’مضبوط رہنما‘ کی شبیہ رکھنے والے مودی ’دوستوں‘ سے گھلنے ملنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, نکیتا یادیو
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انڈیا میں جن زی (جنریشن زی) سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوان شاید وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا دوست نہ سمجھتے ہوں، لیکن مودی اب ان سے دوستوں کی طرح بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
75 سالہ انڈین وزیراعظم نے طویل عرصے تک ایک مضبوط اور بااثر رہنما کی شبیہ قائم رکھی، جس کے لیے سکرپٹڈ تقاریر، رسمی نشریات اور احتیاط سے ترتیب دی گئی تقریبات کا سہارا لیا جاتا رہا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں انھوں نے نوجوانوں میں مقبول فوٹو اور ویڈیو پلیٹ فارم انسٹاگرام پر نسبتاً غیر رسمی انداز اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایک ماہ قبل تک مودی کی انسٹاگرام ٹائم لائن زیادہ تر محتاط انداز میں تیار کی گئی پوسٹس پر مشتمل تھی، لیکن اب اس میں زیادہ ’بے تکلفی‘ دکھائی دینے لگی ہے۔ ان میں ’گیٹ ریڈی وِد می‘ طرز کی ایک ویڈیو اور نوجوانوں سے سیلفی انداز میں کیے گئے کئی خطاب شامل ہیں، جن میں وہ نوجوانوں کو ’دوست‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں انھوں نے جن زی میں مقبول ایک جملے کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی میں طلبہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ اپنے خاندان کی ’پہلی نسل‘ ہیں جو راکٹ، چِپ اور ڈرون بنانے کے شعبے میں آگے بڑھی ہے۔
مودی کے انسٹاگرام پر 10 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، جس کے باعث وہ اس پلیٹ فارم پر دنیا کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں۔
تاہم انسٹاگرام پر مودی کے رابطے کا انداز ان کی ٹیم یا حکمران جماعت انڈین جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سوشل میڈیا حکمت عملی کا کبھی مرکزی حصہ نہیں رہا، حالانکہ بی جے پی کو ڈیجیٹل سیاست میں مہارت رکھنے والی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ اسی ڈیجیٹل حکمت عملی نے سنہ 2014 کے انتخابات میں بھی پارٹی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
لیکن رواں سال انڈیا میں ہونے والے نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طنزیہ انداز میں قائم کی گئی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں یہ تحریک ابتدا میں مذاق کے طور پر شروع ہوئی، لیکن میمز، لائیو سٹریمز اور انسٹاگرام ریلز کے ذریعے تیزی سے پھیل گئی۔ بعد میں یہ ایک ایسی سیاسی قوت میں تبدیل ہوگئی، جس کے دباؤ کے نتیجے میں ایک وفاقی وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مصنف اور سیاسی مبصر انوراگ مائنس ورما کے مطابق ہندو قوم پرست بی جے پی نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں واٹس ایپ گروپس، فیس بک پیجز اور ایکس اکاؤنٹس کے ذریعے آن لائن اپنی ایک مضبوط سیاسی قوت قائم کی ہے، لیکن نوجوان انڈین سوشل میڈیا اور سیاست کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
انڈیا کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق سنہ 1997 سے سنہ 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، یعنی جن زی، سنہ 2029 کے عام انتخابات تک ملک کے سب سے بڑے ووٹر گروپس میں شامل ہوسکتی ہے۔
نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز تک پہنچنا ہوگا، جہاں روایتی سیاسی پیغامات کے مقابلے میں ذاتی اور غیر رسمی مواد زیادہ اثر انداز ہوسکتا ہے۔
تاہم مودی کی جانب سے انسٹاگرام پر غیر رسمی انداز اپنانے پر نوجوانوں کا ابتدائی ردعمل زیادہ تر طنزیہ رہا۔
مودی کی پہلی سیلفی ویڈیو ریل کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اس ویڈیو میں انھوں نے نوجوانوں کے احتجاج پر اپنی خاموشی توڑی تھی، لیکن سوشل میڈیا صارفین کی توجہ خاص طور پر اس وقت مودی کی طرف گئی جب انھوں نے اس ویڈیو میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ’دوستوں‘ کہا۔
