ینبع بندرگاہ سے سعودی تیل کی لوڈنگ 'معطل'، عمان کا آبنائے ہرمز میں ٹینکر پر حملے میں دو ملاح لاپتا ہونے کا دعویٰ

عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر 'ال گایا' کا رخ منگل کے روز عمان کی ایک بندرگاہ کی جانب تھا۔ عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر 'ال گایا' کا رخ منگل کے روز عمان کی ایک بندرگاہ کی جانب تھا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکی فوج نے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل جاری کر دی، جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف

    امریکی فوج

    امریکہ میں مرکزی انسپکٹر جنرل کی طرف سے کانگریس کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اور جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

    یہ رپورٹ امریکی محکمۂ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں تیار کی گئی ہے، جنھیں 12 مئی 2026 کو ’لیڈ انسپکٹر جنرل‘ نامزد کیا گیا تھا۔ اس میں 30 جون 2026 تک کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی جنگ، جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا، کے دوران گولہ بارود کے استعمال کے نتیجے میں امریکی فوج کے ذخائر میں کمی ہوئی اور ان کی دوبارہ فراہمی کے لیے پیداواری صلاحیت میں حائل رکاوٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اسلحہ سازی کی صنعت میں کئی مستقل رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سالڈ راکٹ موٹروں کی تیاری، جدید دھماکہ خیز مواد اور پروپیلنٹس کی دستیابی، اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔

    محکمۂ دفاع میں اسلحہ کی خریداری اور رسد کی نگرانی کرنے والے دفتر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے خاصا وقت درکار ہو گا۔

    آپریشن ایپک فیوری سے متعلق کانگریس کو پیش کی گئی لیڈ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 کے درمیان 11 امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے جبکہ سات دیگر غیر جنگی واقعات میں جان سے گئے۔ اسی عرصے کے دوران 417 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے۔

    رپورٹ میں امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) سے منسوب یہ بیان بھی درج کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر موجود سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران درجنوں امریکی طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چار ایف۔15ای لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین اپنی ہی فورسز کی فائرنگ جبکہ ایک دشمن کی فائرنگ کی زد میں آیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک ایف۔35اے لڑاکا طیارے کو ایران کے اوپر پرواز کے دوران دشمن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک اے۔10 طیارہ جنگی تلاش و امداد مشن سے واپسی پر نقصان کے باعث تباہ کر دیا گیا۔

    اسی طرح کے سی۔135 ایندھن بردار طیاروں میں سے سات تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں ایک طیارہ عراق کی فضائی حدود میں تصادم کے نتیجے میں تباہ ہوا، ایک کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ طیارے سعودی عرب میں ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی نگرانی کرنے والے ایک ای۔3 طیارے کو سعودی عرب میں ایرانی حملوں سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک ایچ ایچ۔60ڈبلیو ہیلی کاپٹر جنگی تلاش و امداد کی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوا۔

    دستاویز کے مطابق ایک ایم کیو۔4سی بغیر پائلٹ طیارہ گر کر تباہ ہوا، جبکہ چار اے ایچ۔6 ہیلی کاپٹرز کو اس نوعیت کا نقصان پہنچا کہ امریکی فورسز نے انھیں خود ہی تباہ کر دیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک اے ایچ۔64 ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرایا گیا اور ایک ایم ایچ۔60 ہیلی کاپٹر بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہوا۔

    اس کے علاوہ 30 ایم کیو-9 طرز کے نگرانی اور حملہ آور ڈرونز کے تباہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

  2. راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش، گوالمنڈی اور کٹاریاں کی صورتحال کی نگرانی

    ایک موٹر سائیکل سوار بارش میں بھیگتا ہوا جا رہا ہے، فائل فوٹو
    ،تصویر کا کیپشنموٹر سائیکل سوار بارش میں بھیگتے ہوئے جا رہے ہیں (فائل فوٹو)

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل کی صبح شروع ہونے والی بارش کے بعد انتظامیہ نشیبی علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ گوالمنڈی اور کٹاریاں میں پانی کی سطح کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق بارش کا سلسلہ صبح چار بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا۔ صبح 10 بج کر 20 منٹ تک سب سے زیادہ 49 ملی میٹر بارش اسلام آباد کے آئی-12 سیکٹر میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ نیو کٹاریاں میں 43 ملی میٹر، گولڑہ میں 42 ملی میٹر، شمس آباد میں 40 ملی میٹر، پیرودھائی میں 39 ملی میٹر اور گوالمنڈی میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق واٹر لیول سینسرز کی ریڈنگ کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 10.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں نو فٹ ریکارڈ کی گئی۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ گوالمنڈی اور کٹاریاں کی صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے، اگر گوالمنڈی میں پانی کی سطح 14.1 اور کٹاریاں میں 11.4 فٹ تک پہنچتی ہے تو الرٹ جاری کر دیا جائے گا۔

  3. ٹرمپ کے بیٹے کی شادی میں پوتن کے قریبی ساتھی نے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تھے

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا
    ،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا نے تصدیق کی ہے کہ ان کی شادی کے کچھ اخراجات روس کی ایک کاروباری شخصیت نے برداشت کیے تھے۔

    اس کاروباری شخصیت کا نام عمر کریملیو ہے، جن کے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا کی شادی مئی میں ہوئی تھی۔ اب دونوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ بہاماس کے ایک نجی جزیرے پر منعقد ہونے والی شادی کی تقریبات کی دو راتوں کی میزبانی عمر کریملیو نے کی تھی۔

    عمر کریملیو انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے صدر ہیں۔ جوڑے نے اپنے بیان میں کریملیوف کو اپنا قریبی دوست قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا نے اسے ایک دوست کی جانب سے دیا گیا شادی کا تحفہ قرار دیتے ہوئے اس پر اظہارِ تشکر کیا۔

    اس معاملے نے امریکی میڈیا میں ٹرمپ خاندان پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان اخراجات کی تفصیلات پہلی مرتبہ پرو پبلیکا کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی تھیں۔

    پرو پبلیکا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا ٹرمپ نے بہاماس کے ایک نجی جزیرے پر شادی کی تھی۔ اس کے بعد شادی کی دو روزہ تقریبات ایک دوسرے جزیرے پر منعقد ہوئیں، جہاں ایک رات کے قیام کا کرایہ تقریباً ایک لاکھ ڈالر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس تقریب سے منسلک کئی دیگر اخراجات بھی کریملیو نے ادا کیے، جن میں تقریباً 70 ہزار ڈالر مالیت کا آتش بازی کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔

    پرو پبلیکا نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر بتایا کہ کریملیو نے شادی کی تقریبات پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔

    امریکی حکومتی اخلاقیات کی نگرانی کرنے والی کئی تنظیموں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ صدر کے بیٹے نے ایک ایسے شخص سے قیمتی تحائف قبول کیے ہیں جس کے روسی صدر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ جونیئر کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، تاہم یہ صورتحال مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہے۔

  4. آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں مزید کمی: کپلر کمپنی کے اعداد و شمار

    آبنائے ہرمز

    بحری آمد و رفت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حملوں میں اضافے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد پیر کے روز مزید کم ہو گئی ہے۔

    منگل کو جاری کیے گئے کپلر کمپنی کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی مال بردار جہازوں کی مجموعی تعداد صرف چار رہی، جبکہ اتوار کو یہ تعداد 10 تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس آبی گزر گاہ سے دو بلک کیریئر جہاز باہر نکلے، جن میں سے ایک پر مال لدا ہوا تھا جبکہ دوسرا خالی تھا۔ اسی دوران دو آئل ٹینکر بھی پیر کو آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے اور دونوں خالی تھے۔

