انڈیا میں آکسیجن کی شدید قلت کے درمیان ماہرین نے حکومت کے سامنے کورونا کی صورتحال کا جو ممکنہ خاکہ پیش کیا ہے اس کے مطابق ملک میں اس لہر کا عروج آنا ابھی باقی ہے اور مئی کے وسط میں کورونا کے یومیہ مریضوں کی تعداد ’پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔‘
کورونا وبا کی صورتحال کا یہ تخمینہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دلی، مہاراشٹر، اتر پردیش اور کئی دیگر ریاستوں کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت سے اموات کی خبریں مل رہی ہیں۔
ملک کے بیشتر ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور نئے مریضوں کو داخل کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس مشکل صورتحال میں آکسیجن کی کمی ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا کے مریضوں میں کم از کم دس فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جنھیں آکسیجن کے سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وقت انڈیا میں ساڑھے تین لاکھ افراد کورونا سے روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔ روزانہ اموات کی تعداد تین ہزار تک پہنچنے کے قریب ہے۔
تو ایسی صورتحال میں آکسیجن کی مانگ پوری کرنے میں کیا مشکلات ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کیا کر رہی ہے؟
انڈیا میں آکسیجن سپلائی کی مشکلات کیا ہیں؟
مرکزی وزارت صحت کے سیکریٹری راجیش بھوشن نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ملک میں اس وقت روزانہ 7500 میٹرک ٹن آکسیجن تیار کی جا رہی ہے۔ اس میں سے 6600 میٹرک ٹن آکسیجن طبی استعمال کے لیے ریاستوں کو دی جا رہی ہے۔ بیشتر کمپنیاں نجی زمرے کی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ہدایت جاری کی ہے کہ کچھ اہم صنعتوں کو ہی آکسیجن فراہم کی جائے تاکہ طبی مقاصد کے لیے آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ کیا جا سکے۔‘
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آکسیجن سبھی ریاستوں میں نہیں بنتی۔ دلی جیسی ریاست کو آکسیجن ایک ہزار کلومیٹر یا اس سے زیادہ دوری سے منگوانا پڑتی ہے۔ بنگال، مہاراشٹر، اڑیسہ، اتر پردیش، گجرات اور آندھرا پردیش آکسیجن بنانے والی اہم ریاستیں ہیں۔
آکسیجن ایک خاص طرح کے کرائیو جینک ٹینکر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائی جاتی ہے۔ آکسیجن کی مانگ بڑھنے کے ساتھ ملک میں اس طرح کے ٹینکروں کی خاصی کمی محسوس کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے آکسیجن ایک ریاست سے دوسری ریاست تک اور پھر پلانٹ سے ہسپتال کے بستر تک پہنچنے میں تین سے پانج دن لگتے تھے۔
اب یہ دورانیہ بڑھ کر چھ سے آٹھ دن ہوگیا ہے۔
چھوٹے چھوٹے سپلائرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بڑے سائز کے مخصو ص جمبو اور ڈیورا سیلنڈر کی کمی ہے جس کے سبب وہ سپلائی کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پاتے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سبھی ہسپتالوں میں آکسیجن کا ذخیرہ کرنے کے لیے سٹوریج نہیں۔ دیہی علاقوں میں آکسیجن کی سپلائی کی صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔
آکسیجن کی سپلائی کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟
آکسیجن کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر حکومت نے 50 ہزار میٹرک ٹن آکسیجن درآمد کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی حکومت نے ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن کے 162 پریشر سوئنگ پلانٹ لگانے کی منظوری دی ہے۔ حکومت نے ریلوے کے ذریعے سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں اور شہروں تک آکسیجن جلد پہنچانے کے لیے ری فلنگ مراکز سے ایک ساتھ کئی ٹینکر بھیجنے کا قدم اٹھایا ہے۔
کئی ملکوں سے ہنگامی طور پر مخصوص ٹینکرز خریدے جا رہے ہیں۔ انڈیا کی فضائیہ نے بھی ٹینکروں کو پیداوار کے قریب ترین مقام تک پہنچانا شروع کیا ہے۔ انڈیا کی فوج نے جرمنی سے 23 موبائل آکسیجن جنریشن پلانٹس خریدے ہیں۔ ٹاٹا گروپ بھی دیگر ممالک سے ٹینکر منگوا رہا ہے۔
برطانیہ، چین، امریکہ، پاکستان اور جرمنی سمیت کئی ملکوں نے انڈیا کو مدد کی پیشکش کی ہے۔
لیکن جس تیزی سے کورونا پھیل رہا ہے، انڈیا کو آکسیجن کی پیداوار کی مقدار میں جلد زبردست اضافہ کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی پورے ملک میں اس کی بروقت سپلائی کے نظام کو منظم اور مربوط کرنا ہوگا۔