جی سیون کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نسبتاً کمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ اور گروپ سیون (جی 7) ممالک کی جانب سے ہنگامی تیل و ڈیزل ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران خلیج فارس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق خدشات کے باوجود، اضافی سپلائی کے امکانات نے منڈیوں کے خدشات میں کمی پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 66 سینٹ کم ہو کر 101.59 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکی خام تیل 95 سینٹ کمی کے بعد 90.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز جی 7 ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے کی منظوری دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد ان ممالک نے توانائی کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد بھی کیا۔
پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ ہنگامی ذخائر کے اجراء سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کے باوجود ستمبر کے آخری چار دنوں میں تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔
توانائی منڈی کے سینئر تجزیہ کار ٹیم واٹرر نے کہا کہ جی 7 کا تزویراتی ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ سپلائی سے متعلق فوری خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس تاثر کو بھی تقویت ملی ہے کہ سعودی عرب کی تیل برآمدات بتدریج جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہیں، اگرچہ تیل کی ترسیل اب بھی زیادہ لاگت اور نسبتاً کم مؤثر راستوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔




