آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران کا امریکہ سے مطالبہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘ عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ حملے ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں کیے گئے۔
  • یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے نکلنے کی جانب ایک 'اہم قدم' قرار دیا۔
  • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک معروف تاجر اور کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح سمیت کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین کے اندر قائم کردہ سکیورٹی زون میں موجود رہیں گی۔

لائیو کوریج

  1. ایران اس وقت ’طاقت کے عروج پر‘ ہے، حزب اللہ اور محورِ مزاحمت کی حمایت بنیادی ترجیح: قومی سلامتی کمیشن کے رکن

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن کے رکن علاءالدین بروجردی نے کہا ہے کہ بعض ممالک کے تصورات کے برعکس، ایران اس وقت ’طاقت کے عروج پر‘ ہے۔

    ایرانی مجلس خبر رساں ایجنسی ’خانہ ملت‘ کے مطابق، بروجردی نے کہا کہ ’لبنان اور محورِ مزاحمت (بشمول حزب اللہ، پاپولر موبلائزیشن فورسز، نیز فلسطین اور یمن میں مزاحمتی گروہ) کی حمایت کرنا ہماری بنیادی ترجیح ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی ’جارحیت‘ کی صورت میں ایران اسرائیل کو ’موثر انداز‘ میں جواب دے گا۔

    ادھر، ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی پر زور دینے کے باوجود، حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان متعدد بار فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

  2. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادئ نیلم میں احتجاجی دھرنا اگلی کال تک موخر، سڑکیں اور بازار بحال, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع نیلم میں چک مقام پر 12 جون سے جاری احتجاجی دھرنا اگلی کال تک موخر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جبکہ بازار بھی معمول کے مطابق کھل گئے ہیں۔ تاہم ابھی تک راولاکوٹ میں یہ احتجاج جاری ہے۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر 9 جون سے ریاست بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری تھی، جس کے دوران وادیٔ نیلم میں مظاہرین نے چک مقام پر ضلع کی واحد مرکزی سڑک بند کر رکھی تھی۔ اب دھرنا ختم ہونے کے بعد ضلع ہیڈکوارٹر اٹھمقام سمیت دیگر بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

    تاہم ضلع نیلم سے مظفرآباد جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ تاحال بحال نہیں ہو سکی، جبکہ کرائے پر چلنے والی اور نجی گاڑیاں آمد و رفت کر رہی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نیلم اقبال احسن کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ تمام بازار کھلے ہوئے ہیں اور مرکزی شاہراہ مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بحال ہے۔ ان کے مطابق مظاہرین نے اپنی مرضی سے دھرنا ختم کیا اور انتظامیہ کی جانب سے نہ تو کوئی مذاکرات کیے گئے اور نہ ہی ان کے مطالبات یا شرائط تسلیم کی گئیں۔

    انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے مظاہرین کو واضح کیا تھا کہ مزید سڑک بند رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جس کے بعد انہوں نے ازخود احتجاج ختم کر کے راستہ کھول دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ضلع نیلم میں کسی بھی مقام پر احتجاج جاری نہیں اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو چکی ہیں۔

    دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رکن راجہ افتخار کا کہنا ہے کہ دھرنا حکمتِ عملی کے تحت عارضی طور پر ختم کیا گیا ہے اور کارکنوں کو اگلی کال تک گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر مرکزی قیادت کی جانب سے دوبارہ احتجاج یا لانگ مارچ کی کال دی گئی تو کارکن فوری طور پر متحرک ہو جائیں گے۔

