ذوالفقار دبئی میں رہنے والے ایک پاکستانی ہیں جو گذشتہ 12 سال سے وہاں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنے گھر والوں کو وبا کے آغاز میں ہی واپس پاکستان بھیج دیا تھا تاہم وہ خود وہیں رکے رہے۔
اب وہ ایک درجن دیگر بے روزگار لوگوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش پذیر ہیں اور کام تلاش کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں اس وقت ان کے جیسے کئی غیر ملکی لوگ کورونا وائرس کے باعث ملازمتیں ختم ہوجانے کی وجہ سے پریشانی کے شکار ہیں۔
کورونا وائرس کی وجہ سے تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک کی معیشتوں پر کافی دباؤ پڑا ہے جن کا انحصار کم اجرتوں پر کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں پر ہوتا ہے۔
یہی مزدور خلیجی معیشتوں کی ریڑھ ہیں، اور تعمیرات، خدمات، نقل و حمل جیسی صنعتوں میں کام کرتے ہیں اور اب ان کے سامنے اس وبا کی حقیقت کا سامنا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے دبئی، ابو ظہبی اور شارجہ میں 30 سے زیادہ تارکِ وطن مزدوروں سے بات کی اور ان تمام کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے باعث مالی مشکلات کے شکار ہیں۔
نیپال سے تعلق رکھنے والے کپل نے جب اپنا گاؤں چھوڑ کر متحدہ عرب امارات کے ایک ایئرپورٹ پر سامان پیک کرنے کی ملازمت اختیار کی تھی تو ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔
مگر اب 29 سالہ کپل کہتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر ناامید ہیں کیونکہ انھیں بتایا گیا ہے کہ اس ماہ انھیں کام نہیں ملے گا۔
کپل نے ایک آجر کو اس ملازمت کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار نیپالی روپے (1450 ڈالر) ادا کیے تھے تاہم انھیں اب اندازہ نہیں کہ وہ دوبارہ کب کام کریں گے۔
وہ نیپال میں ٹیچر تھے اور یہاں کام کر کے وہ ماہانہ 600 ڈالر تک کما لیتے جو ان کی نیپال میں ملازمت سے کہیں زیادہ تھا۔
ان کا خیال تھا کہ وہ یہاں کچھ پیسے بچائیں گے اور پھر کسی اچھی ملازمت کے حصول کے لیے کوشش کریں گے۔
مگر اب وہ صرف اپنے قرض اتارنے کے لیے فکر مند ہیں۔
اس حوالے سے اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے لوگ متحدہ عرب امارات چھوڑ کر واپس جا چکے ہیں مگر انڈیا، پاکستان، فلپائن اور نیپال سے تقریباً دو لاکھ لوگ ان کے سفارتی مشنز کے مطابق اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔
تعمیرات اور پرچون جیسے شعبے اس بحران سے پہلے بھی مشکلات کے شکار تھے جس کی وجہ سے کئی لوگ پہلے سے ہی تنخواہوں میں تاخیر کا سامنا کر رہے تھے۔
دبئی کے ایک تھیم پارک میں سیکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے محمد مبارک کو 11 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔
گھانا سے تعلق رکھنے والے مبارک کہتے ہیں: ’کمپنی کو نہیں معلوم کہ وہ ہمیں کب ادائیگی کر سکیں گے، اور ہم اس کی وجہ سے مشکلات میں ہیں۔‘