ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ میں بڑے اضافے کا اعلان آج متوقع
امریکہ آج ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافے کی تفصیلات کا اعلان کرنے والا ہے۔ توقع ہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ تہران کے وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے نیوز کانفرنس میں ایران پر امریکی تاریخ کے ’سب سے سخت‘ اقتصادی دباؤ کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خزانہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم کے اگلے مرحلے کا جامع خاکہ پیش کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ اس اقدام کو ’معاشی ڈی ڈے‘ قرار دے چکے ہیں۔
واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ میں ’ڈی ڈے‘ اتحادی افواج کا ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن تھا، جس نے شمال مغربی یورپ کو نازی قبضے سے آزاد کرانے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پیر کے روز تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی کمپنیوں اور ممالک پر عائد کی جا سکنے والی ثانوی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔
ادھر سکاٹ بیسنٹ نے فنانشل ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں لکھا کہ ’ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک محدود کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو کمزور کرنے کے بعد اب ہم اپنی مہم کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
امریکی اقدامات کے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کے باعث ایران میں غیر ملکی کرنسی کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت 200 ہزار تومان کی سطح سے تجاوز کر گئی۔