محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ سے ملاقاتیں، باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں چھ افراد ہلاک
ایران کے دورے پر موجود پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب یمن کے کوسٹ گارڈز کے مطابق آبنائے باب المندب کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
خلاصہ
پاکستانی فوج کا پنجگور میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ
کار بم دھماکے میں لیبیا کی فوج کے انٹیلی جنس سربراہ ہلاک ہو گئے
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں عملے کے پاکستانی رکن سمیت دو افراد ہلاک
عمران خان سے ملاقات کے لیے دائر پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کرتے ہیں: سلمان اکرم راجہ
راولپنڈی میں مال روڈ پر فائرنگ سے سکیورٹی اہلکار زخمی۔ ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق فائرنگ سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر کی گئی، جوابی فائرنگ میں حملہ آور ہلاک ہو گیا
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف کا کارکن تھا۔ تحریک انصاف نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی گئی
لائیو کوریج
اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
،تصویر کا ذریعہx.com/ForeignOfficePk
پاکستان کے
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق
ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، جن میں کثیرالجہتی تعاون
اور علاقائی پیش رفت شامل ہیں، پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان
میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ٹیلی فونک گفتگو میں ’دو طرفہ سطح پر اور
کثیرالجہتی فورمز میں مسلسل قریبی رابطہ کاری اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔‘
روس کے تاتارستان خطے پر یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک: حکام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے
ایک ڈرون حملے میں تاتارستان میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
روسی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں
میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ مزید 75 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ماسکو اور
یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد روس پر ہونے والے مہلک ترین انفرادی حملوں
میں سے ایک ہے۔
کیئو نے تا حال نژنیکامسک شہر پر
ہونے والے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یوکرین کی مسلح افواج نے تصدیق کی ہے
کہ نژنیکامسک کی تانیوو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کی دفاعی
ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنی فائرپوائنٹ نے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے ایف
پی-1 ڈرون استعمال کیے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملہ رات
بھر جاری رہا اور صبح تک اس کا سلسلہ برقرار رہا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی، لیکن
غیر مصدقہ تصاویر میں دن کی روشنی میں آسمان کی جانب اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بڑے
بادل اور شعلے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پس منظر میں فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں
سنائی دے رہی ہیں۔
اگرچہ حملے کے ہدف کے بارے میں ابھی
تک کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم کیئو نے حالیہ عرصے میں ان
تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ روس کی
یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے آمدنی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتی ہیں۔
ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ صنعتی
تنصیبات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روس کی تحقیقاتی
کمیٹی نے کہا: ’ایسے شہری وہاں موجود تھے جو کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہیں
تھے۔‘
بی بی سی اس معلومات کی آزادانہ طور
پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
یوکرین کی فوج اس سے قبل 12 جون کو
بھی نژنیکامسک کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ روسی فضائی
دفاعی نظام نے رات بھر میں یوکرین کے 450 سے زیادہ ڈرون بھی مار گرائے۔
کیئو حالیہ عرصے میں روس کے اندر دور
مار حملے کرنے میں زیادہ کامیاب رہا ہے اور اکثر اپنے حملوں کا ہدف گوداموں یا
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بناتا ہے، جبکہ شہری جانی نقصان میں بھی اضافہ ہو رہا
ہے۔
دوسری جانب روس بھی یوکرین کے شہروں
اور رہائشی علاقوں پر باقاعدگی سے بڑے پیمانے کے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ
ہفتے کیئو پر ڈرون اور میزائلوں کے مشترکہ حملے میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ادھر
محاذِ جنگ کے قریب واقع خارکیف میں روسی توپ خانے کے ایک حملے میں راتوں رات پانچ
افراد ہلاک ہو گئے۔
ہمیں نہیں لگتا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف ہے: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ
دفاعی معاہدے، جسے معاہدۂ مکہ کہا جاتا ہے، کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے
ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران
کے خلاف ہے۔‘
انھوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں
اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہا: ’ممالک
اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر
انحصار نہیں کر سکتے۔‘
بقائی نے یہ بھی کہا کہ جب تک بحری
ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے
ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ
کہا تھا کہ ’جب تک امریکہ کی جانب سے عہد شکنی جاری ہے، مذاکرات کا دوبارہ آغاز
ممکن نہیں۔‘
تاہم، ایران کی وزارت خارجہ کے
ترجمان نے آج کہا: ’عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کے لیے دعوت
نامہ موصول ہوا ہے اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران فی
الحال آبنائے ہرمز میں راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ
مرکوز کیے ہوئے ہے: ’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے۔ پیغامات کا تبادلہ
ایک فطری امر ہے اور یہ روزمرہ معاملات کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے طریقۂ کار زیر بحث آئے ہیں اور ’یہ فطری بات ہے کہ جب آپ بحری خدمات فراہم کرتے ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کریں گے۔
امریکہ خطے میں عدم تحفظ کی ایک وجہ ہے، ایران کسی پر حملہ نہیں بلکہ اپنا دفاع کر رہا ہے: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہIranian Foreign Ministry
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ کو بیرونی طاقتوں کی ضرورت نہیں اور امریکہ خطے میں عدم تحفظ کی ایک وجہ ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران کسی ملک پر حملہ نہیں کر رہا بلکہ اپنی سرزمین اور مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔‘
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں اور حملے کے لیے استعمال ہونے والے مقامات کو نشانہ بنانا اپنے دفاع کے دائرے میں ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’خطے کے ممالک مستقل ہمسایوں کی حیثیت سے باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کے ذریعے اپنی سلامتی کے لیے مشترکہ طریقہ کار تشکیل دے سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں مل کر ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جو خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کو یقینی بنائے۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’میں بار بار کہہ چُکا ہوں کہ ہمیں خطے کے کسی بھی ملک سے دشمنی یا عناد نہیں۔ ہم خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خطے کے ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔‘
پریس کانفرنس کے دوران اُنھوں نے کویت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی ملک کو اپنے علاقے کو دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘
ایرانی ترجمان نے کہا کہ ’امریکہ کو ایران کے خلاف حملے کی تیاری کے لیے خطے کے ممالک کی سرزمین اور تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایران کو امید ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے تجربے نے خطے کے تمام ممالک کو یہ سکھا دیا ہوگا کہ ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کا تسلسل خطے میں صرف عدم تحفظ، تقسیم اور اختلافات کو جنم دے گا اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔‘
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’نیشنل نیوز ایجنسی‘ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے آج صبح جنوبی لبنان کے علاقے وادی السلوکی کی جانب مشین گنوں سے فائرنگ کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے وقت المنصوری کے قصبے پر گولے بھی فائر کیے۔
تاہم ان واقعات میں اب تک کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حال ہی میں المنصوری کے لیے جبری انخلا کا حکم جاری کیا تھا، جو کئی ہفتوں میں اس نوعیت کی پہلی ہدایت تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
نیتن یاہو کا غزہ سے متعلق امریکی صدر کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد، اسرائیل کا حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک انخلا سے انکار, جون ڈونیسن اور جارج رائٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح کیے جانے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔
ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تاہم حماس نے کہا تھا کہ اپنے بھاری ہتھیار حوالے کرنا اسرائیل کی جانب سے ’ہر قسم کی جارحیت ختم کرنے‘ اور غزہ سے اپنی فوج واپس بلانے سے مشروط ہے۔
اتوار کو بورڈ آف پیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اصرار کیا کہ غزہ کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر غزہ میں ابتدائی جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود علاقے میں حملے جاری رکھے ہیں۔
نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ’اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی فوج اس وقت تک انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور اسرائیل اپنی فوج اور شہریوں کے خلاف خطرات کو ناکام بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔‘
حماس کے ایک عہدیدار نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم معاہدے کے لیے اپنے عزم کی دوبارہ تصدیق کرتی ہے اور 15 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ’سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ بات چیت‘ کے لیے تیار ہے۔
حماس نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ’تمام فریق طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں۔‘
اسرائیل کی جانب سے منصوبہ مسترد کیے جانے کو ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے لیے ایک اور دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔
منصوبے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا قیام، حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا انخلا اور غزہ کی تعمیر نو شامل تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
نیتن یاہو کا یہ بیان اگرچہ حیران کن نہیں، تاہم انھوں نے اس پر اپنا مؤقف واضح کرنے میں کچھ وقت لیا، جو اسرائیلی وزیر اعظم کو درپیش مشکل سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
نیتن یاہو ٹرمپ کے منصوبے سے واضح طور پر ناخوش ہیں، لیکن وہ اپنے سب سے قریبی اتحادی امریکہ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کو ایک ہفتے سے کچھ زیادہ وقت گزرا ہے جس میں انھوں نے اسے ’دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’حماس پہلی مرتبہ غیر مسلح ہونے پر رضامند ہوئی ہے، تاہم اس کی شرط تھی کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے۔‘
لیکن اتوار کو نیتن یاہو نے واضح کر دیا کہ ان کی حکومت میں ایسا نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’حماس کو پہلے غیر مسلح ہونا ہوگا اور یہ محض فرضی غیر مسلح نہیں ہونی چاہیے بلکہ حقیقی معنوں میں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔‘
حقیقت میں حماس کی غیر مسلح اور اسرائیلی فوج کا انخلا غالباً مرحلہ وار ہی ممکن ہوگا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اب اس منصوبے پر امریکی حکام سے بات چیت کر رہے ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔
انھوں نے کہا ’ان کے پاس کچھ تجاویز ہیں، ان میں سے کچھ ہمیں قابلِ قبول ہیں اور کچھ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان معاملات پر اپنے مؤقف پر کیسے قائم رہنا ہے۔‘
اسرائیل میں انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں اور نیتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے ارکان کی جانب سے غزہ کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں امکان کم ہے کہ وہ کوئی بڑی رعایت دینے پر آمادہ ہوں گے۔
اتحادی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے ارکان کی جانب سے نئے کابینہ اجلاس میں ووٹنگ اور غزہ منصوبہ ختم کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی مسودے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری ادا کرنے والے سینئر سفارت کار نکولے ملادینوف نے اتوار کو منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مثبت نتیجے کی امید میں بات چیت جاری ہے۔
بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ ’اس عمل کو ایک موقع دیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ’آگے بڑھنے کا واحد راستہ‘ ہے تاکہ حماس کی جانب سے سات اکتوبر 2023 جیسے حملے کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔
ملادینوف کے مطابق یہ منصوبہ ایسے عمل پر مبنی ہے جو قابلِ تصدیق اور قابلِ واپسی ہے، یعنی ہر مرحلے پر اسے روکا جا سکتا ہے اور اسے مستقبل کے چیلنجز کو واضح طور پر مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کو اس وقت تک فوج واپس بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک اس بات کی تصدیق نہ ہو جائے کہ حماس غیر مسلح ہونے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 19 لاکھ افراد، یعنی علاقے کی 90 فیصد آبادی، بے گھر ہو چکی ہے۔
غزہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران علاقے کی وزارت صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتہ وار تعطیل کے بعد ایشیائی منڈیوں کے دوبارہ کھلنے پر آبنائے ہرمز سے متعلق بدستور غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تازہ ترین کاروبار میں برینٹ خام تیل کے فی بیرل نرخ میں 91 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 84.46 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 61 سینٹ بڑھ کر 78.79 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
دونوں عالمی بینچ مارک گزشتہ ہفتے سات فیصد سے زیادہ سستے ہوئے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ امید تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے گا۔
چین میں سمندری طوفان ’ڈولفن‘ سے تباہی، 10 لاکھ سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
چینی حکام نے مشرقی چین میں، جس میں شنگھائی بھی
شامل ہے، سمندری طوفان ’ڈولفن‘ کے
ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد 10 لاکھ
سے زائد افراد کو ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان مقامی وقت کے
