آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے، امریکہ کی ایران کے خلاف مزید سخت معاشی پابندیوں کی دھمکی

امریکہ نے آج سے ایران کے خلاف سخت معاشی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے تاہم دوسری جانب ایران نے خطے سے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے ہیں اور منگل کے روز عمان کے وزیرِ خارجہ بھی تہران کا دورہ کریں گے۔

خلاصہ

  • روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی 'اوزون' یوکرینی ڈرون حملوں کی زد میں
  • سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ لگ گئی، عملہ محفوظ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران پہنچ گئے
  • ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے امریکہ کی جانب سے معاشی دباؤ بڑھانے کی بات دراصل فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے
  • امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا‘

لائیو کوریج

  1. ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ میں بڑے اضافے کا اعلان آج متوقع

    امریکہ آج ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافے کی تفصیلات کا اعلان کرنے والا ہے۔ توقع ہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ تہران کے وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے نیوز کانفرنس میں ایران پر امریکی تاریخ کے ’سب سے سخت‘ اقتصادی دباؤ کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خزانہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم کے اگلے مرحلے کا جامع خاکہ پیش کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ اس اقدام کو ’معاشی ڈی ڈے‘ قرار دے چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ میں ’ڈی ڈے‘ اتحادی افواج کا ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن تھا، جس نے شمال مغربی یورپ کو نازی قبضے سے آزاد کرانے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

    روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پیر کے روز تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی کمپنیوں اور ممالک پر عائد کی جا سکنے والی ثانوی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔

    ادھر سکاٹ بیسنٹ نے فنانشل ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں لکھا کہ ’ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک محدود کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو کمزور کرنے کے بعد اب ہم اپنی مہم کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

    امریکی اقدامات کے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کے باعث ایران میں غیر ملکی کرنسی کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت 200 ہزار تومان کی سطح سے تجاوز کر گئی۔

  2. مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی جڑ فلسطین کا مسئلہ ہے: چینی صدر

    چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی جڑ فلسطین کا مسئلہ ہے۔

    شی جن پنگ نے اس مسئلے کے سیاسی حل، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے جلد قیام پر زور دیا۔

    چینی صدر نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے دیرینہ ہدف کو عملی شکل دی جانی چاہیے۔

    یہ بیان چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ملاقات کے سرکاری خلاصے میں سامنے آیا ہے۔

  3. تزویراتی تیل ذخائر کے نئے اجرا کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں، آئی ای اے سربراہ

    عالمی توانائی کے نگران ادارے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ فی الحال تزویراتی تیل ذخائر کو دوبارہ جاری کرنے پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے۔

    فاتح بیرول کے مطابق آئی ای اے تیل کی عالمی منڈیوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ مارچ میں 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیے جانے کے بعد بھی تزویراتی ذخائر کا تقریباً 80 فیصد حصہ باقی ہے۔

    آئی ای اے نے مارچ میں اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سرکاری تیل ذخائر کے اجرا کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد کیا گیا تھا، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو مستحکم رکھنا اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو کم کرنا تھا۔

  4. مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس نازک مرحلے میں داخل، مذاکرات کی جانب واپسی ناگزیر: چینی وزیرِ خارجہ

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کا خطہ ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقوں کو جلد از جلد مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی جانب واپس آنا چاہیے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے یہ بات بیجنگ میں کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ملاقات کے دوران کہی۔

    انھوں نے زور دیا کہ خطے میں بار بار تنازعات اور محاذ آرائی کے پرانے طرزِ عمل کو نہیں دہرایا جانا چاہیے اور موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ترجیح کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

    وانگ یی کا کہنا تھا کہ چین خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کویت کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اس کے تجارتی شراکت داروں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جسے تہران نے ’تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی حملہ‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف ’معاشی جنگ‘ جاری رہی تو وہ خلیج فارس سے تیل کی تمام برآمدات روکنے پر غور کر سکتا ہے۔ ایران نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ بحری جہاز ایرانی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کریں۔

  5. ایران نے کرنسی کی قدر میں کمی کو ’عارضی‘ اور ’پروپیگنڈا حملے‘ کا نتیجہ قرار دے دیا

    ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے غیر سرکاری شرح مبادلہ میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال عارضی ہے اور اس کے پیچھے ’پروپیگنڈا‘ کارفرما ہے۔

    انھوں نے آج کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کرنسی پالیسیوں کا رخ تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔‘

    گذشتہ روز ایران کی آزاد منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں ڈالر پہلی بار 200 ہزار تومان کی سطح سے تجاوز کر گیا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ آج سے ایران کے خلاف نئی اور سخت پابندیاں نافذ کرنے جا رہا ہے، جس کے باعث زرمبادلہ کی طلب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    بہت سے ایرانی شہریوں کو خدشہ ہے کہ ملکی کرنسی کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، اسی لیے وہ اپنے اثاثوں کی مالیت محفوظ رکھنے کے لیے سرمایہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کی منڈیوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

  6. ایران مکمل طور پر ٹوٹ رہا ہے: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران مکمل طور پر ٹوٹ رہا ہے۔‘ امریکی صدر نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایران پر ’کرشنگ‘ اقتصادی دباؤ ڈالیں گے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی آج فنانشل ٹائمز میں ایک آپشن میں ایران کو ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی دھمکی دی۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کچلنے اور اس کا جوہری پروگرام کمزور ہونے کے بعد، اب ہم آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

    بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے خدشات کے درمیان ایران کی غیر سرکاری منڈی میں گذشتہ روز زرمبادلہ اور سونے کی شرح مبادلہ نے ایک نیا ریکارڈ بنایا اور ڈالر دو ملین ریال کی حد عبور کر گیا۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ملک یا ادارے کو سزا دی جائے گی۔ ایران نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک جو معاشی دباؤ میں امریکہ کی مدد کرے گا اسے ’دشمن‘ تصور کیا جائے گا اور اسے منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

    دریں اثنا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کے کمانڈر اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اعلی ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تہران میں ہیں۔ پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس دورے کا مقصد پرامن حل تک پہنچنا تھا۔

  7. روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی ’اوزون‘ یوکرینی ڈرون حملوں کی زد میں, جیمز گریگوری

    یوکرین کے ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر نے روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی اوزون کے گوداموں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے کمپنی کی لاجسٹکس تنصیبات میں آگ لگ گئی جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    اوزون کے مطابق روس کے جنوبی علاقوں کراسنودار، داغستان، ستاوروپول اور ادیگیا میں واقع اس کی لاجسٹکس سہولیات رات بھر ہونے والے حملوں کے بعد متاثر ہوئیں۔

    یوکرین گذشتہ کئی ہفتوں سے روس کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کی تنصیبات کو بھی نشانہ بناتا رہا ہے۔ کیئو کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنی روسی فوج کو پرزہ جات اور سامان فراہم کرتی ہے، تاہم ماسکو اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ یوکرین نے معاشی اہداف کو نشانہ بنا کر ’پنڈورا باکس‘ کھول دیا ہے اور روس اس کے جواب میں یوکرین کے ’انتہائی حساس معاشی شعبوں‘ کو نشانہ بنائے گا۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی حملوں کی متعدد ویڈیوز کی بی بی سی نے تصدیق کی ہے۔ ایک ویڈیو میں اورنبرگ کے علاقے میں ایک ڈرون کو گودام سے ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو میں داغستان میں واقع گودام سے دھویں اور آگ کے بڑے شعلے اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔

    1998 میں قائم ہونے والی اوزون روس کی قدیم ترین آن لائن ریٹیل کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ملک بھر میں موجود اس کے پک اپ مراکز اور ڈیلیوری نیٹ ورک کے باعث یہ حجم اور رسائی کے اعتبار سے صرف وائلڈ بیریز سے پیچھے ہے۔

    روس میں اکثر مشترکہ پک اپ پوائنٹس پر اوزون اور وائلڈ بیریز کے لوگو ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

    ان کمپنیوں کو نشانہ بنائے جانے سے جنگ کے اثرات عام روسی شہریوں تک زیادہ شدت سے پہنچنے لگے ہیں۔ دونوں کمپنیوں کو اکثر ’روس کا ایمازون‘ کہا جاتا ہے، اور اندازوں کے مطابق روس کی معاشی طور پر متحرک آبادی کا 85 سے 90 فیصد حصہ ان پلیٹ فارمز سے استفادہ کرتا ہے۔

    روس کے دور دراز علاقوں میں، جہاں دکانوں تک رسائی محدود ہے، بہت سے لوگ کپڑوں، گھریلو سامان اور برقی آلات کی خریداری کے لیے انھی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔

    اوزون اور وائلڈ بیریز آزاد فروخت کنندگان کو خریداروں سے جوڑتے، سامان ذخیرہ اور ترسیل کرتے اور ادائیگیوں کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حملوں سے ہونے والے مالی نقصانات کا بڑا حصہ ان کاروباروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔

    کریملن نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ یہ آن لائن پلیٹ فارمز روسی فوج کو رسد یا سامان کی فراہمی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

  8. مذہبی تقریب کے تشہیری بینر پر خادم حسین رضوی کی تصویر لگانے پر منتظم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ, احتشام شامی، صحافی

    پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک مذہبی تقریب کے میزبان کے خلاف مقامی انتظامیہ سے تقریب کی اجازت نہ لینے اور اس تقریب کے تشہیری بینر پر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی تصویر لگانے کے الزام میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11 ڈبلیو لگائی گئی ہے۔

    ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصل آباد کے مدینہ ٹاؤن میں ایک مذہبی محفل منعقد کی گئی جو کہ رات نو بجے سے 12 بجے تک جاری رہی۔ ایف آئی آر کے مطابق محفل کے منتظم نے اس بابت کوئی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا اور محفل کے حوالہ سے بنائی گئی فلیکس (تشہیری بینر) پر کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے بانی (خادم حسین رضوی) کی تصویر لگائی گئی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منتظم کے اس فعل سے عیاں ہے کہ وہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اس فلیکس کو شباب نامی پرنٹر نے کمپوز کیا ہے، جو کہ کالعدم تنظیم کی تشہیر کا ذمہ دار ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق حکومت پاکستان، تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دے چکی ہے ، جس کے بعد یہ تنظیم کسی قسم کا کوئی اجتماع اور تشہیر نہیں کر سکتی۔ کیس کے تفتیشی آفیسر انسپکٹر شوکت علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تقریب کے منتظم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پولیس نے مذکورہ فلیکس اپنے قبضہ میں لے لی ہے اور اسے پولیس ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔

  9. برطانوی وزیرِ اعظم کا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بلیو پرنٹس دینے کا اعلان, ڈین جانسن، کیئو (یوکرین) سے نامہ نگار

    اینڈی برنہم برطانیہ کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر یوکرین کے دارالحکومت کیئو پہنچے ہیں۔

    یہ دورہ سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے 35 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، اور اس دوران وہ ایک ایسے معاہدے کا اعلان کریں گے جس کے تحت یوکرین برطانوی سٹورم شیڈو کروز میزائل کے اپنے ماڈلز تیار کرنا شروع کرے گا۔

    جس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بلیو پرنٹس برنہم یوکرین کو فراہم کر رہے ہیں، وہ روس کے اندر تقریباً 241 کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    میزائل بنانے والے ادارے کے مطابق یہ ساکن اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ انھیں دن اور رات، ہر قسم کے موسمی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور ان میں جدید نیویگیشن نظام نصب ہیں۔

    اگرچہ یوکرین کے طویل فاصلے تک حملہ کرنے والے ڈرون اس سے بھی دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تاہم یہ اس بات کا ایک اہم اشارہ ہے کہ بین الاقوامی شراکت دار ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    یوکرین کو امید ہے کہ یہی طرزِ تعاون پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملے گا، جن کی اسے روسی بیلسٹک حملوں کے خلاف دفاع کے لیے اشد ضرورت ہے۔

    یوکرین کے دار الحکومت کیئو کے تاریخی سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کے سامنے یوکرین کے یومِ آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا: ’روس کی جانب سے میرے ملک کو دی جانے والی نا قابلِ قبول دھمکیوں کے باوجود ہم یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

    انھوں نے کہا: ’روس پر دباؤ برقرار رکھنے کا یہی وقت ہے۔‘

    بین الاقوامی سطح پر اپنے پہلے اہم خطاب میں اینڈی برنہم نے یوکرینی عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا: ’یوکرینی عوام کی غیر معمولی قوت واقعی حیران کن ہے۔‘

    جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے سامنے ’سر نہیں جھکائے گا۔‘

    اپنی تقریر میں زیلینسکی نے کہا: ’یوکرینی عوام بادشاہوں اور حکمرانوں کے قدموں تلے بچھنے والے پتھر نہیں بنیں گے۔ یوکرینی عوام سر نہیں جھکائیں گے۔‘

  10. سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ لگ گئی

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے مغرب میں ایک آئل ٹینکر نا معلوم میزائل کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے عرشے پر آگ بھڑک اٹھی۔

    تنظیم کے مطابق جہاز کے عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے یہ نہیں بتایا کہ آئل ٹینکر کس ملک کی ملکیت ہے۔

