آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پرہلاد جوشی تنقید کی زد میں: ’انڈیا کے نئے وزیر تعلیم سے تو سابق زیادہ لائق تھے‘
- مصنف, مرزا اے بی بیگ اور سندیپ ساہو
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے نوجوانوں کے ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پرہلاد جوشی کو نیا وزیر تعلیم مقرر کیا لیکن انھیں پارلیمان کے اندر اور باہر سخت تنقید کا سامنا ہے۔
پرہلاد جوشی کے بارے میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کے بیان سے قبل کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمان پرینکا گاندھی نے ان کے انتخاب پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پارلیمنٹ کے باہر راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ’پرہلاد جوشی نے ایک حاملہ خاتون (بلقیس بانو) کے ساتھ اجتماعی ریپ کرنے والوں کی رہائی کی حمایت کی تھی۔‘
دوسری جانب پارلیمان کے باہر جب پرینکا گاندھی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں نے ایوان میں نئے وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی کے بارے میں جو کچھ کہا، اس میں کوئی بھی بات غیر پارلیمانی نہیں تھی۔ وہ سچ ہے اور اس کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ اگر سچ بولنے کی سزا دی جاتی ہے تو دی جائے، لیکن میں سچ بولتی رہوں گی۔‘
'اس کے علاوہ، منگلورو کے ایک پب میں لڑکیوں کو مارنے پیٹنے والے شخص کو بھی خود پرہلاد جوشی کے ذریعے بی جے پی میں شامل کیا گیا تھا اور اس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ اب چاہے انھیں بعد میں نکال دیا گیا ہو لیکن انھیں لائے تو پرہلاد جوشی ہی تھے۔ خواتین کے بارے میں پرہلاد جوشی کی ذہنیت یہی ہے۔‘
پرہلاد جوشی نے ایوان میں پرینکا گاندھی کے بیان کی تردید کی اور ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔
سنیچر کے روز دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں میڈیکل میں داخلے کے امتحان نیٹ (این ای ای ٹی) کا پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس طرح سے پارلیمان میں مستعفی وزیر دھرمیندر پردھان کا استقبال ہوا اس پر بھی سوشل میڈیا اور پارلیمان میں شدید تنقید دیکھی گئی۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں گذشتہ روز منگل کو لوک سبھا (ایوان زیریں) میں ’پبلک ایگزامینیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل-2026‘ پر بحث کا آغاز ہوا۔
اس بل میں سنہ 2024 میں بنائے گئے قانون میں تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
بحث کے دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ’یہ ترمیمی بل انڈین پارلیمان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہونے والا قانون ہے۔‘
تاہم سب سے زیادہ گفتگو لوک سبھا میں پرینکا گاندھی اور پارلیمنٹ کے باہر راہل گاندھی کے بیانات پر ہو رہی ہے۔
راہل گاندھی نے پرینکا گاندھی کے بیان کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’وزیرِ تعلیم کے استعفے کے لیے طلبہ نے تحریک چلائی، لاٹھیاں کھائیں اور اس کے بعد بی جے پی نے ایک ایسے شخص کو کابینہ میں شامل کیا ہے جو ریپسٹ کا دفاع کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بدترین قسم کے انسان ہیں۔ اس سے زیادہ برا شخص کوئی نہیں ہو سکتا جو کہے کہ ریپ کرنے والوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ آج انڈیا کے وزیرِ تعلیم ایسے ہی شخص ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’وزیرِ اعظم کا یہ عجیب ردعمل ہے کہ ان کی کابینہ میں بہت سے لوگ موجود تھے، وہ کسی کو بھی منتخب کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو ریپ کرنے والوں کا دفاع کرتا ہے۔‘
بعد ازاں راہل گاندھی نے ایکس پر بھی اپنی بات دہرائی، جبکہ کانگریس پارٹی نے بھی پرہلاد جوشی سے متعلق مبینہ بیان ایکس پر شیئر کیا۔
راہُل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ ’ریپ کرنے والوں کا دفاع کرنے والے شخص سے زیادہ غلیظ کوئی نہیں ہو سکتا۔ پرہلاد جوشی ہمارے تعلیمی نظام کی توہین ہیں اور اس نظام میں تعلیم حاصل کرنے والے ہر طالب علم کی بھی توہین ہیں۔ جن اداروں کی ذمہ داری اب ان کے پاس ہے، وہاں کروڑوں نوجوان خواتین تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ انڈیا کی خواتین وزیرِ اعظم مودی کے نئے وزیرِ تعلیم کو کبھی قبول نہیں کریں گی۔‘
لوک سبھا میں جب پرینکا گاندھی نے مذکورہ ترمیمی بل پر خطاب شروع کیا تو انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’طلبہ پر آنسو گیس کے گولے فائر کرنے، ان پر لاٹھیاں برسانے کی کیا ضرورت تھی؟ نوجوان لڑکیوں کو ذلیل کرتے ہوئے ان کے کپڑے پھاڑنے اور انھیں بے رحمی سے پٹوانے کی کیا ضرورت تھی؟ ملک کے نوجوانوں پر پیلٹ گن اور اے کے 47 چلوانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا وہ دہشت گرد ہیں؟‘
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ’پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ وزیرِ اعظم نے یا وزیرِ داخلہ نے؟ آج یہ سوال صرف کانگریس پارٹی نہیں بلکہ پورا ملک پوچھ رہا ہے اور اس کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘
پرینکا گاندھی نے سوال کیا کہ ’وزیرِ اعظم نے ملک کی کروڑوں لڑکیوں کو کیا پیغام دیا ہے۔‘
کانگریس رہنما کے اس بیان پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو، مرکزی وزیر پرہلاد جوشی اور بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ نشیکانت دوبے نے اعتراض کیا۔
کیرن ریجیجو نے لوک سبھا سپیکر سے مطالبہ کیا کہ اس بیان کو فوری طور پر کارروائی سے حذف کیا جائے۔ ان کے مطابق نئے وزیرِ تعلیم کے بارے میں اس قسم کے تبصرے کردار کشی کے مترادف ہیں۔
قائم مقام وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی نے لوک سبھا میں کہا کہ پرینکا گاندھی کو غلط معلومات نہیں دینی چاہییں اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’پرینکا جی کو اپنے دعوے کی تصدیق کرنی چاہیے، ورنہ غلط معلومات پھیلانے پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ کیا کوئی کچھ بھی کہہ کر چلا جا سکتا ہے؟ میں ایوان میں موجود ہوں، مجھے اس بارے میں قاعدہ 353 کے تحت کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ اس لیے میں اس کی تردید کرتا ہوں۔ اس بیان کو کارروائی سے حذف کیا جانا چاہیے اور انھیں معافی مانگنی چاہیے۔‘
لوک سبھا کے قاعدہ 353 کے مطابق کسی وزیر پر الزام لگانے سے پہلے سپیکر اور متعلقہ وزیر کو مناسب پیشگی اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ معاملے کی جانچ یا جواب کی تیاری کی جا سکے۔
پرہلاد جوشی نے کیا کہا تھا؟
گجرات میں سنہ 2002 کے فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی ریپ اور ان کے خاندان کے سات افراد کے قتل کے مقدمے میں سزا پانے والے تمام 11 مجرموں کو گجرات حکومت نے اگست سنہ 2022 میں رہا کر دیا تھا۔
سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سنہ 2008 میں ان 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں بمبئی ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
تمام مجرم 15 سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکے تھے۔ ایک مجرم رادھے شیام شاہ کی سزا میں نرمی کی درخواست پر گجرات حکومت نے انھیں رہا کر دیا۔
اس فیصلے پر جب خبر رساں چینل این ڈی ٹی وی نے اُس وقت کے مرکزی وزیرِ پارلیمانی امور پرہلاد جوشی سے سوال کیا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’جب حکومت اور متعلقہ افراد فیصلہ کر چکے ہیں تو مجھے اس میں کچھ بھی غلط نہیں لگتا، کیونکہ یہ قانون کے مطابق عمل ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’جن سزا یافتہ افراد نے جیل میں ’کافی وقت‘ گزار لیا ہو، ان کی رہائی کا ’نظام‘ قانون میں موجود ہے۔
بعد ازاں جنوری سنہ 2024 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے 11 مجرموں کی سزا میں دی گئی رعایت اور ان کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
لاونیا بلال نے این ڈی ٹی وی کا کلپ ڈال کر ایکس پر لکھا کہ ’ریپسٹ کے حامی انڈیا کے وزیر تعلیم پرہلاد جوشی سے ملیے۔ بی جے پی میں اچھے انسانوں کی کمی ہے۔‘
بی بی سی نے اس بارے میں سٹوڈنٹ اور سماجی کارکن کویتا کرشنن سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کا سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کو اس معاملے کی ذمہ داری لینی پڑی۔
انھوں نے کہا کہ ’دھرمیندر پردھان کے خلاف احتجاج تو علامتی تھا اصل مخالفت تو وزیر اعظم مودی کی ہو رہی تھی اور جتنی تنقید ان پر ہوئی اور جو ’نا مناسب الفاظ‘ ان کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، اس سے پہلے کسی بھی وزیر اعظم کے لیے استعمال نہیں کیے گئے۔‘
کویتا کرشنن نے کہا کہ ’نئے وزیر تعلیم کی تقرری کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ ان کے پاس وزیر تعلیم کے لائق کوئی شخص ہے ہی نہیں۔‘
اس احتجاج نے وزیر اعظم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کی مقبولیت کو دھچکہ نہیں پہنچ سکتا تو اس احتجاج نے انھیں زبردست دھچکہ دیا ہے۔ اور جہاں تک پرہلاد جوشی کا تعلق ہے تو آنے والے دنوں میں ان کے خلاف بھی آواز بلند ہوگی۔
لیکن اس سے بڑی بات نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) ہے جسے ختم ہونا چاہیے کیونکہ اسی کے تحت ساری بدعنوانیاں ہو رہی ہیں۔
جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے استاد پروفیسر سہراب نے کہا کہ ’اگر سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور نئے وزیر تعلیم پرہلاد جوشی کا موازنہ کیا جائے تو دھرمیندر ان سے زیادہ لائق نظر آتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’دھرمیندر ایسے علاقے سے آتے ہیں جہاں بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھاپ کم ہے جبکہ مسٹر جوشی براہ راست اس جگہ سے آتے جہاں مین سٹریم سیاست ہوتی ہے۔ جوشی ایک طرح سے بی جے پی اور ناگپور (آر ایس ایس) کے درمیان پل ہیں اور انھیں اسی لیے یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔‘
پروفیسر سہراب نے کہا کہ ’یہ احتجاج در اصل حکومت کے خلاف پل رہی بے اطمینانی تھی اسے وزیر تعلیم کا استعفی مانگ کر محدود کیا گیا ہے۔ اور دھرمیندر پردھان کو قربانی کا بکڑا بنایا گیا ہے۔‘
انڈین حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق پرہلاد جوشی مرکزی وزیر اور کرناٹک سے لوک سبھا کے رکنِ پارلیمان ہیں۔ اس وقت وہ نئی و قابلِ تجدید توانائی اور صارفین امور، خوراک و عوامی تقسیم کی وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔
اپنی سابقہ مدتِ وزارت کے دوران وہ کوئلہ، کان کنی اور پارلیمانی امور کے وزیر رہے تھے۔ جوشی مسلسل پانچ مرتبہ کرناٹک کے دھارواڑ حلقے سے لوک سبھا کے رکنِ پارلیمان منتخب ہو چکے ہیں۔
پرچہ لیک کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والے دھرمیندر پردھان کون ہیں؟
انڈیا کے مستعفی ہونے والے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان ماضی میں خود بھی ایک بار نہ صرف امتحانی پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں بلکہ اس دوران پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی بھی ہوئے تھے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اب ایک اور امتحانی پرچہ لیک ہونے کے معاملے پردھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس مطالبے کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ بھی لاٹھی چارج میں زخمی ہوئے ہیں۔
سنہ 2021 میں دی نیو انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک خبر پھر سے سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں گردش کر رہی ہے۔
اس خبر کے مطابق سنہ 1997 میں اڑیسہ میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف سیکریٹریٹ کے سامنے ہونے والے ایک احتجاج کے دوران دھرمیندر پردھان پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی ہوئے تھے۔
یہ احتجاج بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ وِنگ ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ (اے بی وی پی) نے جے بی پٹنائک کی حکومت کے خلاف کیا گیا تھا اور دھرمیندر پردھان اس احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔
اس واقعے کے 29 سال بعد 20 جولائی 2026 کو پولیس نے وزیرِ اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران لاٹھی چارج کیا گیا۔ اس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے اور انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
اس مظاہرے میں شریک پرشانت راوت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ درست ہے۔
پرشانت راوت اس وقت بھونیشور کے علاقے پٹیا میں راجہ مدھوسودن دیو کالج کے صدر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس وقت اے بی وی پی کی بھونیشور شاخ کا صدر تھا اور دھرمیندر پردھان تنظیم کے قومی جنرل سیکریٹری تھے۔‘
