’مجھے طالبان کی عام معافی پر کوئی یقین نہیں‘: پاکستان اور ایران سے بے دخل 60 لاکھ افراد افغانستان میں نئی زندگی شروع کرنے پر مجبور

    • مصنف, لیز ڈوسیٹ
    • عہدہ, چیف انٹرنیشنل نامہ نگار، بی بی سی نیوز
    • مقام, طورخم کراسنگ اور کابل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

بوڑھے لوگ بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہوئے تکلیف سے کراہتے ہیں اور حیرت زدہ بچے اُن مرغیوں کو گود میں اٹھائے ہوئے ہیں جنھیں وہ اپنے چھوڑے ہوئے گھروں سے ساتھ لائے ہیں۔

35 سالہ نازیہ پاکستان میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ افغانستان میں داخل ہونے کے چند ہی منٹ بعد کہتی ہیں کہ ’اپنے ملک میں ہونا اچھا محسوس ہوتا ہے۔‘

طورخم بارڈر کراسنگ، جسے 'زیرو پوائنٹ' کہا جاتا ہے، وہ جگہ ہے جہاں ایک مشکل زندگی ختم ہوتی ہے اور دوسری مشکل زندگی شروع ہوتی ہے۔

نازیہ آہ بھرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’لیکن میں پہلے کبھی افغانستان نہیں گئی اور یہاں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے روٹی بھی نہیں ہے۔‘

وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ رجسٹریشن کاؤنٹروں کی جانب بڑھتی ہیں جن پر طالبان کے سفید اور سیاہ جھنڈے آویزاں ہیں۔

اُن کا تقریباً پورا خاندان، آٹھ بہنیں اور اُن کے بچے، اس سال پاکستان یا ایران سے افغانستان واپس بھیج دیے گئے۔

وہ دنیا میں کہیں بھی اس وقت سرحد پار لوگوں کی سب سے بڑی نقل مکانی کا حصہ ہیں۔

لاکھوں افغان کئی دہائیوں سے پناہ یا روزگار کی تلاش میں پاکستان اور ایران جاتے رہے ہیں۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان سے نکلنے والوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہا ہے۔

اب ان میں سے اکثر کو واپس آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ دونوں ہمسایہ ممالک غیر دستاویزی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

نازیہ اور اُن کا خاندان بغیر دستاویزات کے ایران یا پاکستان میں رہ رہا تھا۔ لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی مہم صرف اسی گروہ تک محدود نہیں بلکہ رجسٹرڈ افغان بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔

پاکستان اب کھلے عام کہتا ہے کہ رجسٹریشن کے ثبوت والے کارڈ رکھنے والے افغان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

واپسی پر مجبور کیے جانے کا یہ سلسلہ تھمنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

افغان مہاجرین سے بھرے ٹرک پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں طورخم سرحد کے قریب لنڈی کوتل شاہراہ پر کھڑے ہیں، جہاں وہ 28 اپریل 2026 کو افغانستان بھیجے جانے کے انتظار میں ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغان مہاجرین سے بھرے ٹرک پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں طورخم سرحد کے قریب لنڈی کوتل شاہراہ پر کھڑے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے مطابق اس سال پاکستان اور ایران سے واپس آنے پر مجبور کیے گئے افراد کی تعداد پہلے ہی 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان چارلی گڈلیک کہتے ہیں کہ ’تین سال سے بھی کم عرصے میں ہم نے 60 لاکھ لوگوں کو واپس آتے دیکھا ہے، جو خود ایک چھوٹے ملک کی آبادی کے برابر ہے۔‘

سرحد کے قریب قائم خیمہ بستی میں شدید گرمی کے دوران کھڑے ہو کر وہ زور دیتے ہیں کہ ’حالیہ تاریخ میں ہم نے اس پیمانے پر نقل مکانی کبھی نہیں دیکھی۔‘

یہ ترپال اور پلاسٹک کے بنے عارضی ٹھکانوں کا ویران منظر ہے، جن میں سے بہت سے اب پھٹ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے انھیں ان لوگوں کو چند راتوں کی پناہ دینے کے لیے قائم کیا تھا جو ایسی حالت میں پہنچتے ہیں کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

بہت سے واپس آنے والے دہائیوں سے افغانستان نہیں آئے تھے اور نازیہ جیسے بہت سے افراد تو یہاں پہلے کبھی آئے ہی نہیں تھے۔

سروَر بتاتے ہیں کہ ’میں 45 سال پہلے افغانستان پر سوویت حملے کے دوران نکلا تھا اور میرے زیادہ تر بھائی پاکستان میں پیدا ہوئے تھے۔‘

