پی پی پی اور حکومت کا مشترکہ وفد جمعے کو پی ٹی آئی سے مذاکرات کرے گا: ایوان صدر

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایوان صدر کا کہنا ہے ’وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد جمعے کو پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔‘

خلاصہ

  • مدینہ میں بجلی تقسیم کرنے والے مرکز پر حوثیوں نے حملہ کیا: سعودی اتحاد کا الزام
  • ملاقات کے لیے حکومت کا پیغام قبول کیا ہے: بیرسٹر گوہر
  • لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا، پانچ اکتوبر کو کوہاٹ میں پڑاؤ کے بعد ضلع پشاور داخل ہو گا: تحریک انصاف
  • شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے، افغان طالبان نے پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رکھی ہے: ترجمان پاکستانی فوج
  • متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز پر دوران سفر پیش آئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ طیارہ واقعے میں ایران ملوث تھا یا نہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

لائیو کوریج

  1. ایران کی روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو فوری ملک چھوڑنے کے مطالبے کی تردید

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد طے شدہ شیڈول کے مطابق سوموار کے روز نیویارک سے روانہ ہوا تھا۔

    ایرانی مشن کا یہ بیان امریکی ویب سائٹ ایگزیوز کی اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی وفد بشمول وزیرِ خارجہ عراقچی کو فوری طور پر امریکی سرزمین چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ایکزیوز نے ایک امریکی عہدے دار اور اس معاملے سے واقف ایک دوسرے ذریعے کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی۔

    تاہم اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی محکمہ خارجہ کوئی بآے نتیجہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب بے بنیاد اور بے وقعت خبریں پھیلا رہا ہے۔‘

  2. پاکستان کا افغانستان میں دو مقامات پر ’شدت پسندوں کے ٹھکانوں‘ پر بمباری اور 22 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    Pakistan jet

    پاکستان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ ’عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں‘ کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کے تسلسل اور شدت پسندوں، ان کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر منصوبہ بندی کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان میں دو مقامات پر موجود شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دی گئی۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 22 مبینہ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

    وزارتِ اعطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں وہاں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوا ہے۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ یہ کارروائیاں افغانستان کے کس علاقے میں کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب اس سے قبل طالبان حکومت نے الزام لگایا تھا کہ گذشتہ رات پاکستان نے ملک کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستان نے صوبہ کنڑ کے علاقے چوغم اور ہلمند کے علاقے گرمسیر میں شہریوں کے گھروں پر فضائی بمباری کی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں نو افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

  3. افغان طالبان کا کنڑ اور ہلمند میں پاکستانی طیاروں کی مبینہ بمباری کا الزام، بچوں اور خواتین سمیت نو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

    افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان کی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ گذشتہ رات پاکستان نے ملک کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستان نے صوبہ کنڑ کے علاقے چوغم اور ہلمند کے علاقے گرمسیر میں شہریوں کے گھروں پر فضائی بمباری کی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں نو افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر مبینہ طور پر ان حملوں میں ہلاک ہونے بچوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

  4. امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی طرح ’غزہ کے قصاب‘ کی میزبانی بھی آپ کو مہنگی پڑے گی: محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ

    IRNA
    ،تصویر کا کیپشنایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اسرائیلی وزیر اعظم کی میزبانی پر متحدہ عرب امارات پر شدید الفاظ میں تنقید کی ہے۔

    محسن رضائی نے عربی زبان میں ایک پیغام میں ملک کا نام لیے بغیر ایکس پر لکھا کہ ’جس طرح امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی آپ کے لیے سکیورٹی نہیں لائی، اسی طرح ’غزہ کے قصاب‘ کی میزبانی بھی اچھے نتائج نہیں لائے گی۔‘

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس ہفتے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے۔

    محسن رضائی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’حالیہ جنگ سے سبق سیکھیں، جنگوں کو ہوا دینا بند کریں اور ایرانی جزائر کے بارے میں بے بنیاد دعوے کرنا بھی بند کریں۔‘

    اسی ہفتے متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ میں ایک بار پھر ایران پر تین جزائر پر ’قبضے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر تنقید کی۔

    حالیہ مہینوں میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے، خصوصاً ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے بیک وقت حملوں کے بعد۔

