ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے محفوظ راستے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر اُن جہازوں کے لیے جو ’غیر واضح انتظامات، متوازی راستوں، یا ایران کو بطور ساحلی ریاست نظرانداز کرتے ہوئے کیے گئے فیصلوں‘ کے تحت سفر کرتے ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ کوئی بھی قابلِ اعتماد فریم ورک ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ کی دفعات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، متوازی راستے کو معطل کر دیا جائے گا۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مطابق، ایران ’سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کے تعین کے لیے بات چیت کرے گا، اور یہ عمل دیگر خلیجی ساحلی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق ہوگا۔‘
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی نے آج صبح رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز صرف تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستوں کا استعمال کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان راستوں سے ہٹ کر جہاز رانی ممنوع ہے اور اس سے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی لازمی ہے۔
یہ ابتدائی انتباہ اس وقت سامنے آیا جب عمان نے 23 جون کو اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو آسان اور تیز بنانے کے لیے ایک نیا سمندری راستہ کھولا ہے۔
اس کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں فریقین نے حالیہ ایران-امریکہ معاہدے کے تحت قائم 60 روزہ عبوری مدت کے دوران قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
ایران کے حال ہی میں قائم کردہ ادارے ’پیرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی‘ نے بھی اعلان کیا کہ
’غیر مجاز راستوں کے استعمال سے پیدا ہونے والے کسی بھی نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر جہاز کے مالک، چارٹرر اور کپتان پر عائد ہو گی۔‘
آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے مال بردار جہاز پر خاموشی
دوسری جانب ایرانی حکام اور میڈیا نے اس واقعے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا جس میں ایک سنگاپور کے پرچم بردار مال بردار جہاز پر حملہ کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے کا الزام پاسداران انقلاب کی بحریہ پر عائد کیا جا رہا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے ’یوکے ایم ٹی او‘ کے مطابق جہاز کو عمان کی بندرگاہ دہیت سے 7.5 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں کسی ’نامعلوم پراجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔
’آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملہ ’بلا اشتعال اور ناقابلِ جواز‘ تھا‘
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ایور لوولی پر ایک نامعلوم شے، پروجیکٹائل، نے حملہ کیا۔
بیان کے مطابق، یہ جہاز اب آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے اور اپنے سفر پر گامزن ہے اور مزید کہا گیا کہ جہاز کے تمام 21 عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔
اتھارٹی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’بلا اشتعال، ناقابلِ جواز، اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ ’بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنے والے تمام اقدامات کو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق ہونا چاہیے، اور سمندر میں ملاحوں اور جہازوں کی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔‘