خاران میں مسلح حملہ آوروں کا پولیس اور سی ٹی ڈی تھانوں پر حملہ، عمارتوں کو نقصان، پانچ افراد زخمی

لوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے سٹی پولیس سٹیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے پر حملہ کر کے عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے بعض حصوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دیے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سیوٹا میں 24 گھنٹوں کے دوران ہزاروں تارکینِ وطن کی آمد، ہسپانوی حکومت نے صورتحال کو ’غیر معمولی‘ قرار دے دیا

    SPANISH

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسیوٹا میں لوگوں کی غیر معمولی تعداد داخل ہوئی ہے

    ہسپانوی شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن کی آمد کے بعد مقامی اور قومی حکام شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ اس دوران کم از کم 34 افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    سیوٹا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے صورتحال کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے افراد کی تعداد شہر کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہے۔ سیوٹا کی آبادی تقریباً 83 ہزار 600 بتائی جاتی ہے۔

    تاہم ہسپانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق سرکاری اندازوں کے مطابق جمعرات کی صبح سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔

    یہ غیر معمولی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سیوٹا اور میلیلا پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کو سمندر میں روکنے کے بعد فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

    ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے سیوٹا کے دورے کے دوران اس صورتحال کو ’حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو جلد از جلد مراکش واپس بھیجا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عدالتی فیصلے کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی گئیں جن سے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس نے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مراکشی حکام تارکینِ وطن کی واپسی کے منصوبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زیادہ افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

    ہسپانوی حکومت نے سیوٹا اور اس کے ہمسایہ علاقے میلیلا میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے مسلح افواج تعینات کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق میلیلا میں بھی رات بھر کے دوران 300 سے 400 افراد کے داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    سرکاری اندازوں کے مطابق سیوٹا میں داخل ہونے والے افراد میں کم از کم سات ہزار نابالغ بچے اور نوجوان شامل ہیں۔ آنے والوں میں مردوں کے علاوہ خواتین اور کم عمر بچے بھی موجود ہیں۔

    Border

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنبڑی تعداد میں نوجوان مرد سیوٹا میں داخل ہونے کے لیے سمندر میں تیرتے یا سرحد پار کرتے ہوئے نظر آئے

    سرحد پر کیا ہوا؟

    عام طور پر تارکینِ وطن سیوٹا پہنچنے کے لیے ساحل کے دور دراز حصوں سے کئی کلومیٹر تیر کر آتے ہیں، تاہم اس مرتبہ متعدد افراد سرحدی باڑ کے قریب تک پہنچ گئے اور بعض نے سمندر کے کنارے پتھریلے راستوں سے گزر کر علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دوران مراکشی سرحدی اہلکار کہاں تھے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو آگے بڑھنے سے کیوں نہیں روکا جا سکا۔

    ایک تارکِ وطن نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ وہ واپس مراکش جا رہا ہے کیونکہ حالات انتہائی خطرناک ہیں۔

    اس کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل اچھا نہیں ہے۔ لوگ یہاں جان سے جا رہے ہیں۔ جو لوگ ابھی آنے کا سوچ رہے ہیں، وہ ایسا نہ کریں۔‘

    مقامی میڈیا کے مطابق شہر کی سڑکوں پر افراتفری کی صورتحال دیکھنے میں آئی جبکہ کئی رہائشی خوف کا اظہار کر رہے ہیں۔

    ایک مقامی ہسپانوی سکیورٹی گارڈ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں لوگ گھروں سے نکلنے سے گھبرا رہے ہیں اور موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنگین محسوس ہو رہی ہے۔

    Moraco

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنرات بھر مراکش اور سپین کی سرحد پر لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی

    سفارتی اور یورپی ردِ عمل

    سیوٹا اور میلیلا افریقہ میں یورپی یونین کی واحد زمینی سرحدیں ہیں اور طویل عرصے سے ہجرت کے مسئلے کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہیں۔

    اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے سیوٹا سے سامنے آنے والی تصاویر کو ’تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے قابو نقل مکانی یورپ کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ فن لینڈ اور جرمنی سمیت کئی یورپی رہنماؤں نے بھی سپین کی سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    دوسری جانب یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا کہ سیوٹا کی تصاویر ’ناقابلِ قبول‘ ہیں اور صورتحال پر فوری قابو پایا جانا چاہیے۔