مطابق شام ساڑھے پانچ بجے صوبہ ژے
جیانگ کے شہر یوہوان سے ٹکرایا، اس وقت اس کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 150 کلومیٹر
فی گھنٹہ تک تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد طوفان نے شہر وینژو کے
قریب دوسری بار ساحل سے ٹکرایا۔
سمندری طوفان کے باعث پورے خطے میں آمدورفت کا نظام
شدید متاثر ہوا اور صرف شنگھائی میں 1400 پروازیں
منسوخ کر دی گئیں۔
چینی حکام نے اس سے قبل طوفان ’ڈولفن‘ کے لیے اعلیٰ
ترین سطح کا ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، تاہم پیر کی صبح اسے کم کر دیا گیا۔
طوفان اب چین کے وسطی علاقوں کی جانب بڑھ رہا
ہے، تاہم حکام نے بدھ تک موسلا دھار بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے
سے خبردار کیا ہے۔
پیر کے روز شان ڈونگ، ہینان، ہوبے، آنہوئی، جیانگ
سو اور ژے جیانگ کے صوبوں سمیت شنگھائی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
مقامی حکومتوں نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ متعدد اہم سیاحتی مقامات بھی بند کر دیے گئے ہیں، جن میں ڈزنی لینڈ اور لیگولینڈ کے بعض حصے اور شنگھائی کے مشہور علاقے دی بنڈ کے ساتھ واقع کئی مشاہداتی پلیٹ فارم شامل ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ژے جیانگ کے بعض علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران 250 سے 500 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔
ژے جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو میں حکام نے شدید ہواؤں اور سیلابی پانی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کا رخ کرنے والے ڈرائیوروں کے لیے تمام سرکاری پارکنگ مقامات پر فیس معاف کر دی ہے۔
صوبے کے دیگر علاقوں میں وینژو کے حکام نے تقریباً نو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور ایک ہزار سے زائد ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی ہیں، جبکہ شہر تائی ژو میں تقریباً تین لاکھ 90 ہزار افراد کو ان کے گھروں سے منتقل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ کی پیٹرول قیمتوں میں مزید اضافے کی مخالفت، سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہMEHR
ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت نے حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہوئے سبسڈی والے پٹرول کی تقسیم کے طریقہ کار میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے نام یہ بیان نو اگست کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران پارلیمانی پریزیڈیم کے رکن روح اللہ متفکر آزاد نے پڑھ کر سنایا۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ انھوں نے نومبر سنہ 2025 میں ہی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ 50 ہزار ریال فی لیٹر کی شرح سے پٹرول کا تیسرا ٹیرف متعارف نہ کرایا جائے اور پہلے قیمتوں میں اضافے کے بجائے دیگر اقدامات کے ذریعے پیٹرول کی طلب کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
ارکان کے مطابق اس کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے باوجود طلب میں کمی نہیں آئی اور اب روزانہ پیٹرول کی کھپت 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ تقریباً ایک تہائی پیٹرول اب بھی پیٹرول سٹیشنز کے فیول کارڈز کے ذریعے خریدا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگی حالات اور ناکہ بندی نے درآمدی پیٹرول تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ارکان نے خبردار کیا کہ پیٹرول کی درآمد کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے سے ایران کے بجٹ خسارے میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایران کو طویل عرصے سے پیٹرول کی رسد اور طلب کے درمیان فرق کا سامنا ہے۔ 26 جولائی کو آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کے برآمد کنندگان کی یونین کے ترجمان حمید حسینی نے تجارت نیوز کو بتایا تھا کہ ایران کی ریفائنریوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار تقریباً 11 کروڑ لیٹر یومیہ ہے، جبکہ کھپت تقریباً 13 کروڑ لیٹر روزانہ ہے۔ اس طرح روزانہ تقریباً 2 کروڑ لیٹر پیٹرول کی کمی کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پیٹرول درآمد کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور بعض صورتوں میں یہ تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
تہران میں مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے الزام میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد گرفتار
،تصویر کا ذریعہTASNIM
،تصویر کا کیپشنحمید رضا رجب زادہ
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں ایک مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔
دارالحکومت تہران میں سرگرم حمید رضا رجب زادہ کو چند روز قبل مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے قتل کی ویڈیو ان کے اہل خانہ کو بھیجی گئی۔
فارس نیوز کے مطابق پولیس کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران چار مردوں اور ایک نوجوان خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔
روکنا نیوز ویب سائٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ گرفتار افراد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس واقعے کا مرکزی ملزم تاحال فرار ہے اور پولیس انھیں تلاش کر رہی ہے۔ تاہم بعد میں مہر نیوز ایجنسی نے سعید منتظرالمہدی کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘
اس سے قبل سخت گیر ایرانی ذرائع ابلاغ نے اپوزیشن گروہوں اور مبینہ امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں پر اس نوعیت کی ’دہشت گردانہ کارروائیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
فارس نیوز کے مطابق رجب زادہ تقریباً 15 روز قبل لاپتا ہوئے تھے۔ چار روز قبل ایک نئے قائم کیے گئے حکومت مخالف ٹیلی گرام چینل پر ان کے زخمی جسم کی ایک ویڈیو جاری کی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔
فارس نیوز نے بتایا کہ ’اوپن سورس انٹیلی جنس کے تجزیے کے مطابق اس چینل کی جانب سے ماضی میں کیے گئے متعدد دعوے جھوٹے ثابت ہوئے تھے اور بظاہر ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔‘
فارس نیوز کے مطابق مذکورہ چینل نے جلاوطن ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق آرگنائزیشن کی سرگرمیوں سے متعلق پرانی ویڈیوز بھی مبینہ طور پر اپنے مواد کے طور پر شائع کی تھیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں خطرے کی سطح بدستور ’شدید‘ ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے جاری ہیں۔
تنظیم کے مطابق سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت کی سطح بدستور ’کم‘ ہے اور اس وقت صرف چند بحری جہاز ہی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
تنظیم نے اپنی تازہ ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حملے اور ڈرانے دھمکانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں میں بحری جہازوں سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ کرکے ان کی شناخت کرنا، ڈرونز کی پروازیں اور تجارتی جہازوں کی نگرانی شامل ہیں۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اقدامات اس بات کا اظہار ہیں کہ ایران اہم بحری گزرگاہوں میں اپنی موجودگی قائم رکھنا اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔‘
تنظیم کے مطابق براہِ راست فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن میں بحری جہازوں کے قریب میزائل یا دیگر پرجیکٹائل فائر کرنا اور دھماکے شامل ہیں۔ یہ واقعات عمان کی جانب جانے والے جنوبی بحری راستوں، بالخصوص لیما، خصب اور کمزار کے علاقوں میں پیش آ رہے ہیں۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے مسلسل خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
’جنرل جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں‘ امریکی میڈیا میں ایران کے ساتھ جنگ پر بحث
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجنرل ڈین کین (فائل فوٹو)
ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم امریکی میڈیا میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔
اب یہ معاملہ ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق جنگ کے مستقبل سے متعلق اختلافات امریکی کابینہ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ’امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت اقدامات، جن میں ایرانی مظاہرین کو ہتھیار فراہم کرنا بھی شامل ہے، کے حامیوں کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں۔‘
دوسری جانب ایران میں جنوری میں ہونے والے خونریز مظاہروں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ان ایرانیوں کی مایوسی کا ذکر کیا ہے جنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی یقین دہانی پر بھروسا کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین بدستور بحران کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہUS Navy via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے دیگر اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔
ان ذرائع میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ ’کین جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
انھوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے فوجی آپشنز سے متعلق اپنے خدشات کابینہ کے دیگر اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت بھی کی ہے تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے اور صدر سے ملاقات سے قبل تمام حکام ایک ہی مؤقف پر ہوں۔
رپورٹ کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور ان سے وابستہ خطرات کو واضح کرنا تھا، جن میں ایسے آپشنز بھی شامل ہیں جن کے لیے امریکی زمینی فوج کی تعیناتی ضروری نہیں ہوگی۔