    یاد رہے کہ یمن کے حوثیوں نے ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے مبینہ محاصرے کے جواب میں جوابی محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع ماضی میں بھی حملوں کی زد میں رہی ہے، خصوصاً ایران کے اتحادی سمجھے جانے والے حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے دوران۔

  11. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر انتخاب مکمل، ن لیگ کو برتری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 11ویں قانون ساز اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر انتخابی مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ان نشستوں میں پانچ خواتین کے لیے مختص ہیں، جبکہ ایک نشست بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں، ایک علما و مشائخ اور ایک پروفیشنلز و ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یوں مجموعی طور پر آٹھ مخصوص نشستوں پر انتخاب کا عمل مکمل ہوا۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں میں سے تین پاکستان مسلم لیگ (ن) جبکہ دو پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں۔

    خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی مریم کشمیری، سحرش قمر اور مریم ادریس کامیاب قرار پائیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید ٹاس کے ذریعے کامیاب قرار دی گئیں۔

    ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے افتخار گیلانی 26 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے، جبکہ ان کے مدِ مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ذوالفقار نے 12 ووٹ حاصل کیے۔

    علما و مشائخ کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پیر مظہر سعید 26 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ ان کے مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار حافظ طارق محمود 12 ووٹ حاصل کر سکے۔

    بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مختص نشست پر مسلم لیگ (ں) کے چوہدری عبدالرحمان بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

    واضح رہے کہ ضلع پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں تا حال انتخابات نہیں ہو سکے ہیں۔ ضلع پونچھ میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاجی دھرنا پانچ جون سے جاری ہے۔

    خطے کی تاریخ میں پہلی بار انتخابات کا انعقاد تین مرحلوں میں کیا گیا۔

  12. پاکستان کے فیلڈ مارشل اعلیٰ سطح مذاکرات کے لیے تہران پہنچ گئے

    ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا استقبال ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کیا۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی عاصم منیر کے ہمراہ ہیں۔

    اسنا کے مطابق پاکستانی وفد ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کرے گا، جس میں دو طرفہ تعاون کے فروغ، سرحدی سلامتی کے استحکام اور خطے کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لینے کے بارے میں مذاکرات کرنے کی توقع ہے۔

    اسنا نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی اعلیٰ حکام کا یہ دورہ عمان کے وزیرِ خارجہ کے منگل کو ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے تہران کے طے شدہ دورے سے پہلے ہو رہا ہے۔

  13. فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران روانہ: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران روانہ ہو گئے ہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ایک وفد کے ہمراہ تہران ک دورہ کریں گے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ دورہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر دورۂ ایران کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پُرامن، پائیدار اور جامع حل کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے سے متعلق اہم ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  14. اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کا نجی ہسپتال سے علاج اور اہلخانہ سے رابطے کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے نجی ہسپتالوں میں علاج اور اہلخانہ سے رابطے کی اجازت کے لیے دائر درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے۔

    جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت محمد اسماعیل خان کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    بیرسٹر اختر چھینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ان کے موکل ہیموفیلیا کے مریض ہیں اور انھیں انٹرنل بلیڈنگ کا سامنا ہے۔ انھیں گزشتہ دو ماہ کے دوران 10 مرتبہ ہسپتال لے جایا گیا، تاہم ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔‘

    اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’اس بیماری کا مؤثر علاج فی الحال پاکستان میں صرف شفاء ہسپتال میں ممکن ہے۔‘ انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی قیدی کی بیماری کا علاج سرکاری ہسپتال میں ممکن نہ ہو تو اسے نجی ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ علاج کے اخراجات قیدی کے اہلخانہ برداشت کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قیدی کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔‘ وکیل نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری ہسپتال میں لیور ٹرانسپلانٹ کی سہولت دستیاب نہ ہو تو کیا قیدی کو نجی ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا؟

    درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے موکل کو بخار اور دل کا مرض لاحق ہے اور مناسب علاج معالجہ کرانا قیدی کا بنیادی حق ہے۔

    وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہ ہونے کے باعث اویس الطاف کو شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    دوسری درخواست میں وکیل نے بتایا کہ ’درخواست گزار محمد اسماعیل گزشتہ نو برس سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کا ایک بھائی دبئی میں مقیم ہے، جس سے کئی برس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔‘

    وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل حکام کو واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کرانے کا حکم دیا جائے۔

    عدالت نے تینوں درخواستوں پر جیل حکام سے کمنٹس طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا اور سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

