اب تک کی اہم خبریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کے لائیو پیج میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر صبح سے اب تک کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔
- ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر ذوالقدر نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ’آبنائے ہرمز پر لگائی گئی پابندی مزید سخت ہو جائے گی‘ اور اس کے نتیجے میں دیگر اہم آبی گزرگاہیں اور تجارتی راستے بھی بند ہو سکتے ہیں۔
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔‘
- یمن کے حوثیوں کے زیرِ انتظام میری ٹائم کوآرڈینیشن باڈی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ گروہ باب المندب کی آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
- ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس ’حقیقی معنوں میں ہتھیار نہیں ڈالتی‘، اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ادھر حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا انخلا کسی بھی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ’بنیادی شرط‘ ہے۔
- بی بی سی ویریفائی کی تحقیقات کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں کئی عرب ممالک میں امریکہ سے منسلک فوجی اڈوں اور شہری تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ تہران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
- کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آج صبح سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’دشمن ڈرونز‘ کا سراغ لگا کر انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کویتی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شہری اگر کسی دھماکے کی آواز سنیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔‘





