    راجہ افتخار نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے لیے دس ہزار افراد کی رجسٹریشن ہو چکی ہے اور تنظیم کی وارڈ سطح تک رابطہ کمیٹیاں فعال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام کی سہولت اور روزمرہ ضروریات کے پیشِ نظر سڑک کھولی گئی تاکہ لوگ اشیائے ضروریہ خرید سکیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ بازار کھل چکے ہیں، تاہم ضلع میں پیٹرول کی شدید قلت برقرار ہے اور گذشتہ چار سے پانچ روز سے پیٹرول بردار گاڑیاں وادیٔ نیلم نہیں پہنچ سکیں، جس کے باعث بیشتر پیٹرول پمپس بند ہیں۔ ان کے مطابق دکانوں پر موجود محدود ذخیرہ فروخت کیا جا رہا ہے، لیکن نئی سپلائی نہیں آ رہی، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ پیٹرول اور اشیائے خور و نوش کی ترسیل جلد بحال کرے۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک اور رکن ذیشان گیلانی نے بھی تصدیق کی کہ چک مقام کا دھرنا اگلی کال تک موخر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو گھروں کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم وہ ’آن کال‘ ہیں اور مرکزی قیادت کی ہدایت ملتے ہی دوبارہ احتجاج کے لیے مقررہ مقام پر جمع ہو جائیں گے۔

  3. اسرائیل کو لبنانی سرزمین سے نکل جانا چاہیے: حزب اللہ رہنما

    لبنان کی حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس لبنان سے غیر مشروط انخلاء کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

    لبنان کی حزب اللہ کے سربراہ نے بیک وقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کو مسترد کر دیا۔

    عاشورہ کی تقریب میں دسیوں ہزار حامیوں سے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کے پاس اپنی لبنانی سرزمین کے ایک ایک انچ سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے پیچھے ہٹنا چاہیے۔‘

    جیسا کہ لبنانی اور اسرائیلی حکام واشنگٹن میں براہ راست بات چیت کر رہے ہیں، نعیم قاسم نے کہا کہ ان کا گروپ ’تعلقات کو معمول پر لانے، دشمنی کی حالت کے خاتمے، اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کے فوائد، اور لبنانی سرزمین پر کسی بھی جزوی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔۔۔‘

    لبنان کی حزب اللہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے، اور تہران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مفاہمت اور اس ملک کے ساتھ جاری مذاکرات میں گروپ کے مفادات کو مدنظر رکھے ہوئے ہے۔

  4. ’مغرب نے خطے کو لوٹ مار اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا،‘ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر کا بیان

    ایران کے رہبر اعلیٰ کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ خلیجی عرب ریاستوں کا استحکام ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے صدیوں پر محیط انتظام کا مرہونِ منت ہے‘، اور مزید کہا کہ ’مغرب نے اس خطے کو لوٹ مار اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا۔‘

    ایکس پر ایک پوسٹ میں علی اکبر ولایتی نے لکھا کہ ’یہ حاشیے پر موجود سیاسی نوآموز عناصر کرائے کے بیانات سے تسلی نہ لیں، یاد رکھیں کہ تمھاری بقا اسی دسترخوان کے ٹکڑوں پر قائم ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بڑی جغرافیائی و سیاسی صف بندی میں، حاشیے پر موجود چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ انھیں باہر کر دیا جاتا ہے، اور ان کی تزویراتی بقا تہران کی برداشت پر منحصر ہوتی ہے۔‘

  5. پاسداران انقلاب کی وارننگ پر تین آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے واپس لوٹ گئے

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق کم از کم تین غیر ملکی آئل ٹینکرز، جو ’بغیر اجازت‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، پاسدارانِ انقلاب کی وارننگ کے بعد واپس چلے گئے۔

    گذشتہ روز سنگاپور کے جھنڈے والے ایک جہاز پر نامعلوم سمت سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز میں 11 ہزار ملاحوں کو بچانے کا اپنا مشن معطل کر دیا۔

    تہران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اس نے ایران کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے خلاف متعدد وارننگز جاری کی ہیں۔

  6. جاپان کا ایران، لبنان اور مغربی کنارے کے لیے 15 ملین ڈالر امداد کا اعلان

    جاپان نے ایران، لبنان اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 15 ملین ڈالر کی ہنگامی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    جاپان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ امداد بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے فراہم کی جائے گی جن میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز شامل ہیں، اور اس کا محور صحت، خوراک، رہائش، پانی اور صفائی کی خدمات ہوں گی۔

    اس کے علاوہ، لبنان میں این جی اوز کی زیر قیادت امدادی سرگرمیوں کے لیے جاپان پلیٹ فارم کے ذریعے مزید 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