    ہسپانوی وزیرِ خارجہ نے بعض یورپی رہنماؤں کے بیانات پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپین کو ’پارٹی سیاست نہیں بلکہ یورپی یکجہتی‘ کی ضرورت ہے۔

    سیوٹا اور میلیلا 15ویں صدی سے سپین کے زیرِ انتظام علاقے ہیں اور 1995 سے محدود خود مختاری رکھتے ہیں۔ مراکش ان علاقوں پر اپنا دعویٰ بھی کرتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں یہ علاقے کئی مرتبہ کشیدگی کا باعث بن چکے ہیں۔

    سنہ 2021 میں بھی تقریباً آٹھ ہزار افراد سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، تاہم موجودہ بحران کو اس سے کہیں زیادہ بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

    Spain

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسپین نے اب سرحد پر فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کر دی ہے
  2. وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر سوال، گڈ گورننس اور نئے صوبوں پر فیصلہ عوام اور سیاسی قیادت نے کرنا ہے: فوج کے ترجمان

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پریس بریفنگ کے دوران صحافی ابصار عالم اور عامر الیاس رانا نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیان پر سوالات اٹھائے، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اس معاملے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے اور وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مؤثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے بقول گورننس کا عمل جمود کا شکار نہیں رہ سکتا کیونکہ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی خواہشات ہی سب سے اہم ہیں اور گڈ گورننس یا انتظامی اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی، مدارس سے متعلق اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔

    ’تاہم گڈ گورننس کیسے لانی ہے، کون سی اصلاحات کرنی ہیں اور کس سمت جانا ہے، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کرنا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ گڈ گورننس کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے سیاسی جماعتوں، منتخب قیادت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہییں۔ ان کے بقول یہ طے کرنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔

    مولانا فضل الرحمٰن کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسے بیانات حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارگل سمیت مختلف محاذوں پر جانیں قربان کرنے والے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا مناسب نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسی گفتگو غیر ارادی طور پر انڈین بیانیے کو تقویت دیتی ہے، جس سے پاکستان کے مؤقف اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے بارے میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول فوجی جوانوں اور عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے کے بجائے قومی معاملات پر واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو ان کے درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

  3. مظفر آباد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ

    مظفر آباد میں احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہFarhan Tariq

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جمعے کو احتجاج کے لیے جمع ہونے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسوگیس استعمال کی ہے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد کے علاقے سینٹرل پلیٹ اور لال قلعہ کے قریب لوگوں نے سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

    مقامی تھانے میں تعینات پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنان نمازِ جمعہ کے بعد جمع ہوئے اور وہ راولاکوٹ میں اپنے کارکنان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

  4. دہشت گردوں سے مذاکرات کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈالنا ہوں گے: پاکستانی فوج کے ترجمان

    DGISPR

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے پاس ہتھیار ڈالنے اور قانون کے سامنے سرینڈر کرنے کا اختیار موجود ہے، بصورت دیگر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔

    انسدادِ دہشت گردی اور ملکی سکیورٹی کی صورتحال پر پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بلوچستان میں 31 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں 7,177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں میں آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 819 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کے 303 اہلکار جبکہ 322 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 2,084 مصدقہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ان کے بقول فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے جبکہ ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔

    DGISPR

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اس دوران 28 خودکش حملوں کے واقعات پیش آئے۔ ان کے مطابق ٹانک اور کراچی میں ہونے والے بعض حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل پیش رفت کر رہی ہیں اور انھیں جہاں بھی موقع ملتا ہے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ’اسی دباؤ کے نتیجے میں فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے مبینہ بھارتی ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ رواں سال اب تک 178 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق شدت پسندوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا جبکہ 60 مقامات پر آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں ان عناصر کے اس ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں جو ترقیاتی عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں احساسِ محرومی کو ہوا دیتے ہیں۔

    بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صوبے کے حالات سے متعلق بعض اوقات جان بوجھ کر منفی تاثر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ بعض بااثر طبقات اور سردار بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ عام اور غریب طبقے کے لوگ آگے بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بلوچستان کے عوام سے بات کرے گی، نہ کہ ان عناصر سے جو اپنے مفادات کے لیے صوبے کی ترقی کی مخالفت کرتے ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہیں۔ ان کے بقول بعض اوقات ’’ہارڈ سٹیٹ‘‘ کی اصطلاح کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہارڈ سٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فوج ریاست چلا رہی ہے، بلکہ ریاستی ادارے اپنے آئینی دائرۂ کار میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ وفادار رہے کیونکہ ریاست کے استحکام سے ہی سیاست، جمہوریت اور دیگر قومی معاملات کا تسلسل ممکن ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ہی تمام شہریوں کی ’پہلی اور آخری پہچان‘ ہے اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

  5. بورڈ آف پیس کی کمیٹی غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار

    ْغزہ بورڈ آف پیس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلانے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال ستمبر میں غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بورڈ آف پیس قائم کیا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے کہا تھا کہ اس ادارے کے دائرہ کار کو غزہ سے آگے بڑھا کر دنیا کے دیگر تنازعات کے حل تک بھی وسعت دی جائے گی۔

    نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ، جس کے بارے میں بورڈ آف پیس کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے غیر مسلح کیے جانے کے عمل کی نگرانی بھی کرے گی، نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامیہ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ ’ہم بنیادی عوامی خدمات کی بحالی، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنانے اور بحالی و تعمیرِ نو کی کوششوں کی قیادت کریں گے۔‘

    کمیٹی نے مزید کہا کہ ’آنے والا کام انتہائی وسیع ہے، اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مسلسل بین الاقوامی عزم اور خاطر خواہ مالی وسائل درکار ہوں گے۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’غزہ کے عوام بہت انتظار کر چکے ہیں۔ این سی اے جی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔‘

    نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ ایک 15 رکنی فلسطینی تکنیکی کمیٹی ہے جسے بورڈ آف پیس نے تشکیل دیا ہے۔ اس کی ذمہ داری جنگ کے بعد کے غزہ میں روزمرہ حکومتی اور انتظامی امور کی نگرانی اور انتظام سنبھالنا ہے۔

  6. حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق کیسے ہوگا؟

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی کو موصول ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے چار صفحات پر مشتمل روڈ میپ کے مطابق، حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا بھی ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کے ہر مرحلے کی تصدیق کی جائے گی۔

    معاہدے کے تیسرے صفحے کے مطابق، جس پر اسرائیل نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا، یہ عمل کچھ ان شرائط سے آگے بڑھے گا۔

    ابتدائی مرحلے میں غزہ میں موجود تمام بھاری ہتھیاروں، فوجی پیداوار کے مراکز، اسلحہ گوداموں اور سرنگوں کی مکمل فہرست (انوینٹری) تیار کی جائے گی۔

    غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کی جائے گی، جو غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم کیے جانے والے فلسطینی قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے ساتھ مل کر اس عمل کی نگرانی کرے گی۔

    حماس کی غیر مسلحی کا عمل بتدریج اور مرحلہ وار انجام دیا جائے گا، اور اس کے لیے 14 دن کے اندر ایک باقاعدہ شیڈول تیار کیا جائے گا۔

    غیر مسلحہ کرنے کے عمل کو اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ ایک نگرانی و تصدیقی کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر مرحلہ مکمل طور پر نافذ ہو۔

    معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ہتھیار اسرائیل یا کسی غیر فلسطینی فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    روڈ میپ کے مطابق، جب یہ پورا عمل مکمل ہو جائے گا تو غزہ میں قائم ہونے والی نئی فلسطینی انتظامیہ ہی وہ واحد ادارہ ہوگی جو ہتھیاروں کی ملکیت، ذخیرہ اور ان پر کنٹرول کا اختیار رکھے گی۔

  7. ٹرمپ کا غزہ منصوبہ کیوں ناکام ہو سکتا ہے؟, بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کا تجزیہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Image

    ایک طرف جہاں امریکی صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کے ناکام ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں وہیں لوگوں کے لیے اس کے کامیاب ہونے کی امید رکھنے کی بھی بہت سی وجوہات ہیں۔

    غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں بیماریوں اور انسانی مصائب کی شدت بہت زیادہ ہے۔ دوسری جانب سات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیلیوں کے پاس بھی حماس کے حوالے سے تشویش رکھنے کی وجوہات ہیں۔

    تاہم اس منصوبے سے بہت سی شرائط جڑی ہوئی ہیں۔

    اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آیا اسرائیل غزہ کے علاقے سے انخلا پر رضامند ہوتا ہے یا نہیں، جبکہ اب تک اسرائیل وہاں اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرتا دکھائی دیا ہے۔

    اگرچہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم گذشتہ روز قاہرہ میں مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں کے بعد وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں اس پورے عمل کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔

    رواں برس اکتوبر میں اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ملک کا زیادہ تر سیاسی منظرنامہ دائیں بازو کی جماعتوں کے زیرِ اثر ہے، اور یہ جماعتیں عمومی طور پر فلسطینیوں کو رعایتیں دینے کی مخالف ہیں۔

    اسی لیے بہت سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر شاید یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

  8. تجزیہ: حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ غزہ جنگ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا, یولاند نیل، یروشلم سے بی بی سی کی نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    Hamas

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    گذشتہ چند ماہ سے امریکی ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ حماس کو غیر مسلح کیے جانے کا مطالبہ تھا۔

    تاہم حماس اور ثالثوں کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’پائیدار امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت‘ حاصل ہوئی ہے۔

    واشنگٹن کو بھیجی گئی ایک نئی تجویز کے مطابق حماس نے اپنے ہتھیاروں، فوجی پیداوار کے مراکز اور سرنگوں کی تفصیلی فہرست فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ بی بی سی نے یہ تجویز دیکھی ہے۔

    تجویز کے مطابق حماس کے ہتھیار نئی فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں دیے جائیں گے، تاہم انھیں اسرائیل کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق یہ عمل ’مرحلہ وار اسرائیلی انخلا‘ سے منسلک ہو گا۔

    اس منصوبے میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ غزہ میں قائم ہونے والی نئی ٹیکنوکریٹک حکومت حماس سے وابستہ سرکاری ملازمین کے معاملے کو کس طرح نمٹائے گی۔

    اسرائیل کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے وعدے کے بارے میں بدستور شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔

  9. حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے منصوبے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    Israel tank

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    گذشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو ’مکمل طورپر غیر مسلح کرنے‘ اور اسرائیلی فوجوں کے انخلا سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    ہم اب تک اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    • ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ان کے ’بورڈ آف پیس‘ کی کوششوں سے طے پایا ہے اور انھوں نے اسے ’غزہ میں بالآخر نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم‘ قرار دیا۔
    • بی بی سی نے چار صفحات پر مشتمل اس منصوبے کا خاکہ دیکھا ہے۔ اس منصوبے میں حماس کے مرحلہ وار ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل کی جانب سے بتدریج فوجی انخلا کا ذکر ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد کے ہر مرحلے کی ’تصدیق‘ کی جائے گی۔
    • حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فلسطینی گروہ نے اس منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم حماس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
    • ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اگر اسرائیل غزہ سے انخلا نہیں کرتا تو ٹرمپ ’بہت مایوس ہوں گے‘۔

    اور ہمیں کیا معلوم نہیں؟

    • ہم اب تک اس معاہدے کے متعلق اسرائیل کے مؤقف سے بے خبر ہیں۔ یہ بھی نہیں معلون کہ آیا اسرائیل ان مذاکرات میں شامل تھا یا نہیں۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
    • اسرائیلی انخلا کیسے ہوگا، اور آیا اس میں ’ییلو لائن‘ کہلانے والا بفر زون بھی شامل ہوگا یا نہیں۔
    • معاہدے کے تحت حماس جن ہتھیاروں سے دستبردار ہوگی، ان کی تحویل آخرکار کس کے پاس ہوگی۔
    • امریکہ کا تجویز کردہ ’تصدیق‘ کا نظام عملی طور پر کس طرح کام کرے گا۔
  10. عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کے حملے میں مارے جانے والے پاسدارانِ انقلاب کے ارکان کی لاشیں ایران پہنچ گئیں

