امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’مسلسل جارحیت‘ کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ حملے ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں کیے گئے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر عندیہ دیا کہ ’ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہ رہے۔‘
ایران نے اب تک ان تازہ حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
سینٹکام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پابندی کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور پانامہ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی کیکو پر ڈرون حملہ کیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔
تازہ حملوں کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ ’بہت ممکن‘ ہے کہ تہران ’کبھی سبق نہیں سیکھے گا۔‘
ہفتے کی شام انھوں نے مزید لکھا: ’ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام عسکری طور پر مکمل کرنا پڑے جو ہم نے بہت کامیابی سے شروع کیا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا!‘
امریکی حملوں کے بعد کے گھنٹوں میں کویت اور بحرین دونوں نے اطلاع دی کہ ان کے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں۔
کویتی مسلح افواج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’کویت کے فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں‘ اور عوام سے سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے کہا کہ وہ ’پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقامات کا رخ کریں۔‘
یہ تازہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ نے دو روز قبل کہا تھا کہ اس نے 25 جون کو سنگاپور کے جھنڈے تلے چلنے والے کارگو جہاز ایم وی ایور لاولی پر ڈرون حملے کے ردِعمل میں ایران پر جوابی حملے کیے تھے۔
سینٹکام نے ان امریکی حملوں کو ’طاقتور ردِعمل‘ قرار دیا اور کہا تھا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’بلاجواز جارحیت‘ واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ اس کارگو جہاز کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ’غیر منظور شدہ راستہ‘ استعمال کر رہا تھا اور اس نے امریکی جوابی حملوں کو خود جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کی صبح جاری بیان میں کہا کہ اس نے اس کے جواب میں امریکی مفادات سے منسلک اہداف پر مزید حملے کیے ہیں اور موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ’معاہدہ توڑنے والی امریکی حکومت‘ کو ٹھہرایا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں ایران کی جانب سے 60 دن تک بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