    ان اعداد و شمار میں ایسے جہاز شامل نہیں ہیں جنھوں نے شناخت سے بچنے کے لیے اپنا خود کار شناختی نظام (اے آئی ایس) بند کر رکھا ہو۔

  5. سعودی ولی عہد آج مصری صدر سے ملاقات کریں گے

    مصری صدر اور سعودی ولی عہد

    مصر کے ایوانِ صدر نے اعلان کیا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی منگل کے روز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی میزبانی کریں گے۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

    مصری ایوانِ صدر کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں رہنما دو طرفہ ملاقات کریں گے۔

    یہ دورہ حوثیوں کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جارحانہ کارروائیوں کے بعد ہو رہا ہے۔

    اس وقت بحیرۂ احمر کے ساحل پر حوثیوں کا کنٹرول ہے اور باب المندب پر بھی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اسی آبی گزر سے گزرتی ہیں۔

  6. سعودی عرب کا حوثی حملوں کا ’سختی سے‘ جواب دینے کا عزم، ایران کی تنازع میں کسی بھی کردار کی تردید

    حوثیوں کا ایک ڈرون یمن میں ایک نا معلوم مقام سے پرواز کر رہا ہے
    ،تصویر کا کیپشنحوثیوں کا ایک ڈرون یمن میں ایک نا معلوم مقام سے پرواز کر رہا ہے

    سعودی عرب نے منگل کو یمن کی حوثی جماعت انصار اللہ کی جانب سے اپنے علاقے پر کیے گئے نئے حملوں کے سلسلے کا ’سختی سے‘ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    حوثیوں نے پیر کو اعلان کیا کہ انھوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی فضائی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن کا ہدف طیاروں کے ہینگر، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحہ کے گودام تھے۔ ان کے بقول یہ حملے یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

    سعودی حکام نے اس علاقے اور جنوبی سعودی عرب کے تین دیگر شہروں میں ہنگامی انتباہ جاری کیے، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق یمن میں حوثی حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے۔

    حوثیوں نے گذشتہ چند دنوں میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں، خصوصاً یمن کی سرحد سے متصل جنوبی علاقوں میں واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں۔ پیر کو انھوں نے خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئر بیس پر ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے ایک حملے کا بھی اعلان کیا۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ فضائی حملوں میں تعز، لحج، الجوف، مأرب اور حجہ کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    عدن میں، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا صدر دفتر قائم ہے، دو یمنی فوجی ذرائع نے بتایا کہ مأرب اور الجوف کے درمیان سرکاری فورسز کی پوزیشنوں پر حوثیوں کے میزائل حملوں میں آٹھ فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

    گذشتہ چند روز میں حوثیوں نے ریاض کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے خلاف نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے باب المندب کی سٹریٹیجک گزر گاہ کے قریب اچانک حملے کے بعد اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کو وسعت دی اور بحیرۂ احمر سے ملحق یمن کے پورے مغربی ساحل پر قبضہ کر لیا۔

    سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف ایک فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں جنگ بندی کے باعث تنازع بڑی حد تک کم ہو گیا تھا۔ اس ماہ لڑائی دوبارہ شروع ہوئی اور حوثیوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی دستوں کو پسپا کر دیا۔

    بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی برآمدات حالیہ عرصے میں سعودی عرب کے لیے زیادہ اہم ہو گئی ہیں، کیونکہ تہران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محدود کر رکھا ہے، جس سے سعودی عرب کے مشرقی تیل کے ذخائر سے ہونے والی برآمدات کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو رہا ہے۔

    سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے مشرق سے مغرب جانے والی تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں، جسے فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق یہ حملہ عراق سے کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے یمن میں جاری جنگ میں تہران کے کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا: ’ایران یمن کے امور میں مداخلت نہیں کرتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ’مکمل طور پر خودمختار ہیں اور اپنے فیصلے اپنے مفادات کے مطابق کرتے ہیں۔‘

