

    بحرین کے وزیرِ خارجہ نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے اور تیل، گیس اور معدنیات کے حوالے سے توانائی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس اگلے ماہ منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں بحرین کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات بہت مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کو آئندہ تین برسوں میں اپنی باہمی تجارت دوگنی کرنی چاہیے۔

  16. اے آئی چپس کی طلب میں اضافہ، سام سنگ کو ریکارڈ 80 ارب ڈالر منافع کی توقع

    Samsung

    جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اسے اپنی سہ ماہی آمدنی میں نو گنا اضافے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

    سام سنگ کے اندازے کے مطابق ستمبر کے اختتام تک تین ماہ کی مدت کے لیے اس کا آپریٹنگ منافع بڑھ کر 107.4 کھرب وون (80 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مسلسل چوتھی سہ ماہی ہوگی جس میں کمپنی کو ریکارڈ منافع حاصل ہو گا۔

    سام سنگ دنیا میں میموری چِپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مقامی حریف ایس کے ہائنکس اور امریکہ کی مائکرون بھی ایسی چِپس تیار کرتی ہیں جو اینویڈیا جیسی اے آئی کمپنیوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    جنوبی کوریائی کمپنی کو اگست میں متعارف کروائی گئی اپنی نئی فولڈنگ ڈیوائسز سے بھی منافع کی توقع ہے۔

    کمپنی کے تیسرے سہ ماہی کے مکمل مالی نتائج اکتوبر کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔

    مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹر چِپس کی عالمی سطح پر طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی سے وابستہ چِپ ساز کمپنیوں کی آمدنی اور حصص کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  17. رائل نیوی کے اہلکار کو غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزام پر تحویل میں لیا گیا ہے: برطانوی پولیس

    UK Royal Navy

    برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ رائل نیوی کے ایک اہلکار پر ایک غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بیڈفورڈشائر سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ ٹیڈی ینگ پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کا ایک الزام بھی شامل ہے، جس سے ایک نامعلوم غیر ملکی طاقت کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

    انھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے اور انھیں جمعرات کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج کے ایک حاضر سروس رکن کے خلاف یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ الزامات رائل ایئر فورس کے اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ کے حالیہ واقعے سے متعلق نہیں، جس کے بعد اڈے کے قریب مشتبہ سرگرمی کی اطلاع پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    منگل کو اس واقعے کے سلسلے میں ایک ساتویں شخص کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی پولیس بدستور کر رہی ہے۔

    ٹیڈی ینگ کو منگل کے روز بیڈفورڈشائر میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    الزامات 26 نومبر 2024 سے 21 مئی 2025 کے درمیان کے عرصے سے متعلق ہیں اور ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ینگ نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’ۂگمعلومات افشا کرنے کے جرم کی تیاری کے لیے" اقدامات کیے تھے۔

  18. مقبوضہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی سرگرمیاں بند، صرف سات سفارت کاروں کو محدود سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت: اسرائیل

    UK Consulate

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے سے زیادہ تر سفارت کار واپس چلے جائیں گے، تاہم برطانیہ کا اصرار ہے کہ قونصل خانہ ’بند نہیں کیا جا رہا‘ اور ’برطانوی مشن‘ کے طور پر کام کرجاری رکھے گا۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں لکھا کہ ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ بات یہاں تک پہنچے۔‘

    انھوں نے کہا کہ 20 سفارت کار اور قونصل جنرل اسرائیل چھوڑ دیں گے، جبکہ سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم عمارت میں رہ سکتی ہے، لیکن اس کی سرگرمیوں کا دائرہ ’بہت محدود‘ ہوگا۔

    برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جواب میں کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اہلکاروں کو ’عارضی طور پر واپس بلا لیا گیا‘ ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ مشن ’فلسطینی عوام کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔‘

    اسرائیل نے ستمبر میں کہا تھا کہ وہ قونصل خانہ بند کر دے گا۔ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا، جنھیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

    1838 میں قائم ہونے والا برطانیہ اس قونصل خانے کو یروشلم کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    یہ تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے الگ ہے، جو اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کا بنیادی مرکز ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے کہا کہ ملک نے 8 ستمبر کو برطانوی پابندیوں کے جواب میں اعلان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ آج اپنی سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے۔‘

    تاہم جمعرات کی صبح عمارت کے باہر برطانوی پرچم اب بھی لہراتا ہوا دیکھا گیا، جبکہ متعدد اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہوتے بھی دیکھا گیا۔

