انڈین خاندان کا برطانیہ سے 109 سال قبل دیے گئے 35 ہزار روپے قرض کی واپسی کا مطالبہ: ’ہمارے پڑدادا امیر تاجر تھے‘

،تصویر کا ذریعہGautam Ruthiya
- مصنف, وشنوکانت تیواری
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے روٹھیا خاندان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے بزرگ جُماّ لال روٹھیا نے سنہ 1917 میں برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیے تھا اور اب ب 109 سال بعد یہ خاندان اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے روٹھیا خاندان کے پاس 4 جون 1917 کی جاری کردہ ایک دستاویز موجود ہے، جس میں مبینہ طور پر جُما لال کی جانب سے برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے دیے جانے کا ذکر موجود ہے۔
روٹھیا خاندان کے مطابق یہ رقم بھوپال ایجنسی میں برطانوی حکومت کے پولیٹیکل ایجنٹ کے حوالے کی گئی تھی۔
روٹھیا خاندان کے اس دعوے کے جواب میں برطانیہ کے ڈیٹ (قرضہ) مینجمنٹ آفس نے خاندان سے اس معاملے سے متعلق دستاویزات اور معلومات طلب کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGautam Ruthiya
خاندان کو اِس دستاویز کا علم کیسے ہوا؟
جماّ لال روٹھیا کے پڑپوتے گوتم روٹھیا کے مطابق، برطانوی حکام نے مزید تحقیقات کے لیے معاملہ آگے بھیج دیا ہے اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے اُن کے خاندان سے کچھ معلومات مانگی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ہمیں برطانوی حکومت کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے، جس میں معاملے کی تصدیق کی غرض سے کچھ معلومات مانگی گئی ہیں۔
’اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مزید جانچ کے لیے یہ معاملہ متعلقہ شعبے کو بھیج دیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات ہم انھیں فراہم کر رہے ہیں۔‘
تاہم برطانوی حکام نے ابھی خاندان کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جماّ لال کے پوتے اور گوتم کے والد، وِنے روٹھیا کا کہنا ہے کہ اُن کا خاندان برطانوی حکومت کی جانب سے اُن کے دعوے پر ملنے والے ابتدائی جواب سے پُرامید ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں پہلی مرتبہ برطانیہ کی حکومت کی طرف سے کوئی جواب ملا ہے، جس سے ہماری امید بڑھی ہے۔ اب یہ معاملہ صرف رقم کا نہیں رہا، بلکہ ہمارے لیے اپنے بزرگ کی وراثت اور عزت کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔‘
ونَے روٹھیا نے بتایا کہ خاندان کو اس دستاویز کا رواں سال فروری میں اُس وقت پتا چلا جب وہ کسی دوسرے معاملے کے سلسلے میں خاندان کی پرانی دستاویزات اور کاغذات تلاش کر رہے تھے۔ ونے روٹھیا کے مطابق تلاش کے اس عمل کے دوران ہی یہ قرض کی دستاویز اُن کے سامنے آئی۔
اُن کے مطابق اس کے بعد انھوں نے اپنے وکیل کے ذریعے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا۔
سنہ 1917 میں قرض کیوں دیا گیا تھا؟

،تصویر کا ذریعہGautam Ruthiya
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خاندان کے مطابق جماّ لال روٹھیا نے یہ رقم پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانوی حکومت کو دی تھی۔
وِنے روٹھیا نے بتایا کہ اس جنگ میں برطانیہ کی طرف سے ہندوستانی سپاہی بھی شامل تھے۔ اُس وقت برطانوی حکومت فوجیوں کی دیکھ بھال اور اخراجات کے لیے رقم جمع کر رہی تھی اور اِسی سلسلے میں جماّ لال روٹھیا نے جنگ پر جانے والے ہندوستانی جوانوں کے اخراجات کے لیے یہ رقم بطور قرض فراہم کی۔
خاندان کے پاس موجود دستاویز میں قرض دینے کی تاریخ 4 جون 1917 درج ہے۔ خاندان اسے عام قرض نہیں بلکہ ’جنگی قرض‘ قرار دیتا ہے۔ دستاویز میں اس رقم کی واپسی کی کوئی مقررہ مدت درج نہیں ہے۔
گوتم روٹھیا کے مطابق، اگر یہ عام بینکاری قرض ہوتا تو اس میں واپسی کی مدت ضرور درج ہوتی، لیکن چونکہ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کا وقت طے نہیں تھا، اس لیے ’جنگی قرض‘ کی واپسی کے بارے میں بھی کوئی واضح وقت مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
اُن کے مطابق اب برطانوی حکام نے اُن کے خاندان سے متعلق کاغذات، شجرۂ نسب، پرانے سرٹیفکیٹس، رقم اور اس زمانے کی فرم سے متعلق معلومات طلب کی ہیں۔
