یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
10 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ اسرائیل اس وقت تک اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا جب تک حماس کو ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ نہیں کر دیا جاتا۔ دوسری جانب حماس کے ایک عہدیدار نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
10 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق یمنی شہر المخا کے ایک طبی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملے سعودی آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے۔
طبی ذریعے کے مطابق حوثی حملوں میں تین شہری اور آٹھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ المخا اس علاقے میں واقع ہے جو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے زیرِ انتظام ہے۔
اس کونسل کو عالمی برادری یمن کی حکومت کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ کونسل کا مرکز عدن میں ہے اور اسے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے، جو حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق حملوں میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں چھ شہری شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس کو معطل کردی گئی ہے۔
موبائل فون سروس کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر موبائل فون سروس پیر کی صبح سات بجے تک بند کردی گئی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے دو بڑے شہروں خضدار اور قلات میں سیکورٹی وجوہات کی بنیاد کاروباری مراکز کی بندش کے اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے۔
بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند ہونے کا سلسلہ اتوار کو ڈیڑھ بجے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی موبائل فون سروس بند ہونے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔
جب اس سلسلے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو یوم آزادی کا دن آرہا ہے اور یہ پاکستانی قوم کی خوشی کا دن اور موقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'پاکستان کے دشمنوں اور شدت پسندوں کی یہ مذموم کوشش ہے کہ وہ ان خوشیوں کے موقع کو خراب کریں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو دہشت گردی کے منصوبوں کی اطلاع ملی تھی اس لیے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے موبائل فون سروس کو بند کیا گیا۔‘
دوسری جانب قلات اور خضدار میں سکیورٹی وجوہات کے باعث کاروباری مراکز کی بندش کے اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ خضدار کے ایک اعلامیہ کے مطابق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ خضدار نے تمام کمرشل مراکز کی بندش کے نئے اوقات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نئے حکم کے تحت ضلع خضدار کے تمام بازار، دکانیں، ہوٹل اور دیگر تجارتی ادارے روزانہ رات 8 بجے سے صبح 10 بجے تک بند رہیں گے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔
حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’امریکہ، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت پر امن منصوبے کے روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے۔‘
ان کا یہ بیان اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حمایت کیے گئے غزہ امن منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ ثالث اور امریکہ، جو اس معاہدے کے ضامن ہیں، بنیامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ طے شدہ روڈ میپ پر عمل کریں اور سیاسی مفادات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے صدارتی دور کے تیسرے سال کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کی ویب سائٹ نے اس ملاقات کی اطلاع دی ہے۔ بی بی سی فارسی نے سرکاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملاقات میں ملک کو درپیش موجودہ مسائل، عوام کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے اور ان کے حل کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران جنگ کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں درپیش چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ فوجی پیش رفت، ملک کے مالی اور زرمبادلہ کے وسائل کو متحرک کرنے، اخراجات کے انتظام، توانائی اور دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سے اب تک منظرِ عام پر نہیں دیکھا گیا۔ ان کی کوئی نئی تصویر یا آواز بھی جاری نہیں کی گئی۔
اس سے قبل صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد ان کی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔
بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے نتائج سے قطع نظر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
اسرائیلی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ’میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، جب تک میں وزیراعظم ہوں ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔‘
دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ اسرائیل اس وقت تک اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا جب تک حماس کو ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ نہیں کر دیا جاتا۔
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی فوج اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور ہم اپنی افواج اور شہریوں کو لاحق خطرات کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔‘
جون میں طے پانے والے معاہدے کے تحت لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جبکہ اسرائیل کو جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے جہاں اس کا کنٹرول ہے، مرحلہ وار اپنی فوج واپس بلانا ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعرات کو روم میں براہِ راست مذاکرات کا ساتواں دور بھی مکمل ہوا۔
تاہم حزب اللہ اس معاہدے کی مخالفت کرتی ہے اور اسے لبنان کے آئینی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے نہیں کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایک بیان میں افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان سے افغانستان اسلحہ اسمگل کرکے ’تخریبی سرگرمیوں‘ کے لیے استعمال کیے جانے کا الزام بے بنیاد، غیر سنجیدہ اور حقائق کے منافی ہے۔‘
وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان پہلے ہی بڑی مقدار میں جدید اسلحے اور فوجی سازوسامان سے بھرا ہوا ہے، جو امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑا گیا تھا۔‘
بیان کے مطابق ’افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اور اتحادی افواج کے اسلحے اور فوجی سازوسامان کی مالیت کا تخمینہ سات اعشاریہ دو ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگوں کے دوران جمع ہونے والے سوویت دور کے ہتھیاروں کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں۔‘
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’ایسے ہتھیاروں کے ساتھ پاکستان کا تعلق جوڑنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ دیگر سنگین مسائل پر سے ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’شدت پسند گروہوں کو اب بھی افغان سرزمین پر پناہ، سہولت اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے، جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیاں کرتے ہیں۔‘
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ ’افغان طالبان حکام کو ’ناقابلِ یقین الزامات‘ اور ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے مسئلے سے نمٹنا چاہیے۔
پاکستانی وزارت کے مطابق ’افغان طالبان حکام نے بارہا یہ یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اس لیے انہیں اپنے ان وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کرتا رہے گا، تہران مذاکرات شروع نہیں کرے گا، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران کی تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کی جانب سے ہماری تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک اس آبنائے پر کنٹرول برقرار رکھا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز اب ہمارے لیے محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ عملاً میدانِ جنگ بن چکی ہے۔‘
یہ بیانات ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے واشنگٹن کے لیے شرائط عائد کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔
ذوالقدر نے کہا تھا کہ ’امریکہ اپنا رویہ درست کیے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔‘
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ اور جارحیت ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگی۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں ختم کرے، ایران کی بحری ناکہ بندی اٹھائے، ایران کے قرب و جوار سے اپنی بحری اور فضائی افواج واپس بلائے اور ’ایرانی عوام پر عائد غیر منصفانہ اور غیر قانونی پابندیاں‘ ختم کرے۔
یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے سعودی عرب کے شہر جازان میں واقع آرامکو ریفائنری کو ایک ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ حملہ سعودی ڈرون حملے اور صعدہ اور حجہ صوبوں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا۔
اتوار کو سعودی وزارتِ توانائی نے اعلان کیا تھا کہ آرامکو کی صنعتی سکیورٹی ٹیموں نے ریفائنری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق واقعے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ آگ کس طرح بھڑکی۔
جازان ریفائنری روزانہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل کو ریفائن کرتی ہے۔
حوثیوں نے 27 جولائی کو بھی اسی ریفائنری پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اس تنصیب کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔
ایران کی فارنزک میڈیسن آرگنائزیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 40 روزہ جنگ میں تین ہزار 519 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس تعداد میں حالیہ ہفتوں کے دوران خصوصاً جنوبی ایران میں امریکہ کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔
ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً تین ہزار مرد اور 500 خواتین شامل ہیں۔
اُنھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک شدگان میں 270 طلبہ بھی شامل تھے جن میں اکثریت میناب کے ’شجرۂ طیبہ‘ سکول کے طلبہ کی تھی جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے روز مارے گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں 38 بچے ایسے تھے جن کی عمر 5 سال سے کم تھی۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہلاک شدگان میں کتنے فوجی اہلکار شامل تھے، تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ جنگ میں کم از کم 1,460 شہری اور 2,080 ایرانی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ جازان میں آرامکو ریفائنری سے منسلک ایک تنصیب میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق، یہ آگ اتوار کی صبح سویرے لگی تھی جسے آرامکو کے انڈسٹریل سکیورٹی فائر ڈیپارٹمنٹ نے بجھا دیا۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی شخص زخمی ہوا۔ حکام واقعے کی تحقیقات مکمل کر رہے ہیں، جبکہ آگ لگنے کی وجہ تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران حالیہ ہفتوں میں جازان میں واقع آرامکو کی تنصیبات حملوں کی زد میں رہی ہیں۔ رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ جولائی میں حوثی گروپ نے جازان اور ینبع میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے پیش کی گئی شرائط دراصل انھی شرائط کی تکرار ہیں جو جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں شامل تھیں۔ تاہم اب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے انھیں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور معمول کے مطابق کھولے جانے کے لیے پیشگی شرط کے طور پر پیش کیا ہے۔
ان شرائط میں پابندیوں میں نرمی، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا، اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا فوری خاتمہ شامل ہیں۔ اگر ان بیانات کو ایران کے حتمی مؤقف کی عکاسی سمجھا جائے تو یہ اس امید کو مزید کمزور کر سکتے ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جلد معاہدہ ہونے کے حوالے سے ابھارا تھا۔
دوسری جانب ایران اور عمان اب بھی آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا انتظام اور مالیاتی نگرانی دونوں ممالک مشترکہ طور پر کریں گے اور اس کے استعمال پر فیس بھی وصول کی جائے گی۔
اگر ایسا معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ وسیع تر تنازع کے مکمل حل کی جانب صرف ایک جزوی پیش رفت ہوگی، لیکن ممکن ہے کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس تنازع یا جنگ سے نکلنے کا ایک قابل قبول راستہ فراہم کر دے۔

،تصویر کا ذریعہJamaran News
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ تہران کے چھ مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔
ان مطالبات میں پابندیوں میں نرمی، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، ایران کے خلاف دھمکیاں بند کرنا اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ذوالقدر کے بیانات بڑی حد تک تہران کے پہلے سے موجود مطالبات کی تکرار ہیں، تاہم وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ایران کے مؤقف میں مزید سختی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور عمان نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے نئے انتظامات پر ہونے والے مذاکرات کو ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم اُنھوں نے زور دیا کہ کسی معاہدے تک پہنچ جانا آبنائے ہرمز کے فوری طور پر کھل جانے کا مطلب نہیں ہوگا اور اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ’دیگر شرائط‘ سے مشروط ہے۔
ایک روز قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار عمان اور امریکہ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی آخری منظوری کے منتظر ہیں۔
اس سفارت کار کے مطابق، توقع کی جا رہی تھی کہ یہ منظوری ’جلد‘ مل جائے گی۔
رائٹرز نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ جلد ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔
اس عہدیدار کے مطابق امریکہ ایسے معاہدے کے اعلان کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
محمد باقر ذوالقدر کے حالیہ بیانات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کہ وہ اسی ادارے کے سیکریٹری ہیں جس کے بارے میں رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ معاہدے سے متعلق تہران کا حتمی فیصلہ اسی کے ذریعے کیا جائے گا۔
دوسری جانب محمد باقر ذوالقدر کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے امکانات کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، اُنھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ان سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو ’تباہ‘ کر دیا ہے اور اس کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔
سنیچر کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی غیر روایتی عسکری صلاحیت بھی شدید کم کر دی ہے۔
نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ایران ایسی طویل مدتی تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہے جن کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر ایران ایسی تبدیلیاں کرنے پر آمادہ نہیں ہوا تو امریکہ دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
وینس نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ توانائی کی فراہمی میں اضافے کے ذریعے امریکیوں کے لیے ایندھن اور توانائی کی لاگت کو کم کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا جانے والا باہمی دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو معاہدے کی شق 5 سے مشابہت رکھتا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا مقصد تینوں رکن ممالک کی سلامتی کے لیے ایک عمومی عزم پیدا کرنا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ کتنی، کس نوعیت کی اور کس شکل میں مدد درکار ہے، اور جب تک کسی رکن ملک کو حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان اس معاہدے کو خطے کے دیگر ممالک تک وسعت دینا چاہتے ہیں اور بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
ہاکان فیدان کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں۔ نیٹو کی طرز پر ایک وزارتی کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اتحاد کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا۔
