پمز آتشزدگی کی تحقیقاتی رپورٹ: ’پورا وارڈ دو منٹ میں جل گیا، ایمرجنسی سروسز کو چھ منٹ بعد کال گئی اور ریسپانس 15 منٹ بعد پہنچا‘

Mother and Child Health (MCH) ward at the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS)

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا۔
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی نشاندہی پر ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افراد کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کے روز جب پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں آگ لگی تو اس وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔

سنیچر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کی۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمنٹل کارروائی بلکہ فوجداری (کریمنل کوڈ) قوانین کے تحت کاروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جن افراد کو واقعے کا ذمدار ٹھہرایا گیا ہے ان میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کے علاوہ جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ اپنی جان کی پراہ کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینے کی منظوری دی ہے۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی (آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی) بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے این آئی ایچ کے سی ای او ڈاکٹر محمد سلمان کو پمنز کا عبوری ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کو فوری اور یکمشت تعینات کیا جائے۔

اس کے علاوہ وزیرِ اعظم کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

’واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ عفلت سے کسی ماں سے اس کا لخت جگر جدا نہ ہو۔‘

Mother and Child Health (MCH) ward at the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS)

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اجلاس کے دوران تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی جبکہ تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی اجلاس میں چلائی گئی۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت سپر وائزری سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس افسر وارڈ میں موجود تھے۔

شائع کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں اس تاثر کی بھی نفی کی گئی ہے کہ موقع پر موجود ہسپتال کے عملے نے بچوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرس رضیہ نے ایک بچے کو بچانے کے بعد دوباری وارڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ ڈاکٹر عبدالحمٰن بھی موقع پر موجود تھے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا، جبکہ ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی جان بچائی۔

’آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی‘

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا۔

تاہم بعد ازاں جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ہنگامی صورتحال تقریباً صبح چھ بج کر 38 منٹ پر پیدا ہوئی، جبکہ کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے ریکارڈ کے مطابق پہلی ہنگامی کال تقریباً چھ بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی اور 6 بج کر 55 منٹ پر عملے کو روانہ کیا گیا جو تقریباً 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچ گیا۔‘ لیکن رپورٹ کے مطابق دیگر شواہد مبینہ طور پر اس سے پہلے بھی ایک کال کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’لہٰذا کمیٹی فی الحال 16 منٹ کی کسی حتمی تاخیر کی ذمہ داری کسی مخصوص فرد یا ادارے پر عائد نہیں کرتی۔ یہ تعین کرنے کے لیے ٹیلی فون ریکارڈز، پمز کنٹرول روم کے ریکارڈز، سی ای ایس کی کال ریکارڈنگز/لاگز اور سی سی ٹی وی کی ٹائمنگ کی ہم آہنگی کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

اجلاس کو بتایا گیا کہ صرف ایک ماہ قبل جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا لیکن اس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں لیے گئے۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ نیو نیٹل وارڈ میں کوئی فائر الارم یا سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا اور وارڈ میں عالمی ادارہ صحت کے اس حوالے سے تمام تر قوائد کی خلاف ورزی پائی گئی۔

تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں تھا اور اس کی اضافی ذمہ داری ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کو سونپی گئی تھی۔

اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس

،تصویر کا ذریعہPM Office

ایک بچے کی جان بچانے والی نرس کو ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی واقعے میں اپنی جان کی پروہ کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے کے انعام کی منظوری دے دی۔

وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ نرس رضیہ نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا بہترین ثبوت دیا۔

’اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچانے پر مجھ سمیت پوری قوم کو نرس رضیہ نورین پر فخر ہے۔‘

’اعزاز اور انعام سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ایک بچے کی جان بچا سکی‘

پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے دوران ایک نومولود بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ انھیں حکومت کی طرف سے اعزاز اور ایک کروڑ روپے انعام ملنے سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اس حادثے میں کم از کم ایک بچے کو بچانے میں کامیاب رہیں۔

انھوں نے کہا کہ بچے کی جان بچانا ان کی زندگی کے بہترین لمحات میں سے ایک ہے۔

رضیہ نورین کا کہنا ہے کہ جب میں نے بچے کو اس کی ماں کے حوالے کیا تو جیسے تشکر آمیز نظروں سے انھوں نے میری طرف دیکھا وہ میری نظر میں سب سے بڑا انعام ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بچے کو بچانے کی کوشش میں ان کے ہاتھ بھی جل گئے تھے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھوں اس بات کا زندگی بھر افسوس رہے گا کہ جب انھوں نے دوسرے بچوں کو بچانے کے لیے نرسری میں جانے کی کوشش کی تو اچانک آگ میں شدت آ گئی اور وہ اندر نہ جا سکیں۔

رضیہ نورین نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ رات کی ڈیوٹی پر تھیں اور شفٹ تبدیل ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی۔