  7. امریکہ خلیجی ممالک کی سلامتی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا: ایران کی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’خطے کے ممالک میں امریکہ کی جانب سے فوجی اڈوں اور سہولیات کا استعمال کر کے ایران پر حملہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ خطے کے ممالک کی سلامتی یا ان کے باہمی تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں، جو نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے ذریعے جاری کیا گیا، کہا کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی سلامتی کے لیے امریکی عزم کے دعوے ’محض بیان بازی اور حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کی فوجی موجودگی دراصل خطے کے ممالک کے لیے ایک بوجھ ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور جی سی سی ممالک کے مشترکہ بیان کو ’مداخلت پسند، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے خطے میں ’جارحانہ اور مداخلت پسند رویوں کے تسلسل‘ کے خلاف خبردار کیا۔

  8. آبنائے ہرمز میں صرف تہران کی مقررہ گزرگاہوں سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی: پاسداران انقلاب کا انتباہ

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب‌ آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے محفوظ راستے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر اُن جہازوں کے لیے جو ’غیر واضح انتظامات، متوازی راستوں، یا ایران کو بطور ساحلی ریاست نظرانداز کرتے ہوئے کیے گئے فیصلوں‘ کے تحت سفر کرتے ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ کوئی بھی قابلِ اعتماد فریم ورک ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ کی دفعات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، متوازی راستے کو معطل کر دیا جائے گا۔‘

    امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مطابق، ایران ’سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کے تعین کے لیے بات چیت کرے گا، اور یہ عمل دیگر خلیجی ساحلی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق ہوگا۔‘

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی نے آج صبح رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز صرف تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستوں کا استعمال کریں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان راستوں سے ہٹ کر جہاز رانی ممنوع ہے اور اس سے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی لازمی ہے۔

    یہ ابتدائی انتباہ اس وقت سامنے آیا جب عمان نے 23 جون کو اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو آسان اور تیز بنانے کے لیے ایک نیا سمندری راستہ کھولا ہے۔

    اس کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں فریقین نے حالیہ ایران-امریکہ معاہدے کے تحت قائم 60 روزہ عبوری مدت کے دوران قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    ایران کے حال ہی میں قائم کردہ ادارے ’پیرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی‘ نے بھی اعلان کیا کہ ’غیر مجاز راستوں کے استعمال سے پیدا ہونے والے کسی بھی نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر جہاز کے مالک، چارٹرر اور کپتان پر عائد ہو گی۔‘

    آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے مال بردار جہاز پر خاموشی

    دوسری جانب ایرانی حکام اور میڈیا نے اس واقعے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا جس میں ایک سنگاپور کے پرچم بردار مال بردار جہاز پر حملہ کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے کا الزام پاسداران انقلاب کی بحریہ پر عائد کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے ’یوکے ایم ٹی او‘ کے مطابق جہاز کو عمان کی بندرگاہ دہیت سے 7.5 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں کسی ’نامعلوم پراجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ادھر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    ’آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملہ ’بلا اشتعال اور ناقابلِ جواز‘ تھا‘

    سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ایور لوولی پر ایک نامعلوم شے، پروجیکٹائل، نے حملہ کیا۔

    بیان کے مطابق، یہ جہاز اب آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے اور اپنے سفر پر گامزن ہے اور مزید کہا گیا کہ جہاز کے تمام 21 عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔

    اتھارٹی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’بلا اشتعال، ناقابلِ جواز، اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

    بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ ’بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنے والے تمام اقدامات کو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق ہونا چاہیے، اور سمندر میں ملاحوں اور جہازوں کی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔‘

  9. امریکی ٹیرف میں برتری کا فریم ورک نہ ہونے تک امریکہ سے تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا: انڈین وزیر

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انڈیا کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ دہلی، واشنگٹن کے ساتھ مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گا جب تک انڈین برآمدات کے لیے ٹیرف میں تقابلی برتری کی ضمانت دینے والا فریم ورک طے نہیں پا جاتا۔

    لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ’ایک آزاد تجارتی معاہدے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے حریفوں پر برتری حاصل ہو۔‘