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے ساتھ جنگ کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور وسط مدتی انتخابات میں 90 دن سے بھی کم وقت باقی ہے۔ ایسے میں اس جنگ میں کسی بھی قسم کی کامیابی، چاہے وہ صرف علامتی ہی کیوں نہ ہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ایران بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرنے اور امریکی جنگی بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کی شرط عائد کرتا ہے تو ٹرمپ کی اس ممکنہ فتح کا ’علامتی‘ پہلو بھی باقی نہیں رہے گا۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جمعے کی شب رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ کو خلیج فارس سے نکالنے کے لیے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور عمان کے ساتھ معاہدے کے لیے اپنی شرائط میں امریکی بحری جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی کی شرط بھی شامل کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ، جو ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے، بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے یا اس پر محصول وصول کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ، دیگر کئی اہم اختلافات کے ساتھ، عمان اور ایران کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات: پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں پولنگ کا آغاز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے
تیسرے مرحلے میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آج (10 اگست) پونچھ ڈویژن کے چار
حلقوں میں شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
اِن چار حلقوں میں ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کا
ایک حلقہ شامل ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے مطابق ان چار حلقوں
میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے اور ان حلقوں میں ایک موجودہ
اور دو سابق وزرائے اعظم بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر ریاستی اسمبلی کے تیسرے اور آخری مرحلے
میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پونچھ ڈویژن کے 11 حلقوں میں پولنگ آج ہونا تھی،
تاہم گذشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال اور انتخابات میں حصہ لینے
والے امیدواروں کی طرف سے خدشات کے اظہار کے بعد سات حلقوں میں پولنگ ملتوی کرنے کا
اعلان کیا تھا۔
پونچھ ڈویژن کے وہ سات حلقے جہاں پولنگ ملتوی کی گئی
وہ راولاکوٹ اور پلندری کے اضلاع میں واقع ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں حال ہی میں کالعدم
قرار دی گئی ’جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز میں ناصرف
جھڑپیں ہوئی بلکہ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس
(ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے گذشتہ دنوں بی بی سی کو بتایا تھا کہ جن سات حلقوں میں
انتخابات کو ملتوی کیا گیا ہے وہاں پر امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی پولنگ کی
نئی تاریخ دی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا پونچھ ڈویژن لگ بھگ گذشتہ دو ماہ سے خبروں میں ہے اور یہیں سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو پونچھ ڈویژن کے شہر راولا کوٹ میں ہی روک لیا تھا اور گذشتہ دو ماہ سے سینکڑوں مظاہرین راولا کوٹ کے نزدیک ’دریک‘ کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
اسی مقام پر مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں پر انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا اور نتائج کے مطابق ان 13 حلقوں میں سے نو پر مسلم لیگ ن جبکہ چار حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی نو اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ الیکشن نتائج کے مطابق 21 نشستوں میں سے 15 پر مسلم لیگ ن جبکہ چھ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے تھے۔
موساد کے سربراہ نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے منصوبہ ساز دو اعلیٰ عہدیدار برطرف کر دیے: اسرائیلی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے خفیہ ایجنسی کے دو انتہائی سینئر عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے، جنھیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے منصوبہ ساز قرار دیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق برطرف کیے گئے عہدیداروں میں سے ایک دسمبر سنہ 2015 سے موساد کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ تھے، جبکہ دوسرے عہدیدار خفیہ ایجنسی کے ایرانی امور کے شعبے کے سربراہ تھے۔ اسرائیلی ٹی وی نیٹ ورک نے دونوں عہدیداروں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں عہدیداروں نے ایک تحریری آپریشنل منصوبہ تیار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، جس کا مقصد کرد گروہوں کی مدد سے ایران میں اسلامی جمہوریہ کی حکومت کا تختہ الٹنا اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو ہوا دینا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہی وہ منصوبہ تھا جس کی تفصیلات نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل شائع کی تھیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے مارچ میں ایران پر حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوششوں کے دوران یہی منصوبہ ان کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔
اس وقت موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا تھے، جنہیں رواں سال جون میں رومن گوفمین نے عہدے پر تبدیل کیا تھا۔
ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 55 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کی ذمہ دار کمان سینٹکام نے دعویٰ کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک امریکی فورسز نے 55 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا جبکہ دو جہازوں کو فائرنگ کرکے آگے بڑھنے سے روک دیا۔‘
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں فوجی مشنز کی حمایت کے لیے تعینات ہیں، جن میں ایران پر امریکہ کی عائد کردہ بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد بھی شامل ہے۔‘
سینٹکام نے اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس راس کے ملاحوں کی تصویر بھی شیئر کی۔
امریکی کمان کے مطابق بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی فوجی دستوں نے دو بحری جہازوں پر سوار ہو کر ان کی تلاشی بھی لی۔
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
محسن رضائی ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبر اعلیٰ کے نمائندہ مقرر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے
محمد باقر ذوالقدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد محسن رضائی کو سپریم نیشنل
سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔
صدارتی دفتر کے نائب برائے
مواصلات و اطلاعات مہدی طباطبائی نے اتوار کو ایک سرکاری بیان میں اس تقرری کا
اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محسن رضائی کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس عہدے پر مقرر
کیا گیا ہے۔
یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی
ہے جب رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس سے کچھ ہی دیر قبل محسن رضائی
کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔
انھوں نے رضائی کے ’تجربے‘ اور ’آٹھ سالہ مقدس دفاع کے اہم پیش روؤں میں شامل ہونے‘ کے کردار کا حوالہ
دیا۔ آٹھ سالہ مقدس دفاع سے مراد سنہ 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان
ہونے والی جنگ ہے۔
محسن رضائی سنہ 1981 سے سنہ
1997 تک پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف رہے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ متعدد اہم
سیاسی، عسکری اور اقتصادی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں، جن میں ’مجلس تشخیص مصلحت
نظام‘ کے سیکریٹری اور نائب صدر برائے اقتصادی امور کے عہدے شامل ہیں۔
ایک الگ حکم نامے کے تحت آیت
اللہ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر بھی مقرر کر دیا ہے۔
ایران نے 51 سال سے برا رویہ اختیار کر رکھا ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ
سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’ایران نے51
سال سے
برا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔‘
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایرانی کرنسی ریال کی
قدر میں ہونے والی نمایاں کمی کو ظاہر کرنے والا ایک چارٹ بھی جاری کیا۔
چارٹ میں سنہ 2025 کے آغاز سے اب تک ایرانی ریال کی
قدر میں ہونے والی کمی دکھائی گئی ہے۔
ٹرمپ نے چارٹ کا عنوان ’ایران کے پاس پیسہ نہیں‘ رکھا
اور اس کے ساتھ لکھا ’ان کی کرنسی بے وقعت ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
حوثیوں کا المخا بندرگاہ میں سعودی فورسز پر دوبارہ حملے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یمنی حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز
کو بتایا ہے کہ ’حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع المخا بندرگاہ میں
سعودی فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔‘
حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کی جانب سے
نشر کی گئی تصاویر میں متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فائر کیے جانے کا منظر
دکھایا گیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری
بیان میں کہا کہ ’ان حملوں میں سعودی فورسز کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا
گیا۔‘
یمنی فوج کے مطابق اتوار کو اس سے قبل ہونے والے
ایک اور حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ
آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اتوار کی شب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس کو معطل کردی گئی۔ موبائل فون سروس کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’امریکہ، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت پر امن منصوبے کے روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے۔‘
اتوار کے روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے صدارتی دور کے تیسرے سال کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کو درپیش موجودہ مسائل، عوام کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے اور ان کے حل کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایک بار پھر کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔ بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ ’اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے نتائج سے قطع نظر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت
دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج
کوریج جاری ہے۔