    سعار نے تسلیم کیا کہ یہ عمارت ’برطانوی حکومت کی ملکیت‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے عمارت میں کام جاری رکھنے کے لیے ’صرف سات سفارت کاروں پر مشتمل ایک ٹیم کو محدود پیمانے پر سرگرمیاں‘ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

    UK Consulate
    ،تصویر کا کیپشنیروشلم میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے
  19. ’21 لاکھ گمشدہ‘ گولیوں کی خبر پر صحافی کو سائبر کرائم نوٹس، صحافتی تنظیموں کا احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    حماد علی

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حماد علی کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ایک خبر کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    نجی ٹی وی چینل 92 سے وابستہ صحافی حماد علی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نوٹس سابق لیویز فورس کے اسلحے سے متعلق اپنی ایک خبر پر جاری کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد چھوٹے اسلحے کی لاکھوں گولیاں ریکارڈ کے مطابق منتقل نہیں ہوئیں۔

    صحافی کو یہ نوٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ این سی سی آئی اے کے حکام کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ سابق لیویز فورس کے ایک اہلکار کی شکایت پر ان سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔

    حماد علی نے بتایا کہ ان کی خبر میں پولیس کے تحفظات کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے مطابق پولیس کو ایس ایم جی سمیت چھوٹے اسلحے کی تقریباً 28 لاکھ گولیاں منتقل ہونی چاہیے تھیں، تاہم ریکارڈ کے مطابق تقریباً چھ لاکھ گولیاں ہی موصول ہوئیں، جبکہ 21 لاکھ سے زائد گولیوں کا فرق سامنے آیا۔

    ان کے بقول این سی سی آئی اے حکام نے انھیں بتایا کہ شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خبر سے اس کی دل آزاری ہوئی اور سابق لیویز فورس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

    Balochistan Levies Force/FACEBOOK
    ،تصویر کا کیپشنبرٹش بلوچستان میں سب سے پہلے سر رابرٹ سنڈیمن نے 1887 میں لیویز فورس کو قائم کیا

    حماد علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکام سے پوچھا کہ جب خبر میں کسی فرد کا نام تک نہیں لیا گیا تو کسی مخصوص شخص کی دل آزاری کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ جس فورس کا حوالہ دیا گیا اس کا پولیس میں انضمام ہو چکا ہے۔

    صحافی کے مطابق انھوں نے اپنی خبر کے حق میں شواہد بھی پیش کیے، جن میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ایک ایف آئی آر شامل تھی۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں سابق لیویز اہلکار روشن خان کے گھر پر چھاپے، اسلحے اور بڑی تعداد میں گولیوں کی برآمدگی کا ذکر موجود ہے اور اس سلسلے میں گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انھیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور مزید شواہد فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

    دریں اثنا بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے صحافی کو نوٹس جاری کرنے اور بار بار طلب کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے صدر منظور احمد رند اور جنرل سیکریٹری شاہ حسین ترین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو نوٹسز، مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کا رجحان تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی پر ہراساں کرنا آزادیِ صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر بلوچستان بار کونسل کے رکن اور سینیئر وکیل راحب خان بلیدی نے بھی صحافی کے خلاف کارروائی کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر دباؤ میں لانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

  20. پونچھ میں گرفتار پاکستانی لڑکی وطن واپس، کولگام میں پانچ مبینہ سہولت کار گرفتار, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    Kashmir
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے انڈین علاقے میں داخل ہونے والی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک نوجوان لڑکی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    فوج کے مطابق 19 سالہ سامیہ عظیم، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ کے گاؤں بھینس گالا کی رہائشی ہیں، دو اکتوبر کو مبینہ طور پر غلطی سے راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی عبور کر کے انڈین علاقے میں داخل ہو گئی تھیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کا سرحد پار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ نادانستہ طور پر دوسری جانب پہنچ گئی تھی۔ فوج کے مطابق بُدھ کے روز پونچھ کے چکن دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد انھیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ کارروائی کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھیں حکام نے عسکریت پسندوں کے مبینہ سہولت کار قرار دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت تجمل حسین میر، رحمت علی نائیکو، تحریم احمد بٹ، منظور احمد بٹ اور کفایت احمد ڈار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان کے قبضے سے دو پستول، تین میگزین، 40 گولیاں اور تین دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ادھر شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک پرانی زیرِ زمین پناہ گاہ کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حکام کے مطابق پناہ گاہ سے ایک اے کے 47 رائفل، تین ہینڈ گرنیڈ، 857 اے کے راؤنڈز، 192 پیکا راؤنڈز، آٹھ میگزین، ایک سائلنسر اور پستول کی 83 گولیاں برآمد کی گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گاہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی اور اس کارروائی سے علاقے میں عسکریت پسندی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں ہندوارہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