ایران اور چین سے آکسیجن درآمد کرنے سے متعلق بات چیت جاری ہے: فواد چوہدری
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے منگل کو میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے سے متعلق بات چیت چل رہی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے اگر آکسیجن کی کیپیسٹی ڈبل نہ کی ہوتی تو اس وقت صورتحال مختلف ہوتی۔ ضرورت پڑی تو ایران سے بھی آکسیجن لیں گے۔ ہم چین اور ایران سے اس وجہ سے لیں گے کہ یہ ائیرلفٹ نہیں ہو سکتی یہ سڑک سے یا سمندری جہاز کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔
ان کے مطابق اگر کورونا وائرس کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو پھر اس کی ضرورت پڑے گی۔
ان کے مطابق عید کی پانچ چھٹیاں دے جائیں گے تا کہ لوگ گاؤں وغیرہ جائیں جہاں کورونا کی شرح کم ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہوئے این سی او سی کے گذشتہ اجلاس آرمی چیف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک تھے، جس میں وزیراعظم کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے تو پھر ہمیں پوری تیاری کرنی پڑے گی تا کہ ضروری اشیا کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ان کے مطابق کوشش کریں گے کہ لاک ڈاؤن نہ لگانا پڑے۔
’عوام ویکسین لگوانے سے نہ گھبرائیں‘
فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ پاکستان میں ویکسین لگوا چکے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین لگوائیں۔ ان کے مطابق دنیا میں ایک ارب لوگ یہ ویکسین لگوا چکے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ محفوظ ہے۔
فواد چوہدری کے مطابق اس وقت 37 لاکھ خوراکیں دستیاب ہیں۔
’بروقت اقدامات نہ اٹھاتے تو حالت انڈیا کی طرح ہوتی‘
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وینٹی لیٹرز سےمتعلق شاید شبلی فراز کو ابھی تک پریزینٹیشن مکمل نہیں ملی، تمام سرٹیفیکیشن کے ذریعے ہی وینٹی لیٹر کا کام چلتا ہے، شبلی فراز کو کمپنیوں سے وینٹی لیٹر سےمتعلق پریزینٹیشن لینی چاہیے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت پانچ ہزار متاثرین تشویش ناک حالت میں ہیں۔
اس سے پہلے پیک 3400 تھی یعنی 3400 مریض انتہائی نگہداشت میں گئے تھے اب پانچ ہزار لوگ گئے ہیں۔ اگر ہم ایک سال پہلے وہ اقدامات نہ کیے ہوتے جو اس حکومت نے کیے ہیں تو ہماری حالت بھی تقریباً انڈیا کی طرح ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ ہم اس ایک سال میں دوران سات ہزار بیڈز کا اضافہ کیا، جس میں آکسیجن اور وینٹی لیٹربیڈز بھی شامل ہیں، اگر یہ نہیں ہوتا ہماری حالت انڈیا کی طرح ہوتی، ہم نے ایک سال میں اپنی صلاحیت دوگنا کی۔
اگر ایسا نہ کرتے تو آج آکسیجن کی حالت بھی ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی۔
آکسیجن کی پیداوار کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ گذشتہ برس جون میں 484 میٹرک ٹن روزانہ بنا رہے تھے اور اس وقت 792 میٹرک ٹن بنا رہے ہیں اور 308 میٹرک ٹن کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ابھی آکسیجن کا بحران پیدا نہیں ہوا۔
ان کے مطابق صحت کے شعبے میں 500 میٹرک ٹن آکسیجن جارہی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس وقت تشویش ناک حالت کے مریضوں کی ضروریات کے لیے کافی ہے لیکن ہم 90 فیصد تک پہنچ گئے ہیں اور ہمارے تین آپشنز ہیں، ایک صنعت سے لے کر صحت کے شعبے کو دیں گے پھر چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے کی بات چیت چل رہی ہے۔
’صوبائی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے‘
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں اپنے وزیر تیمور جھگڑا کے خلاف ایف آئی آر کرا دی ہے۔ ان کے مطابق یہ 20 سے 22 کروڑ عوام کا ملک ہے یہاں ہر کام ڈنڈا لے کر نہیں کرواسکتے، خود بھی تو عقل کرنی چاہیے، یہ اپنی زندگیوں کا معاملہ ہے۔