یاد رہے کہ جنعمہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان کی وفاقی حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال روکنے اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے سنیچر کے روز سے ہڑتال شروع کی گئی اور مال بردار گاڑیوں کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ مواصلات کے مطابق وزیرِاعظم آفس کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی ٹرانسپورٹرز کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات کرے گی۔
اس کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِ مواصلات کریں گے جبکہ وزیرِ پیٹرولیم بھی اس کے رکن ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزارتِ مواصلات اور وزارتِ پیٹرولیم کے سیکریٹریز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل، تمام صوبائی وزرائے ٹرانسپورٹ اور صوبائی محکمہ ہائے ٹرانسپورٹ کے سیکریٹریز بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پُرامن ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات کیے گئے جبکہ وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان سے بھی ملاقات ہوئی، تاہم ان کے بقول حکومتیں ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ آج سے ملک بھر میں مال بردار گاڑیاں کھڑی کی جا رہی ہیں اور اب کوئی نئی گاڑی سامان لے کر روانہ نہیں ہو گی۔
ان کے مطابق پہلے سے سامان سے لدی گاڑیوں کو 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنا سامان اتار سکیں۔
ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کا نظام ختم کر کے قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کیا جائے۔
ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے۔
ملک شہزاد اعوان نے ٹول ٹیکس میں کیے گئے اضافے کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹول ٹیکس کی شرح 30 جون 2024 کی سطح پر بحال کی جائے۔
ان کے مطابق اگلے ایک سال تک ٹول ٹیکس میں کسی قسم کا اضافہ قابلِ قبول نہیں ہو گا اور اس عرصے کے دوران نئے ٹول پلازے بھی تعمیر نہیں کیے جانے چاہییں۔
ملک شہزاد اعوان نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2025 میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران حکومت نے ٹرانسپورٹرز سے جو وعدے کیے تھے، وہ اب تک پورے نہیں کیے گئے۔
عمان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ’مثبت اور تعمیری‘ رہے ہیں۔
عمان نے اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بار بار ہونے والے حملوں کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔
سنیچر کے روز جاری ہونے والے بیان میں عمان کی وزارتِ خارجہ نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مسلسل حملوں‘ کی مذمت کی، تاہم اس بیان میں ایران کا نام نہیں لیا گیا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے طریقہ کار سے متعلق جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہو رہے ہیں۔‘
عمان کی وزارتِ خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔

،تصویر کا ذریعہisna
ایران کی وزارتِ صحت کے تحقیقاتی شعبے کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ صوبہ فارس کے شہر لامرد پر بمباری کے حوالے سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پھینکے گئے بموں میں فاسفورس استعمال کیا گیا تھا۔
شاہین آخوندزادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارتِ صحت نے اس بمباری کے متعلق تحقیقات کی ہیں اور امید ہے کہ ان کے نتائج بین الاقوامی فورمز پر شائع کیے جائیں گے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ لامرد پر حملے میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارتِ صحت کے عہدیدار کے مطابق بموں میں فاسفورس شامل ہونے کے باعث ’زخم دائمی نوعیت اختیار کر سکتے ہیں اور انھیں بھرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔‘
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے روز، لامرد کے علاقے ایثار میں کئی رہائشی عمارتوں کے علاوہ شہر کے شہید نعیمی سپورٹس ہال کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ لامرد کے گورنر کے مطابق حملے کے وقت سپورٹس ہال میں طلبہ کا ایک گروپ مشق کر رہا تھا۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔
عراق کے وزیرِ تیل کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تیل کی برآمدات کے لیے ایک طریقۂ کار پر تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
تاہم عراقی وزیر باسم محمد نے اس طریقۂ کار کی تفصیلات بیان نہیں کیں، جن میں مجوزہ راستہ، برآمدات کی ممکنہ مقدار اور اس کا متوقع وقت شامل ہیں۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عراق اس وقت یومیہ تقریباً 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا ہے، جس میں سے لگ بھگ نصف برآمد کیا جاتا ہے۔
عراقی وزیرِ تیل نے مزید کہا کہ اس ماہ عراقی تیل کی برآمدات کی حد یومیہ 15 لاکھ سے 17 لاکھ 50 ہزار بیرل کے درمیان ہے۔
متحدہ عرب امارات نے سنیچر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک اماراتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک ٹینکر پر ایرانی میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔
بیان کے مطابق اس حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
جمعہ کے روز ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی نے کہا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کے 15 جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے تین حملے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہوئے۔