آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریاض کے ہنگامی اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کا اعلان کیوں اہم ہے؟
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پانچ اکتوبر کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت منعقدہ ہنگامی اجلاس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے اس معاہدے کو جلد از جلد فعال کرنے کا اعلان کیا ہے جسے خطے کی حالیہ صورت حال کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پیر کو ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے سعودی عرب میں تیزی سے فوجی دستے تعینات کرنے پر اتفاق کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ سات اگست 2026 کو طے پانے والا وہ دفاعی معاہدہ پہلی بار فعال ہونے جا رہا ہے جس کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اگرچہ مشترکہ اعلامیے میں یمن یا حوثیوں کا نام نہیں لیا گیا تاہم مکہ اور مدینہ پر حملوں کی مذمت کی گئی جبکہ سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اجلاس کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے حملوں سے نمٹنے کے لیے یکجہتی اور مشترکہ موقف کی تصدیق کی اور ان حملوں کے خلاف اجتماعی جوابی صلاحیتوں کو فعال کرنے کی تصدیق کی۔‘
تاہم اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے نے چند اہم سوالوں کو بھی جنم دیا ہے جن میں سے ایک سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب میں مشترکہ فوج کی تعیناتی یمن کے حوثیوں کے خلاف ہو گی؟ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم سوال اس اعلامیے کے ان الفاظ سے جڑا ہے جن کے مطابق اس معاہدے کو فعال کرنے کے لیے افواج کی تعیناتی فریقین کے قومی قوانین کے تحت ہو گی۔
واضح رہے کہ یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی سعودی حمایت یافتہ افواج نے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد ان تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا ہے جن پر حوثیوں نے 12 سالہ جنگ کے دوران قبضہ کیا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی اور ترک فوجیوں کی تعیناتی کب ہو گی اور اس کا جنگ پر کیا سٹریٹجک اثر پڑے گا۔
پاکستان کا موقف کیا ہے؟
پاکستان کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کے اعلان کے بعد سے یہ بارہا کہا جا چکا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہے۔
منگل کو پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم کو پہلے ہی انتہائی واضح کر چکا ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی سودے بازی کی گنجائش نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی ڈھال فراہم کرنا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرکسی ایک ملک پرحملہ ہوا تو تینوں ممالک مل کر فیصلہ کریں گے، تاہم مکہ دفاعی معاہدے کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں اور کوئی بھی ملک یا فوج اپنی آپریشنل تفصیلات جاری نہیں کرتی۔
گذشتہ ہفتے خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے 30 سے 30 ہزار فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔ تاہم منگل کو پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ان خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’اجتماعی دفاعی صلاحیت کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق تفصیلات کا تعلق آپریشنل رازداری سے ہے اور انھیں میڈیا کی قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کی فوج کا ایک دستہ رواں برس اپریل سے سعودی عرب میں تعینات ہے۔
اس بارے میں اس وقت سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کی طرف سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا، اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔
کیا ترکی اپنی فوج بھیج سکتا ہے؟
پیر کو اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں کے عملی نفاذ کی جانب فوری پیش قدمی کرنے اور طے شدہ فوجی دستوں و صلاحیتوں کی فراہمی اور مملکت میں ان کی فوری تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ سب کچھ منظور شدہ انتظامات اور فریقین کے قومی قوانین کے مطابق کیا جائے گا تاکہ تیاری، عسکری انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے و انہیں ناکام بنانے کی اجتماعی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔‘
مشرق وسطیٰ کی خبروں کے تجزیہ کرنے والی ویب سائٹ کے ترکی کے بیورو چیف رجب سویلو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ترکی پارلیمانی منظوری کے بغیر کسی بیرونی ملک میں فوجی دستے تعینات نہیں کر سکتا۔‘
ریگیپ کا کہنا ہے کہ ’استثنیٰ دو طرفہ معاہدے کے تحت فوجی تربیت ہے۔ ترکی کے آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت ترک مسلح افواج کو بیرون ملک تعینات کرنے کے لیے عام طور پر پارلیمانی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں ترکی پروگرام کی بانی گونل ٹول نے ایکس پر لکھا کہ اس اعلامیے میں سب سے اہم الفاظ یہ ہیں کہ ’تینوں ممالک کے قوانین کے مطابق۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’اب تک ترکی کی پارلیمان نے فوجی تعیناتی کی منظوری نہیں دی جس کا مطلب ہے کہ فوری طور پر شاید ترکی صرف دفاعی صلاحیت فراہم کرے گا۔‘
انقرہ کی سوشل سائنسز یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بین الاقوامی سیاست کے پروفیسر مرات یسیلتاش نے 6 اکتوبر کو ترک اخبار ڈیلی صباح میں لکھا کہ ’سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ترکی کی دفاعی شراکت داری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انقرہ خود بخود جنگ میں شامل ہونے پر مجبور ہو جائے گا۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’معاہدے کا مکمل متن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے اور اس کی پارلیمانی منظوری باقی ہے، اس لیے ترکی کے حقیقی فوجی وعدے ابھی واضح نہیں ہیں۔‘
پروفیسر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مکہ معاہدہ محض یکجہتی کے اعلان سے ایک ٹھوس عزم میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں زمین پر فوجی دستوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ یہ واقعی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوا ہے۔ اس سے ایک مضبوط پیغام بھیجا گیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اجتماعی حفاظتی انتظامات کو سب سے پہلے چیلنج کر دیا گیا ہے۔‘
امکان ہے کہ انقرہ مکہ معاہدے یا فوجی تعیناتی کی منظوری کو اگلے 30 دنوں کے اندر ترکی کی قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں لائے گا۔
تاہم ترکی کا ابتدائی تعاون یمن میں لڑاکا فوجیوں کی تعیناتی کے بجائے فضائی دفاع، ڈرون، انٹیلی جنس، نگرانی اور سعودی عرب کی سرزمین پر جاسوسی کی صلاحیتوں کی صورت میں زیادہ امکان ہے۔
ان کے مطابق ’اس سے ترکی کو سعودی سیکیورٹی نیٹ ورکس میں ضم ہونے کا موقع ملے گا جبکہ اس کے خطرے اور عسکری شمولیت کی سطح کو بھی قابل انتظام حدود میں رکھا جائے گا۔ تاہم، اس بات کا قوی امکان ہے کہ حوثی آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے توانائی کے انفراسٹرکچر اور جنوبی شہروں کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو ریاض کے اعلان کے جواب میں تیز کریں گے۔‘
پروفیسر نے لکھا کہ ’ترکی کو متوازن پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ اس کے تحت وہ فضائی اور میزائل دفاع، ڈرون تحفظ، پیشگی وارننگ، تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کر سکتا ہے، لیکن جارحانہ فوجی کارروائیوں سے متعلق فیصلوں پر کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے۔ یمن میں ترک ساختہ فوجی سازوسامان کا استعمال خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ترکی وہاں فوجی آپریشن کر رہا ہے۔‘
’ترکی کو اپنی مدد کی حدوں کا واضح طور پر تعین کرنا چاہیے، ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کو برقرار رکھنا چاہیے، اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو فروغ دینا چاہیے۔ اسے اپنے شراکت داروں کے اقدامات کی وجہ سے وسیع تر تنازعے کی طرف متوجہ ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ اپریل 2015 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے سے سعودی عرب کی ایران کے حمایت یافتہ باغیوں کے خلاف ایک وسیع سنی محاذ بنانے کی کوششوں کو دھچکا سمجھا گیا تھا۔
پاکستانی اراکین پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ ’پاکستان کو یمن تنازع میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تاکہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر سکے۔‘
اس اعلان کی کیا اہمیت ہے؟
حوثیوں کے خلاف فوجی مہم شروع ہوتے ہی اس اعلان کا وقت علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیج میں ایک اور مغربی اہلکار نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ سعودی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ انھیں حوثیوں کے خلاف جوابی فوجی مہم شروع کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔
پاکستان مسلم دنیا کا واحد ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے۔ اس نے خود کو غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کے طور پر بھی کام کیا ہے۔
ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس نے خود کو اسرائیل کے حریف کے طور پر دکھایا ہے۔ اسرائیل غزہ میں جنگ کی وجہ سے عرب اور مسلم دنیا میں شدید غیر مقبول ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے۔
مکہ معاہدے کا حوالہ دے کر، سعودی عرب اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف اس کی جوابی کارروائی کو وسیع علاقائی حمایت حاصل ہے۔
گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر منصور بن زاید کی بھی میزبانی کی۔
پیر کے روز ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی کے ساتھ دو گھنٹے کی ملاقات کی۔
مرفی 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی پر اتفاق ہونے سے پہلے یمنی جنگ کے سب سے زیادہ پرزور ناقدین میں سے ایک تھے۔ یہ معاہدہ جولائی میں اس وقت ٹوٹ گیا جب حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں پر حملے شروع کر دیے۔ دو ماہ بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر فوجی مہم شروع کی۔
سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے پیر کے روز کہا کہ انھوں نے حوثیوں کے زیر قبضہ بیشتر ساحلی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ادارتی بورڈ نے 17 اگست کو لکھا کہ ایرانی حکومت، جسے عرب ممالک 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایک سنگین خطرہ سمجھتے رہے ہیں، اب بھی موجود ہے۔
ایف ٹی ایڈیٹوریل بورڈ نے لکھا کہ ’ایران نے پورے خطے میں فوجی اڈوں، توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا۔ اس کے بعد خلیجی ممالک نے سلامتی کے اہم ضامن کے طور پر امریکہ پر اپنے انحصار کا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا۔‘
’اس کے نتیجے میں، سعودی عرب، ترکی، اور پاکستان نے ایک باہمی دفاعی معاہدے پر اتفاق کیا، جس پر اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ میں علامتی طور پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اور جنگ سے پیدا ہونے والے عدم استحکام سے لڑنے کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔‘