کیا مچھروں کو بھگانے والے کوائل کا دھواں درجنوں سگریٹ کے دھوئیں سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
بِھن، بِھن، بِھن۔۔۔
مچھروں کی اس بھنبھناہٹ سے کون واقف نہیں جو حبس اور نمی سے بھرپور موسم میں ہمارے کانوں میں ایسی مخصوص آوازوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔
بیشتر افراد ان مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے مختلف طریقے آزماتے ہوں۔ خاص طور پر ایسے دنوں میں جب ڈینگی اور ملیریا جیسے مچھر سے پھیلنے والے امراض کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کبھی سپرے سے تو کبھی کوائل جلانے کر لوگ خود کو اور اپنے خاندان کو مچھروں سے بچانے کے لیے مختلف طریقے آزماتے ہیں۔ بہت سے لوگ سونے سے پہلے ایک کوائل جلا دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے دھوئیں سے نہ صرف مچھر دور رہیں گے بلکہ بیماریوں سے بھی تحفظ ملے گا۔
تاہم ماہرین اس کے خطرناک اثرات سے خبردار کرتے ہیں اوران کے مطابق ایک کوائل کا دھواں درجنوں سگریٹ کے دھویں کے برابر ہے جو سانس اور گلے کی بیماری اور دمہ کے شدید اٹیک کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
لیکن کیا واقعی یہ دھواں صرف مچھروں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے؟ یا پھر اس کے اثرات انسانوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں؟ کاربن مونو آکسائیڈ سمیت دیگر کیمیکلز سے بھرے اس جلیبی نما کوائل کو آخر جلانے کا مناسب طریقہ کیا ہے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہم نے اس تحریر میں مختلف ماہرین سے بات کر کے حاصل کیے ہیں۔
’بند کمرے میں کوائل کا جلنا زہر سے کم نہیں‘
ڈاکٹر شازلی منظور سینہ اور سانس کے امراض کے علاوہ الرجی کے مسائل کے ماہر ہیں اور ان کے مطابق کوائل کو اگر بند جگہ لگا کر جلایا جائے تو اس سے شدید قسم کے صحت کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق صرف ہوا دار مقام پر خود سے دو سے چار میٹر کے فاصلے پر لگا کر ہی کوائل کا استعمال مناسب ہوتا ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شازلی نے کہا کہ ’بند کمرے میں کوائل کا جلنا زہر سے کم نہیں۔ کوائل میں کیمیکلز کے باعث اس کو جلاتے وقت مختلف ٹاکسک میٹیریل(زہریلا مواد) کا اخراج ہوتا ہے جو بند کمرے میں زہر کی طرح انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر شازلی سے جب پوچھا گیا کہ جو لوگ کوائل کو جلا کر مچھروں کو بھگاتے ہیں ان کے لیے وہ کیا تجویز کریں گے؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کوائل کو ہمیشہ آؤٹ ڈور یا کھلی جگہ پر رکھ کر جلایا جاتا ہے کہ وہ دو سے چار میٹردور رکھا ہو۔‘
ڈاکٹر شازلی نے مزید بتایا کہ ’بعض جگہ لوگ باہر کھانا کھاتے وقت ٹیبل پر یا کسی آؤٹ ڈور مصروفیت میں اپنے قریب رکھ کر کوائل جلا لیتے ہیں اس سے بھی نقصان دہ کیمیکلز سے متاثر ہونے کی گویا تلوار سر پر لٹکتی ہے۔ اس لیے میز یا کرسی کے عین نیچے کوائل رکھ کر جلائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کوائل جلانے سے ہزاروں دیگر کیمیکل دھویں کی شکل میں اندر اترتے ہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مچھروں سے نجات پانے کے لیے ایک عام اور نسبتاً سستا طریقہ مسکیٹو کوائل کا استعمال ہے جو برسوں سے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں گھروں کا حصہ رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس کے دھویں کو درجنوں سگریٹ کے دھویں کے برابر خطرناک قرار دیتے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ماہر امراض سینہ ڈاکٹر جاوید خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے کہا کہ موسکیٹو کوائل کا استعمال خاص طور پر سردیوں میں بڑھ جاتا ہے تاکہ مچھروں کو مارا جا سکے حالانکہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ان