آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اگر امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر کے دستخط موجود تھے، تاہم اس دستاویز سے امریکہ کی وابستگی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک برقرار رہی۔

خلاصہ

  • امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ایران بھی کرے گا: پزشکیان
  • روس کے لیے لڑنے والے 51 انڈین شہری ہلاک ہو چکے: انڈین سیکریٹری خارجہ
  • راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش، نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
  • وزیر دفاع سے اختلافات، امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی
  • آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چار اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری, تابندہ کوکب، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کے حکم پر چار اضلاع میں مکمل جبکہ چار میں جزوی انٹرنیٹ سروس بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    تاہم فی الحال کشیدگی کے شکار علاقوں سدھنوتی و پونچھ میں انٹرنیٹ سروسز مکمل بند رہیں گی۔ یاد رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مظاہرین نے دھرنا دے رکھا ہے۔

    ریاست کے محکمہ داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ، کوٹلی میں براڈ بینڈ اور وائی فائی انٹرنیٹ سروس صرف تعلیمی اداروں (سکول، کالجز، یونیورسٹیوں) کے لیے بحال کی جائے گی۔

    ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بینک برانچز کے ذمہ داران کو حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے مطابق یقینی بنایا جائے گا کہ انٹرنیٹ کنکشن کے ریاستی مفادات اور قومی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ ا سکے علاوہ انٹرنیٹ کنکشنز کو عوامی نظم کے خلاف استعمال کرنے کی اجازی نہیں ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق میرپور، بھمبر، حویلی اور نیلم ویلی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    لیپا ویلی کو بھی مکمل سروس مل گئی جبکہ سدھنوتی،اور راولاکوٹ کی انٹرنیٹ سروس مکمل بند رکھی گئیں۔

  2. نیپال میں تعلیمی اداروں کے 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں: وزارتِ تعلیم

    نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ تین اضلاع میں کم از کم 19 سکول متاثر ہوئے ہیں۔

    وزارت کے مطابق کم از کم نو سکول مکمل طور پر تباہ اور سات دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    وزارتِ تعلیم و کھیل کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں جبکہ تقریباً 20 طلبہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

    شدید متاثر ہونے والے بیشتر سکول رسوا اور نواکوٹ اضلاع میں ہیں۔

    ان دونوں اضلاع کے کئی سکول، جہاں 2425 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، یا تو وہ سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے ہیں۔

    ایک سکول کی انتظامیہ میں سے ایک فرد نے بتایا کہ ’سیلاب ان کے سکول کی ایک بس بھی بہا لے گیا۔‘

    بی بی سی کی جنوبی ایشیا کی ویژول جرنلزم ٹیم نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ان علاقوں کا نقشہ تیار کیا ہے جہاں سکول سیلاب سے متاثر ہوئے۔

  3. نیپال اور تبت میں سیلاب: ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری، ہلاکتیں 800 کے قریب

    نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 800 تک پہنچ گئی ہے۔

    کھٹمنڈو میں بی بی سی نیپالی نے ایسے افراد سے بات کی ہے جو اپنے لاپتہ عزیزوں کی تصاویر اس امید پر ہسپتال کی دیوار پر لگا رہے ہیں کہ شاید ان کا کوئی سراغ مل جائے۔

    دوسری جانب تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے میں امدادی کارکنوں نے اتنا بڑا سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے ذریعے اندر داخل ہو کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کی جا سکتی ہے، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    2500 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سینکڑوں افراد نیپال کے پن بجلی منصوبوں میں کام کرنے والے کارکن ہیں۔

    لاپتہ افراد میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

    تباہی اور جانی نقصان کے درمیان کچھ افراد کے بچائے جانے اور امید کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

    چین کے زیرِ انتظام تبت میں سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے، جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں تقریباً نصف غیر ملکی شہری ہیں۔

    شگاتسے کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اب تک کوئی شخص زندہ نہیں ملا۔

