لائیو, قصور: انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک، ایک زخمی
ان ہلاکتوں کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے بغیر وارننگ دیے نہتے‘ شہریوں کو ہدف بنایا، جبکہ انڈیا کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے۔
خلاصہ
چھ ممالک نے مکہ معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کی ہے: پاکستانی وزیر خارجہ
القادر ٹرسٹ کیس: سزاؤں کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر
حوثی گروہ نے مدینہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اِس سے متعلق سعودی عرب کے دعوؤں کو ’بے بنیاد الزام‘ قرار دیا ہے
پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کی مدینہ میں بجلی کی تنصیب کو مبینہ نشانہ بنانے کی مذمت، حوثیوں سے حملوں کے غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ
یمن میں حکومتی فورسز کا دارالحکومت صنعا میں ’انتہائی اہم‘ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کو جمعے کے روز بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بازیابی خوش آئند ہے۔
ڈپٹی کمشنر خاران کو 20 ستمبر کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے ضلع خاران کے علاقے برشونکی سے اغوا کرلیا تھا
ان کے اغوا کے وقت سرکاری حکام نے بتایا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ایک پرائیویٹ گاڑی میں سفر کررہے تھے اور ان کے ساتھ تین دیگر افراد بھی موجود تھے، جنھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔
اغوا کے تیسرے روز مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کے ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ کو چھوڑ دیا تھا۔
ان کے اغوا کے روز بلوچستان کابینہ کے ایک رکن نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کے لیے دیگر ذرائع کے علاوہ قبائلی اثرورسوخ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔
اگرچہ سرکاری حکام اور ڈپٹی کمشنر کے خاندانی ذرائع دونوں نے ڈپٹی کمشنر کی بحفاظت بازیابی کی تصدیق کی، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ڈپٹی کمشنر کی بازیابی غیر مشروط طور پر ہوئی یا اس حوالے سے اغوا کاروں کے کوئی شرائط مانی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری افسران اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
جی سیون ممالک چار ماہ کے اندر ’100 ملین بیرل تک‘ تیل جاری کریں گے: صدر میکخواں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ’مربوط انداز میں‘ کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایکس پر ایک پیغام میں فرانس کے صدر نے کہا کہ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے:
ریفائنریوں میں پیداوار کو بڑھانے کے لیے اسے ’مزید لچکدار‘ بنایا جائے گا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر‘ چار ماہ کے اندر سٹریٹجک ذخائر سے ’100 ملین بیرل تک‘ تیل جاری کیا جائے گا۔
ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو شراکت دار ممالک کے درمیان توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کے تبادلے میں رکاوٹ بن سکتے ہوں۔
قصور: انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک، ایک زخمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قصور میں بین الاقوامی
سرحد پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری
ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔
تاہم ان ہلاکتوں کے حوالے سے
انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا
نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع قصور کے ’لدھڑ گاؤں سے
تعلق رکھنے والے تین مقامی پاکستانی شہری سرحدی پِلر سے چند قدم آ گے ہی بڑھے تھے
کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے انھیں بغیر وارننگ دیے ہدف بنایا۔‘
دوسری جانب انڈیا کے سرکاری میڈیا ’آل انڈیا ریڈیو‘ نے بی ایس ایف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں پاکستانی شہری انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے اور ’غیرقانونی طور پر انڈیا پاکستان سرحد پار کر رہے تھے۔‘
پاکستان کے سرکاری میڈیا
نے ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے ناموں سے کی ہے۔
پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ انڈین میڈیا نے بھی فالس فلیگ آپریشن کی روش کو زندہ رکھتے ہوئے معصوم شہریوں کو درانداز قرار دیا، مگر حقیقت میں ان تینوں افراد میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
چھ ممالک نے مکہ معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کی ہے: پاکستانی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے نائب وزیر اعظم
اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران یمن میں حوثیوں اور عراقی مسلح
گروہوں سے ’لاتعلقی‘ کا اظہار کر رہا ہے اور کہا ہے کہ ’ہمارا ان سے کوئی لینا
دینا نہیں ہے۔‘
جمعے کو صحافیوں کے سوالات
کے جوابات دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
سے اس معاملے پر گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے انھیں بتایا ہے کہ ’ہم ایک دفاعی
معاہدے کا حصہ ہیں اور بطور مسلمان ہمیں اس کی پاسداری بھی کرنی ہے اور کریں گے۔‘
پاکستانی نائب وزیر اعظم
کے مطابق عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران رائے دی کہ حوثیوں اور عراقی گروہوں ’پر
