آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران کا امریکہ سے مطالبہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘ عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ حملے ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں کیے گئے۔
  • یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے نکلنے کی جانب ایک 'اہم قدم' قرار دیا۔
  • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک معروف تاجر اور کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح سمیت کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین کے اندر قائم کردہ سکیورٹی زون میں موجود رہیں گی۔

لائیو کوریج

  1. چار ماہ بعد آرامکو نے سعودی عرب کے رأس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی

    سعودی عرب کی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ کے وقفے کے بعد جمعہ کے روز خلیج فارس میں واقع رأس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔ اس بات کی تصدیق شپنگ ڈیٹا سے ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی برآمدات کی بحالی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تائیوان کی کمپنی ایورگرین کے ایک جہاز پر جمعرات کو آبنائے ہرمز میں حملہ ہوا تھا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے سے قبل اپنی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کر دیا تھا۔ جنگ سے پہلے دنیا میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی 20 فیصد درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔

    جمعہ کو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سعودی شپنگ کمپنی کے دو بڑے ٹینکر دنیا کی سب سے بڑی آئل پورٹ رأس تنورہ پر تیل لوڈ کر رہے تھے، جبکہ ایک اور ٹینکر ٹرمینل کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایک چوتھا ٹینکر قریبی علاقے میں انتظار کر رہا تھا۔

    ان میں سے ہر ایک ٹینکر تقریباً بیس لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    آرامکو نے روئٹرز کو اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ دینے سے انکار کر دیا۔

    دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) نے ایک کارگو جہاز پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حفاظت فراہم کرنے کے آپریشنز معطل کر دیے ہیں، جس سے ایران جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کے قابلِ عمل ہونے پر خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔

  2. اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد جنوبی بیروت میں مظاہرے

    جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب جنوبی بیروت میں بنائی گئی ویڈیو میں مظاہرین اور موٹر سائیکل سواروں کو سڑکوں پر جمع ہوتے اور جھنڈے لہر اتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مناظر لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد سامنے آئے ہیں جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہے۔ ویڈیو کے پس منظر میں گاڑھا سیاہ دھواں اٹھتا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ویڈیو میں دکھائی دینے والے سائن بورڈز، بجلی کے کھمبوں اور سڑکوں کی ساخت کا جائزہ لے کر اور ان کا سیٹلائٹ اور آرکائیو تصاویر سے موازنہ کر کے پتا لگایا ہے کہ ویڈیو جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے میں بنائی گئی ہے۔

    تاہم اس بات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ ویڈیو کس وقت ریکارڈ کی گئی تھی۔ روئٹرز نے جمعے کی رات ان مظاہروں کی خبر دی تھی۔ اس کے علاوہ اس اس ویڈیو کا 26 جون سے پرانا کوئی پرانا ورژن آن لائن نہیں ملا ہے۔

    گذشتہ روز اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    اس معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں تاہم اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کسی حد تک ایک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ خود بھی ایران کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں مصروف ہے۔

    ایران، جو حزب اللہ کا غیر ملکی حامی ہے، بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ یہ معاہدہ ’امن اور سلامتی کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنے کا آغاز کرتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہی وہ چیز ہے جس کے یہ دونوں ممالک مستحق ہیں‘۔ انھوں نے اسے ’پہلا قدم‘ قرار دیا۔

    اس سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندیوں کے دوران بھی تقریباً روزانہ سرحد پار حملے دیکھنے میں آئے۔ جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے۔

    واشنگٹن کو خدشہ رہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی ایران کے ساتھ امریکی امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس میں لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر لڑائی ختم کرنے کا عزم شامل ہے۔

  3. تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کو انتباہ

    امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’تشدد کا مقابلہ تشدد‘ سے کیا جائے گا۔

    ایکس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ایران پر حملے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تو ہم نے اسے عزت دی، اگر انھیں ایم او یو سے متعلق کوئی اختلاف ہے تو وہ ہمیں بتا سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ اپریل میں اسلام آباد اور پھر چند روز قبل سوئٹزرلینڈ میں بھی اُنھوں نے ایران کے ساتھ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کیے تھے۔

  4. تجارتی جہاز آبنائے ہرمز کے غیر مجاز راستے استعمال کرنے کا خطرہ مول نہ لیں: عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن

    اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ نے بحری جہازوں کے عملے پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے غیر مجاز راستے استعمال کرنے کا خطرہ مول نہ لیں.