    فروری میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان اعلان کیے گئے عبوری تجارتی معاہدے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’یقیناً ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے تاکہ ہم اس معاہدے کو نافذ کر سکیں جس پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔‘

    پیوش گوئل نے کہا کہ اس ممکنہ معاہدے کے تحت امریکہ کو انڈیا کو ایسے فوائد دینا ہوں گے جو ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ہمسایہ ممالک کو حاصل مراعات سے بہتر ہوں۔

    ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انڈیا اور امریکہ نے عبوری تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لیا ہے، جس میں مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل تجارت اور سپلائی چینز جیسے شعبے شامل ہیں۔

    دونوں ممالک 24 جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے عائد عارضی 10 فیصد ٹیرف کے خاتمے کی تاریخ ہے۔

  10. عاشورا کے جلوسوں پر پابندیاں، طالبان حکومت کے نائب وزیر کی وزیر انصاف پر تنقید اور شیعہ برادری سے معذرت, بی بی سی مانیٹرنگ

    برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل اور امریکہ میں فعال امو ٹی وی کے مطابق طالبان حکومت میں شامل تین شیعہ ہزارہ وزرا میں سے ایک، مدر علی کریمی بامیانی، نے وزیرِ انصاف شیخ عبدالحکیم شری پر افغانستان کی شیعہ برادری کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر تنقید کی ہے۔

    25 جون کو کابل میں شیعہ عزاداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علی کریمی نے کہا کہ ’میں ملا حسن آخوند (طالبان وزیرِ اعظم) کی جانب سے افغانستان کے معزز اور باوقار ہزارہ اور شیعہ عوام سے معذرت کرتا ہوں۔ اگر ہماری خاموشی کو کمزوری یا خوف سمجھا گیا ہے تو آپ غلط ہیں۔ ہمارے لوگ خوف کو نہیں مانتے۔‘

    نائب وزیر نے مزید کہا کہ عبدالحکیم شری اپنے اختیارات کی حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔ ’وہ وزیرِ انصاف ہیں، نہ کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وزیر، نہ ہی حج و اوقاف کے وزیر، اور نہ ہی اطلاعات و ثقافت کے وزیر کہ ثقافتی امور کی نگرانی کریں۔‘

    اگرچہ علی کریمی نے وزیرِ انصاف کے اقدامات کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم امو ٹی وی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزارتِ انصاف کے اہلکاروں نے کابل میں 20 سے 25 شیعہ افراد کو عاشورا کی مناسبت سے جھنڈے اور بینرز لگانے پر کئی دنوں تک حراست میں رکھا۔

    یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بیرونِ ملک افغان میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مغربی صوبہ ہرات میں عاشورا کی تقریبات پر ’وسیع پابندیاں‘ عائد کی گئی ہیں۔

    مزید برآں، طالبان حکام نے عاشورا سے قبل کابل سے نشر ہونے والے نجی ٹی وی چینل ’تمدن ٹی وی‘ کی نشریات بھی روک دیں، جو شیعہ ناظرین کے لیے مخصوص ہے۔

    ایک مقامی اخبار ہشتِ صبح نے 24 جون کو رپورٹ کیا کہ ہرات کے رہائشیوں کے مطابق طالبان نے 9 محرم اور عاشورا کے جلوسوں کی اجازت نہیں دی اور عزاداروں پر سخت پابندیاں عائد کیں۔

    رپورٹ کے مطابق سینہ زنی، زنجیر زنی، جھنڈوں اور بینرز کے ساتھ جلوس نکالنے پر پابندی ہے، اور لوگوں کو صرف عاشورا کے دن محدود اجتماع کی اجازت دی گئی ہے۔

    کابل سے متعلق پابندیوں پر اخبار اطلاعاتِ روز نے لکھا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان فورسز کی بھاری موجودگی عزاداروں کی سکیورٹی سے زیادہ ان کی نگرانی اور ممکنہ اجتماعی یا احتجاجی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہے۔‘

