سرانان بازار میں پولیس تھانے کو تباہ کرنے کی وائرل ویڈیو: پشتون اکثریتی علاقے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی کارروائی کیا ظاہر کرتی ہے؟

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’جمعرات کی سہہ پہر ساڑھے تین سے چار بجے کے درمیان کا وقت تھا جب 25 سے زیادہ مسلح افراد سرانان بازار میں داخل ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد انھوں نے وہاں موجود پولیس تھانے کی عمارت کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے تباہ کر دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا علاقہ ہِل کر رہ گیا اور دور دور تک دھماکے کی آواز سُنی گئی۔‘

یہ کہنا ہے کہ بلوچستان میں ضلع پشین کے علاقے سرانان سے تعلق رکھنے والے ارسلان (حفاظت کے پیشِ نظر نام تبدیل کیا گیا ہے) کا، جن کے مطابق مسلح افراد اندازاً 40 سے 50 منٹ تک بازار میں موجود رہے اور وہاں موجود دو سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچانے اور تھانے کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اُڑانے کے بعد وہاں سے چلے گئے۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے ارسلان نے مزید بتایا کہ بعدازاں پتا چلا کہ مسلح افراد کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی سے ہے۔

یاد رہے کہ سرانان میں پولیس تھانے کو تباہ کرنے اور دو سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

سرانان میں 20 اگست کو پیش آئے اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جن میں عسکریت پسند تھانے کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے تباہ کرتے نظر آ رہے ہیں اور اس موقع پر مقامی افراد بھی موجود ہیں۔ مقامی شہریوں اور پشین پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔

ایک سیینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکے سے تھانے کا مرکزی گیٹ اور دو کمرے مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ تین کمروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ تھانے کو اگلے ہی روز مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تھا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سرانان بازار میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کا نہ صرف پیچھا کیا، بلکہ اُن کو نقصان بھی پہنچایا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ عناصر بیرونی ممالک کے ایما پر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ بہت ساری چیزیں اُن کے کنٹرول میں ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ کچھ دیر کے لیے اگر کہیں آتے ہیں، تو پھر جلدی سے سکیورٹی فورسز کے خوف سے فرار بھی جاتے ہیں۔‘

سرکاری حکام کے مطابق کالعدم تنظیموں کی ایسی کارروائیوں کا مقصد میڈیا کی توجہ حاصل کرنا اور بیرونی ممالک کی ایما پر خوف و ہراس پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔

اگرچہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بلوچستان میں عسکریت پسندی کے واقعات بڑھے ہیں، تاہم سکیورٹی اُمور کے ماہر اور تجزیہ کاروں کے مطابق سرانان میں پیش آنا والا واقعہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ کسی بلوچ عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے خالصتاً پشتون آبادی والے علاقے میں کیا گیا ہے۔

مقامی افراد کیا بتاتے ہیں؟

سرانان کے رہائشی افراد اور مقامی سرکاری اہلکاروں نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ مسلح افراد سرانان بازار میں داخل ہونے کے بعد پہلے پولیس سٹیشن گئے جہاں انھوں نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا، اور اُس کے بعد انھوں نے تحصیل آفس اور نادرا کے دفاتر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

اُن کے مطابق تحصیل آفس اور نادرا کے دفاتر کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا اور اِن عمارتوں کے صرف شیشے ٹوٹے۔

مقامی رہائشی ارسلان کے مطابق مسلح افراد نے بازار سے جانے سے قبل تھانے کو دھماکہ خیز مواد اڑا دیا۔ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قرب و جوار موجود کچے گھروں کو نقصان پہنچا مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

اس حوالے سے وائرل ایک ویڈیو، جس کی تصدیق بی بی سی سے بات کرنے والے مقامی افراد اور ایک سینیئر پولیس افسر نے کی ہے، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد سرانان بازار میں نظر آ رہے ہیں، اور وہاں موجود مقامی افراد کچھ فاصلے پر ٹولیاں بنائے انھیں دیکھ رہے ہیں۔

ویڈیو میں ایک مسلح شخص بازار کی مین روڈ پر بیٹھتا ہے اور دور سے اُس بارودی مواد کو اڑاتا ہے جو کہ تھانے میں نصب کیا گیا تھا۔

اس دوران لوگ اس جگہ سے دور جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُسی وقت ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے اور گرد و غبار کے طوفان کے ساتھ بہت ساری ٹھوس اشیا فضا میں بکھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

اس دوران بعض لوگ پشتو زبان میں یہ کہتے ہوئے سُنائی دیتے ہیں کہ یہ کالعدم بی ایل اے والے ہیں، جنھوں نے تھانے کو اڑا دیا ہے۔

سرانان کے ایک اور رہائشی کلیم خان (حفاظت کے پیش نظر نام تبدیل کیا گیا ہے) نے بتایا کہ ضلع پشین کے سرحدی علاقے اجرم میں پشتونوں کے علاوہ بلوچ لوگ بھی رہتے ہیں اور اس کے ساتھ پنجپائی کا علاقہ ہے جہاں سے بلوچ بیلٹ شروع ہوتا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ عرصہ پہلے تک کالعدم بی ایل اے کے لوگ سرانان کے قرب و جوار کے علاقوں میں آتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وہ سرانان بازار تک پہنچے ہیں اور وہاں کارروائی کی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں اگرچہ کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن پولیس تھانے کی عمارت سے پتھر اُڑ کر گھروں پر گرے جس سے چھتوں پر سولر پینلز اور دیگر اشیا کو نقصان پہنچا۔