    آرگنائزیشن کے سربراہ ارسنيو ڈومنگیز کا بیان جمعرات کو ایک کارگو جہاز پر ایرانی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ چار روز کے دوران آبنائے ہرمز میں پھنسے 150 بحری جہازوں اور چار ہزار ملاح یہاں سے نکل چکے ہیں۔

  5. آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکی کارروائی اور ایران کا جواب، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    • جمعرات کو آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحلی پانیوں میں ایک جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس کا ذمہ دار امریکہ نے ایران کو ٹھہرایا۔
    • ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جہاز آبنائے ہرمز کے ’غیر منظور شدہ‘ روٹ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کارگو جہاز سے ایک ڈرون ٹکرایا تھا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
    • امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم از کم چار 'یکطرفہ حملہ آور ڈرونز' داغے، ٹرمپ نے ایرانی ڈرون حملے کو جنگ بندی معاہدے کی 'احمقانہ خلاف ورزی' قرار دیا۔
    • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں اہداف پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا۔
    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کی شب اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
    • پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے 'حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔' پاسداران انقلاب نے اس کا ’تیز‘ اور ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان کیا۔
    • سنیچر کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
  6. ایران کا حملے کے بعد خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز‘ علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا، لیکن امریکہ نے اس بہانے ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملہ کیا۔

    آئی آر جی سی نے ان حملوں کو جنگ بندی اور امریکی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں ’خطے میں امریکی فوجی تعیناتی کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

    اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا ایران کی ذمہ داری ہے۔

    آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دہرائے گئے تو ایران کا ردِعمل زیادہ وسیع ہوگا۔

  7. امریکی حملے کو ناکام بنا دیا، ایران کا جواب ’تیز اور فیصلہ کُن‘ ہو گا: پاسداران انقلاب

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ’حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کا جواب دیا جائے گا۔

    بیان کے مطابق ایران کا ردعمل ’تیز اور فیصلہ کن ہو گا، اور وہ ایسے وقت اور مقام پر کیا جائے گا جس کا انتخاب ایران خود کرے گا۔‘

    پاسداران انقلاب نے اپنے ابتدائی ردعمل میں مزید کہا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا ردعمل ’سخت جواب‘ سے دیا جائے گا۔

  8. ایران کے میزائل و ڈرون سٹوریج مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے: امریکہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں اہداف پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس حوالے سے ایران کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    سینٹ کام کی جانب سے ان حملوں کے اعلان سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کیے گئے حملے کا جواب دے گا تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ دیکھ لیں گے۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں ان امریکی کارروائیوں کو ایرانی ڈرون حملے کا ’طاقتور جواب‘ قرار دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کو جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ جمعرات کی شب ایک ڈرون حملے میں کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

    سینٹ کام کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایرانی فورسز کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلا اشتعال جارحیت واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق ’ایران کے خطرناک طرز عمل نے نہ صرف میری ٹائم سکیورٹی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ میں آزادیٔ نقل و حمل کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور اُن کی معاونت جاری رکھے گی۔

    یاد رہے کہ فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، اور اس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سمجھوتے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اگلے 60 روز تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گا۔

    جمعہ کی دوپہر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کا کس طرح ردعمل دے گا یا آیا صدر ٹرمپ اس حملے کے بعد بھی جنگ بندی کو برقرار سمجھتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اس نوعیت کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔‘ ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ انھوں (ایران) نے حملہ کیا۔ انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

  9. اسرائیل اور لبنان نے امریکی ثالثی میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے

    اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    اس معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں تاہم اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کسی حد تک ایک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ خود بھی ایران کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں مصروف ہے۔

    ایران، جو حزب اللہ کا غیر ملکی حامی ہے، بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ یہ معاہدہ ’امن اور سلامتی کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنے کا آغاز کرتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہی وہ چیز ہے جس کے یہ دونوں ممالک مستحق ہیں‘۔ انھوں نے اسے ’پہلا قدم‘ قرار دیا۔

    اس سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندیوں کے دوران بھی تقریباً روزانہ سرحد پار حملے دیکھنے میں آئے۔ جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے۔

    واشنگٹن کو خدشہ رہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی ایران کے ساتھ امریکی امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس میں لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر لڑائی ختم کرنے کا عزم شامل ہے۔

    کئی مہینوں کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران، امریکہ جنگ بندی کو خطرے میں ڈالا۔

  10. بلوچستان میں ماشکیل سمیت مختلف علاقوں میں ایران سے آنے والی ٹرانسمیشن لائن متاثر, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے دو اضلاع واشک اور موسیٰ خیل میں طوفانی ہواؤں اور زلزلے سے املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

    طوفان کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائن متاثر ہونے سے ایرانی سرحد کے قریب واقع ماشکیل شہر میں ایران سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق طوفانی ہواؤں سے ماشکیل میں گھروں اور ان کی چار دیواری کو نقصان پہنچا ہے۔طوفان کی شدت کی وجہ سے ماشکیل شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں کھجور کے علاوہ دیگر درخت بھی گر گئے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کے مطابق طوفان سے ایران سے آنے والی بجلی کی ٹرانسمیشن لائن متاثر ہوگئی ہے جس کے باعث ماشکیل کو ایران سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ماشکیل میں طوفان سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے اور بحالی کا کام جاری ہے۔

    ادھر ضلع موسیٰ خیل اور اس کے نواحی علاقوں کوہلو اور بارکھان میں صبح اور شام کو زلزلے کے جھٹکے آئے۔

    پی ڈی ایم اے نے موسیٰ خیل کی ضلعی انتظامیہ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ زلزلے سے تحصیل کنگری کے علاقے راڑہ شم کی موضع چپ میں 80 سے 90 مکانات کو نقصان پہنچا۔

    موسیٰ خیل میں زلزلے کے باعث 6 افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں، طبی عملہ اور امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔

  11. ٹرمپ نے ایرانی ڈرون حملے کو جنگ بندی معاہدے کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دے دیا

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم از کم چار ’یکطرفہ حملہ آور ڈرونز‘ داغے ہیں۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ’ایک ڈرون نے ایک بڑے اور انتہائی مہنگے تجارتی جہاز کے اوپری حصے کو واضح طور پر نشانہ بنایا۔ نقصان ہوا، تاہم جہاز اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے دیگر تین ڈرونز کو مار گرایا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہمارے جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے۔‘

    یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر کس واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں یا یہ کب پیش آیا۔

    گذشتہ روز عمان کے ساحلی پانیوں میں ایک جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس کا ذمہ دار امریکہ نے ایران کو ٹھہرایا۔

  12. جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے سات ارکان ہلاک، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے سات ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد نے جنوبی لبنان میں ’حائل بفر زون میں اسرائیلی فوجیوں کے قریب‘ حزب اللہ کے ہتھیار اور گولہ بارود منتقل کیا تھا۔

    اعلان کے ساتھ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں لوگ ایک گاڑی سے کئی بیگ نکال کر ایک عمارت میں لے جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان تھیلوں میں اسلحہ تھا۔

    اعلان میں عمارت کا مقام دکاہلیا صوبے میں مانسالہ کے علاقے کے طور پر بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسے ’فوجی اور کمانڈ پوسٹ‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے اس بات پر زور دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اپنے ملک کے خلاف ’خطرات کو ختم کرنے‘ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