حملے کرنے کے بجائے ان سے سیاسی رابطے کیے جائیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ اس
کا فیصلہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت بننے والی سٹریٹجک پالیٹیکل اینڈ ڈیفینس کمیٹی
(ایس پی ڈی سی) کرے گی، جس کا اجلاس آئندہ کچھ روز میں سعودی عرب میں ہوگا۔
اسحاق ڈار نے کسی بھی ملک
کا نام لیے بغیر کہا کہ کم از کم چھ ممالک مکہ معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے
ہیں۔
’لیکن جب تک ہم اس کے
سیکریٹیریٹ کو مکمل طور پر فعل نہیں کرتے، میرا نہیں خیال کے ہم کسی کی درخواست کو
پورا کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ مکہ دفاعی
معاہدے کی دستاویز میں لکھا ہے کہ ’اس کی نوعیت دفاعی ہے اور اس کا کوئی جارحانہ
مقصد نہیں ہے۔‘
’دستاویز میں یہ بھی لکھا ہے
کہ دیگر ممالک بھی اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔‘
القادر ٹرسٹ کیس: سزاؤں کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت 5 اکتوبر کو مقرر کر دی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ کیس کی سماعت کرے گا، جبکہ عدالت نے دونوں فریقوں کے وکلا سے حتمی دلائل طلب کر رکھے ہیں۔
خیال رہے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے جنوری 2025 میں 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز یا القادر ٹرسٹ کیس اس 450 کینال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، کور کمانڈر اجلاس میں فیصلہ
،تصویر کا ذریعہISPR
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ملک میں ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فورم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی توثیق کرتے ہوئے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف ہدفی کارروائیوں کے عزم کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی سہولت کاری کرنے والی طالبان قیادت اپنے اقدامات کے نتائج کی خود ذمہ دار ہوگی۔
فورم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ’انٹیلیجنس بیسڈ‘ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ غیر عسکری اقدامات کو بھی مؤثر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں نچلی سطح پر عوامی فلاح پر مبنی طرز حکمرانی، عوام سے مؤثر روابط، دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور پولیس کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا۔ یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان اور وژن عزمِ استحکام کے مطابق قرار دیے گئے۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے داخلی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی بہانے سے انتشار پھیلانے یا 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کو قانون کے مطابق بلا امتیاز اور بلا تردد فیصلہ کن انداز میں ناکام بنایا جائے گا۔
فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے باہمی دفاعی تعاون اور تزویراتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ کانفرنس نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی، مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔ فورم نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اپنے اختتامی کلمات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشنز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔ انھوں نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور ملٹی ڈومین انٹیگریشن کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قوم کی بھرپور حمایت سے مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کا پہلا دور مکمل: سیاسی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال، دوسرا اجلاس کل ہوگا
،تصویر کا ذریعہX/@AhmedMansorReal
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔ فریقین نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور قومی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، تاہم کسی حتمی پیش رفت کے بجائے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود نے اپنے اپنے مؤقف ایک دوسرے کے سامنے رکھے اور مختلف سیاسی و قومی معاملات پر تحمل اور سنجیدگی کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔
ترجمان نے بتایا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کل دوپہر دو بجے سپیکر چیمبر میں منعقد ہوگا، جہاں زیر بحث امور پر مزید مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مسائل اور سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ فریقین نے کشیدگی کے بجائے بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل کو ممکن بنانے اور فریقین کو ایک میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اجلاس میں حکومتی وفد کی جانب سے وفاقی وزرا محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شریک ہوئے، جبکہ سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی بھی مذاکرات کا حصہ تھے۔
اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، ملک عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجا نے کی۔
برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت اس ہفتے کے آغاز میں تاریخ کی بلند ترین سطح 199.33 پنس فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ موٹرنگ تنظیم آر اے سی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ایندھن مہنگا ہونے سے برطانیہ میں بھی ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آر اے سی نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ ڈیزل کی قیمتیں اب ’غیر معمولی حد‘ میں داخل ہو چکی ہیں اور یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ برطانیہ دنیا کے دور دراز خطوں میں پیش آنے والے واقعات سے کس قدر متاثر ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنظیم کے مطابق فروری کے آخر میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 59 پنس فی لیٹر یعنی تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل ڈیزل کی سب سے زیادہ قیمت جون 2022 میں 199.09 پنس فی لیٹر ریکارڈ کی گئی تھی، جب روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہوئی تھیں۔
آر اے سی کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں کے تازہ اعداد و شمار آج بعد میں جاری کیے جائیں گے، جنھیں سامنے آتے ہی رپورٹ کیا جائے گا۔
فرانس میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، 400 سے زائد سکول بند، درجنوں عملہ زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس میں تعلیمی سہولیات کی کمی کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 400 سے زائد سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل آن لائن منتقل کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی وزیر تعلیم ایدوار جفری کے مطابق حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران 65 تعلیمی عملے کے ارکان زخمی ہوئے ہیں، جن میں 40 سکول سربراہان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سو سے زائد سکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی تعلیمی اداروں میں عمارتوں اور سہولیات کو نقصان پہنچنے کے باعث معمول کی تدریس ممکن نہیں رہی۔
حکومت کے مطابق احتجاجی تحریک ابتدا میں اساتذہ اور عملے کی کمی، گنجان کلاس رومز اور خستہ حال تعلیمی عمارتوں کے خلاف شروع ہوئی تھی، تاہم بعد میں اس میں شدت آ گئی اور بعض مقامات پر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران ایک ہزار 949 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 305 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP
احتجاج کا آغاز گذشتہ ہفتے 15 سے 18 سال عمر کے طلبہ کے لیے قائم ہائی سکولوں سے ہوا تھا، مگر چند ہی دنوں میں یہ تحریک ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک ہزار 27 ہائی سکول کسی نہ کسی شکل میں احتجاج سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں 222 اداروں کے داخلی راستے مکمل یا جزوی طور پر بند کیے گئے۔
دوسری جانب یونیورسٹی طلبہ بھی اس تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیرس اور رینز سمیت کم از کم 30 جامعات کے کیمپس میں بھی طلبہ نے احتجاجی دھرنے اور راستوں کی بندش کا اہتمام کیا ہے۔
وزیر تعلیم ایدوار جفری نے فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ احتجاجی تحریک کو بعض عناصر نے ’ہائی جیک‘ کر لیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد اساتذہ نے انھیں بتایا کہ احتجاجی سرگرمیوں میں شامل بعض افراد ان کے اپنے طلبہ نہیں تھے۔
پیرس حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بحالی اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور کشیدگی بدستور جاری ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر طلبہ اور حکومت کے درمیان اختلافات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں مزید تعلیمی ادارے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کی احتجاجی تیاریوں کے ساتھ مذاکرات کی امیدیں بھی برقرار, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک جانب پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب جماعت احتجاجی لانگ مارچ کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے۔ اس مرتبہ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی مارچ کا آغاز خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جماعت کے ابتدائی منصوبے کے مطابق چار اکتوبر کو شروع ہونے والا لانگ مارچ چھ اکتوبر تک پشاور پہنچے گا، جس کے بعد چھ یا سات اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کا امکان ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات شفیع جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ لانگ مارچ کا آغاز ضلع لکی مروت کے مقام گنڈی چوک سے کیا جائے گا۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے ابھی تک مارچ کے مکمل اور باضابطہ شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع سے مارچ شروع کرنے کا فیصلہ جماعتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے بقول، ’ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ عوامی حمایت اور قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا جا سکے۔‘
شفیع جان کے مطابق لانگ مارچ 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک سے روانہ ہوگا۔ پہلے دن قافلہ کرک میں قیام کرے گا، جبکہ 5 اکتوبر کو دوسرا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا۔ اس کے بعد مارچ پشاور میں داخل ہوگا۔
انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’لانگ مارچ گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہوگا۔ پہلا پڑاؤ کرک اور 5 اکتوبر کو دوسرا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جس کے بعد لانگ مارچ ضلع پشاور میں داخل ہوگا۔‘
اس حوالے سے صوبائی صدر جنید اکبر اور ترجمان شفیع جان سے مزید تفصیلات کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب ضلع بنوں سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر پختون یار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز زوم پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کا آغاز گنڈی چوک سے کیا جائے گا۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مارچ کی عملی قیادت کون کرے گا۔ آیا وزیر اعلیٰ خود گنڈی چوک پہنچیں گے، علی امین گنڈاپور قافلے کی قیادت کریں گے، یا یہ ذمہ داری کسی اور رہنما کو سونپی جائے گی۔ پختون یار خان کا کہنا تھا کہ انھیں اس حوالے سے مزید معلومات نہیں دی گئیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے مارچ کے انتظامات کے لیے 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان اور ٹانک سے کارکنوں کے قافلے گنڈی چوک پہنچیں گے، جبکہ بنوں، شمالی وزیرستان، نورنگ، لکی مروت اور دیگر قریبی علاقوں سے بھی کارکن اس مقام پر جمع ہوں گے۔
گنڈی چوک جنوبی اضلاع کا ایک اہم اور مرکزی مقام ہے جو انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔ اس کے جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے علاقے واقع ہیں، جبکہ شمال میں بنوں اور شمالی وزیرستان آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں کے لیے یہ مقام ایک قدرتی اجتماع گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
گنڈی چوک سے پشاور کا فاصلہ تقریباً 220 سے 230 کلومیٹر بنتا ہے۔ اس روٹ پر گنڈی چوک سے کرک تقریباً 70 سے 80 کلومیٹر، کرک سے کوہاٹ 76 کلومیٹر اور کوہاٹ سے پشاور تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سیاسی مبصرین، صحافیوں، پی ٹی آئی کارکنوں اور بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنوبی اضلاع سے مارچ شروع کرنے کی حکمت عملی موجودہ سیاسی حالات سے جڑی ہوئی ہو سکتی ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں موجود ہیں اور دوسری طرف حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو احتجاجی تحریک کو محدود یا ختم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اگر سیاسی تناؤ برقرار رہتا ہے تو جماعت کے پاس اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے مزید تیاری اور حکمت عملی مرتب کرنے کا وقت ہوگا۔
اُدھر پشاور میں موجود تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق انھیں ابھی تک کسی حتمی لائحہ عمل سے آگاہ نہیں کیا گیا، البتہ انھیں 24 گھنٹے کے نوٹس پر تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ پہلے پشاور سے صوابی جائیں گے اور وہاں قیام کریں گے۔ بعد ازاں مسکراتے ہوئے انھوں نے کہا تھا، ’پھر آگے جائیں گے‘، تاہم انھوں نے اسلام آباد کا نام نہیں لیا تھا۔
سوشل میڈیا پر دعوے غلط ہیں، مکہ میں ایک شخص کو لوگوں میں خوف پھیلانے پر گرفتار کیا گیا: سعودی حکام
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو مکہ میں ایک خاتون کو ہراساں کرنے اور لوگوں میں خوف پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی جنرل سکیورٹی نے ایک بیان جاری کیا، جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات اور دعوے غلط ہیں۔
سعودی جنرل سکیورٹی کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں مسجد الحرام میں سکیورٹی اہلکاروں کو ایک شخص کو پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
بی بی سی اردو اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
بیان میں مشتبہ شخص کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بریکنگ, یمنی فوج کا تعز میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ’20 فضائی حملے‘ کرنے کا دعویٰ
یمنی حکومت کے فوجی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ملکی جنگی طیاروں نے آج تعز میں حوثیوں کے ٹھکانوں، اس گروہ کے جنگجوؤں، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کے خلاف 20 فضائی حملے کیے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان جھڑپیں 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اپنی شدید ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
اس جنگ بندی نے بڑی حد تک سرحد پار حملوں کو روک دیا تھا۔
اگر حوثی جنوب مغربی یمن میں واقع تعز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو یہ گروہ بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھا لے گا اور جنوبی یمن اور حکومتی مرکز بندرگاہی شہر عدن تک اس کی رسائی زیادہ آسان ہو جائے گی۔
دوبارہ شروع ہونے والی لڑائیوں کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اور یہ یمن کے مختلف علاقوں پر کنٹرول کی صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اثرات بحیرہ احمر کی جہازرانی کی گزرگاہوں اور آبنائے باب المندب پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں شروع ہو گئے ہیں۔
سیاسی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں حکومت کا چھ رکنی نمائندہ وفد اپوزیشن کے ساتھ ان مذاکرات میں شریک ہے۔