سرانان انتظامی لحاظ سے کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا حصہ ہے اور یہ علاقہ کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً کوئٹہ چمن شاہراہ پر 57 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سرانان اور پشین کے دیگر علاقوں کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے تاہم اس سے متصل جنوب مغرب میں ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں بلوچ قبائل آبادہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پشین شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی بم دھماکوں اور پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں جن کی ذمہ داری مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پشین شہر کے قریب بالخصوص کوئٹہ چمن شاہراہ پر سرانان جیسے علاقے میں کسی بلوچ عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی۔

تاہم اس سے قبل پشتون آبادی والے علاقوں جن کی سرحدیں بلوچ آبادی والے علاقوں سے لگتی ہیں یا ان کے بعض حصوں میں بلوچ بھی آباد ہیں، وہاں کالعدم بی ایل اے کارروائیاں کرتی رہی ہے جن میں ہرنائی، دُکی اور زیارت شامل ہیں۔

تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم بی ایل اے کا ایک پشتون علاقے میں دن دہاڑے آ کر ایک پولیس سٹیشن کو تباہ کرنا اور بغیر کسی رکاوٹ یا مزاحمت کے واپس چلے جانا ایک اہم پیشرفت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے کالعدم تنظیم نے پشین سے متصل قلعہ عبداللہ میں ایک پولیس سٹیشن کو تباہ کیا تھا لیکن یہ قلعہ عبداللہ کے ایک سرحدی علاقے میں ہوا تھا۔

’سرانان کا علاقہ تو کوئٹہ چمن کے درمیان مین ہائی وے پر واقع ہے۔ یہاں پر اُن کا دن دہاڑے آنا بہت ہی حیران کن ہے اور یہ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ’وہ (بی ایل اے) دن کی روشنی میں کوئٹہ چمن ہائی وے جیسی مرکزی جگہوں پر واقع پشتون علاقوں میں آ سکتے ہیں۔ یہ مسلح تنظیموں کی بڑھتی ہوئی مضبوطی اور اعتماد کا بھی اظہار ہے، جو کہ ایک لحاظ سے سکیورٹی کی ناکامی ہے۔'

سکیورٹی اُمور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا کا کہنا ہے کہ سرانان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی کارروائی کا مقصد بظاہر اس علاقے میں اپنی موجودگی کو ظاہر کرنا ہے اور یہ بھی کہ ہم اب بلوچ علاقوں سے نکل کے پشتون علاقوں میں بھی آ چکے ہیں۔

انھوں نے یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پشتون علاقوں میں اس طرح کے واقعات یہ پہلے بھی کر چکے ہیں جن میں بعض واقعات میں شناخت کی بنیاد پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مارا گیا، لیکن پشین کے حوالے سے اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ تو کوئٹہ سے بالکل متصل ہے۔

پشتون آبادی والے علاقوں میں شدت پسندی کی کارروائیوں کے خلاف سیاسی جماعتوں بالخصوص پشتون قوم پرست جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک بیان میں اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دن دہاڑے مسلح لوگوں کا بازار میں پولیس تھانے پر حملہ اور کسی ملزم کا گرفتار نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سرانان میں ہونے والی کارروائی ’دہشت گردی‘ کی کارروائی تھی جس کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کا کام جرائم کو کنٹرول کرنا اور جرائم پیشہ افراد کو پکڑنا ہوتا ہے اس لیے کالعدم تنظیم کے لوگوں نے تھانے کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کارروائی کے بعد سرانان میں دہشت پھیلانے والوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور اُن کو نقصان پہنچایا گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ سرانان میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ہے اور جو بھی غفلت کا مرتکب پایا گیا تو اُس کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ عناصر بیرونی ممالک کے ایما پر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ بہت ساری چیزیں اُن کے کنٹرول میں ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لیے یہ کچھ دیر کے لیے اگر کہیں آتے ہیں تو پھر جلدی سے سکیورٹی فورسز کے خوف سے فرار ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آج یہ تھانوں کو اُڑا رہے ہیں، اس سے پہلے آپ دیکھیں انہی عناصر نے شاہراہوں اور پُلوں کو نقصان پہنچایا۔ یہ شاہراہیں پاکستان اور بلوچستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ عام لوگ اُن پر سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح معصوم مسافروں کا قتل کرنے کے علاوہ مزدوروں کا بھی قتل کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اِن کارروائیوں کی آڑ میں بلوچستان کی ترقی کے خلاف ایک سازش ہو رہی ہے کیونکہ اُن کو پتہ ہے کہ اگر بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ یہ بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں۔'

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری سکیورٹی فورسز بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر کالعدم تنظیموں کی سازشوں کو ناکام بنا رہی ہیں اور وہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ اپنی آئندہ کی نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بلوچستان میں ہر شخص اور ہر طبقے کو ان کے خلاف کھڑے ہو کر مقابلہ کرنا ہو گا۔‘