  7. اسرائیل کا غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    غزہ کے شمال میں واقع علاقے الصفطاوی میں فلسطینی شہری ایک تباہ شدہ گاڑی کا جائزہ لے رہے ہیں جسے اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی ہوئے
    ،تصویر کا کیپشنغزہ کے شمال میں واقع علاقے الصفطاوی میں فلسطینی شہری ایک تباہ شدہ گاڑی کا جائزہ لے رہے ہیں جسے اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی ہوئے

    اسرائیلی فوج نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ایک کارروائی کے دوران حماس کے پانچ ارکان، جن میں تنظیم کے ایک عسکری کمانڈر بھی شامل ہیں، ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز اور اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے حالیہ ہفتوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اپنی ’انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں‘ میں شدت پیدا کی ہے۔

    حماس کے جس کمانڈر کو نشانہ بنانے کا اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے وہ احمد البطش ہیں، جو ابو اسامہ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ حماس کے خبر رساں ذرائع نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے پیر کی شب رپورٹ کیا کہ احمد البطش عزالدین القسام بریگیڈز کے کمانڈروں میں شامل تھے اور اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔

  8. امریکی صدر کے بیانات سے گمراہ نہ ہوں: محسن رضائی

    محسن رضائی

    ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی شرائط پوری ہونے تک تہران امریکہ کے ساتھ کوئی نئی بات چیت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران ان کے ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے ’بے چین‘ ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ناکام ریاست ایران جلد ہی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘

    ان بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات سے گمراہ نہ ہوں، ’جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

    گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حکام مختلف بیانات میں بار ہا یہی مؤقف دہرا چکے ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکہ سے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے میں واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی صورت میں تہران بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

  9. پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ: 10 دنوں میں پیٹرول 34 اور ڈیزل 31 روپے مہنگا

    پاکستان پیٹرول

    پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی گئی ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق چار روپے 42 پیسے اضافے سے پیٹرول کی نئی قیمت 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر، جبکہ چھ روپے 10 پیسے اضافے سے ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    یوں 10 دن کے دوران پیٹرول 34 اور ڈیزل 31 روپے مہنگا ہوا ہے۔

    پانچ ستمبر کو پٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر تھا۔

    ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 55، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

    14 اگست کو پٹرول کی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یمن میں حوثیوں کی جانب سے حملوں اور خطے میں سکیورٹی صورتِ حال سے متعلق خدشات نے توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

  10. الگایا نامی تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک ماہ پرانا ہے: امریکی فوج

    آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز (فائل فوٹو)
    ،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز (فائل فوٹو)

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ تیل بردار بحری جہاز ’الگایا‘ کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک ماہ پرانا ہے۔

    اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحری کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ بحری جہاز ’الگایا‘ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور بالآخر پورا جہاز شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

    سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں پاسداران انقلاب کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے۔

    سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر الگایا کو گذشہ ماہ ایک ایرانی میزائل نے نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا تھا۔

    سینٹکام کے مطابق اس ہفتے کے اختتام پر ایران نے اسی ٹینکر کو دوبارہ ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا، جب وہ عمان کے ساحل کے قریب پانیوں میں موجود تھا۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ٹینکر کو اِس وقت ایک علاقائی شراکت دار کی جانب سے کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے۔

    آئل ٹینکر کے بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے مؤقف کو جھٹلاتے ہوئے سینٹکام نے کہا کہ یہ دعویٰ ایک مثال ہے کہ جب پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو کس طرح جھوٹ بولتے ہیں اور دھمکاتے ہیں۔

  11. آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں سپر ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر نذرِ آتش، پاسداران انقلاب

    Iran

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’الگایا‘ نامی سپر ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوگیا۔

    پاسداران انقلاب کی نیوی کے بیان کے مطابق ٹکر کے بعد ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کی کوششیں ناکام رہیں اور بالآخر پورا جہاز شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں پیش آیا، جسے عمان نے قابلِ استعمال قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ اس راستے کو ’خطرناک‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دے چکا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اس آبی گزرگاہ کے ذریعے بحری آمدورفت معمول پر نہیں آئی ہے۔