کے مطابق ’یعنی ایک رات میں اگر آپ مچھر مار کوائل بند کمرے یا بند جگہ پر استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 60 سے 100 سگریٹ کے برابر دھواں آپ اپنے پھیپھڑوں میں لے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’مختلف کمپنیوں کے جو کوائل ہوتے ہیں ان میں کچھ مختلف کیمکلز ہو سکتے ہیں تاہم عام طور پر جو کیمیکلز پائے جاتے ہیں ان میں پائراتھین، ایریتھرین، کاربن مونو آکسائیڈ اور بینزین وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اس کی تیاری میں مختلف رنگ اور کیمیکل سے بنی خوشبو کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن پر شائع ہونے والی ایک سابقہ تحقیق کے مطابق ایک مچھر بھگانے والی کوائل (جو سات سے آٹھ گھنٹے تک دھواں خارج کرتی ہے) جلانے سے خارج ہونے والے ’PM₂.₅‘ ذرات کی مقدار 75 سے 137 سگریٹ جلانے کے برابر ہو سکتی ہے جبکہ ایک کوائل جلانے سے خارج ہونے والی فارملڈیہائیڈ کی مقدار 51 سگریٹ جلانے سے پیدا ہونے والی مقدار کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
کوائل کے استعمال کے بعد کمرے کے اندر کی فضا کو آلودہ کرنے والے بعض کیمیکل انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟
سنہ 2025 میں شائع ہونے والی بی بی سی اردو کی ایک تحریر کے مطابق کاربن مونو آکسائیڈ (CO) گیس اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نامیاتی مادہ ٹھیک طرح سے نہیں جلتا۔ یہ گیس خون میں ہیموگلوبن (کاربوکسی ہیموگلوبن) کے ساتھ مل جاتی ہے اور خون کی آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ جسم میں اس کی تھوڑی مقدار بھی سر درد، تھکاوٹ اور متلی جیسے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ بڑی مقدار میں سانس لینا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسیں ہیں جو دل، پھیپھڑوں یا سانس کی موجودہ حالتوں کو بڑھا سکتی ہیں، پھیپھڑوں کے قدرتی دفاع کو کم کر سکتی ہیں۔
ذرّاتی آلودگی (PM₂.₅ اور PM₁₀)، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور دیگر فضائی آلودگی پیدا کرنے والے مرکبات ناک، گلے اور سانس کی نالی کی جھلیوں میں جلن پیدا کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق ’مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں سے الرجی بھی ہوتی ہے، کچھ لوگوں کو صرف دھویں سے مسئلہ ہوتا ہے تو کچھ کو پائیراتھین (مرکبات کا ایک ایسا قدرتی مجموعہ و بنیادی طور پر کیڑے مکوڑوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے) سے مسئلہ ہوتا ہے تاہم دھواں کسی بھی شکل میں ہو وہ پھیپڑے کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’بند کمرے میں اس کے دھویں سے سانس کی نالیوں کے اندر موجود دفاعی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ جسم کا امیون سسٹم تباہ ہو جاتا ہے۔‘
اس کی مثال میں وہ بتاتے ہیں کہ ’انسان سگریٹ تو نیکوٹین کی طلب کی وجہ سے پیتا ہے تاہم سگریٹ کا اصل نقصان جو ہزاروں دیگر کیمیکل دھویں کی شکل میں ہمارے اندر جاتے ہیں اس سے ہوتا ہے یہی حال موسکیٹو کوائل کا ہے جس کی وجہ سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’مثلاً دمہ بڑھ جاتا ہے سانس کی نالی کی بیماریاں ذیادہ ہوتی ہیں اور جن بچوں کو الرجی کا ایشو ہو ان کو رات کو کھانسی آئے گی اور دمہ کا اٹیک ہو سکتا ہے۔‘
کوائل کے دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ سمیت دیگر نقصان دہ کیمیائی مادے
ماہرین کے مطابق مچھر مار کوائل جلنے کے دوران مختلف کیمیائی مادے اور باریک ذرات فضا میں خارج ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کا مقصد مچھروں کو بھگانا یا ہلاک کرنا ہوتا ہے، لیکن کئی سائنسی مطالعات یہ سوال اٹھا چکی ہیں کہ بند یا کم ہوادار کمروں میں اس دھوئیں کا مسلسل سامنا انسانی صحت کے لیے کس حد تک محفوظ ہے۔