    امو ٹی وی کے مطابق طالبان کے اہلکاروں نے وسطی صوبہ بامیان میں ایک شیعہ مسجد میں محرم کی تقریب کے دوران داخل ہو کر مداخلت کی اور طالبان حکومت کے حق میں اور بعض میڈیا اداروں کے خلاف تقریر کی۔

    شیعہ افغان شہری اور اپوزیشن گروپس وقتاً فوقتاً طالبان پر عاشورا کی عوامی تقریبات محدود کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، جبکہ طالبان حکام ان پابندیوں کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری ’سکیورٹی اقدامات‘ قرار دیتے ہیں۔

  11. امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کو تہران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی: رافیل گروسی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ایک ’بہت مضبوط‘ تصدیقی نظام کی ضرورت ہے ۔

    جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گروسی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی جانب نہ بڑھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف اعلان کافی نہیں۔ ’ہمیں جتنی جلد ممکن ہو ایک نہایت مضبوط تصدیقی نظام قائم کرنا ہوگا۔‘

    رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی۔ گروسی کا یہ بیان تہران کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ کچھ اہم مقامات معائنہ کاروں کے لیے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا اور پابندیاں ختم نہیں کر دی جاتیں۔

    جاپان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گروسی کا کہنا تھا کہ ’ایک معاہدہ موجود ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو رسائی اور معائنہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں امید ہے کہ ہم جلد وہاں جا پائیں گے۔‘

    فی الحال ایران کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ آئی اے ای اے کے جوہری معائنہ کاروں کی واپسی امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ حتمی معاہدے کا حصہ ہو گی۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر توقع ہے کہ دونوں ممالک دو ماہ کی بات چیت کے بعد ایک حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

  12. بنوں میں ایمبولنس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک نجی ایمبولینس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    ضلع میں کام کرنے والے ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں صبح چھ بجے اطلاع موصول ہوئی کہ بنوں کے سرکلر روڈ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد فوری طور پر ایمبولینس روانہ کر دی گئی۔ ان کے مطابق سڑک پر ایک نجی ایمبولینس میں چار لاشیں پڑی تھیں جنھیں ہسپتال منقتل کر دیا گیا۔

    بنوں کے ریجنل پولیس افسر رب نواز خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہسپتال بنوں میں پولیس اہلکاروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک نجی ایمبولینس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار چار افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی شناخت اور واقعے کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    بنوں میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے بنوں کے علاقے ڈومیل کے ایک گاؤں میں مسافر گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا اور بعد میں زخمیوں کو جس گاڑی میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اس پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان دونوں واقعات میں سات افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔

    صوبے کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں میں پولیس پر پے در پے حملوں کے بعد ان علاقوں میں پولیس امن کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں اور ان کمیٹیوں نے شدت پسندوں کے خلاف مختلف کارروائیاں بھی کی ہیں۔

    صوبے کے جنوبی اضلاع میں پولیس پر حملوں کے علاوہ سرکاری ملازمین اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے اغوا کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔

    جنوبی وزیرستان اپر میں دو روز پہلے چھ پولیس اہلکاروں کو مسلح شدت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا لیکن گذشتہ روز مقامی عمائدین کی کوششوں سے انھیں بازیاب کرا لیا گیا۔ ضلعی پولیس افسر ارشد خان کے مطابق تمام اہلکاروں بازیاب ہونے کے بعد پولیس لائن وزیرستان پہنچ گئے ہیں۔

  13. ہیٹ ویو کے دوران پیرس میں عوامی مقامات پر شراب نوشی اور اس کی فروخت پر پابندی عائد

    فرانسیسی حکام نے ہیٹ ویو کے دوران دارالحکومت کے ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے پیرس میں عوامی مقامات پر شراب نوشی اور اس کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    پیرس کے شہریوں پر جمعے کی دوپہر سے سنیچر کی صبح سات بجے تک عوامی مقامات پر شراب پینے پر پابندی عائد ہو گی۔ سنیچر سے اتوار کے درمیان بھی انہی اوقات میں یہ پابنیداں لاگو رہیں گی۔