  5. بلوچستان کے ضلع پشین میں نامعلوم مسلح افراد کا تھانے پر حملہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع پشین میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق حملہ بدھ کی شب بوستان کے علاقے میں واقع پولیس تھانے پر کیا گیا۔

    پشین میں پولیس اہلکار سلیم خان نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً 30 سے 40 مسلح افراد نے تھانے پر حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

    ان کے مطابق رات گئے تک پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان مقابلہ جاری تھا، جبکہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے اور حملے کو ناکام بنانے کے لیے پشین سے مزید پولیس نفری بوستان روانہ کی گئی ہے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، تاہم حملہ آوروں نے تھانے کے باہر کھڑی تین گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

    بوستان بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازا 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بوستان سمیت پشین کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

    گذشتہ ماہ بوستان سے آگے کوئٹہ ژوب ہائی وے پر خانوزئی کے قریب سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملہ کیا گیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل زیارت کراس کے علاقے میں کسٹمز کے ویئر ہائوس پر حملہ کیا گیا تھا جس میں چھ سکیورٹی اہکاروں کے علاوہ محکمہ کسٹمز کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

    تاہم سرکاری حکام نے جوابی کارروائی میں دس حملہ آوروں کو بھی ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ کسٹمز ویئر ہائوس پر ہونے والے حملے میں بڑی تعداد میں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

  6. ہم ایک ایسے ملک سے نمٹ رہے ہیں جو تقریباً تباہ ہو چکا ہے: ٹرمپ

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا ہے کہ ’ہم ایک ایسے ملک سے نمٹ رہے ہیں جو تقریباً تباہ ہو چکا ہے، ان کی معیشت اچھی حالت میں نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے اور ان کا طیارہ شکن نظام بھی ختم ہو چکا ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’آپ جلد بہت اہم واقعات ہوتے دیکھیں گے‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ تین روز کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی کھیپوں کی مقدار ’امریکی تاریخ میں کسی بھی وقت سے زیادہ‘ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں صرف جنگ کے عرصے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ پوری تاریخ کی بات کر رہا ہوں۔‘

    ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے اور حالیہ جنگ شروع ہونے سے پہلے جیسے حالات تھے، وہ ابھی بحال نہیں ہوئے۔

  7. حملے کا نشانہ بننے والے انڈین پائلٹ کی حالت مستحکم: انڈین سفارتخانہ

    سعودی عرب کے شہر ریاض میں انڈین سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ دورانِ پرواز حملے کا نشانہ بننے والے انڈین پائلٹ سمت مچھر کی صحت کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    سفارتخانے کے مطابق پرواز کا رخ موڑ کر اسے سعودی شہر تبوک لایا گیا، جہاں سمت مچھر کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انھیں اس وقت ضروری طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں مکمل معلومات ابھی دستیاب نہیں ہیں، تاہم اطلاعات کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔

    سفارتخانے نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اپنے زخموں سے صحت یاب ہو جائیں گے۔‘

    سفارتخانے کے مطابق وہ سمت مچھر کے خاندان سے بھی رابطے میں ہے۔

  8. بریکنگ, اسرائیلی حکام نے دورانِ پرواز حملے کا نشانہ بننے والے پائلٹ کی شناخت ظاہر کر دی

    اسرائیلی حکام نے دورانِ پرواز حملے کا نشانہ بننے والے پائلٹ کی شناخت ’کیپٹن سمت مچھر‘ کے نام سے کی ہے، جو انڈین شہری ہیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کیپٹن مچھر کو ’غیر معمولی بہادری‘ کا مظاہرہ کرنے والا ’سچا ہیرو‘ قرار دیا ہے۔

    نیتن یاہو نے ایکس پر لکھا کہ ’چاقو کے وار سے زخمی ہونے اور شدید چوٹ آنے کے باوجود انھوں نے حملہ آور کا مقابلہ کیا، مزاحمت کی، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں اور عملے کو حملہ آور پر قابو پانے میں مدد دی، جس سے دورانِ پرواز ایک بڑے سانحے کو روکا جا سکا۔‘

    اسرائیلی پارلیمان کے سپیکر امیر اوہانا نے بھی ایکس پر لکھا کہ ’آج ہمارے دل ان کے اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘

    ان کا نام انڈیا کے ذرائع ابلاغ نے بھی شائع کیا ہے۔

  9. مسافروں کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ’موت کا سامنا کر رہے ہوں‘

    fly dubai
    ،تصویر کا کیپشناسرائیل اوہایون بی بی سی کو تفصیل بتا رہے ہیں

    اسرائیل اوہایون کی بہن مریم اوہایون فلائی دبئی کی اس پرواز میں سوار تھیں جس کا رُخ ایک پائلٹ کے زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔

    تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ پر بی بی سی عربی سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل اوہایون نے کہا کہ اس واقعے کے دوران مسافروں میں ’بے بسی اور مکمل غیر یقینی‘ کی کیفیت تھی۔

    ان کے مطابق اُن کی بہن مریم اوہایون نے بتایا کہ طیارے میں شدید دباؤ اور خوف و ہراس کا ماحول تھا اور مسافروں کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ’موت کا سامنا کر رہے ہوں‘۔

    اوہایون کا کہنا تھا کہ ان کی بہن طیارے کی آگے والی نشستوں پر بیٹھی ہوئی تھیں اور انھوں نے پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے بقول چند اسرائیلی مسافروں نے فوری اقدام کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو میں کر لیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اُن کی بہن ذہنی طور پر وہ اچھی حالت میں نہیں ہیں۔ ہم 7 اکتوبر 2023 کو اپنے بھائی کو کھو چکے ہیں، اس لیے یہ واقعہ ہمیں کسی حد تک اسی دور کی یاد دلا رہا ہے۔‘

  10. ایک پائلٹ کا دوسرے پر چاقو سے حملہ جس کے بعد طیارہ نے دو منٹ میں 17 ہزار فٹ نیچے آیا: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟, شارلٹ ہیڈفیلڈ، بی بی سی

    fly dubai
    • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز اُس وقت بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی جب ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
    • نیتن یاہو نے بتایا کہ انھوں نے پرواز میں موجود ایک اسرائیلی مسافر سے بات کی، جس نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ اچانک بے قابو ہو گیا اور تیزی سے نیچے آنے لگا۔
    • مسافر کے مطابق وہ عملے کے ایک رکن کے ساتھ کسی طرح کاک پٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا، جہاں انھوں نے مل کر اس پائلٹ کو قابو کر لیا جس پر ساتھی پائلٹ کو زخمی کرنے اور طیارے کے نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔
    • نیتن یاہو کے مطابق عملے کا ایک اور رکن بھی کاک پٹ میں پہنچا اور طیارے کو دوبارہ مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا۔ انھوں نے اُن افراد کو ’ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کارروائی نے متعدد جانیں بچائیں اور ایک بڑا واقعہ رونما ہونے سے روک دیا۔
    • فلائی دبئی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود عملے کے ارکان نے طیارے کو کامیابی سے اپنے کنٹرول میں لیا اور اسے بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتار دیا۔
    • ایئرلائن کے مطابق حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے اور واقعے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں۔
    • نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
    • واقعے کے بعد سامنے آنے والے عینی شاہدین کے بیانات میں ایک مسافر نے بتایا کہ حملے کے دوران پورے طیارے میں چیخ پکار سنائی دے رہی تھی، جس کے بعد تین سے پانچ افراد کاک پٹ میں داخل ہوئے اور مبینہ حملہ آور کو قابو میں کر لیا۔
    • فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ واقعے کے دوران محض دو منٹ میں تقریباً 17 ہزار فٹ نیچے آ گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے محفوظ طریقے سے اتار لیا گیا۔
    • متاثرہ پرواز کے مسافروں کو خصوصی پرواز کے ذریعے سعودی عرب سے تل ابیب منتقل کر دیا گیا ہے۔
  11. افغانستان کی پالیسی دوسرے ممالک میں عدم استحکام پھیلانا نہیں: ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان خود جنگوں کا شکار رہا ہے، اس لیے وہ کسی بھی ملک میں بد امنی یا عدم استحکام نہیں چاہتا۔

    افغان میڈیا ادارے طلوع نیوز کے مطابق قومی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی پالیسی، حکمتِ عملی اور مفادات کا تعلق دوسرے ممالک میں بد امنی پھیلانے سے نہیں ہے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’افغانستان یہ نہیں چاہتا کہ اس کی سر زمین سے کسی ملک کو نقصان پہنچے یا وہ عدم تحفظ کا شکار ہو، اور ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ افغانستان کی پالیسی نہیں۔‘