  13. امریکہ کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ٹینکر سے 22 ایرانی ملاحوں کو رہا کر کے کراچی میں ایرانی قونصل خانے منتقل کر دیا گیا

    تہران نے جمعہ کو اعلان کیا کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکہ کی طرف سے قبضے میں لیے گئے آئل ٹینکر کے عملے کے 22 ایرانی ارکان کو پاکستان میں ایرانی قونصل خانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے ثالث پاکستان نے ان 22 ایرانی ملاحوں کی واپسی میں سہولت فراہم کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ان افراد کو جمعے کے روز ایرانی سفارت کاروں کے حوالے کیا گیا تھا اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں انھیں ایران واپس بھیج دیا جائے گا۔

    ارنا اور ایرانی حکام نے ٹینکر کے نام یا اس کے قبضے کے مقام اور وقت کا اعلان نہیں کیا۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان ان افراد کی رہائی کے پورے عمل کے دوران امریکی اور ایرانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

    لینور/ڈیوینا جہاز کے عملے کی رہائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’یہ ایرانی عملے کا چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی گذشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان کے تعاون سے عمل میں آئی ہے۔ اب تک، ہم نے 70 سے زائد ایرانی شہریوں (جس میں آج کے 22 افراد کے گروپ بھی شامل ہیں) کو پاکستانی کے ذریعے اپنے ملک واپس لانے میں سہولت فراہم کی ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے ’پاکستان پر اعتماد کرنے پر ایران کی قیادت‘ کے ساتھ ساتھ پاکستانی وزارت خارجہ اور ملک کے تمام اداروں کی کوششوں کو سراہا۔

  14. ممکنہ میزائل حملے سے متعلق انتباہی پیغامات تکنیکی خرابی کے باعث بھیجے گئے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے رہائشیوں کو ممکنہ میزائل حملے کے حوالے سے بھیجے گئے انتباہی پیغامات دراصل ایک فنی خرابی کا نتیجہ تھے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اس مسئلے کو ماہر ٹیموں نے حل کر لیا ہے اور حکام نے اس خلل پر معذرت بھی کی ہے۔

    امریکہ کے ساتھ ایران کی جنگ کے دوران خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات وہ ملک رہا ہے جو ایرانی میزائلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں میزائل حملوں کے سائیرن اور روک تھام کی کارروائیوں کے دوران دھماکوں کی آوازوں کے باعث روزمرہ زندگی میں نمایاں خلل دیکھا گیا۔

  15. متحدہ عرب امارات میں ہنگامی انتباہی نظام میں فنی خرابی، ’صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر انحصار کریں‘

    متحدہ عرب امارات کی نیشنل اتھارٹی برائے ہنگامی، بحران اور آفات (این سی ای ایم اے) نے کہا ہے کہ ملک کے ابتدائی وارننگ سسٹم میں پیش آنے والی ایک فنی خرابی پر قابو پا لیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق بدھ کے روز پیش آنے والی اس تکنیکی خرابی کے باعث کچھ افراد کو غیر متعلقہ یا غیر واضح وارننگ پیغامات موصول ہوئے تھے، جس پر عوامی سطح پر سوالات بھی سامنے آئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ٹیموں نے فوری طور پر معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور مختصر وقت میں مسئلے کی نشاندہی کر کے اسے دور کر دیا گیا۔

    اتھارٹی کا کہنا ہے کہ منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کے مطابق فوری اقدامات کیے گئے تاکہ سروسز کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں پر کسی بھی ممکنہ اثر کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    ادارے نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خرابی غیر ارادی تھی۔ ساتھ ہی شہریوں کے تعاون اور تحمل پر شکریہ ادا کیا گیا، جنہوں نے صورتحال کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

    بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے دوران صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ خبروں یا افواہوں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مستند اطلاعات کے حصول کے لیے سرکاری چینلز سے رجوع کیا جائے تاکہ غلط معلومات سے بچا جا سکے۔