  12. حوثیوں کے سعودی عرب میں فوجی اہداف پر ایک بار پھر حملے

    Yeman
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن کے حوثی باغیوں نے پیر کے روز ایک بار پھر سعودی عرب میں فوجی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حوثیوں کے مطابق حملوں میں درجنوں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔ حملوں کے بعد سعودی سول ڈیفنس حکام نے یمن کی سرحد کے قریب واقع شہروں خمیس مشیط اور ابہا میں مختصر حفاظتی وارننگ جاری کی۔

    حوثی باغیوں نے حالیہ عرصے میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور آبنائے باب المندب کے اطراف اپنی موجودگی اور کنٹرول کو مزید مضبوط کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد اس متبادل سمندری راستے کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سعودی شہر خمیس مشیط کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے ’شدید دھماکوں‘ کی آوازیں سنیں، جن کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور کافی دیر تک شعلے بلند ہوتے رہے۔ ان کے بقول، ’صورتحال اتنی خوفناک تھی کہ ہم پوری رات سو نہیں سکے۔‘

  13. حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا

    Petrol prices

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل دونوں مہنگے ہو گئے ہیں۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چھ روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

    حکومت کی جانب سے نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

  14. ’اصولی طور پر‘ ایران کے ساتھ معاہدے کا راستہ کھلا ہے: ٹرمپ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران ان کے ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے ’بے چین‘ ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ناکام ریاست ایران جلد ہی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘

    انھوں’اصولی طور پر‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو خارج الامکان نہیں قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اس معاملے پر آگے کیا کرے گا اس حوالے سے فیصلہ میں کروں گا۔

  15. حوثیوں سے ’براہ راست بات چیت‘ کر رہے ہیں، امریکہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے: امریکی نائب صدر

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ وہ یمن اور اس کے اطرف میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور حوثیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔

    امریکی ریاست کنساس میں ایک صحافی نے جے ڈی وینس سے پوچھا کہ کیا انھیں بحیرہ احمر میں واقع بریم جزیرے پر حوثیوں کے قبضے سے پریشانی ہے؟ امریکی نائب صدر نے جواب دیا: ہم اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اماراتیوں، سعودیوں اور خطے میں دیگر متاثرہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور وہ ’حوثیوں سے بھی براہ راست بات‘ کر رہے ہیں۔

    ’ہم اس صورتحال کی نگرانی کرتے رہیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ کریں۔‘

  16. یورپی کمیشن کی سربراہ کی ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے حملوں کی مذمت

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے خطے میں ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ’مسلسل حملوں‘ کی شدید مذمت کی ہے۔

    ارسلا وان ڈر لیئن نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم خلیج فارس میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے مسلسل حملوں کے خلاف ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ہم سب کا مفاد وابستہ ہے۔‘

    تاہم ایرانی حکام کی جانب سے یمن میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی جا چُکی ہے۔

    دوسری جانب ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں نے حالیہ دنوں میں اہم پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کو کئی محاذوں پر پیچھے دھکیل دیا ہے۔

  17. یمن میں حوثیوں کے خلاف حکومتی فورسز کی پیش قدمی، تعز میں کئی علاقوں پر قبضے کا دعویٰ

    BBC

    یمن میں حوثی مخالف میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے تعز کے محاذ کے قریب کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    استنبول سے شائع ہونے والی یمنی ویب سائٹ بلقیس نے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے حوالے سے بتایا کہ ’حکومتی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی ہے۔‘

    یمن کی صدارتی قیادت کونسل کو بین الاقوامی سطح پر یمنی حکومت تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ حکومتی فورسز ایران کے اتحادی حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