    طالبان حکومت کے ترجمان نے زور دیا کہ افغانستان کے ذریعے علاقائی رابطوں کا فروغ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

  12. اسرائیلی جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں

    فلائی دبئی کا طیارہ
    • بدھ کے روز دبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔
    • پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی بلندی اچانک تیزی سے کم ہوئی اور وہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ نیچے آ گیا۔
    • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق طیارے کے ایک پائلٹ نے دوسرے کو چاقو مارا اور بظاہر طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی۔
    • نیتن یاہو کے مطابق انھوں نے پرواز میں سوار ایک اسرائیلی مسافر سے بات کی، جنھوں نے بتایا کہ طیارہ ’اچانک بے قابو ہو کر گھومنے لگا اور تیزی سے نیچے آنے لگا۔‘
    • وزیر اعظم کے بقول اس مسافر نے بتایا کہ وہ عملے کے ایک رکن کے ساتھ کسی طرح کاک پٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، وہاں انھوں نے ’حملہ کرنے والے پائلٹ کو قابو کر لیا جو اُس وقت طیارے کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
    • نیتن یاہو نے مزید کہا کہ عملے کے ایک اور رکن بھی ’کاک پٹ میں داخل ہوئے اور طیارے کو دوبارہ مستحکم کرنے میں کامیاب رہے۔‘
    • اسرائیلی وزیر اعظم نے ان افراد کو ’ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائی نے متعدد جانیں بچائیں اور ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔
    • دریں اثنا، فلائی دبئی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور طیارے کے عملے نے صورتحال پر کامیابی سے قابو پایا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا گیا۔
    • ایئرلائن کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات اور اس کے پس منظر سے متعلق حقائق تا حال معلوم نہیں اور اس سلسلے میں با ضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔
    • نیتن یاہو کے مطابق چاقو سے حملہ کرنے والے پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سعودی حکام ان سے تفتیش کر رہے ہیں۔
    • واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک مسافر نے بتایا کہ انھوں نے ’طیارے میں خوفناک چیخیں‘ سنیں، جس کے بعد ’تین سے پانچ افراد کاک پٹ میں گھس گئے‘ اور حملہ آور کو قابو کر لیا۔

    اس حوالے سے بی بی سی اردو کی تفصیلی رپورٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  13. ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر

    ایران میں اشیائے خور و نوش کی فروخت

    ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرنے والے ایران کے سرکاری ادارے کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح 73.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 1943 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رواں سال ستمبر میں عوام کے زیرِ استعمال اشیا اور خدمات کی قیمتیں گذشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں اوسطاً 89.8 فیصد زیادہ تھیں۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر کے دوران مواصلات، گاڑیوں، جوتوں اور ملبوسات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

  14. اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے ایران کی عزت رکھی اور امریکہ کو بھی پابند کیا: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تحت ’جو معاہدہ طے پایا تھا، اس سے ہماری عزت پر بھی حرف نہیں آیا اور امریکہ کو بھی بعض واضح وعدے پورے کرنے کا پابند بنایا گیا، جن پر مرحلہ وار عمل درآمد ہونا تھا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق مسعود پزشکیان نے اصلاح پسند شخصیات اور سماجی کارکنوں سے ملاقات کے دوران امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کی حمایت کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں کردار ادا کریں۔

    ایرانی صدارتی دفتر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ایران اس معاہدے کی کسی شق میں اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔

    واضح رہے کہ 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت طے پائی تھی، جس میں جنگ بند کرنے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور دیگر معاملات پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    اسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا تھا۔

    تاہم، بعد میں آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر ایران کے حملوں اور امریکی فوج کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے دوبارہ نفاذ کے بعد یہ مفاہمت مؤثر نہ رہی تھی۔

  15. بڈگام میں مارا گیا عسکریت پسند لشکرِ طیبہ کا کمانڈر تھا: انڈین فوج کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈین فوج، فائل فوٹو
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات فوج کی 15ویں کور نے الزام عائد کیا ہے کہ منگل کی شب ضلع بڈگام میں فوجی کارروائی کے دوران ہلاک کیے گئے عسکریت پسند گذشتہ تین برس سے کشمیر میں کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کمانڈر تھے۔

    انڈین فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ہلاک کیے گئے عسکریت پسند کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔

    فوج کے مطابق وہ کشمیر میں انڈیا مخالف مسلح کارروائیوں میں لشکرِ طیبہ کے دیگر عسکریت پسندوں کی نگرانی اور رہنمائی کرتے تھے۔

  16. تحریک انصاف کا لانگ مارچ: قبائلی عمائدین کی سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    قبائیلی عمائدین کی فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چار اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے قبائلی عمائدین نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں قبائلی رہنماؤں کے ایک جرگے نے گذشتہ روز گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

    صوبے کے تمام قبائلی علاقوں کے عمائدین اور مشران پر مشتمل اس مشترکہ جرگے کی قیادت شمالی وزیرستان کے بزرگ رہنما ملک خان مرجان کر رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے لیے چار اکتوبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مطالبات کے حل کے لیے لانگ مارچ ضرور ہو گا۔

    تقریباً 30 سے 40 افراد پر مشتمل جرگے کے سربراہ ملک خان مرجان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ موجودہ سیاسی تناؤ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کے مزید بڑھنے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔

    پوچھا گیا کہ کیا کسی فریق نے ان سے ثالثی کرانے کا کہا؟ اس کے جواب میں خان مرجان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔

    ان کے مطابق ماضی میں بھی قبائلی جرگوں نے بڑے تنازعات کے حل میں کردار ادا کیا ہے اور اب بھی قبائلی عمائدین نے خود فیصلہ کیا کہ وہ تمام متعلقہ افراد اور اداروں سے رابطے کریں گے تاکہ صورتحال میں موجود کشیدگی کم کی جا سکے۔

    ملک خان مرجان نے بتایا کہ گذشتہ روز ان کی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات ہوئی جو ان کے بقول حوصلہ افزا رہی۔ انھوں نے کہا کہ ملاقات کے بعد گورنر اسلام آباد روانہ ہو گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد جرگے نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ اگر جرگے کو ثالثی کا کردار ادا کرنا ہے تو اس کے لیے صوبائی حکومت کو جرگے پر اعتماد کرنا ہو گا اور لانگ مارچ سے متعلق اپنے موقف میں لچک دکھانی ہو گی۔

    ملک خان مرجان کے مطابق ملاقات کے دوران پی ٹی آئی کے صوبائی صدر بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آج دوبارہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے بقول ممکن ہے کہ جرگہ اسلام آباد بھی جائے اور وہاں متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کرے۔

    انھوں نے کہا کہ جرگہ فریقین کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور آئندہ وفاقی سطح پر بھی اہم شخصیات سے رابطے کیے جائیں گے۔

    قبائیلی عمائدین کی فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    صوبائی حکومت اور گورنر کا مؤقف

    اس بارے میں صوبائی وزیر اطلاعات اور صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے مختصر جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے وقت لیا گیا ہے۔

    گذشتہ روز وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی پریس کانفرنس کے دوران اس بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ تو سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ قبائلی رہنما ان سے ملنے آئے تھے اور تمام قبائلی رہنما بھی ان کے ساتھ لانگ مارچ میں بھی شریک ہوں گے۔

    دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جرگے کے بارے میں سوال کا مختصر جواب دیا۔

    ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے بھیجے گئے جواب میں انھوں نے کہا:

    ’میں نے ہمیشہ جرگوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ جب بھی کوئی جرگہ یا وفد گورنر ہاؤس آیا، اسے خوش آمدید کہا گیا۔‘

    شوکت یوسفزئی کے خطوط میں لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز

    قبائلی جرگے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بھی پارٹی قیادت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    انھوں نے 24 اور 28 ستمبر کو پارٹی رہنما اسد قیصر اور چیئرمین بیرسٹر گوہر کو دو خطوط تحریر کیے۔

    دوسرے خط میں شوکت یوسفزئی نے خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت بعض معاملات کو بنیاد بنا کر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات اور صوبے میں شدت پسندی کی حالیہ لہر کو بھی اس مقصد کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

    خط میں شوکت یوسفزئی نے رائے دی کہ ’ملک کے وسیع تر مفاد میں‘ لانگ مارچ فوری طور پر ملتوی کرنا چاہیے اور ’موجودہ حالات میں ملک کے دفاع کے نعرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

    یہ خط واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا اور اس کی نقول وزیر اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں تک بھی پہنچائی گئیں۔

    تاہم وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں اس خط سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ انھوں نے یہ خط نہیں پڑھا اور اگر یہ ان کے پاس پہنچ جاتا تو وہ اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے۔

