لارڈز ٹیسٹ: بابر اعظم ’90 فیصد فِٹ‘ مگر ٹیم کا اعلان ’پِچ دیکھنے کے بعد کیا جائے گا‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ہاتھ پر چوٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے تھے تاہم اب وہ انجری سے کافی حد تک صحت یاب ہونے کے بعد لارڈز میں ٹیم کی قیادت کے لیے تیار ہیں۔

دوسرے ٹیسٹ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس میں قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ’وہ ’90 فیصد فٹ‘ ہیں اور دوسرے ٹیسٹ کی تیاری کے دوران خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں۔‘

بابر اعظم نے کہا کہ انھوں نے چند پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا ہے اور وہ دوسرے ٹیسٹ اور سیریز کے بقیہ میچز کے لیے 90 فیصد فٹ ہیں۔

پاکستان کے فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کے مطابق بابر نے منگل کو نیٹس میں تیز گیندوں کا سامنا بھی کیا، تاہم ان کی زیادہ تر بیٹنگ پریکٹس تھرو ڈاؤنز کے خلاف ہوئی ہے۔ بدھ کو پریس کانفرنس کے بعد بابر نے نیٹس میں مزید تھرو ڈاؤنز اور کچھ سپن کا سامنا کیا، لیکن خاص بات یہ رہی کہ انھوں نے تیز بولنگ کا سامنا نہیں کیا۔ انگلینڈ لارڈز ٹیسٹ میں کسی سپیشلسٹ سپنر کو ٹیم میں شامل نہیں کرے گا۔

بابر کی واپسی پاکستان کی بیٹنگ لائن کے لیے یقیناً اہم ہے، تاہم صرف ان کی شمولیت مسائل کے حل کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ بابر نے تسلیم کیا کہ ہیڈنگلے میں تین روزہ شکست کے دوران پاکستان کھیل کے کسی بھی شعبے میں ’معیار کے مطابق‘ کارکردگی نہیں دکھا سکا اور بار بار بیٹنگ لائن کے بکھرنے کی ذمہ داری پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ٹیم کی مکمل کارکردگی ضروری ہے، بولنگ اور بیٹنگ میں شراکت داری قائم کرنا ہوگی۔ اگر کوئی بیٹر وکٹ پر سیٹ ہو جائے تو اسے اننگز کو زیادہ آگے لے کر جانا چاہیے، کیونکہ نئے آنے والے بیٹر کے لیے شراکت داری بنانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں بھی اسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں امام الحق اور عبداللہ شفیق نے ابتدائی مشکلات سے نکلتے ہوئے 91 رنز کی شراکت قائم کی، لیکن دونوں بیٹرز اس اچھی شروعات کو بڑی اننگز میں تبدیل نہ کر سکے۔

اس شراکت کے ٹوٹنے کے بعد پاکستان کی وکٹیں تیزی سے گرنے لگیں اور آخری آٹھ وکٹیں صرف 64 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔ پاکستان 97 رنز پر دو وکٹوں سے 171 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا، جو ایک دہائی میں اس کی پہلی اننگز کا سب سے کم ٹیسٹ اسکور تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بابر اعظم کی واپسی سے پاکستان کے مڈل آرڈر کو مضبوطی ملنے کی امید ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کی بیٹنگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے عبداللہ شفیق کے بابر کے ساتھ بیٹنگ کرنے اور اوپننگ سے نیچے آنے کی توقع ہے۔ اس صورت میں اذان اویس کو ٹیم سے باہر ہونا پڑ سکتا ہے۔

بابر نے واضح کیا کہ شفیق کو ان کے موجودہ نمبر پر ہی برقرار رکھا جائے گا، کیونکہ واپسی کے بعد انھوں نے تیسرے اور چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اعتماد حاصل کیا ہے۔ شفیق نے اپنی آخری چار اننگز میں 260 رنز 130 کی اوسط سے بنائے ہیں۔

بابر نے کہا کہ ’پاکستان کو مسلسل وکٹیں گنوانے کے سلسلے کو روکنا ہوگا اور سینئر بیٹرز کو زیادہ توجہ کے ساتھ ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس کمی کو پورا کرنا ہوگا۔‘

یہ انگلینڈ میں بابر اعظم کا تیسرا دورہ ہے اور وہ پہلی مرتبہ لارڈز میں پاکستان کی قیادت کریں گے۔ انھیں آخری مرتبہ سنہ 2020 میں انگلینڈ کے دورے کے فوراً بعد پہلی بار قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ لارڈز میں پاکستان کی قیادت کرنے والے وہ پاکستان کے 15ویں کپتان بن جائیں گے۔

بابر اعظم نے کہا کہ لارڈز جیسے میدان میں پاکستان کی قیادت کرنا اعزاز کی بات ہے۔ ان کے مطابق وہ بطور کپتان میدان میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور بیٹنگ کے دوران اپنے کھیل پر توجہ دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’لارڈز میں پاکستان کا ریکارڈ اچھا ہے اور ٹیم اس کارکردگی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔‘ بابر کے مطابق ٹیم پہلے ٹیسٹ کو بھلا کر دوسرے میچ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