وہ چند روز قبل اپنے سات بھائیوں اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ 40 افراد کے ایک قافلے میں پہنچے۔ اُن کا سامان ایک بڑے پاکستانی ٹرک میں لدا ہوا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے وہاں بہت طویل وقت گزارا، اس لیے جب ہمیں گھر سے نکال دیا گیا تو یقیناً میرا دل ٹوٹ گیا تھا۔‘

’لیکن اس تمام تکلیف کے باوجود میں خوش بھی ہوں کیونکہ آخرکار پاکستان کی پولیس کی ہراسانی سے آزاد ہو گیا ہوں۔‘

24 جون 2026 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان سے بے دخل کیے گئے افغان واپس وطن پہنچنے والے افراد کو ننگرہار صوبے کے طورخم میں افغانستان پاکستان زیرو پوائنٹ سرحدی گزرگاہ کے قریب عمری کیمپ میں ایک فوجی ٹرک سے اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن24 جون 2026 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان سے بے دخل کیے گئے افغان واپس وطن پہنچنے والے افراد کو ننگرہار صوبے کے طورخم میں افغانستان پاکستان زیرو پوائنٹ سرحدی گزرگاہ کے قریب عمری کیمپ میں ایک فوجی ٹرک سے اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جن خاندانوں سے ہماری ملاقات ہوئی، سب نے بتایا کہ انھیں پاکستان میں حکام کی جانب سے تعصب اور ہراسانی کا سامنا رہا۔

پاکستانی حکومت نے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ لیکن وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اتوار کو اسلام آباد میں بریفنگ کے دوران کہا کہ ’حکومت پاکستان افغان شہریوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا بدسلوکی کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرتی ہے۔ اگر ایسے واقعات ہوئے بھی ہیں تو وہ انفرادی نوعیت کے ہیں اور قانون کے مطابق مکمل طور پر نمٹائے جاتے ہیں۔‘

پاکستان اور ایران دونوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان شہری اپنے وطن واپس جائیں۔ ان کا الزام ہے کہ بعض افراد سکیورٹی خطرہ ہیں جبکہ دیگر مالی بوجھ۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ اکتوبر لڑائی کے بعد پاکستان سے بے دخلی اور مبینہ بدسلوکی میں شدت آئی۔

فروری میں ہیومن رائٹس واچ نے ’گھر گھر چھاپوں، رات گئے گھروں کی تلاشیوں اور وارنٹ کے بغیر گرفتاریوں‘ پر تشویش ظاہر کی۔

ایران، جس کا دعویٰ تھا کہ گذشتہ سال وہاں 40 لاکھ سے زیادہ غیر دستاویزی افغان مقیم تھے، میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کی رفتار جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد تیز ہو گئی۔

نیویارک میں قائم سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران نے حکام پر الزام لگایا کہ وہ جنگ کے بعد کے ماحول کو ’افغان تارکین وطن پر شک کرنے، انھیں جاسوسی کے الزامات کا نشانہ بنانے اور اسرائیل کے ممکنہ جاسوس قرار دینے‘ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین مسلسل اس انسانی اصول پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی واپسی کا عمل ’رضاکارانہ، محفوظ اور باعزت‘ ہونا چاہیے۔

لیکن طورخم میں سروَر کی بھابھی زرینہ اپنے غیر یقینی مستقبل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس کاروبار شروع کرنے یا روزی کمانے کے لیے کوئی وسائل نہیں، اور ہمارے پاس رہنے کے لیے ایک خیمہ بھی نہیں۔‘

افغانستان واپس آنے والی زرینہ ایک خیمے کے اندر دیگر افراد کے ساتھ بیٹھی ہیں اور کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے اپنے چہرے کا کچھ حصہ دوپٹے سے ڈھانپ رہی ہیں
،تصویر کا کیپشن40 سالہ زرینہ اُن 10 لاکھ افغانوں میں شامل ہیں جو صرف اس سال واپس آئے ہیں

خیمے کے اندر 41 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی سے بچاؤ تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں زرینہ خواتین اور بچوں کے ایک فکر مند ہجوم کے ساتھ بیٹھی ہیں۔

کیا وہ ایسے ملک میں خواتین اور لڑکیوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں جہاں طالبان نے خواتین کو عوامی زندگی کے بیشتر شعبوں، بشمول سیکنڈری سکول اور یونیورسٹی، سے باہر کر رکھا ہے؟

40 سالہ زرینہ بازو سے ایک وسیع اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’انھیں دیکھیے، یہ سب لڑکیاں ہیں۔ یقیناً میں فکر مند ہوں۔‘