اس ویڈیو کے مختلف مزاحیہ ایڈٹ اور ورژنز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئے، جن میں صارفین نے ویڈیو کی روشنی، کیمرے کے زاویوں اور مودی کے انداز کا بھی مذاق اڑایا۔
اس کے بعد آنے والی پوسٹس میں مودی کی ٹیم نے بظاہر اس تنقید کا جواب دینے کی کوشش کی اور کیمرے کے مختلف زاویوں، پسِ منظر اور روشنی کے ساتھ نئے انداز آزمانے شروع کر دیے۔
اگرچہ کچھ نوجوان صارفین نے نوجوانوں سے رابطے کی اس کوشش کو سراہا، لیکن بہت سے لوگ اب بھی اس کے وقت کو لے کر شکوک کا شکار ہیں۔
22 سالہ گِنی مالیا کہتی ہیں کہ وہ ’سمجھتی ہیں‘ کہ بی جے پی ان کی عمر کے لوگوں سے رابطہ کیوں بڑھانا چاہتی ہے، لیکن ان کے بقول ’اصل بات جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے، وہ اچانک رابطے میں آنے کا یہ وقت ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ان ویڈیوز میں بظاہر جن زی کی زبان اور سوشل میڈیا کے انداز اپنانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن ان مسائل کو حل کرنے کی بات نہیں کی گئی جنھوں نے نوجوانوں کو احتجاج پر مجبور کیا تھا۔‘
یہ تبدیلی صرف مودی کے ذاتی اکاؤنٹ تک محدود نہیں۔ بی جے پی کے سوشل میڈیا پیجز نے بھی نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے میمز، عام بول چال کی زبان اور پاپ کلچر کے حوالوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
احتجاج ختم ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد بی جے پی نے ایک جم میں بنائی گئی ریل پوسٹ کی، جس میں نوجوانوں اور ایک عمر رسیدہ ٹرینر کو یہ بحث کرتے دکھایا گیا کہ نوجوان انڈینز کو احتجاج سے دور رہنا چاہیے۔ تاہم متعدد صارفین نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ’اسے ’بناوٹی‘ اور شرمندگی کا باعث قرار دیا۔‘
بی جے پی کی ایک اور ویڈیو میں سنہ 1990 کی دہائی کے مقبول امریکی سِٹ کام ’فرینڈز‘ کا ٹائٹل ٹریک پسِ منظر میں چلایا گیا، جبکہ کیپشن تھا: ’وزیراعظم مودی آپ کے ساتھ ہیں۔‘ یہ ایک ایسے ٹی وی شو کا حوالہ تھا جو ملینیئلز میں بہت مقبول رہا، لیکن جن زی کے لیے اس کی وہی کشش یا یادداشت نہیں۔
گِنی مالیا کے مطابق ان کی عمر کے لوگوں میں ان ویڈیوز کو سیاسی پیغام یا نوجوانوں سے رابطے کی کوشش کے بجائے ’مزاحیہ مواد‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹس کے مطابق بی جے پی کو بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ نوجوانوں تک پہنچنے کی اس کی کوششیں اس انداز میں اثر نہیں ڈال رہیں جس کی اسے توقع تھی۔
احتجاج کے دوران مودی نے مبینہ طور پر اپنی کابینہ کے وزرا سے کہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں بڑھائیں اور نوجوانوں سے زیادہ رابطہ کریں۔
’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق بدھ کو وفاقی وزرا کو سوشل میڈیا پر ان کی کارکردگی کی ایک ’رپورٹ کارڈ‘ دی گئی اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی مزید بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔
حال ہی میں بی جے پی نے اپنے سوشل میڈیا چیف امیت مالویہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا، جو سنہ 2015 سے یہ ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ احتجاج کے دوران آن لائن بی جے پی پر ہونے والی تنقید اور سوشل میڈیا پر بیانیے کو قابو کرنے میں اس کی ناکامی سے متعلق ہو سکتا ہے۔
تاہم نوجوانوں سے رابطے کی کوشش صرف بی جے پی تک محدود نہیں۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی بھی انسٹاگرام پر اکثر سیلفی انداز کی ویڈیوز اور بے تکلف تصاویر پوسٹ کرتے ہیں۔ احتجاج کے بعد انھوں نے انسٹاگرام پر ’آسک می اینی تھنگ‘ سیشن بھی کیا، جس میں انھوں نے سوالات کے جواب کچھ دلچسپ اور غیر رسمی انداز میں دیے، مثلاً ایک سوال کے جواب انھوں نے کہا: ’کیا آپ نے مجھے اور بیٹ مین کو کبھی ایک ہی کمرے میں دیکھا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم انسٹاگرام پر توجہ حاصل کرنا ایک بات ہے اور وہاں ہونے والی گفتگو کو اپنے حق میں چلانا بالکل دوسری بات۔
