’کبھی کسی ایرانی کو نہ دھمکانا!‘

وقت اشاعت

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران موسم گرم ہو رہا ہے اور مزاج بگڑ رہے ہیں۔ لیکن تلخ کلامی کے ایک خاص واقعے کی اطلاعات کے بعد تو سوشل میڈیا پر اس بارے میں پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مغربی طاقتیں، روس اور ایران دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے ویانا میں ایران کے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں پیش رفت بہت سست ہے۔

یہ مذاکرات ہو تو بند دروازوں کے پیچھے رہے ہیں لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کا ماحول ہمیشہ پرامن اور سفارتی نہیں رہا۔

گذشتہ ہفتے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ماحول اس وقت تلخ ہوگیا جب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے حریف ممبران کو چلا کر کہا تھا کہ ’کبھی کسی ایرانی کو نہ دھمکانا!‘

ایران کے خبر رساں ادارے مہر نے اس واقعے کو رپورٹ کیا جس کے فوراً بعد ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بھی یہ خبر شائع کی تھی۔

اور جلد ہی ٹوئٹر پر NeverThreatenAnIranian# نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگ گیا۔

انگریزی زبان کے اس ہیش ٹیگ کا پانچ ہزار مرتبہ ذکر ہوا اور ساتھ ہی کئی خاکے بھی شائع کیے گئے۔

سب سے معروف ہونے والی ایک تصویر میں وزیر خارجہ ظریف کو بطور کامک بک کردار ’ہلک‘ دکھایا گیا تھا:

کئی ٹوئٹر صارفین نے وزیر خارجہ ظریف اور ان کی مذاکراتی ٹیم کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا جس کی ایک مثال تہران سے ایک صحافی کا یہ پیغام ہے:

تاہم ایرانی حکومت کے کئی مخالفین نے بظاہر سنہ 2009 میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف حکومت کے پرتشدد کریک ڈاؤن کی تصاویر شائع کیں جس کا مقصد یہ پیغام پہنچانا تھا کہ ایرانی عوام محسوس کرتے ہیں کہ حکام انھیں دھمکاتے ہیں۔

فی الحال ادھر ویانا میں مذاکرات جاری ہیں اور اس کے اہم نکات میں ایران کے جوہری پلانٹ کا معائنہ اور اس پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنا شامل ہے۔