    دارالحکومت میں جمعے کی شام چھ بجے سے سنیچر کی صبح سات بجے تک لے جانے کے لیے شراب کی فروخت پر بھی پابندی ہو گی، اور یہی پابندی سنیچر سے اتوار کے دوران بھی ان ہی اوقات میں نافذ رہے گی۔

    لائسنس یافتہ بارز اور ریستوران اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

    سپین، برطانیہ اور فرانس کئی روز سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں تاہم گرمی کی یہ لہر اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، اور جرمنی اور جمہوریہ چیک میں محکمہ موسمیات نے شدید موسم سے خبردار کیا ہے۔

    جرمنی میں جمعے کے روز درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ جمہوریہ چیک کے بیشتر حصوں میں شدید موسم کا انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    فرانس کے وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے کہا کہ صحت سے متعلق الرٹ کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ہسپتالوں میں عملہ بڑھایا جا سکے اور کمزور افراد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  14. اٹلی نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا: جورجیا میلونی

    اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، میلونی کا کہنا تھا کہ کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کو یہ سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی کہ اٹلی سے کس قسم کی پروازوں کی اجازت دی گئی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بعد ازاں اپنی غلطی درست کرتے ہوئے اس بارے میں وضاحت بھی کی ہے۔

    اٹلی اور فرانس کے درمیان ہونے والے 36ویں بین الحکومتی سربراہ اجلاس کے اختتام پر بات کرتے ہوئے میلونی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے اڈوں کے استعمال سے متعلق محض اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

    گذشتہ روز ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کی فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کی ویڈیو ایکس پر شیئر کی تھی۔ اس ویڈیو میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران اٹلی میں موجود امریکی اڈے سے تقریباً 500 امریکی جہازوں نے اڑان بھری تھی۔

    اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ نیٹو سیکریٹری جنرل کا بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ نیٹو نے ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جنگ میں حصہ لیا۔

    اسماعیل بقائی مزید کہنا تھا کہ نیٹو اور اس کے رکن ممالک جنھوں نے اس فیصلے میں حصہ لیا انھیں اس کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

  15. ایران جیسے ممالک میں سفارتی موجودگی نہ ہونے کے باعث کینیڈا کو ’نقصان‘ ہو رہا ہے: مارک کارنی

    کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ ایران جیسے ممالک میں کینیڈا کی سفارتی موجودگی نہ ہونے کے باعث اسے ’نقصان‘ ہو رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق کینیڈین پارلیمان کی مدت کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی کا کہنا تھا کہ ’رابطہ رکھنے کا مطلب حمایت کرنا نہیں ہوتا۔ کسی بھی ملک میں سفارت خانہ قائم کرنا یا قونصلر خدمات فراہم کرنا اس بات کی علامت نہیں کہ ہم اس ملک کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں۔‘

    وینزویلا میں مہلک زلزلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراکس میں کینیڈین سفارت کاروں کی عدم موجودگی سے اوٹاوا کی اپنے شہریوں کی مدد کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

    کینیڈا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جن سے ہمارا اختلاف ہے اور وہاں ہماری سفارتی موجودگی نہیں۔ ان کے مطابق ایران اور وینزویلا کے علاوہ اور بھی ایسے ممالک ہیں۔

    وزیر اعظم کارنی نے بتایا کہ کچھ مواقع پر کینیڈین حکومت کو اپنے شہریوں کو ایران سے نکلنے میں مدد کے لیے ایسے ممالک سے تعاون لینا پڑا جو اوٹاوا کے ’فطری اتحادی‘ نہیں سمجھے جاتے۔

    کینیڈا نے سنہ 2012 میں تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا اور ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا۔

    اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی یا قونصلر تعلقات قائم نہیں رہے۔

    تہران کی فضائی حدود میں یوکرینی طیارے کو مار گرائے جانے اور پاسدارانِ انقلاب کی فائرنگ میں متعدد ایرانی نژاد کینیڈین شہریوں کی ہلاکت کے بعد کینیڈا نے ایرانی حکام کے لیے ویزا اور داخلے کے قواعد سخت کر دیے تھے اور پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان تازہ سیاسی کشیدگی گذشتہ ماہ اس وقت سامنے آئی جب ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج کو کینیڈا میں داخلے سے روک دیا گیا۔ وہ 2026 ورلڈ کپ کے کوآرڈینیشن اجلاس میں شرکت کے لیے ٹورنٹو پہنچے تھے تاہم انھیں ایران واپس لوٹ گئے۔