مشی گن یونیورسٹی میں سوشل میڈیا کے سیاسی استعمال کی تدریس کرنے والے جویوجیت پال کہتے ہیں کہ ’بی جے پی ایک عرصے سے ایکس اور واٹس ایپ پر موجود اپنے حامیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنے پیغامات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے اور سیاسی بیانیے کو شکل دینے کی کوشش کرتی رہی ہے، لیکن انسٹاگرام پر یہ حکمت عملی مؤثر نہیں۔‘
انسٹاگرام عموماً ایسے مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچاتا ہے جو زیادہ انگیجمنٹ حاصل کرے، مثلاً جسے لوگ زیادہ دیر تک دیکھیں، دوبارہ چلائیں، دوسروں کے ساتھ شیئر کریں یا جس پر زیادہ تبصرے ہوں۔
جویوجیت پال کے مطابق ’یہ مشکل نہیں کہ آپ کو کسی ایسے اکاؤنٹ کی ریل مل جائے جس کے صرف 200 فالوورز ہوں لیکن اس کی ویڈیو کو ایک کروڑ افراد نے دیکھا ہو، جبکہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے کسی اکاؤنٹ کی ویڈیو کو صرف چند ہزار ویوز ملیں۔‘
ان کے مطابق یہ بی جے پی کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ اس کی سوشل میڈیا حکمت عملی ایسے انٹرنیٹ کے لیے بنائی گئی تھی، جہاں نیٹ ورک مرکزی حیثیت رکھتے تھے، جبکہ آج کے پلیٹ فارمز پر صارفین کے ردِعمل اور جذبات زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بی جے پی کے لیے ایک اور مشکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس پر پارٹی کا کنٹرول نہیں رہتا۔
مودی کی پہلی ریل اس کی ایک مثال ہے، جسے اب تک 40 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو نے بہت بڑی تعداد میں ویوز حاصل کیے، لیکن انوراگ مائنس ورما کے مطابق نوجوانوں نے اسے طنزیہ اور مذاق اڑانے والے انداز میں ایڈٹ کرکے دوبارہ شیئر کیا، جس سے ویڈیو کا تاثر مودی کے اصل مقصد سے بالکل مختلف ہوگیا۔
ان کے مطابق بی جے پی کے لیے سوشل میڈیا کے اس رویے کو قبول کرنا ایک چیلنج ہوسکتا ہے۔
ورما کہتے ہیں ’انسٹاگرام بنیادی طور پر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو طنز اور ستم ظریفی کے گرد بنا ہے۔ سنجیدہ سیاسی پیغام کو ریل کی شکل میں پیش کیا جائے تو بھی اسے ٹرول کیا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بی جے پی کی جانب سے جن زی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوششوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ان کے مطابق انتخابی کامیابی کا انحصار اب بھی انسٹاگرام پر مواد کی مقبولیت کے مقابلے میں پارٹی کی تنظیمی طاقت اور وفادار ووٹرز کے مضبوط حلقے پر کہیں زیادہ ہے۔
جویوجیت پال کے مطابق ’انتخاب جیتنے کی صلاحیت اور سوشل میڈیا پر بیانیہ جیتنے کی صلاحیت میں فرق کرنا ضروری ہے۔ بی جے پی اس کے باوجود بھاری اکثریت سے انتخابات جیت سکتی ہے، چاہے سوشل میڈیا پر جن زی کا ہر فرد اس سے نفرت ہی کیوں نہ کرتا ہو۔‘
فی الحال بی جے پی بھی انڈیا کی کئی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح ایک ایسے میدان میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس کے لیے نسبتاً نیا ہے۔
تاہم پال کے مطابق یہ حیران کن نہیں ہوگا اگر بی جے پی بالآخر اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کا مؤثر طریقہ بھی سیکھ لے۔
بی جے پی کے پاس سیاسی رابطے کے نئے طریقوں کو اپنانے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پارٹی نے انتخابی مہمات کے لیے سوشل میڈیا کو ابتدائی مرحلے میں اپنایا اور بعد میں پوڈکاسٹس اور انفلوئنسرز کے انٹرویوز جیسے نئے فارمیٹس کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔
پال کہتے ہیں ’لیکن اس میں وقت لگے گا اور حقیقت یہ ہے کہ ہمیں یہ مسئلہ اب نظر آ رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ انھیں سوشل میڈیا کے نئے اصول سیکھنا ہوں گے۔‘



