    Iran's revolutionary guards

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے ان پانچ ارکانِ کی لاشوں کی تصاویر جاری کی ہیں جو عراق میں سعودی عرب اور امریکہ کے حملے میں مارے گئے تھے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراق میں ہلاک ہونے والے پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کی لاشیں ’سرحدی گزرگاہ مہران کے ذریعے‘ ایران پہنچیں۔

    حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور امریکہ نے عراق میں ایران سے منسلک ملیشیا فورسز کے خلاف حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائیاں سعودی تیل تنصیبات پر عراقی سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں۔

    پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے حملوں میں اس کی فورس کے کم از کم 20 ارکان ہلاک جبکہ 32 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    پی ایم ایف کے مطابق ’ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے پانچ مشیر بھی ہلاک ہوئے تھے۔‘

  11. غزہ امن منصوبے کے ثالثوں کا ایک اجلاس ’جلد‘ قاہرہ میں منعقد ہو گا: مصری خبر رساں ادارہ

    مصری خبر رساں ادارے القاہرہ نیوز نے جمعے کی صبح اپنی خبر میں بتایا ہے کہ ملک کے دارالحکومت قاہرہ میں غزہ امن منصوبے کے ثالثوں کا ایک اجلاس ’جلد‘ منعقد ہو گا۔

    القاہرہ نیوز کے مطابق اس عمل میں شامل ثالثوں میں مصر، امریکہ، قطر اور ترکی شامل ہیں۔

    خبر رساں ادارے نے ایک ’باخبر مصری ذریعے‘ کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے تاہم اس کا مقصد ’تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے عزم کی توثیق کرنا‘ ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے اگلے مراحل پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

  12. ایرانی فوج کا کویت میں ڈرونز کے ذریعے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Iran drone

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایرانی فوج نے جمعے کی صبح کویت میں امریکی فوجی اہداف کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن صاعقہ کے 27ویں مرحلے کے تحت حالیہ امریکی جارحیت اور جزیرہ قشم میں ایک گھر پر حملے کے جواب میں، چند گھنٹے قبل کویت میں احمد الجابر اڈے پر امریکی فوج کے جنگی طیاروں، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور گودام کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کویت میں واقع احمد الجابر اڈے کو امریکی فضائی حملوں اور نگرانی کی کارروائیوں میں مبینہ کردار کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ان ڈرون حملوں کی نوعیت اور ان سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے متعلق تاحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  13. امریکہ کو قشم میں ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی قیمت چکانی پڑے گی: باقر قالیباف

    qalibaf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعرات کے روز ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملوں میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد کی ہلاکت پر ردِعمل دیتے ہوئے ایران کی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ملک کی نمائندگی کرنے والے باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ ہر روز ایک نئے جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ’جزیرہ قشم میں شہریوں کے گھروں پر دہشت گردانہ حملہ میناب اور لامرد میں ہونے والے جرائم کا تسلسل ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میدانِ جنگ میں ہونے والی شکستوں کا بدلہ بے گناہوں کا خون بہا کر لینے کے عادی ہیں۔ ’انھیں اس کی قیمت چکانا ہو گی۔‘

    جمعرات کی صبح ایران میں امریکی حملوں کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ پر متعدد تصاویر اور ویڈیوز نشر کی گئیں جن میں امدادی کارکنوں کو فضائی حملوں سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد مقامی حکام نے اعلان کیا کہ حملوں میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  14. حماس اور دیگر عسکری تنظیموں کو کیسے غیر مسلح کیا جائے گا اور اس کی تصدیق کیسے کی جائے گی؟

    Hamas

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے عہدیداروں نے صحافیوں کو فلسطینی عسکری گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے مجوزہ عمل کے بارے میں ایک ابتدائی خاکہ پیش کیا ہے۔

    انھوں نے ایک ٹیلی فون بریفنگ میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں غزہ میں حماس کی پولیس اپنے ہتھیار عبوری فلسطینی حکام کے حوالے کرے گی۔

    اس کے بعد بھاری ہتھیاروں کو ختم یا غیر فعال کرنے کا ایک عمل شروع کیا جائے گا، جس میں سرنگوں اور اسلحہ گوداموں کو بند کرنا شامل ہو گا جبکہ ان تنصیبات کو چلانے والے جنگجوؤں کو بھی اپنی سرگرمیاں ترک کرنا ہوں گی۔