  17. لبنان کے جنوب میں اسرائیل کا حملہ، ایک لبنانی فوجی اور تین شہری زخمی

    28 ستمبر 2026 کی تصویر: جنوبی لبنان کے گاؤں ہنیہ میں دھماکوں کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
    ،تصویر کا کیپشن28 ستمبر 2026 کی تصویر: جنوبی لبنان کے گاؤں ہنیہ میں دھماکوں کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے

    لبنان کی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ الفوقا پر اسرائیلی حملے میں ایک فوجی شدید زخمی جبکہ تین شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون نے نبطیہ الفوقا کو نشانہ بنایا۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود حالیہ ہفتوں میں کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے تا حال اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جون میں امریکی ثالثی سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہے۔ اس معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور اس علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل تھی۔

    لبنانی فوج کو آزمائشی طور پر جولائی میں دو علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود معاہدے پر عمل درآمد میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

    لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں اس معاہدے پر مزید عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

    دوسری جانب حزب اللہ اب بھی اپنے ہتھیار رکھنے پر آمادہ نہیں، جبکہ اسرائیل معاہدے کے باوجود لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر اب بھی اس کا کنٹرول برقرار ہے۔

  18. آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا

    آبنائے ہرمز

    برطانیہ کی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ گذشتہ روز (منگل کو) آبنائے ہرمز میں تین جہازوں کو ’نا معلوم میزائلوں‘ سے نشانہ بنایا گیا۔

    ادارے کے مطابق ایک تیل بردار بحری جہاز، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والا ایک جہاز اور ایک اور بحری جہاز اس حملے کی زد میں آئے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  19. پائلٹوں میں ’جھگڑے‘ کے بعد اسرائیلی جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں

    فلائی دبئی کا طیارہ
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • دبئی سے اسرائیل جانے والی ایک پرواز نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاون پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا۔
    • ایک مسافر نے اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ ایک پائلٹ کو دوسرے پائلٹ نے چاقو مارا، تاہم طیارے کے اگلے حصے میں موجود مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو کاک پٹ سے باہر نکالنے میں مدد دی۔ عینی شاہد کے مطابق طیارے میں دو دیگر پائلٹس بھی سوار تھے جو طیارے کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔ مسافر نے یروشلم پوسٹ کو بتایا: ’میں نے چلّا کر ان سے کہا کہ دوڑیں اور طیارے کا کنٹرول سنبھالیں۔‘
    • خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق یاسمین ابو قسیس نے انھیں بتایا کہ ان کی بیٹی مریم اس پرواز میں سوار تھیں اور انھوں نے چیخ و پکار کی آوازیں سنیں۔ ان کی بیٹی کے مطابق چاقو تھامے ہوئے ایک شخص نے پائلٹس میں سے ایک کو فرش پر گرا دیا تھا اور ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
    • ٹریکنگ ویب سائٹ فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق بدھ کی صبح روانہ ہونے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 نے سعودی عرب کی فضائی حدود کے اوپر اچانک سمت تبدیل اور بلندی کم کی۔
    • فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس کے فوراً بعد، تقریباً سات منٹ تک یہ پرواز ہنگامی سگنل دیتی رہی۔
    • بعد ازاں فلائٹ ریڈار 24 نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ پرواز نے ایک اور ہنگامی سگنل 7500 بھی جاری کیا، جو ’غیر قانونی مداخلت‘ کی نشان دہی کرتا ہے۔
    • فلائی دبئی کے مطابق ’طیارہ بحفاظت (سعودی عرب کے) تبوک ائیرپورٹ پر اتر گیا ہے اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔‘
  20. آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی شرائط پر امریکی جواب موصول، عباس عراقچی کی تصدیق

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق، ایران کو امریکہ کی جانب سے ایک تجویز موصول ہوئی ہے، جو جاری جنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔

    فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں اس تجویز کے موصول ہونے کی تصدیق کی، تاہم انھوں نے امریکی جواب کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

    کابینہ اجلاس کے دوران عراقچی نے اپنے حالیہ نیویارک کے دورے سے بھی آگاہ کیا، جہاں انھوں نے یورپی اور خلیجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

    انھوں نے اس موقع پر ان شرائط کا بھی جائزہ پیش کیا جو ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ تک پہنچائی تھیں۔