  15. عمان کے وزیرِ خارجہ منگل کو تہران کا دورہ کریں گے

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ’عمان کے وزیرِ خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی منگل کو تہران کا دورہ کریں گے۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق بدر البوسعیدی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انھوں نے اس دورے کو تہران اور مسقط کے درمیان جاری سیاسی مشاورت اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے متصل دونوں ممالک کی حیثیت سے ایران اور عمان خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے باقاعدگی سے مشاورت کرتے رہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور بات چیت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘

  16. مہاراشٹر کے ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی، تین بچے ہلاک

    انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع امراوتی کے ڈسٹرکٹ ویمنز ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں پیر کی علی الصبح آگ لگنے سے تین نومولود بچے ہلاک ہو گئے۔

    امراوتی کے ڈسٹرکٹ سرجن ڈاکٹر ونود پوار نے بتایا کہ ’آگ لگنے کی اطلاع صبح تقریباً ساڑھے تین بجے ملی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جس وارڈ میں آگ لگی وہاں نو بچے موجود تھے۔ فائر فائٹرز نے چھ بچوں کو بحفاظت باہر نکال لیا، تاہم تین بچوں کو نہیں بچایا جا سکا۔‘

    ڈاکٹر ونود پوار کے مطابق ریسکیو کیے گئے چھ بچوں کی حالت اب مستحکم ہے۔

    امراوتی کے ضلعی نگراں وزیر چندرا شیکھر باونکولے نے کہا کہ ’حکومت ہلاک ہونے والے بچوں کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہوں اور انھیں تمام ضروری ہدایات دی ہیں۔ انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ میں نے اس معاملے پر حکام سے بھی بات کی ہے۔‘

  17. ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    پیر کی صبح ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زیادہ گر کر 93.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی ایک فیصد سے زیادہ کمی کے بعد 86.14 ڈالر فی بیرل رہی۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ’آج ایران کے لیے ’فیصلہ کن اقتصادی دن‘ ہے۔ وہ پیر کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کریں گے۔‘

  18. سنیچر اور اتوار کو 20 سے بھی کم بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوئے: کیپلر شپ ٹریکنگ سسٹم

    بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے کیپلر شپ ٹریکنگ سسٹم کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنیچر اور اتوار کے روز 20 سے بھی کم بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سنیچر کو 13 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ اتوار کو یہ تعداد صرف چار رہی۔

    تاہم اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بعض جہاز اپنی پوزیشن ظاہر کرنے والے ٹرانسمیٹر، یا ٹرانسپونڈر، بند کر دیتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کے باعث توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت بدستور محدود ہے۔

  19. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں ایک گھر پر حملہ

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے نبطیہ الفوقا گاؤں کے رہائشی علاقے الدیر میں ایک گھر کو نشانہ بنایا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ حملے میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی فورسز نے نبطیہ کے علاقے میں علی طاہر کی پہاڑیوں اور دحا کفَر رمان سے ملحقہ پہاڑی علاقوں پر بھی گولہ باری کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے بنت جبیل کے علاقے میں واقع قصبے حداثہ میں متعدد عمارتوں کو بھی مسمار کر دیا ہے۔

  20. حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے صنعاء کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے: یمنی فوج

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدارتی قیادت کونسل کے رکن اور حکومتی فورسز کے کمانڈر طارق صالح نے کہا ہے کہ ’بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کا انحصار بندرگاہی شہر حدیدہ اور دارالحکومت صنعاء کو ایران نواز حوثیوں سے دوبارہ حاصل کرنے پر ہے۔‘

    ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں طارق صالح نے کہا کہ ’حوثیوں کے خلاف ’اصل جنگ‘ ابھی شروع ہی نہیں ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یمن بحیرہ احمر اور جزیرہ نما عرب میں ایران کے منصوبوں کے خلاف دفاع کی پہلی صف ہے۔‘

    دوسری جانب یمن کے نائب وزیرِ دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے اعلان کیا ہے کہ ’مسلح افواج بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور انھیں سیاسی قیادت کی جانب سے احکامات کا انتظار ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف ’فیصلہ کن جنگ‘ شروع کرنے کے لیے درکار تمام لاجسٹک انتظامات اور تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔‘

    سمیر الصبری نے یمن کے تعز نیوز نیٹ ورک کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ’یہی قانونی حکومت ہے جو جنگ کے وقت اور مقام کا تعین کرے گی۔‘