    حکام کے مطابق یہ ایک ’انتہائی تکنیکی عمل‘ ہو گا جس میں ایک اہم سوال جمع کیے گئے ہتھیاروں کو محفوظ طریقے سے رکھنا ہے۔

    آخری مرحلے میں غزہ میں موجود تمام ذاتی ہتھیاروں کو فلسطینی قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کے تحت مقامی مسلح گروہوں اور قبائلی دھڑوں کو بھی اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے۔

    امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ عسکری تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کی پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک ’عمل درآمد اور تصدیقی کمیٹی‘ قائم کی جائے گی۔

    یہ کمیٹی آزادانہ طور پر جائزہ لے گی کہ معاہدے کی شرائط پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق چونکہ حماس اور اسرائیل ایک دوسرے کی نگرانی نہیں کر سکتے، اس لیے ایک غیر جانبدار تصدیقی نظام ضروری سمجھا گیا ہے۔

    عہدیداروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس بات کی تصدیق کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کہ حماس واقعی مکمل طور پر غیر مسلح ہو چکی ہے۔ ان کے بقول حماس کا عسکری ڈھانچہ، سرنگوں کا نیٹ ورک اور اسلحہ سازی کی صلاحیتیں ایک عام عسکریت پسند گروہ کے مقابلے میں کسی ریاست کے فوجی نظام سے زیادہ مشابہت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

  15. بورد آف پیس منصوبے کے ناکام ہونے کے کافی امکانات ہیں: شائمہ خلیل کا تجزیہ

    بورد آف پیس منصوبے کے اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ بی بی سی نے حماس کے ایک سینیئر عہدیدار کے ذریعے آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ گروہ اس روڈمیپ پر راضی ہے۔ لیکن امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے نمائندوں کی بریفنگ میں دو باتیں خاص طور پر نمایاں تھیں۔

    پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہے۔ امریکی حکام نے بار بار زور دے کر کہا کہ ہر مرحلہ بعض شرائط سے مشروط ہو گا، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جائے گی اور ان کے مطابق یہ ’صفر اعتماد‘ کے اصول پر مبنی ہو گا۔ یعنی کوئی بھی فریق اس وقت تک اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہو گا جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر لے۔ اگر ماضی کی جنگ بندیوں کو سامنے رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کے تعطل کا شکار ہونے یا مکمل طور پر ناکام ہو جانے کے کئی امکانات موجود رہیں گے۔

    ہم ماضی میں ایسا ہوتے دیکھ چکے ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں سامنے آنے والی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کے نتیجے میں ابتدا میں اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوئی اور غزہ میں مزید امداد پہنچنے لگی۔ تاہم بعد میں جنگ بندی ختم ہو گئی، غزہ پر بمباری دوبارہ شروع ہو گئی، امداد کی فراہمی رک گئی اور اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔

    دوسری اہم بات اس منصوبے کی غیر معمولی پیچیدگی ہے۔ معاملہ محض حماس کے غیر مسلح ہونے کا نہیں۔ روڈمیپ میں اس پورے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جسے امریکی حکام حماس کا وسیع فوجی انفراسٹرکچر قرار دیتے ہیں۔ اس میں سرنگوں کا جال، بھاری ہتھیار، اسلحہ سازی کی تنصیبات اور ہتھیاروں کے گودام شامل ہیں۔

    منصوبے کے مطابق پہلے چھوٹے عسکری گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا، جبکہ بعد کے مرحلے میں حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل اور فنی اعتبار سے بہت پیچیدہ عمل ہو گا۔

  16. تجزیہ: غزہ میں عسکری گروہوں کے غیر مسلح ہونے سے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گی, رشدی ابو العوف، بی بی سی نیوز کے نامہ نگار برائے غزہ

    کئی مہینوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد حماس نے پہلی بار بورڈ آف پیس کے اس فریم ورک کو قبول کر لیا ہے جس کے تحت غزہ میں موجود عسکری گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔

    اس منصوبے کے مطابق حماس کے پاس موجود بھاری ہتھیاروں کی فہرست تیار کر کے انھیں فلسطینی نگرانی میں محفوظ کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو غزہ کے لیے ٹرمپ کی حمایت یافتہ امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کی قیادت کے انتخابات مکمل ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں غزہ میں موجود رہنما خلیل الحیہ تحریک کے سربراہ بن گئے ہیں۔

