برطانوی وزیر اعظم کی پیر کو کام پر واپسی متوقع، سپین میں یومیہ اموات میں ریکارڈ کمی
کورونا وائرس سے دنیا میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے نائب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث تین ہفتوں تک کام پر نہ جانے کے بعد وزیرِ اعظم اب دفتر میں واپسی کے لیے بے تاب ہیں۔وزیرِ اعظم جانسن ایک ہفتہ ہسپتال میں بشمول تین راتیں انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد کل سے ڈاؤننگ سٹریٹ میں کُل وقتی فرائض دوبارہ سنبھالیں گے۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: مدافعتی نظام کی مضبوطی سے آپ کووِڈ 19 سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
طاقت دینے والے نام نہاد مشروبات اور وِٹامن مصنوعات کو بھول جائیں، یہ اس جدید دور میں جادوئی ٹوٹکوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں۔
سنہ 1918 میں وِکس ویپورب کے ایک اشتہار کی سرخی تھی ‘ہسپانوی انفلوئنزا کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جائے؟‘
بریکنگ, نیویارک: 'لوگوں کو غیر معینہ مدت تک گھروں پر نہیں بٹھا سکتے'
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو
نے کہا ہے کہ ریاست میں اموات کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے اور سنیچر کو 367
اموات ہوئیں، جبکہ اموات کی تعداد جمعے کو 437 تھی۔
انھوں نے کہا کہ مرض پھیلنے اور اموات کی شرح سے
یہ فیصلہ ہوگا کہ ریاست کو دوبارہ کب اور کیسے کھولا جائے گا۔
کیومو نے کہا کہ لوگوں کو غیر معینہ مدت تک کے
لیے گھروں پر رہنے اور گرمیوں میں کوئی کام نہ کرنے کا کہنا ناممکن ہوگا۔
انھوں نے گھریلو تشدد، منشیات اور شراب کے زیادہ
استعمال، اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کی خبروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عندیہ
دیا کہ حکام کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہے۔
سپین میں بچے ایک مرتبہ پھر باہر کی دنیا سے لطف اندوز ہونے لگے
اتوار کو چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ سپین میں 14
سال سے کم عمر بچوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد گلیوں میں الگ ہی
سماں دیکھنے میں آیا۔
سپین نے حال ہی میں لاک ڈاؤن کے قواعد میں نرمی
کردی ہے جس کے بعد بچے صبح نو سے رات نو کے درمیان ایک گھنٹے کے لیے باہر نکل سکیں
گے۔
بچوں کے گھر سے نکلنے پر 14 مارچ سے پابندی عائد
تھی۔
اب بھی کچھ پابندیاں باقی ہیں، مثلاً بچے عوامی
پارکس میں نہیں جا سکتے اور نہ ہی ایک کلومیٹر سے زیادہ دور جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, اٹلی: یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 14 مارچ سے اب تک کم ترین سطح پر
،تصویر کا ذریعہget
اٹلی میں 14 مارچ سے اب تک ہلاکتوں کی یومیہ
تعداد کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکام نے اتوار کو 260 مزید ہلاکتوں کی اطلاع دی
ہے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 26 ہزار 644 ہوگئی ہے۔
یوں اٹلی امریکہ کے بعد ہلاکتوں کے اعتبار سے
دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔
آج کے اعداد و شمار گذشتہ تین دن سے کم ہوتی
ہلاکتوں کی تعداد کا سلسلہ ہیں اور کل کی 415 ہلاکتوں کے مقابلے میں واضح طور پر
کم ہیں۔
کیا برطانیہ میں مزید ایک لاکھ افراد کورونا سے ہلاک ہو سکتے ہیں؟, ڈیوڈ شکمین، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کی
ایک تحقیق میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں ایک لاکھ مزید افراد کووِڈ-19
سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ اندازے اب شہ سرخیوں میں اپنی جگہ بنا رہے
ہیں۔
محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہوگا اگر
سب سے زیادہ خطرے کے شکار لوگوں کے سوا سب لوگوں پر سے لاک ڈاؤن کی پابندی اٹھا لی
جائے اور صرف عمر رسیدہ یا طبی مسائل کے حامل لوگوں کو ہی حفاظت سے رکھا جائے۔
امپیریئل کالج کے پروفیسر نیل فرگوسن نے ان ہرڈ
نامی ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ لوگ سب سے زیادہ خطرے کے شکار
ہیں اور وہ بھی جنھیں نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر اس گروہ کے لیے انفیکشن کی شرح میں 80 فیصد
بھی کمی ہوجائے تو ان کے تحقیق کے مطابق ایک لاکھ افراد مزید ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ برطانیہ کی حکومت اس
حوالے سے کوئی اشارے نہیں دے رہی کہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو کب اٹھایا جائے گا
اور کیسے۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق بھی ابھی جاری نہیں کی گئی ہے اور یہ اگلے چند
دنوں میں متوقع ہے۔
اس کے نتائج جو بھی ہوں، لیکن یہ تحقیق اس وائرس
کے خطرے کی یاد دہانی کرواتی ہے، اور یہ باور کرواتی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا
فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہے۔
انڈیا: غیر سرکاری قرنطینے میں خاتون سے اجتماعی زیادتی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی پولیس نے ان تین افراد کو گرفتار کر
لیا ہے جن پر غیر سرکاری قرنطینے میں رکھی گئی ایک خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے
کا الزام ہے۔
معمولی اجرت پر کام کرنے والی یہ خاتون 100
کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں اپنے گھر پہنچنا چاہ
رہی تھیں کہ راستہ بھول گئیں۔
پولیس نے انھیں دیکھ لیا اور ایک مقامی سکول کی سنسان
عمارت میں لوگوں سے دور رہ کر رات رکنے کے لیے کہا کہ
کہیں انھیں وائرس نہ ہو۔
مگر وہاں ان کے ساتھ اندھیرا ہونے پر اجتماعی زیادتی کی گئی۔
انڈیا میں گذشتہ ماہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہاں
ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گھروں تک پہنچنے کے
لیے کئی کئی دن کا پیدل سفر کرتے رہے ہیں۔
بریکنگ, ملائیشیا نے روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی کو واپس موڑ دیا
میانمار سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں روہنگیا
پناہ گزینوں کی ایک کشتی کو ملائیشیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے
کیونکہ حکام کو کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔
بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ 20 سے 50 کے
قریب پناہ گزین ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد بنگلہ دیشی کوسٹ گارڈز نے کشتی کو بچایا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے دیکھا کہ ‘لاشوں کو سمندر میں پھینکا جا رہا ہے۔’
خیال کیا جا رہا ہے کہ اب بھی سینکڑوں پناہ گزین
سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے یقینی طور پر کہا نہیں جا سکتا کہ بنگلہ
دیش انھیں قبول کرے گا یا نہیں۔
میانمار میں نسل کشی سے فرار ہونے والے یہ پناہ
گزین کچھ لوگوں کے مطابق بنگلہ دیش میں اپنے کیمپوں سے نکلے تھے۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کو حاصل شدہ اس فوٹیج میں بنگلہ دیش کی جانب سے بچائے گئے پناہ گزینوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