’ہم مسلسل احمقانہ غلطیاں کر رہے ہیں‘
England Cricket Team

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل انگلینڈ کے 31 سالہ فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو ڈراپ کیے جانے کے بعد انگلش کپتان جو روٹ نے ڈربی کے ایک نائٹ کلب کے باہر پیش آنے والے واقعے پر سخت برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ کارس کو سنیچر کی شب پولیس نے مبینہ طور پر نشے میں ہنگامہ آرائی کے شبہ میں گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اسی دوران کارس کو دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے سکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ کا کہنا ہے کہ وہ ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں فاسٹ بولر برائیڈن کارس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر ’سخت برہم‘ اور ’مایوس‘ ہیں۔

روٹ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے آغاز میں کہا ’اگر میں بالکل صاف بات کروں تو میں واقعی بہت برہم اور مایوس ہوں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ ہفتے کی کارکردگی کے بعد ہم یہاں بیٹھے ہیں اور ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کا کھیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے انگلینڈ نے لیڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز کی شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی تھی۔

انگلش کپتان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ کہتے ہوئے میں حد سے تجاوز کر رہا ہوں کہ وہ (کارس) بہت زیادہ پریشان اور شرمندہ ہیں اور اپنے عمل کی نوعیت کو سمجھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب انھیں موقع ملے گا تو وہ خود یہ بات کہیں گے۔‘

’لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مسئلہ صرف یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم کھیل سے ہٹ کر مسلسل احمقانہ غلطیاں کر رہے ہیں اور اس سے میدان میں ہماری کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔‘

واضح رہے کہ اکتوبر میں انگلینڈ کے وائٹ بال کے کپتان ہیری بروک کو نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں ایک نائٹ کلب کے باہر باؤنسر نے گھونسا مارا تھا اس دوران انگلش ٹیم کے کھلاڑی جیکب بیتھل اور جوش ٹونگو بھی موجود تھے۔

آسٹریلیا کے ایشیز دورے کے دوران، اوپنر بین ڈکٹ کو نوسا میں انگلینڈ کی چھٹیوں پر بظاہر نشے میں دیکھا گیا تھا۔

England Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنیچر کی شب ہوا کیا تھا؟

اتوار کو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں 31 سالہ برائیڈن کارس کو سنیچر کی شب ڈربی کے ایک نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں دیکھا گیا۔

ڈربی شائر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔

پولیس کے بیان کے مطابق ’30 سال کی عمر کے ایک فرد کو سنیچر کی شب 22 اگست کو ڈربی سٹی سینٹر میں نشے میں ہنگامہ آرائی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’مذکورہ شخص نے علاقہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی جس کے کچھ ہی دیر بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔‘

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اس واقعے کو کرکٹ کے آزاد نگران ادارے ’کرکٹ ریگولیٹر‘ کے حوالے کر دیا ہے، جو معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ تحقیقات کے پیش نظر برائیڈن کارس کو سکواڈ سے باہر کر کے ان کی جگہ سونی بیکر کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ انگلینڈ کی ٹیم سے وابستہ حالیہ آف دی فیلڈ واقعات کی ایک اور کڑی ہے۔ کارس اس موسم گرما میں نظم و ضبط سے متعلق معاملے کے باعث ٹیسٹ میچ سے محروم ہونے والے انگلینڈ کے تیسرے کھلاڑی ہیں۔

ای سی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ای سی بی کی جانب سے معاملہ ریفر کیے جانے کے بعد ’کرکٹ ریگولیٹر‘ نے تصدیق کی ہے کہ وہ سنیچر کی شب ڈربی میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کرے گا۔‘

بیان کے مطابق ’تحقیقات جاری رہنے اور واقعے سے متعلق مکمل حقائق سامنے آنے تک برائیڈن کارس دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کارس انگلینڈ کی اُس ٹیم کا حصہ تھے جس نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شرکت کی، تاہم ہیڈنگلے میں کھیلا گیا یہ میچ میزبان ٹیم نے تین دن کے اندر ایک اننگز سے جیت لیا تھا۔

میچ میں کامیابی کے بعد ڈربی کے نائٹ کلب کے باہر کارس کی ہتھکڑیوں میں ایک ویڈیو سامنے آئی۔ یہ واقعہ لارڈز میں پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ سکواڈ کے ساتھ دوبارہ شامل ہونے کے لیے لندن روانہ ہونے سے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے پیش آیا۔

روٹ نے بی بی سی سپورٹ سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’آپ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ اپنے ملک کی بہترین انداز میں نمائندگی کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حالیہ کچھ عرصے میں چند مواقع پر شاید ہم اس معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔ اس کی اصلاح کے لیے ہم صرف یہی کر سکتے ہیں کہ بہت اچھے رول ماڈل اور اچھے انسان بنیں اور میدان میں انتہائی مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔‘

پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل روٹ نے اپنے کھلاڑیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ’ایک اچھے رول ماڈل اور اچھے انسان‘ کے طور پر سامنے آئیں۔