    مذاکرات میں شامل فلسطینی عہدیداروں کے بقول نئی قیادت ’حماس کی تاریخ کے سب سے اہم سیاسی فیصلے‘ کے لیے تیار تھی جسے انھوں نے قرار دیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو درپیش تباہ کن انسانی حالات ایک اہم محرک تھے۔

  17. اگر اسرائیل غزہ سے نہیں نکلا تو ٹرمپ کو ’بہت مایوسی‘ ہو گی: امریکی عہدیدار

    trump netanyahu

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حال ہی میں صحافیوں کے ساتھ ایک بریفنگ کال کے دوران امریکی حکام سے پوچھا گیا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُرامید ہیں کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل غزہ سے انخلا پر رضامند ہو جائے گا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے جواب میں کہا: ’ہم اسرائیل سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اسی 20 نکاتی منصوبے پر عمل کرے جس سے وہ ابتدائی طور پر اتفاق کر چکا ہے۔ اس لیے ہمیں پورا اعتماد ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے گا۔‘

    امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ سے اپنی فوج نہیں نکالی تو صدر ٹرمپ ’بہت مایوس‘ ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل آئندہ بھی ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کام کرتا رہے گا۔

  18. ’صفر اعتماد‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا فلسطینی گروہوں کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کا منصوبہ کیا ہے؟, شائمہ خلیل بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    hamas

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بی بی سی کو چار صفحات پر مشتمل ایک روڈمیپ حاصل ہوا ہے، جس میں غزہ میں موجود مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کے مرحلہ وار عمل کی تفصیلات موجود ہیں۔

    اس منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کو اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا اور ایک نئی عبوری فلسطینی اتھارٹی کے قیام سے جوڑا گیا ہے، جسے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہو گی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو جان بوجھ کر ’صفر اعتماد‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں تصدیق کے طریقۂ کار شامل ہیں، یعنی نہ حماس اور نہ ہی اسرائیل اگلے مرحلے میں اس وقت تک داخل ہوں گے جب تک مخالف فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر لیتا۔

    ان حکام کے مطابق، پہلے غزہ میں موجود نسبتاً چھوٹے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا، جس کے بعد حماس اپنی اس عسکری ساخت کو ختم کرنا شروع کرے گی جسے امریکی حکام نے ایک ’ریاست نما فوجی ڈھانچہ‘ قرار دیا ہے۔ اس میں سرنگیں، اسلحہ گودام اور ہتھیار سازی کی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

    روڈمیپ کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک نئی فلسطینی اتھارٹی غزہ میں تمام ہتھیاروں پر مکمل اختیار رکھے گی۔ اسرائیل نے تاحال اس منصوبے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  19. ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبہ، اسرائیلی مؤقف تاحال واضح نہیں

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے کہا تھا کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ثالثوں اور حماس رہنماؤں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں تیار کیے گئے غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ مجوزہ شرائط اطمینان بخش نہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس منصوبے کے اعلان کے بعد ٹائمز آف اسرائیل نے ایک گمنام ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے یہ معاہدہ حماس کے مذاکرات کاروں، بورڈ اور ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں کے درمیان طے پایا ہے۔

    تاہم رپورٹ کے مطابق ’ایک اسرائیلی دفتر‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر مسلح ہونے کی تجویز یروشلم کے مطالبات پر پوری نہیں اترتی۔

    اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کی مخالفت کر رہا ہے۔

  20. جیسے جیسے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی: ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ 20 نکاتی ٹرمپ منصوبے پر عمل درآمد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس معاہدے پر محتاط انداز میں مرتب کیے گئے مختلف مراحل کے تحت عمل کیا جائے گا۔

    ’جیسے جیسے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ غزہ کو اس کے رہائشیوں اور پڑوسیوں کے لیے محفوظ بنانے کی ذمہ داری سنبھالی جا سکے۔‘

    انھوں نے ثالثی کے کردار پر مصر، قطر اور ترکی کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، جس نے مصری سرکاری ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیا ہے، قاہرہ میں غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ثالثوں کا ایک اجلاس منعقد ہو گا۔