وفاقی زیر داخلہ محسن نقوی، امیر مقام جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جھکڑانی شامل ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے وفد میں پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، اور جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر شامل ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بطور سہولت کار اس اجلاس میں شریک ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ان مذاکرات میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور اپوزیشن کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتیں اور انھیں طبی سہولتیں فراہم کرنے کے معلاملات زیر غور آرہے ہیں۔
سیاسی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اجلاس میں شریک ہونے سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے اور تمام مسائل کا حل مزاکرات میں ہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ عدالتوں نے کرنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین بیرسٹر گوہر نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزاکرات کامیاب ہوں گے
حوثیوں نے سعودی دعوؤں کو ’نیا بے بنیاد الزام‘ قرار دے کر مسترد کر دیا
حوثیوں نے 29 ستمبر کو سعودی عرب کے مغربی علاقے مدینہ کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کی جانب سے حملہ کیے جانے کے تازہ ’الزام‘ کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ نے آج صبح خبر جس کے مطابق حوثی حکام نے کہا کہ یہ دعویٰ ’ایک نئی من گھڑت کہانی ہے جس کے تمام نتائج کی ذمہ داری دشمن پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ اور یہ اسلامی مقدسات کے کھلے استحصال کی ایک مثال ہے۔‘
نائب وزیرِ اطلاعات عمر البخیطی نے ایک بیان میں کہا ’سعودی دشمن مکہ کو نشانہ بنانے کے جھوٹے الزام کو گھڑنے میں ناکام رہا، اس لیے آج وہ ایک نئے جھوٹ کی طرف بڑھ گیا ہے اور یہ بھی اسی طرح ناکام ہوگا جیسے پہلا جھوٹ ناکام ہوا تھا۔‘
چینل نے مزید بتایا کہ البخیطی نے زور دے کر کہا کہ ’سعودی دشمن کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنی جارحیت بند کرے اور یمنیوں کا محاصرہ ختم کرے، اور دنیا کا کوئی بھی جھوٹ ہمارے عوام کے جائز مطالبات پر عمل درآمد کا متبادل نہیں بن سکتا۔‘
حوثیوں کا حملہ ’مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز‘ ہے: خلیجی ممالک
کئی خلیجی ممالک نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے شہر مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز پر حالیہ حوثی حملہ ’مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز‘ تھا۔
یہ مرکز مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے، جو اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔
قطر، کویت اور بحرین نے گزشتہ روز دیر گئے کہا کہ یہ حملہ ’اسلامی مقدسات پر حملہ‘ ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ہدف کی مذہبی اہمیت کا ذکر نہیں کیا اور اپنے مختصر بیان میں حملے کی سنگینی اور سعودی عرب کی خودمختاری پر اس کے اثرات تک بات محدود رکھی۔
تاہم، چاروں ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
عمان نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یقینی بناؤں گا کہ ایران کا معاملہ بہت جلد ختم ہو جائے: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب ریاست ٹیکساس میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ ان کے خیال میں ایران ’ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ’انتخابات کے فوراً بعد‘ جنگ میں کامیاب ہو جائے گا، تاہم بعد میں انھوں نے امکان ظاہر کیا کہ یہ ’شاید انتخابات سے پہلے‘ بھی ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا: ’میں یہ یقینی بناؤں گا کہ ایران کا معاملہ بہت جلد ختم ہو جائے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ توانائی کی قیمتیں ’تیزی سے اور نمایاں حد تک‘ کم ہو جائیں گی۔
امریکہ کے صدر نے کہا کہ واشنگٹن موجودہ ایرانی رہنما کے ساتھ ’نرمی‘ سے پیش آنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’سچ پوچھیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں کس کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیں۔ کوئی بھی صدر بننا نہیں چاہتا۔‘
امریکی صدر کے یہ بیانات کہ جنگ قریب مستقبل میں ختم ہو جائے گی اور ایران کے ساتھ جنگ رکنے کے فوراً بعد ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور خوراک سمیت متعدد اشیا کی مہنگائی کے باعث عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
دریں اثنا، امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات تین نومبر یعنی تقریباً ایک ماہ بعد منعقد ہوں گے، اور رائے عامہ کے جائزوں میں یہ امکان زیادہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر سکتی ہے۔
پاکستان کی مدینہ میں شہری بجلی کی تنصیب کو نشانہ بنانے کی ’شدید مذمت‘ اور حملوں کے غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہSPA
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 29 ستمبر 2026 کو حوثی ملیشیا کی جانب سے مدینہ میں پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن پر کیے گئے حملے کی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ’بجلی فراہم کرنے والے اس شہری بنیادی ڈھانچے پر حملہ، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے، ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے اور دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے لیے گہری تشویش اور دکھ کا باعث ہے۔‘
بیان میں واضح کیا گیا کہ ’حرمین شریفین کے تقدس اور عبادت گزاروں اور زائرین کی سلامتی کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔‘
بیان کے مطابق ’ہم ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے ’پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کرتا ہے۔ ہم حرمین شریفین کے تحفظ، اپنے عوام کی حفاظت اور زائرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کی سعودی عرب کی کوششوں میں اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ ’پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی قلت کے باعث امریکہ سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت کے باعث امریکہ سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، اور اس سلسلے میں وہ یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل کے ذخائر میں سے کچھ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تیاری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ امریکی کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں اور کاروباری اداروں پر نہیں پڑنا چاہیے۔
ایران کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد امریکہ نے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ معاملہ امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹروں کے لیے بھی ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔
جمعرات کو برطانیہ نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ ممکنہ امریکی پابندی کے جواب میں ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے امکان پر بات چیت کی۔
امریکہ دنیا میں ڈیزل کا ایک بڑا سپلائر ہے اور روزانہ تقریباً 12 لاکھ سے 15 لاکھ بیرل ڈیزل برآمد کرتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے برآمدات پر پابندی لگائی تو دنیا کے دیگر ممالک میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا: ’ہم اس معاملے پر بہت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔‘
جمعرات کو انھوں نے مزید کہا کہ وہ یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں، جبکہ بیسنٹ نے کہا کہ انھیں یہ قدم ’فوری طور پر‘ اٹھانا چاہیے۔
بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہمارے یورپی شراکت داروں کو اپنے موجودہ وعدوں پر تیزی سے عمل کرنا چاہیے اور جاری رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اضافی سپلائیز فراہم کرنی چاہیں۔‘
یہ منصوبے امریکہ میں نومبر کے انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئے ہیں، جہاں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ رپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ملک بھر میں انتخابی مہم چلانے والے ہیں تاکہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر اپنی جماعت کا کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتیں اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ موٹرنگ تنظیم RAC کے مطابق ڈیزل کی قیمت تقریباً 200 پنس فی لیٹر کے قریب پہنچ چکی ہے۔
برطانیہ کے وزیرِ توانائی مارٹن میکلسکی نے جمعرات کو یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ممکنہ امریکی پابندی پر تبادلۂ خیال کیا۔
گفتگو سے واقف ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مربوط حکمتِ عملی تیار کرنا دانشمندانہ ہوگا، تاہم اس سال کے آغاز میں جاری کیے گئے سٹریٹجک ایندھن ذخائر میں سے اب بھی کچھ ذخائر موجود ہیں۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ’ہمارے پاس متنوع اور مضبوط سپلائی نظام موجود ہے۔ ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں اور برطانیہ کی ایندھن صنعت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔‘
حکومت نے زور دیا ہے کہ ڈیزل کی ممکنہ قلت کے بارے میں فوری تشویش کی کوئی وجہ نہیں، اگرچہ قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یمنی حکومتی فورسز کا دارالحکومت صنعاء میں ’انتہائی اہم‘ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صنعاء میں ’انتہائی اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ صعدہ اور تعز میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ اسی دوران میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی شام حوثی جماعت انصار اللہ کے زیرِ کنٹرول یمنی دارالحکومت میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی تصاویر میں شہر کے اوپر دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ انصار اللہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی ’سبأ‘ نے ایکس پر ان واقعات کو ’سعودی جارحیت‘ قرار دیا۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ دارالحکومت صنعاء میں حملوں کے ساتھ ساتھ شمال مغربی یمن کے صوبہ صعدہ میں بھی 11 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تعز کے حوالے سے حکومتی فورسز کے ترجمان نے ایک سابق بیان میں کہا: ’ہماری فضائیہ کے شاہینوں نے تعز کے مختلف محاذوں پر 27 انتہائی درست اور مرکوز فضائی حملے کیے، جن کا ہدف حوثی دہشت گرد ملیشیا کا ایک مکمل فوجی نظام تھا۔‘