  16. آبنائے ہرمز سے 100 سے زائد بحری جہازوں کا انخلا، 22 ایرانی ملاح کراچی پہنچ گئے

    اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز کے مطابق منگل سے اب تک آبنائے ہرمز سے 115 بحری جہازوں اور 2500 سمندری کارکنوں کو نکال لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ 22 ایرانی عملے کے ارکان، جو بحری جہاز لینور/ڈیونا پر سوار تھے اور جنھیں ایران کی سمندری تجارت پر پابندی کے دوران امریکی حکام نے تحویل میں لے لیا تھا، اب کراچی پہنچ چکے ہیں۔

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 22 ایرانی عملے کے ارکان، جو بحری جہاز لینور/ڈیونا پر سوار تھے اور جنھیں امریکہ نے ایران کی سمندری تجارت پر پابندی کے دوران تحویل میں لے لیا تھا، اب پاکستان کے شہر کراچی پہنچ چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مشنز کے ساتھ قریبی تعاون میں ان کی جلد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات حتمی مراحل میں ہیں۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق ’یہ گذشتہ دو مہینوں میں ایرانی عملے کے ارکان کا چوتھا گروپ ہے جن کی اپنے وطن واپسی میں پاکستان نے سہولت فراہم کی ہے۔‘

  17. متحدہ عرب امارات اور ایران کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت پر زور

    اماراتی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    گفتگو کے دوران عبداللہ بن زاید النہیان نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا، جس میں خطے میں کشیدگی کے خاتمے کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری، بین الاقوامی قوانین پر سختی سے عمل، اور سمندری راستوں کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ انھوں نے عالمی بحری آمد و رفت کی آزادی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

    عبداللہ بن زاید نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جاری امریکہ-ایران مذاکرات مثبت نتائج دیں گے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام قائم ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ سنجیدہ سفارتکاری اور ذمہ دارانہ مذاکرات ہی علاقائی اور عالمی بحرانوں کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں۔

  18. ایران کو اپنے دفاع کا ’فطری اور جائز حق‘ حاصل ہے: دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکہ پر تنقید

    خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا ’فطری اور جائز حق‘ حاصل ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’جنوبی ہمسایہ ممالک (خلیجی ریاستیں) کو امریکہ کے ایران پر حملوں میں کردار کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’سب پر واضح ہونا چاہیے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں ایرانی عوام کے اس فطری حق کی ضمانت دیتی ہیں کہ وہ جارحیت اور جرائم کے مقابلے میں اپنا جائز دفاع کر سکیں، اور اسی کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔‘

    یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے دوران، ایرانی فوج نے اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک پر بھی مسلسل حملے کیے، جن میں ان کی توانائی کی پیداوار اور ترسیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

  19. اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو یہ اس کی ’سب سے بڑی غلطی‘ ہو گی: وزیر دفاع

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو وہ ’اپنی سب سے بڑی غلطی‘ کرے گا۔

    انھوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ’ان دنوں مسلسل اسرائیل کو دھمکیاں دے رہے ہیں‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’نہ آبنائے ہرمز کی بندش اور نہ ہی شہریوں پر حملے انھیں فائدہ دیں گے، کوئی بھی چیز ہمیں نہیں روکے گی۔ ہماری افواج مشن مکمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  20. آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان چھوٹی کشتیوں کی آمدورفت شروع

    خلیج فارس کے علاقے میں کشیدگی میں کمی کے بعد، جنوبی ایران اور خلیج فارس کے ممالک کی بندرگاہوں کے درمیان چھوٹی کشتیوں اور مسافر بردار بحری جہازوں کا گزرنا، خاص طور پر بندر لنگاہ سے دبئی اور شارجہ تک کا انتہائی مختصر راستہ تقریباً ایک ہفتہ قبل دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔

    ان چھوٹی کشتیوں پر شہریوں اور سامان کی نقل و حمل کی تصاویر شائع کی گئی ہیں، جو گذشتہ روز کی ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے قیام اور مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں کمی آئی، خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت ممالک کے درمیان تجارتی اور بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