گوتم روٹھیا کے مطابق، برطانوی حکام یہ تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ سنہ 1917 میں رقم دینے والا خاندان اور آج دعویٰ کرنے والا خاندان ایک ہی ہے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGautam Ruthiya
35 ہزار روپے کی آج مالیت کیا ہو گی؟
روٹھیا خاندان سنہ 1917 میں دی گئی 35 ہزار روپے کی موجودہ مالیت کا بھی حساب لگا رہا ہے۔
گوتم روٹھیا کے مطابق، خاندان اصل رقم کے ساتھ سود، مرکب سود اور دیگر اخراجات بھی اپنے دعوے میں شامل کرے گا۔
انھوں نے کہا: ’ہم مکمل دعویٰ پیش کریں گے۔ 35 ہزار روپے اصل رقم ہے۔ اس کے علاوہ سود، مرکب سود اور دیگر اخراجات شامل ہوں گے۔ مہنگائی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، پھر تمام عوامل کا جائزہ لے کر اسے آج کی کرنسی کی قدر سے ملایا جائے گا۔‘
خاندان نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ 109 سال بعد اس مبینہ قرض کے عوض برطانوی حکومت سے کتنی رقم کا مطالبہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سنہ 2015 میں برطانیہ نے عالمی جنگ کا قرض ادا کیا تھا۔
وِنے روٹھیا کے مطابق، برطانوی حکومت نے سنہ 2015 میں پہلی عالمی جنگ کے زمانے کے پرانے قرض کا بڑا حصہ ادا کیا تھا۔ تحقیق کے دوران خاندان کو معلوم ہوا کہ یہ قرض سنہ 1917 کے آس پاس ہی لیے گئے تھے، جن کی برطانوی حکومت نے ادائیگی سنہ 2015 میں کی ہے۔
دسمبر 2014 میں برطانوی پارلیمنٹ میں دیے گئے حکومت کے ایک جواب کے مطابق، اُس وقت تک پہلی عالمی جنگ سے متعلق تقریباً 2.2 ارب پاؤنڈ کا قرض باقی تھا۔ اس میں ایک حصہ جنگی قرضوں کا تھا، جسے نو مارچ 2015 کو ادا کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر مختلف قسم کے قرض بھی تھے جن کی ادائیگی بھی سنہ 2015 میں کی گئی۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ایک دوسرے جواب کے مطابق، چار فیصد قرض مجتمع (کنسولیڈیٹڈ) اور ساڑھے تین فیصد جنگی قرضے ایسے سرکاری بانڈز تھے جو پہلی عالمی جنگ کے لیے رقم جمع کرنے کی غرض سے جاری کیے گئے تھے۔ یہ دونوں بانڈ اس مقصد کے لیے جاری کیے گئے مجموعی بانڈز کا تقریباً 99 فیصد تھے۔
تاہم 2015 میں برطانیہ کی طرف سے پرانے قرضوں کی ادائیگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جماّ لال روٹھیا کی طرف سے 1917 میں دیے گئے 35 ہزار روپے بھی انھی بانڈز میں شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGautam Ruthiya
جماّ لال روٹھیا کون تھے؟
خاندان کے مطابق جماّ لال روٹھیا اُس زمانے کے ایک بڑے تاجر تھے۔ اُن کے پاس تقریباً تین ہزار گایوں پر مشتمل ایک گؤشالا بھی تھی۔ خاندان کے پاس اُن کی پرانی تصاویر، اُس وقت استعمال ہونے والی گاڑی کی تصویر اور کاروبار سے متعلق دیگر دستاویزات بھی موجود ہیں۔
وِنے روٹھیا نے کہا کہ ’میرے دادا کا کاروبار بہت بڑا تھا۔ وہ اس زمانے میں افیون کی کاشت بھی کرواتے تھے اور ان کے پاس رولز رائس کار تھی۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ ان کے پاس رقم دینے کی استطاعت تھی یا نہیں۔ اُن کے پاس رقم بھی تھی اور قرض دینے کی دستاویز بھی موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ برطانوی حکومت اس معاملے پر کیا کارروائی کرتی ہے۔‘
جماّ لال روٹھیا کی سنہ 1937 میں وفات ہوئی تھی یعنی قرض دیے جانے کے 20 سال بعد اور اس کے تقریباً دس سال بعد سنہ 1947 میں تاج برطانیہ کو ہندوستان کو آزاد کرنا پڑا تھا۔
خاندان کا دعویٰ ہے کہ قرض میں دی گئی اُن کی رقم کی کبھی ادائیگی یا تصفیہ نہیں کیا گیا۔
برطانوی حکام نے فی الحال خاندان کے دعوے کو قبول نہیں کیا ہے۔ خاندان سے طلب کی گئی دستاویزات اور معلومات کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہو گا کہ 1917 میں دیے گئے 35 ہزار روپے سے متعلق کاغذات برطانوی حکومت کے ریکارڈ سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔
خاندان آئندہ قانونی کارروائی اور ثالثی کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔ ونے روٹھیا کے مطابق اصل دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی مزید قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
109 سال پرانے اس معاملے میں فی الحال خاندان برطانوی حکام کو مطلوبہ دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔



















