لائیو, پاکستانی فوج کا بلوچستان کے ضلع قلات میں کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

جمعے کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی اور نگرانی کی گئی اور فورسز کی جانب سے فوری ’سرجیکل ایکشن‘ کے ذریعے اسے تباہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔

خلاصہ

  • امریکی حملے سے ایران میں شادی کی تقریب کے دوران ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے: رپورٹ
  • آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا: جنوبی کوریا
  • پاکستانی فوج کا بلوچستان کے ضلع قلات میں کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • 'ایسے جارح کو جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا:' ایرانی وزیرِ خارجہ کا اُردنی ہم منصب سے سوال
  • پاسداران انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ سرک کاؤنٹی کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر 'جان بوجھ' کر حملے سے انکار کا مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
  • پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران 15 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستانی فوج کا بلوچستان کے ضلع قلات میں کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی ار نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ستمبر کو بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران 12 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    جمعے کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی اور نگرانی کی گئی اور فورسز کی جانب سے فوری ’سرجیکل ایکشن‘ کے ذریعے اسے تباہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران اسلحے اور دیسی ساختہ بارودی آلات کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

  2. ’ایسے جارح کو جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا:‘ ایرانی وزیرِ خارجہ کا اُردنی ہم منصب سے سوال

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے اردنی ہم منصب کے حالیہ بیانات کے جواب میں لکھا: ’اردنی وزیر خارجہ کی رائے میں ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب اور نہ ہی ایرانی خودمختاری کا احترام کرتا ہے؟‘

    ایکس پر اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ ایران پر امریکہ کے ابتدائی حملوں میں ’عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا‘ اور انھوں نے اردنی وزیرِ خارجہ پر لاعلمی کا الزام عائد کیا۔

    گذشتہ روز ایک سرکاری بیان میں اردن کی وزارت خارجہ نے کویت پر ایران کے حملوں کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا اور اسے ’قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ‘ نیز ’بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے کویت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ حملے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بناتے ہیں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

  3. آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا: جنوبی کوریا

    جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا ہے۔

    جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    ان میڈیا رپورٹس کے بعد کہ جنوبی کوریا اس سال کے آخر تک آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کوریا کے صدارتی دفتر نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور ابھی بھی جائزے کا عمل جاری ہے۔

    عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے حوالے سے جنوبی کوریا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ ہے۔

  4. امریکی حملے سے ایران میں شادی کی تقریب کے دوران ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے: رپورٹ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی جریدے ’ایگزیوس‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کے روز امریکی حملوں کے دوران ایران میں ایک شادی کی تقریب کے دوران شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ یہ واقعہ امریکی حملے کا براہِ راست نتیجہ تھا، لیکن اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے شہریوں کے جانی نقصان کے بڑے واقعات میں سے ایک ہو گا۔

    اب تک شہریوں کے جانی نقصان کا سب سے ہولناک واقعہ جنگ کے پہلے دن پیش آیا تھا، جب امریکی حکام کے مطابق ایران میں ایک سکول پر امریکی حملے میں 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس حملے کے بارے میں فوج کی تحقیقات جلد مکمل ہو جائیں گی۔

    ’ایگزیوس‘ سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس حملے کے اندرونی جائزے کا حکم دیا۔

    یہ رپورٹ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی جانب سے اسلحہ کے ماہرین کے حوالے سے دی گئی اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’کوہستک‘ شہر میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والا دھماکہ غالباً امریکی ہتھیار کے براہِ راست لگنے سے ہوا تھا، نہ کہ ایرانی فضائی دفاعی میزائل کے بالواسطہ ٹکرانے یا رخ تبدیل کرنے کے نتیجے میں۔

  5. سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن سرنگوں میں کیسے پھنس گئے؟

    وسیع سرنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقے میں دریائے تریشولی کے کنارے متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے قائم ہیں، جن کے زیرِ زمین پھیلے ہوئے وسیع سرنگوں کا نظام موجود ہیں۔

    جب سیلابی ریلے پہاڑی علاقوں سے گزر کر دریائے تریشولی تک پہنچے تو پانی، مٹی اور ملبہ بڑی مقدار میں ان سرنگوں میں داخل ہو گیا۔ سیلابی پانی کے باعث کئی سرنگیں کیچڑ اور ملبے سے بھر گئیں، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے متعدد کارکن اندر ہی پھنس گئے۔

    حکام کے مطابق کچھ کارکن بروقت سرنگوں سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے، تاہم اندازہ ہے کہ اب بھی 150 سے زائد افراد مختلف سرنگوں میں محصور ہیں۔

    امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو ٹیموں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ پھنسے ہوئے افراد تک رسائی کے لیے فوجی اہلکار پہاڑی علاقوں میں بڑی چٹانوں کو دھماکوں کے ذریعے ہٹا رہے ہیں تاکہ راستہ بنایا جا سکے۔

