یوٹیوب پر اے آئی ڈاکٹرز کے بڑھتے ہوئے گمراہ کن دعوے: بزرگ افراد ان کا آسان شکار کیوں بنتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہ@Dr.Rafael Costa/YouTube
- مصنف, لوئز فرنانڈو ٹولیڈو
- عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
82 سالہ سیلی فریرا یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ رہی تھیں جب سکرین پر ایک ڈاکٹر نمودار ہوئے اور انھوں نے مشورہ دیا کہ پھل کھانے سے بینائی کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ فریرا کو یہ مشورہ قابلِ یقین لگا، لیکن حقیقت میں نہ یہ کوئی حقیقی طبی چینل تھا اور نہ ہی اس ڈاکٹر کا کوئی حقیقی وجود تھا۔ ان کا چہرہ اور آواز مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔
اگرچہ یوٹیوب نے ویڈیو کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا تھا، لیکن اسے تقریباً تین لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا اور اس پر سینکڑوں تبصرے بھی کیے گئے تھے۔ فریرا نے بی بی سی کو بتایا کہ لیبل موجود ہونے کے باوجود وہ سمجھتی رہیں کہ وہ ایک حقیقی ڈاکٹر کی بات سن رہی ہیں۔
یہ اس نوعیت کا کوئی پہلا یا واحد واقعہ نہیں ہے۔ ایک تحقیقات میں پرتگالی زبان کے کم از کم 29 ایسے یوٹیوب چینلز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اے آئی سے تیار کردہ ڈاکٹرز کی ویڈیوز موجود ہیں اور ان ویڈیوز کو مجموعی طور پر کم از کم سات کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
بی بی سی نیوز برازیل نے کم از کم 50 ایسے یوٹیوب ٹیوٹوریل چینلز بھی تلاش کیے ہیں جہاں اے آئی ڈاکٹرز کے ذریعے ویڈیوز بنانے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ یہ مواد پرتگالی، انگریزی، ہندی، ہسپانوی، فرانسیسی، اطالوی، پولش، جرمن اور ترک سمیت مختلف زبانوں میں دستیاب ہے۔
ان ویڈیوز بنانے والے افراد بزرگ صارفین کو منافع بخش ناظرین سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں بزرگوں کے پاس ویڈیوز دیکھنے کے لیے زیادہ وقت اور مصنوعات خریدنے کے لیے قابلِ خرچ آمدن موجود ہوتی ہے۔
ایک حقیقی ڈاکٹر، جن کی تصویر ان جعلی ویڈیوز میں استعمال کی گئی، نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ڈاکٹرز کی جانب سے دی جانے والی طبی معلومات کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ بزرگ افراد کے لیے ’جان لیوا نقصان‘ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم کے قواعد اے آئی سے تیار کردہ مواد پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور ایسی طبی غلط معلومات کی اجازت نہیں جو حقیقی دنیا میں سنگین نقصان کا باعث بن سکتی ہوں۔

،تصویر کا ذریعہCeli Ferreira
ان ویڈیوز کا طریقہ کار سادہ ہے، سفید کوٹ پہنے ایک پُراعتماد چہرہ، پرسکون مصنوعی آواز میں خبردار کرتا ہے کہ کوئی عام خوراک، دوا یا روزمرہ عادت بزرگ افراد کی صحت کو خاموشی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس کے بعد ویڈیو میں بظاہر نظر انداز کیے گئے کسی علاج یا حل کی تجویز دی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کچھ صورتوں میں یہ ڈاکٹر مکمل طور پر فرضی ہوتے ہیں، جبکہ بعض ویڈیوز میں حقیقی ڈاکٹرز کے چہرے، آواز یا شناخت کو ان کی اجازت کے بغیر اے آئی کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ناظرین کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ طبی مشورہ کسی مستند ڈاکٹر کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔
اے آئی سے تیار کردہ ڈاکٹرز استعمال کرنے والے پرتگالی زبان کے 29 یوٹیوب چینلز کی نشاندہی برازیل کی غیر منافع بخش صحافتی تنظیم ’کنٹرول زی‘ کی ایک رپورٹ میں کی گئی۔
بی بی سی نیوز برازیل نے ان چینلز کا جائزہ لینے کے ساتھ مزید ایسے چینلز اور ان میں پائے جانے والے رجحانات، بشمول ملتے جلتے عنوانات، تلاش کیے۔
تحقیق کے دوران ان یوٹیوب چینلز کی ویڈیوز پر کیے گئے تقریباً 27 ہزار تبصروں کا جائزہ لیا گیا اور ایسے صارفین کے تبصرے تلاش کیے گئے جنھوں نے بتایا تھا کہ ان ویڈیوز میں دیے گئے مشوروں کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آئی۔
درجنوں تبصروں میں خود کو بزرگ ظاہر کرنے والے صارفین نے بتایا کہ انھوں نے اے آئی ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے گھریلو علاج شروع کیے یا پہلے سے تجویز کردہ ادویات کا استعمال بند کر دیا۔
ایک صارف، جس نے اپنی عمر 85 سال بتائی، نے دعویٰ کیا کہ اس نے معدے میں تیزاب کی پیداوار کم کرنے والی دوا ’اومیپرازول‘ کے بجائے شکر قندی کھانا شروع کر دی۔ ایک اور 77 سالہ خاتون نے بتایا کہ وہ تین سال سے ڈاکٹر کے پاس نہیں گئی اور الزائمر کے بارے میں مشورہ دینے پر اے آئی ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہYouTube
بی بی سی نیوز برازیل کی جانب سے دریافت کیے گئے یوٹیوب ٹیوٹوریلز میں تربیت دینے والے افراد مشورہ دیتے ہیں کہ ویڈیوز کے عنوانات اور سکرپٹس میں خوف اور عجلت کا احساس پیدا کیا جائے تاکہ ناظرین کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ انھیں صحت سے متعلق کسی فوری خطرے کا سامنا ہے۔
ان ویڈیوز کے تخلیق کار یوٹیوب پر ویوز سے آمدنی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چینلز پر تشہیر کیے جانے والے ای بکس اور دیگر مصنوعات فروخت کرکے بھی پیسے کماتے ہیں۔ برازیل میں مقیم ایک ٹیوٹر جیف کومبرا نے بتایا کہ ایسے ویڈیوز بنانے والے افراد ماہانہ 30 ہزار ریئس تک کما سکتے ہیں۔
ایک اور ویڈیو میں انھوں نے خوف پیدا کرنے والے اندازِ بیان کا طریقہ سمجھاتے ہوئے مثال دی کہ ناظرین سے کہا جائے کہ ’سونے سے پہلے اس چیز سے محتاط رہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ نیند میں ہی مر جائیں۔‘
بی بی سی نیوز برازیل کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد ان کی ایک ویڈیو تک عوامی رسائی روک دی گئی۔
کومبرا نے ایک بیان میں کہا کہ ’جن اے آئی چینلز کو ویڈیوز میں دکھایا گیا تھا، وہ ان کے اپنے چینلز نہیں بلکہ صرف مثالیں تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اے آئی کی مدد سے معلوماتی مواد تیار کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں، ایسا مواد نہیں جو طبی ماہرین کی جگہ لینے کے لیے بنایا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کا مقصد یوٹیوب کے قواعد یا دیگر ضوابط کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں تھا۔‘
’ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں‘
ہم نے یوٹیوب کے کم از کم پانچ ایسے چینلز کی نشاندہی کی ہے جہاں برازیل کے ایک معروف ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر ان کی تصویر استعمال کرتے ہوئے صحت سے متعلق خوف پیدا کرنے والے دعوے اور ایسے قدرتی علاج تجویز کیے جا رہے تھے جنھیں بظاہر تجویز کردہ ادویات کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔
ہیلیو برازیلیرو کا یوٹیوب چینل کئی برس سے موجود ہے اور اس کے تقریباً تین لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔ انھوں نے اب ان ویڈیوز کے بارے میں یوٹیوب کو شکایت کی ہے اور ساؤ پاؤلو میں پولیس رپورٹ بھی درج کرائی ہے۔
اپنی تصویر کے غلط استعمال کے علاوہ ڈاکٹر برازیلیرو کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ ان کی تصویر کے ساتھ طبی مشورے دیکھنے کے بعد بزرگ ناظرین اپنی تجویز کردہ ادویات لینا بند کر سکتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ ’جو لوگ یہ مواد بناتے ہیں ان میں ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں۔ اس طرح پیسہ کمانے کی کوشش بزرگ افراد کے لیے جان لیوا نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔‘
ساؤ پاؤلو کے البرٹ آئن سٹائن سرائیلائٹ ہسپتال میں امراضِ معدہ کے ماہر ڈاکٹر جائم زالادیک گِل کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مریض غیر مؤثر چیزوں کا استعمال شروع کر دیں، جس سے ان کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے یا اس کی تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ مریض کا مناسب طبی معائنہ اور تشخیص کی بہتر سہولت فراہم کی جائے، نہ کہ صرف ایک ایسی ویڈیو سامنے آ جائے جس میں دعویٰ کیا جائے کہ فلاں چیز آپ کے تمام مسائل حل کر دے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہYouTube/Dr. Hélio – MedInformações
برازیل کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کو جھوٹا ڈاکٹر ظاہر کرنے والے اے آئی مواد کے تخلیق کاروں کو فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ ’ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کے قواعد اے آئی سے تیار کردہ مواد پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور ایسی طبی غلط معلومات کی اجازت نہیں جو حقیقی دنیا میں سنگین نقصان کا سبب بن سکتی ہوں۔‘
کمپنی کے مطابق ویڈیوز پر لگائے جانے والے لیبل ناظرین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کوئی مواد تبدیل کیا گیا ہے یا اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
بی بی سی نیوز برازیل کی جانب سے ’کنٹرول زی‘ کی جانب سے کی گئی نشاندہی کے بارے میں یوٹیوب سے رابطہ کیے جانے کے بعد کمپنی نے تحقیقات میں شامل بعض بڑے چینلز کو ہٹا دیا۔ ان چینلز کی ویڈیوز کو مجموعی طور پر تقریباً چار کروڑ 10 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔
دوسری جانب 82 سالہ سیلی فریرا کا کہنا ہے کہ ’وہ آن لائن دیکھی جانے والی معلومات کو بہتر طور پر سمجھنے اور حقیقی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا سیکھنا چاہتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی عمر کے لحاظ سے میں خود کو کمپیوٹر کے استعمال میں کافی بہتر سمجھتی ہوں، لیکن پھر بھی مجھے نہیں معلوم کہ اے آئی سے تیار کردہ چیز اور حقیقی چیز میں فرق کیسے کیا جائے۔‘



