کچھ واپس آنے والے صرف فکر مند نہیں بلکہ خوف زدہ ہیں۔

ایک سابق افغان سکیورٹی گارڈ کو پہلے ایران اور پھر پاکستان سے واپس بھیجا گیا۔ وہ سرحد سے دور ایک ایسے مکان میں ہے جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ وہ ہمیں گھبراہٹ میں بتاتا ہے کہ ’میں اس گھر سے باہر نہیں نکلتا۔‘

’ہم سب خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، میری بیوی اور بچے بھی باہر جانے سے ڈرتے ہیں۔‘

وہ طالبان حکومت کی عام معافی کو مسترد کرتے ہیں، جو اقتدار میں واپسی کے چند روز بعد اعلان کی گئی تھی اور جس میں سابق حکومتی عہدیداروں، سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو انتقامی کارروائی سے محفوظ رہنے اور دوبارہ کام پر آنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ان کی عام معافی پر کوئی اعتماد نہیں کیونکہ میرے بہت سے ساتھی مارے جا چکے ہیں۔‘

ان کے مطابق اُن کا کیس اقوام متحدہ میں رجسٹر تھا لیکن کسی محفوظ ملک منتقل کیے جانے سے پہلے ہی انھیں واپس بھیج دیا گیا۔

مالی مشکلات اس تکلیف کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

دنیا بھر میں غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر کمی کا اثر افغانستان میں خاص طور پر شدید ہے، جہاں طالبان اب بھی دہشت گردی اور انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان نے اتوار کو تصدیق کی کہ 16 ہزار کمزور اور خطرے سے دوچار افغانوں کو انسانی بنیادوں پر عارضی طور پر بے دخلی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اقوام متحدہ نے بھی خیر مقدم کیا۔

لیکن ذرائع کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں موجود ایسے افغانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جنھیں سنگین نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، بشمول وہ خواتین اور لڑکیاں جنھیں تعلیم سے محروم کر دیا جائے گا۔

زرد لباس پہنے ایک لڑکی کیمرے کی جانب دیکھ رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنزرینہ کہتی ہیں کہ وہ اُن لڑکیوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں جو طالبان کے زیر انتظام افغانستان میں سیکنڈری سکول اور یونیورسٹی نہیں جا سکتیں

کابل میں وزارت خارجہ کے خوبصورت کمپاؤنڈ میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی طاقتور نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں کچھ مدد درکار ہے۔‘

’ان کی واپسی کی وجہ سے دباؤ موجود ہے، لیکن طویل مدت میں اس سے انھیں بھی فائدہ ہو گا اور افغانستان کو بھی۔‘

2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے ابتدائی برسوں میں اُن کے بعض وزرا انسانی مسائل کے بارے میں یہ کہہ کر بے فکری کا اظہار کرتے تھے کہ ’خدا مدد فراہم کرے گا۔‘

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس سال دو کروڑ 19 لاکھ افراد، جو ملک کی تقریباً نصف آبادی بنتے ہیں، زندہ رہنے کے لیے امداد کے محتاج ہیں۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ 10 لاکھ بچے ’جان لیوا‘ غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے ترجمان گڈلیک کہتے ہیں کہ ’دنیا کا کوئی ملک اس نوعیت کے بحران سے تنہا نہیں نمٹ سکتا۔‘

وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ طالبان حکومت واپس آنے والوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی جانب سے عائد کی گئی بہت سی پابندیاں اور احکامات، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں، ہمارے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا آسان نہیں بناتے۔‘

متقی اپنی حکومت کے اس موقف کو دہراتے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم جیسے معاملات ’اندرونی مسائل‘ ہیں جنھیں افغان خود حل کریں گے۔

لڑکیوں اور خواتین کی زندگیوں پر سخت پابندیاں طالبان کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑا مسئلہ ہیں اور اس کی قیمت انھیں چکانا پڑی ہے۔

پانچ سال بعد بھی صرف ایک ملک، روس، نے باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے۔

لیکن جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو متقی نے چین اور انڈیا سمیت ہمسایہ ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ گہرے ہوتے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی جانب اشارہ کیا۔

مغربی ممالک سے کابل کی نسبتاً تنہائی کے بارے میں وہ پوچھتے ہیں کہ ’جن لوگوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں ہمارے ساتھ تعلقات نہیں رکھے، انھوں نے کیا حاصل کیا؟‘

پھر وہ خود ہی جواب دیتے ہیں کہ ’کچھ نہیں۔‘

ہم نے ’کچھ نہیں‘ کا یہی لفظ زیرو پوائنٹ پر ملنے والے ہر خاندان سے بھی سنا۔ مگر بالکل مختلف معنی میں۔

وہ سب اپنی زندگی کی سب سے مشکل واپسی کے سفر پر تھے اور تقریباً کچھ بھی نہ ہونے کے ساتھ دوبارہ آغاز کر رہے تھے۔