    اس کے علاوہ انجینیئرز مٹی سے بھری سرنگوں میں ہوا بھی پمپ کر رہے ہیں تاکہ اندر موجود افراد کو آکسیجن کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے اور ان کی زندہ بچنے کی امید بڑھائی جا سکے۔ ریسکیو ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑتے ہوئے پھنسے ہوئے کارکنوں کو بحفاظت نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  6. نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1,301 ہوگئی جبکہ 5,339 افراد اب بھی لاپتہ

    نیپال اور تبت میں نو روز قبل آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال اور تبت میں نو روز قبل آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں علاقوں میں مجموعی طور پر 1,301 افراد ہلاک جبکہ 5,339 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    نیپالی پولیس کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1,280 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 4,798 افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    دوسری جانب تبت میں حکام نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ 541 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    حکام کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں کم از کم 34 مختلف ممالک کے سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جس کے باعث یہ سانحہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

    دریں اثنا نیپال میں امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی کم از کم چھ سرنگوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں 150 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعہ کو تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو کارکنوں کو نو روز بعد زندہ نکال لیا گیا تھا، جس کے بعد دیگر پھنسے افراد کے اہل خانہ میں بھی امید کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔

  7. ریسکیو کیے گئے دو کارکنوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک

    نیپال کے وزیراعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ سے ریسکیو کیے گئے دو کارکنوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    سرکاری بیان کے مطابق دوسرے نمبر پر ریسکیو کیے جانے والے کبیر مہارجن کی حالت نازک ہے اور وہ کھٹمنڈو کے آرمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسرے کارکن سنجیا ساہا کا بھی اسی ہسپتال میں طبی معائنہ کیا جائے گا۔

    دونوں کارکنوں کو جمعہ کی صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ نو روز تک سرنگ میں پھنسے رہنے کے بعد ان کی بحفاظت بازیابی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے باقی کارکنوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ 150 سے زائد افراد کے اب بھی مختلف سرنگوں میں محصور ہونے کا خدشہ ہے۔

    حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن اس وقت کم از کم چھ ہائیڈرو پاور سرنگوں میں جاری ہے۔ جمعہ کو تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو کارکنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ دیگر پھنسے افراد تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔

    امدادی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وقت سے مقابلہ کرتے ہوئے باقی کارکنوں کو زندہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں بھاری مشینری اور خصوصی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    دریں اثنا، سامنے آنے والی ویڈیوز میں وہ جذباتی لمحہ دیکھا جا سکتا ہے جب تریشولی 3 اے سرنگ میں پھنسے دونوں کارکنوں کو نو روز بعد بحفاظت باہر نکالا گیا۔ ان کی بازیابی نے دیگر لاپتہ اور پھنسے ہوئے افراد کے اہل خانہ میں بھی امید پیدا کر دی ہے۔

  8. نیپال: تباہ کن سیلاب کے نو روز بعد ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ سے دو مزدور بحفاظت ریسکیو

    ریسکیو

    ،تصویر کا ذریعہNEA

    نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نو روز بعد تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ میں پھنسے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق دونوں کارکنوں کو ریسکیو کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کھٹمنڈو کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے بتایا کہ بچائے جانے والے کارکنوں کی شناخت سنجیا شاہ اور کبیر مہارجن کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں افراد کے ہاتھوں اور ٹانگوں پر زخم ہیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر سرنگ کے اندر رینگتے ہوئے نکلنے کی کوشش کے دوران آئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق سرنگ کے اندر پھنسے مزید کم از کم 39 افراد کو بھی نکالنے کی امید ہے، کیونکہ آج صبح امدادی کارکنوں نے اندر سے آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔

    دریں اثنا، سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں وہ لمحہ دکھایا گیا ہے جب دونوں کارکنوں کو محفوظ طریقے سے سرنگ سے باہر نکالا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ نیپال کے دیگر ہائیڈرو پاور منصوبوں میں اب بھی 150 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

    بچائے گئے کارکنوں میں سے ایک کے بھائی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے عزیز کی بحفاظت واپسی کی خبر سن کر اس کا دل اب ’ہلکا‘ محسوس کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے آنے والے شدید اچانک سیلاب نے نیپال کے ہمالیائی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے بعد متعدد ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن سرنگوں اور مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔

  9. اسرائیلی قید سے ایک لبنانی شہری رہا، مزید چار کی رہائی آج متوقع

    لبنان کے ان پانچ شہریوں میں سے ایک کو واپس ان کے ملک کے حوالے کر دیا گیا ہے جنہیں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران حراست میں لیا تھا، جبکہ باقی چار افراد کی رہائی جمعہ تک مؤخر کر دی گئی۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ افراد عام شہری تھے، کسی مسلح یا دہشت گرد تنظیم سے وابستہ نہیں تھے اور نہ ہی کسی کارروائی میں شریک رہے تھے، اس لیے انھیں مزید حراست میں رکھنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل پانچ لبنانی شہریوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ بعد ازاں لبنانی فوج نے آئی سی آر سی کے ذریعے ان میں سے ایک شخص، مالک غازی، کو وصول کر لیا۔ انھیں جنوبی لبنان کے ناقورہ بارڈر کراسنگ سے شہر صور میں لبنانی فوجی انٹیلی جنس کے دفتر منتقل کیا گیا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق باقی چار افراد، جن میں حسین عبداللہ محمود عیاش، اسعد محمود محمد الحسیکہ (شامی شہری)، علی حسن شور اور سام ابراہیم الصمادی شامل ہیں، کو جمعہ کی صبح لبنان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ ریڈ کراس نے اس عمل کو ایک جاری انسانی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تفصیلات آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ عام شہری ہیں اور کسی دہشت گرد سرگرمی یا تنظیم سے ان کا تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اسی بنیاد پر ان کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی لبنان میں تنازع کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنی تحویل میں موجود افراد کو رہا کیا ہے۔

    لبنانی حکام نے اگرچہ اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی، تاہم متاثرہ خاندانوں اور ان کے امور کی نگرانی کرنے والی ایک کمیٹی کے مطابق کم از کم 33 افراد 2024 سے مختلف اوقات میں لبنانی سرزمین سے حراست میں لیے گئے۔ ان میں ایک شامی شہری اور حزب اللہ کے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔

    یہ پیش رفت گزشتہ ماہ روم میں امریکی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات میں لبنانی حکومت نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ زیرِ حراست لبنانی شہریوں کی پہلی کھیپ کو رہا کرے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اس رہائی کو دونوں ممالک کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں سے جوڑا ہے جن کا مقصد 1980 کی دہائی میں لبنان میں اغوا اور قتل کیے گئے لبنانی یہودی شخصیات کی باقیات کا سراغ لگانا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران لبنان اور اسرائیل نے ان باقیات کی تلاش کے لیے مختلف زمینی سرگرمیاں بھی انجام دی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کی نوعیت اور نتائج کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  10. جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے

    جنوبی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ان کی حکومت ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی‘ کے تحفظ کے لیے فوجی سازوسامان اور اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے، اور اس مشن کو رواں سال کے اختتام سے پہلے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    روئٹرز نے جمعرات، 12 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ جنوبی کوریائی میڈیا نے سرکاری اور فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیئول اس تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری حاصل کرنے کی خاطر ضروری قانونی مراحل طے کر رہا ہے۔

    ان رپورٹس کے مطابق، حکومت کابینہ میں اس منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد اسی ماہ پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    جنوبی کوریا کی ممکنہ فوجی تعیناتی ایسے وقت میں زیرِ غور ہے جب آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال کشیدہ ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد ممالک اس اہم آبی گذرگاہ میں بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے کردار کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    تاہم، جنوبی کوریا کی حکومت کے عہدیداروں نے اب تک ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  11. امریکی حملے میں ’تین ایرانی پائلٹ ہلاک‘

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نیوز نے خبر دی ہے کہ دو رات قبل ایران پر امریکی حملوں میں ’تین ایرانی فوجی پائلٹ‘ ہلاک ہوئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والی اس میڈیا ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ پائلٹ کہاں اور کس طرح ہلاک ہوئے۔

    تسنیم نیوز کے مطابق ان پائلٹس کے نام مجتبیٰ باقری، بحریہ کے حامد اوکاٹی اور فضائیہ کے حسین مہدویان تھے۔

    تسنیم نے ایک علیحدہ رپورٹ میں ایرانی آرمی فورسز کے چھ دیگر ارکان کے نام بھی شائع کیے اور کہا کہ وہ ملک کے جنوبی حصوں میں حملوں میں ہلاک ہوئے۔

    یاد رہے کہ امریکہ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایران پر ایک لمبے وقفے کے بعد حملے کیے تھے۔ سینٹکام نے دو دن قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی ایران کے متعدد شہروں پر حملے کیے ہیں۔

    ایران کے مطابق سرک میں کوہستک پر حملے کے علاوہ صوبہ خوزستان کے اہواز اور آغاجری کے علاقوں میں کیے گئے حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی شناخت ’مقبول سکیورٹی فورسز‘ کے رکن کے طور پر ہوئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار ارکان صوبہ کرمانشاہ میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ اطلاعات کے مطابق لاوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورس کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

  12. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی افواج پانچ سو میل دور چلی گئی ہیں آبنائے ہرمز نہیں کھول سکنے کے باعث وہ ایسے اقدامات کر رہی ہیں۔‘
    • روس نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دیگر ممالک کو ایران کی حمایت ختم کرنے اور اس سے دوری اختیار کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خزانہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’ہم ایران پر غیر معمولی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ اس تنازع کو ختم کرنے کا تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایرانی حکومت کی مدد نہ کرے۔‘
    • ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ سرک کاؤنٹی کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر ’جان بوجھ‘ کر حملے سے انکار کا مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    • اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ ایران کے کئی شہروں میں عام شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کیے کیے گئے، بچوں سمیت شہریوں کو قتل کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔‘
    • ایرانی فوج نے کویت میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران 15 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