    رشاد العلیمی نے تعز میں حوثی مخالف فورسز کی جنگی تیاری اور درست کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’مأرب، الجوف، البیضاء اور الضالع کے علاقوں میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلقیس کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز نے مغربی تعز میں پیش قدمی کرتے ہوئے حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی فورسز کی کارروائیوں کو سعودی جنگی طیاروں کی فضائی مدد بھی حاصل رہی۔

    دوسری جانب بلقیس اور سعودی ملکیت والے العربیہ نیٹ ورک نے یمن کے مختلف محاذوں پر حوثی ٹھکانوں کے خلاف مزید فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ ان حملوں میں باب المندب کے قریب مغربی یمن کے ساحلی شہر ذباب کے علاقے میں حوثی پوزیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  18. میر رضا کیس: ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی اور سر پر چوٹ تھی، میڈیکل فائنڈنگز خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتیں, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Mir Raza Ali Family

    نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی فائنڈنگز خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ ’میر رضا کے سر پر چوٹ، ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی اور سر کے پچھلے حصے پر کسی سخت چیز لگنے کا نشان تھا۔‘ ان کے مطابق یہ چوٹیں موت سے قبل لگی تھیں۔

    ڈاکٹر سمیعہ نے مزید بتایا کہ ’میر رضا کے جسم سے اینستھیسیا بھی ملا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موت کے وقت دوا خون کے نظام میں موجود تھی۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر یہ تعین نہیں کیا جا سکتا کہ اینستھیسیا کس طریقے سے دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوکل اینستھیسیا زیادہ مقدار میں نس کے ذریعے دیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔‘ ڈاکٹر سمیعہ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی بار کسی کیس میں کیمیکل ٹارچر کے شواہد دیکھے ہیں۔

    ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ ’میر رضا کے چہرے کی ڈی کمپوزیشن بھی جسم کے باقی حصوں جیسی نہیں تھی۔ گولی لگنے سے میر رضا کی پسلیاں فریکچر ہوئیں جبکہ گولی نے ان کے پھیپھڑے اور دل کو بھی نقصان پہنچایا۔‘ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کی کارروائی میں صرف وہ معلومات شامل کی گئیں جن پر میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کی متفقہ رائے تھی۔

    کمیشن کے سوال پر ڈاکٹر سمیعہ نے واضح کیا کہ قبر کشائی کا مقصد اٹھائے گئے طبی سوالات کا جائزہ لینا تھا اور میڈیکل بورڈ کو ملنے والے شواہد خودکشی کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔

    سماعت کے دوران ڈاکٹر سمیعہ نے اپنے خلاف مبینہ دباؤ اور دھمکیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق دو روز تک موٹر سائیکل سواروں نے ان کا تعاقب کیا اور انھیں کیس میں خودکشی کا مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ انھوں نے ان واقعات سے متعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کرانے کا بھی بتایا۔

    دوسری جانب کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تفتیش، شواہد کی حفاظت اور اہل خانہ سے رابطے کے طریقہ کار پر ایس ایچ او گلستان جوہر عدیل افضل سے سخت سوالات کیے۔

    کمیشن نے میر رضا کی سمارٹ واچ کے فرانزک کے لیے قبضے میں لیے جانے کے طریقہ کار اور پولیس اہلکاروں کے بیانات میں تضادات پر بھی سوال اٹھائے۔ اس کے علاوہ گیسٹ ہاؤس کے ڈی وی آر کے بارے میں بھی پولیس سے وضاحت طلب کی گئی، تاہم ایس ایچ او یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ڈی وی آر قبضے میں لینے کے بعد کہاں گیا۔

    سماعت کے دوران میر رضا کے والد میر حسین نے بتایا کہ 30 جولائی کو ایس ایچ او نے انہیں کہا تھا کہ پولیس نے ملزمان کو ٹریس کر لیا ہے۔ ایس ایچ او نے یہ بھی کہا کہ ’آپ کو معلوم ہے میرا ٹریک ریکارڈ کیسا ہے‘ اور یقین دہانی کرائی کہ 48 گھنٹوں میں انہیں آگاہ کیا جائے گا۔

    اس پر کمیشن نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس ملزمان کو ٹریس کر چکی تھی تو 48 گھنٹے بعد میر رضا کی موت کو خودکشی کیسے قرار دے دیا گیا؟

    میر رضا کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ میمو بنانے والے اے ایس آئی فیصل رحیم موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ خاندان کی موجودگی میں پولیس اہلکار کو ہی گواہ کیوں بنایا گیا؟

    اس پر کمیشن کے سرباہ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ’اپنے سینیئر افسران سے پوچھیں، میں صرف لگتا بے وقوف ہوں، بے وقوف ہوں نہیں۔‘

    کمیشن نے سوال کیا کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر کہاں گیا؟ ایس ایچ او عدیل افضل نے بتایا کہ وہاں سے ڈی وی آر اٹھا لیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد وہ کہاں گیا، اس بارے میں انھوں نے وضاحت نہیں کی۔ میر رضا کے والد میر حسین نے بتایا کہ چپل حوالے کرتے وقت پولیس نے انھیں ڈی وی آر دکھایا تھا اور کہا تھا کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر لے لیا گیا ہے۔

  19. افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے متعلق رپورٹس طالبان حکومت کے خلاف منفی مہم کا حصہ ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    طالبان نے افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی مراکز قائم ہونے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انھیں طالبان حکومت کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 13 ستمبر کو نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے متعلق رپورٹس طالبان حکومت کے خلاف منفی مہم کا حصہ ہیں۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے دعوے بعض متعصب حلقوں اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے سامنے آ سکتے ہیں، جو کشیدگی بڑھانے اور خطے میں عدم تحفظ کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’القاعدہ سمیت کوئی بھی غیر ملکی گروپ افغانستان میں موجود نہیں اور افغانستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘

    دوسری جانب 12 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور دیگر مغربی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروہوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’القاعدہ نے افغانستان میں دوبارہ اپنے تربیتی مراکز قائم کر لیے ہیں۔‘

    رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور اس سے منسلک گروہوں نے گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان میں کم از کم آٹھ تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے اور 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا سے القاعدہ نے فائدہ اٹھایا۔

  20. پابندیوں کے باعث محمد اسلامی کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی: امریکی وزیر توانائی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی

    امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کی ویانا میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70ویں سالانہ جنرل کانفرنس میں عدم شرکت سے متعلق ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’محمد اسلامی کا نام پابندیوں کے شکار افراد کی فہرست میں ہے اس لیے انھیں اس کانفرنس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

    کرس رائٹ کے مطابق محمد اسلامی نے پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

    ایران نے آج مؤقف اختیار کیا کہ آسٹریا نے امریکی دباؤ کے باعث محمد اسلامی کو ویانا میں داخلے کی اجازت نہیں دی، جس کے نتیجے میں وہ آئی اے ای اے کے اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔

    کرس رائٹ کے بیان کے بعد ویانا میں ایران کے سفیر اور آئی اے ای اے میں ایرانی نمائندے رضا نجفی نے اس اقدام کو ’تخریب کاری‘ قرار دیتے ہوئے آسٹریا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    رضا نجفی نے کہا کہ ’ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں کے میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں آسٹریا کی حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی کا ناقابلِ قبول ریکارڈ موجود ہے، جس کے باعث یہ واضح ہے کہ آسٹریا اس منصب کے لیے موزوں نہیں۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق آسٹریا نے محمد اسلامی کے لیے استثنیٰ کی درخواست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو بھیجی تھی، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

    آسٹریا کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی سفیر رضا نجفی نے کہا کہ ’یہ حیران کن ہے کہ آسٹریا کسی ایسی قرارداد یا کمیٹی کا حوالہ دے کر اپنے اقدام کا جواز پیش کرے جو اب مؤثر نہیں رہی یا جس کا وجود ہی نہیں۔‘