مچھر مارنے کے لیے استعمال ہونے والی کوائل کے اثرات کے حوالے سے برطانیہ کے ادرہ صحت این آئی ایچ میں شائع ڈیٹا کے مطابق مچھر مار کوائل کے استعمال کے بعد گھر کے اندر کی فضا میں کئی آلودہ مادے پائے گئے، جن میں کاربن مونو آکسائیڈ، ٹی وی او سیز، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور باریک ذرّاتی آلودگی شامل تھیں۔
محققین نے یہ بھی دیکھا کہ بڑے کمروں میں کوائل کی مچھروں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت معمولی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ تاہم کم ہوادار کمروں میں اس کا اثر نسبتاً زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ مچھر کوائل جلانے سے خارج ہونے والے تمام ذرات باریک نوعیت کے تھے اور ان کا قطر ایک مائیکرومیٹر سے کم تھا۔ ان میں زیادہ تر ذرات کا حجم 0.01 سے 0.1 مائیکرومیٹر اور 0.2 سے 0.3 مائیکرومیٹر کے درمیان تھا۔
تحقیق میں یہ نتیجہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ کوائل سے پیدا ہونے والی آلودگی کے باعث بیماری کا خطرہ کم تھا، لیکن یہ مچھر کے کاٹنے سے صرف محدود تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے ملیریا کی روک تھام اور کنٹرول کے طریقے کے طور پر اس کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔
صحت سے متعلق معیارات اور رہنما اصولوں سے موازنہ کرنے کے بعد محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مچھر کوائل کے دھویں کی زد میں آنے سے قلیل مدتی اور طویل مدتی، دونوں طرح کے صحت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
محققین نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ملیریا سے متاثرہ علاقوں میں مچھر مار کوائل کے استعمال کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر شازلی کے مطابق کوائل کے جلنے میں سگریٹ کی طرح خطرناک کیمیکلز ریلیز ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کو بھی متاثر کرتے ہیں یہاں تک کے دمہ ( ایستھیما) کا شدید اٹیک بھی ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’ہوا کی آمدورفت نہ ہونے والی جگہ پر کوائل جلانے سے دمہ، کھانسی، گلے کی سوزش سمیت کئی عارضے ہو سکتے ہیں ۔اس سے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوتے ہیں یہاں تک کہ دمے کے مریض کو ایمرجنسی تک میں جانے کی نوبت آ سکتی ہے۔‘
ڈاکٹر شازلی نے بتایا کہ ’کوائل کا دھواں صرف الرجی کے مریضوں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ کسی بھی شخص کو ناک، گلے، سانس کی نالی کی بیماری، آنکھوں میں جلن اور پانی بہنے، نزلہ گلے میں گرنےجیسی تکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہgettyimages
مچھر دانی کا استعمال
ڈاکٹر شازلی کے مطابق مچھروں سے محفوظ رہنے کے لیے کمروں میں موسکیٹو ریپیلنٹ (بجلی سے آپریٹ کیا جانے والا ننھنا سی ہیٹر جس پر ایک مخصوص ٹیبلٹ رکھ کر گرم کی جاتی ہے) لگائیں۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں دروازے پر جالی لگوائیں، مچھر دانی میں سوئیں خاص طور پر بچوں کو کھلے میں نہ سلائیں اور کسی کیمیکل پر مبنی مچھروں سے بچاؤ کا سپرے یا کوائل بند کمرے میں ہر گز استعمال نہ کریں۔
ڈاکٹر شازلی نے کہا کہ ’آلودگی کسی بھی طرح کی ہو، اگر کسی شخص کے پھیپھڑے کمزور ہیں یا خواتین جو حاملہ ہیں ان کے لیے دھواں یا آلودگی مضر اثرات کی حامل ہوتی ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر جاوید، جو نوے کی دہائی میں پاکستان میں ڈینگی کی وبا کو رپورٹ اور تحقیق کرنے والوں میں شامل رہے ہیں، کے مطابق ڈینگی ایک خطرناک مسئلہ ہے اس لیے اس موسم میں مچھروں سے بچنے کے لیے جالی کا استعمال کریں، پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں جبکہ کوائل کے بجائے الیکٹرک ہیٹر یا لوشن کا استعمال بہتر ہے۔




