  16. آبنائے ہرمز کے قریب جہاز پر حملہ: اقوام متحدہ نے ملاحوں کے انخلا کا آپریشن روک دیا, وکی وونگ اور ایما پینگلی، بی بی سی نیوز

    اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11,000 سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ اس آبی گزرگاہ کے قریب ایک کارگو جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    آئی ایم او کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ کئی جہازوں کو پہلے ہی نکالا جا چکا ہے، تاہم ادارہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ’ضروری حفاظتی ضمانتیں‘ برقرار رہیں۔

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک جہاز کو عمان کی بندرگاہ دہیت سے جنوب مشرق میں 7.5 سمندری میل کے فاصلے پر ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    سمندری خطرات کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنی وین گارڈ کے مطابق کہ سنگاپور کے جھنڈے تلے چلنے والا جہاز ایور لَوَلی حملے کے باوجود آبنائے سے گزر گیا۔

    فروری سے امریکہ،اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خلیج میں سینکڑوں جہاز اور ہزاروں ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔

    آبنائے ہرمز سے جہازوں اور ملاحوں کے انخلا کے لیے اقوامِ متحدہ کے آپریشن کا اعلان منگل کو اس وقت کیا گیا تھا جب آبنائے دوبارہ کھولی گئی تھی۔

    ڈومنگیز کے مطابق اس ’بڑے پیمانے کے آپریشن‘ میں ایران، عمان، امریکہ اور خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور میری ٹائم انڈسٹری کا تعاون حاصل تھا۔

    ڈومنگیز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ’آئی ایم او کے انخلا فریم ورک کے تحت سفر نہیں کر رہا تھا۔‘

    انہوں نے مزید کہا: ’میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ملاحوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے مربوط حکمتِ عملی اور بحری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انخلا کے منصوبے کو اس وقت تک روکا جائے گا جب تک مزید وضاحت حاصل نہیں ہو جاتی۔‘

    جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق ایور لاولی نامی کارگو جہاز جمعرات کی صبح آبنائے میں جنوبی راستے سے داخل ہوا تھا اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:30 بجے مشرق کی جانب سے باہر باہر نکا۔

    وین گارڈ کے مطابق اس دوران اس جہاز کو کسی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا، جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران 60 دن تک ’بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوششیں کرے گا۔‘

    تاہم تہران بار بار کہتا رہا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے کے لیے ٹول کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ وصول کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

  17. آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی ایجنسی

    برطانیہ کے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ اسے عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق ایک کارگو جہاز کے سٹار بورڈ (دائیں حصے) کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے۔

    جہاز کے کپتان کے مطابق اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے میں موجود جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

  18. امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    برطانوی دائیں بازو کی ویب سائٹ ’ان ہرڈ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹھیک ہے، ہم پاسداران انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ بھیج دیتے ہیں، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک اہلکار کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے گا اور اسی طرح ہم بہت سے تنازعات حل کریں گے۔‘

    جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ ایسے رابطے قائم کیے ہیں، جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست بات چیت بھی شامل ہے۔

    ان کے مطابق ’متحدہ عرب امارات ایرانی حکام کے ساتھ ایسے مذاکرات کر رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے، جن میں آئی آر جی سی کے ساتھ مختلف نوعیت کی معاشی مراعات پر بات چیت بھی شامل ہے۔‘

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آخری دور واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خارجہ میں شروع ہو گیا ہے۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینا، براعظم اور امریکہ کے درمیان اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
    • ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی دعوے غلط ہیں کہ ایران اپنے غیرمنجمد شدہ اثاثے امریکی زرعی اجناس خریدنے پر خرچ کرے گا۔
    • اہم عالمی بحری راستے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں ایک بار پھر ایران جنگ سے پہلے والی سطح پر آ گئی ہیں۔
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