’مجھے درست تاریخ یاد نہیں، لیکن یہ غالباً جولائی 1997 کے تیسرے ہفتے کی بات ہے۔ دھرمیندر پردھان کی قیادت میں اے بی وی پی کے کارکن اسمبلی کے سامنے پلس ٹو (12ویں جماعت) کے سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’1988 سے 1997 کے درمیان تقریباً ہر سال سوالیہ پرچے لیک ہوتے تھے۔ اسی لیے ہم اس دور کو سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کی دہائی کہتے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں نے ہم پر سخت لاٹھی چارج کیا۔ اس میں ہمارے 64 کارکن زخمی ہوئے اور ہسپتال میں داخل کرائے گئے۔ زخمی ہونے والوں میں دھرمیندر پردھان بھی شامل تھے۔‘
طلبہ یونین کے انتخابات اور دھرمیندر پردھان سیاسی عروج
دھرمیندر پردھان کا سیاسی سفر 1980 کی دہائی میں طلبہ سیاست سے شروع ہوا تھا۔
وہ نوجوانی ہی میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ تالچر کالج طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔
اس کے بعد انھوں نے اے بی وی پی کے امیدوار کے طور پر اتکل یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کے عہدے کا انتخاب بھی لڑا تاہم وہ ایس ایف آئی کے امیدوار اور موجودہ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے رہنما ارون ساہو سے ہار گئے۔
پردھان سنہ 1994 میں اے بی وی پی کے قومی جنرل سکریٹری بنے اور 1997 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انھوں نے سنہ 2004 سے سنہ 2006 تک بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ بی جے پی کے قومی سطح پر جنرل سکریٹری بنے اور اس حیثیت میں انھوں نے کئی ریاستوں بشمول بہار پردیش، بہار اور ریاست کے انچارج کے طور پر پارٹی کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دھرمیندر پردھان کا سیاسی کیریئر سال 2000 میں شروع ہوا جب وہ پلہرہ اسمبلی کے حلقہ سے بی جے ڈی-بی جے پی اتحاد کے امیدوار کے طور پر جیتے۔
چار سال بعد 2004 کے عام انتخابات میں وہ دیوگڑھ کے پارلیمانی حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ یاد رہے کہ دیوگڑھ اب پارلیمانی حلقہ نہیں رہا اور اسے سنبل پور پارلیمانی حلقے میں ضم کر دیا گیا ہے جہاں سے وہ 2024 میں ایم پی منتخب ہوئے تھے۔
تاہم اس کے بعد انھوں نے طویل عرصے تک الیکشن نہیں لڑا۔
سینئر صحافی روبن بینرجی اڑیسہ میں بی جے پی کی تنظیم سازی میں توسیع کا سہرا بھی دھرمیندر پردھان کو دیتے ہیں۔
ان کے مطابق سنہ 2014 میں مرکزی وزیر بننے کے بعد دھرمیندر پردھان ہر ہفتے کے سنیچر اور اتوار اڑیسہ میں گزارتے تھے۔
اس دوران وہ مقامی کارکنوں سے ملاقات کرتے اور پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کرتے تھے۔
اسی وجہ سے بعض لوگ مذاق میں بی جے پی کو ویک اینڈ پارٹی بھی کہتے تھے۔
سنہ 2014 سے سنہ 2019 تک دھرمیندر پردھان کے او ایس ڈی اور ذاتی سیکریٹری رہنے والے سمبت ترپاٹھی بھی کہتے ہیں کہ ریاست میں پارٹی کے پھیلاؤ میں پردھان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ریاست بھر میں نچلی سطح پر کام کرنے والے بی جے پی کارکنوں کو ذاتی طور پر اور نام سے جانتے ہیں، اور مرکز میں اپنے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے مقامی مسائل حل کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔‘
جب ان کے استعفے کے مطالبے نے جب زور پکڑا تو اس حوالے سے سمبت ترپاٹھی نے کہا تھا کہ ’یہ مطالبہ بالکل جائز نہیں۔ اپوزیشن طلبہ کے جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
بی جے پی کے رہنماؤں کا بھی تقریباً یہی مؤقف رہا ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما سجن شرما کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن ’نیٹ‘ کو بہانہ بنا کر اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہے۔ جب امتحان دوبارہ کامیابی سے ہو چکا ہے اور طلبہ اپنی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں تو پھر اس تحریک کی وجہ سیاست کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے اپوزیشن کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔‘
پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما گولک مہاپاترا کہتے ہیں کہ ’نیٹ تو صرف ایک بہانہ ہے۔ اپوزیشن کے شور و غل کی اصل وجہ نئی تعلیمی پالیسی ہے، جس نے تعلیمی نظام کو زیادہ مقامی(انڈین) رنگ دیا۔ نصاب میں مغل دور کو اس کا مناسب مقام دیا گیا ہے۔ ‘
ان کے مطابق ’نوین پٹنائک آج وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن شاید وہ بھول گئے ہیں کہ ان کے آخری دورِ حکومت میں یعنی 2019 سے 2024 کے درمیاناڑیسہ میں نو بار سوالیہ پرچے لیک ہوئے تھے۔‘