بیان کے مطابق حملوں میں میزائلوں کا ایک گودام، کمانڈ اور کنٹرول مراکز، اسلحہ اور رسد کے مراکز، ملیشیا کے جنگجوؤں کے اجتماعات اور فوجی گاڑیاں و سازوسامان نشانہ بنائے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حملوں نے اپنے اہداف کو ’براہ راست اور انتہائی درست انداز میں‘ نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں فوجی گاڑیاں اور عسکری صلاحیتیں تباہ ہوئیں اور ملیشیا کے بڑی تعداد میں ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اتحاد نے جمعرات کی شام ایکس پر بتایا کہ اس نے جنوبی شہر جازان کے اوپر دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون مار گرائے۔ جازان ان توانائی اور تیل کی تنصیبات کے قریب واقع ہے جنہیں حالیہ ہفتوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی طرح جنوب مغربی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے اوپر بھی اہداف کو تباہ کیا گیا، جہاں ایک فضائی اڈہ موجود ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق خمیس مشیط کے علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ’محدود مالی نقصان‘ ہوا۔
اس سے قبل جمعرات کو اتحاد نے کہا تھا کہ حوثیوں نے اس ہفتے مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہو گیا، تاہم بجلی کی فراہمی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔
اتحاد کے مطابق تفتیش اور ایک ڈرون کے ملبے کے معائنے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ منگل کے روز ہونے والے اس حملے میں حوثی جماعت ملوث تھی۔ یہ بجلی گھر مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب انصار اللہ کے زیرِ انتظام خبر رساں ایجنسی سبأ نے اپنی حکومت کی وزارتِ دفاع کے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ بجلی گھر کو نشانہ بنانے کا سعودی الزام ’بے بنیاد‘ ہے۔
اس ذریعے نے اس الزام کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اس بات سے توجہ ہٹانا ہے جسے اس نے مکہ مکرمہ پر حملے کے سابق سعودی الزام کو ثابت کرنے میں سعودی عرب کی ناکامی قرار دیا۔
سعودی عرب نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے مکہ کے جنوب میں انصار اللہ جماعت کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا تھا۔
اتحاد نے اس واقعے کو 2017 کے بعد مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی جماعت کی دوسری کوشش قرار دیا تھا، جبکہ انصار اللہ نے مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے مقدس اسلامی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔
اتحاد کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ پر حملہ حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین کو نشانہ بنانے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی ’بار بار کی جانے والی کوششوں‘ کا حصہ ہے۔
اتحاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ مقدس مقامات اور ان کے زائرین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
کالینن گراڈ کو خطرہ ہوا تو روس ’تمام دستیاب ہتھیار‘ استعمال کر سکتا ہے: ولادیمیر پوتن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر کہا ہے کہ روس کسی پر حملہ کرنے
کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر نیٹو کی جانب سے ’جارحیت‘ کی گئی تو روس
جواب دے گا اور اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔
پوتن نے ڈسکشن کلب ’والدائی‘ کے اجلاس میں کہا ’اگر روسی فیڈریشن پر براہِ راست حملے کی بات ہوئی، اور اس تناظر
میں کالینن گراڈ مراد ہے، تو یقیناً فوری طور پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ روس اپنے
پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے۔ یہ ہتھیار کون سے ہوں گے، اس کا فیصلہ ہم بعد
میں کریں گے۔‘
پوتن نے مزید کہا کہ روس کے پاس اس وقت ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کی مثال دنیا
میں کسی اور ملک کے پاس نہیں ملتی۔
ان کے مطابق یہی صلاحیت روس کو یورپ کی دو جوہری طاقتوں، فرانس اور برطانیہ،
پر برتری دیتی ہے۔
یہ بیان دیتے ہوئے پوتن نے روسی وزارتِ خارجہ کے ایک خط کا حوالہ دیا، جس میں
نیٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اتحاد نے کالینن گراڈ کے علاقے کو الگ تھلگ
کرنے کی کوشش کی تو روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
پوتن نے اس خط کو ’دھمکی نہیں بلکہ ہمیں ڈرانے کی کوششوں کا جواب‘ قرار دیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کالینن گراڈ کیا ہے؟
کالینن گراڈ روس کا ایک علاقہ ہے جو روس کے مرکزی حصے سے الگ واقع ہے۔ یہ بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے، اس لیے وہاں پہنچنے کے لیے روس کو دوسرے ممالک کے راستے استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ ماضی میں یہ علاقہ جرمنی کا حصہ تھا اور اس کا نام کونیگس برگ تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ سوویت یونین کے قبضے میں آ گیا۔
یہ علاقہ روس کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں اہم فوجی اڈے، میزائل نظام اور بحری تنصیبات موجود ہیں۔ روس نے یہاں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے یہ نیٹو ممالک کے لیے بھی خاص اہمیت اور تشویش کا باعث ہے۔
حالیہ برسوں میں کالینن گراڈ کا نام روس اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بار بار سامنے آیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا یا اسے باقی روس سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے۔