  4. امریکی صدر نے ’ایرانی لارک جزیرے‘ پر حملے کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو جاری کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں تیل کی ایک بڑی تنصیب کو دھماکے کے بعد جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’لارک جزیرے کو مکمل طور پر زمین بوس کیا جا رہا ہے!!!‘

    یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

    امریکی فورسز اس سے قبل لارک جزیرے پر ایرانی میزائل لانچ کرنے والے دو مقامات کو نشانہ بنا چکی ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں دو امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    لارک جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے اور ملک کی خام تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ جزیرے پر قائم ٹرمینلز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

  5. پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش روکنے کے لیے حملہ کیا گیا: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف امریکی فورسز کی حالیہ کارروائی ’محدود اور انتہائی درست‘ تھی اور اسے جہاز رانی کے لیے موجود ’فوری خطرے‘ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا۔‘

    سینٹکام نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی ’جارحیت‘ تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’ایرانی فورسز نے خود یہ خطرہ پیدا کیا تھا اور امریکی فوج نے شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے اسے ختم کیا۔‘

    تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا ہے کہ ’امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام مکمل کر لیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز میں ’تجارت کے آزادانہ بہاؤ‘ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

    امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس سے ایران میں پیٹرول کی فراہمی پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ ملک میں مقامی پیداوار کی کمی بھی موجود ہے۔

  6. واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا: امریکی وزیرِ خزانہ

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کرے گا، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے باعث چین کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمد کم ہوئی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایران پر معاشی دباؤ کی مہم کی کامیابی کا انحصار چینی کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے پر ہے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے روئٹرز کو بتایا کہ ’جمعے کو متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخوں کے خلاف کارروائی کے بعد اگلا قدم کسی مالیاتی ادارے کی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی مکمل طور پر ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ ان شاخوں پر ایران کے ساتھ مبینہ مالی روابط کا الزام ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’آپ ہر ہفتے اس طرح کی مزید کارروائیاں دیکھیں گے۔ ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انھیں بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ’گروپ 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں وہ دیگر ممالک سے بھی ایران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کم کرنے کا مطالبہ کریں گے، بصورتِ دیگر انھیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  7. ایران کی ناکہ بندی کے دوران 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’30 اگست تک ایران کی ناکہ بندی کے دوران اُن کی فورسز نے 83 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا، تین کو ناکارہ بنایا اور دو جہازوں کی تلاشی لی۔‘

    سینٹکام نے یہ اعداد و شمار ایک تصویر کے ساتھ جاری کیے، جس میں ایک امریکی ملاح کو ’ایم ایچ 60 ایس‘ سی ہاک ہیلی کاپٹر کو یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک پر اترنے کے لیے رہنمائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق یہ جنگی جہاز بحیرۂ عرب میں ایران کی امریکی ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

  8. پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں دو امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرو سپیس فورس نے امریکہ کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں اردن میں کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاہم اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں اڈوں پر تکنیکی اور مرمتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ’شدید نقصان‘ پہنچا۔

    آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب ’مزید تباہ کن کارروائیوں‘ سے دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ’لارک جزیرے پر امریکی حملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو کمزور نہیں کر سکے گا۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے فاکس نیوز کے ایک رپورٹر اور ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’ایران نے اردن میں امریکی فورسز کو نشانہ بنایا، تاہم اب تک کسی ’اہم نقصان‘ کی اطلاع نہیں ملی اور تقریباً تمام آنے والے میزائلوں کو روک لیا گیا ہے۔

  9. جزیرہ لارک پر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی

    ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے جزیرہ لارک پر حملے کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کارروائی کا جواب لازمی دیا جائے گا۔

    انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’ہماری قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے‘ کی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں کی قیمت مزید بھاری کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دے گا۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاسدارانِ انقلاب نے جزیرہ لارک پر حملے میں اپنے متعدد اہلکاروں اور شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  10. جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی افواج کی جانب سے جزیرہ لارک پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنانا جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔

    یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی شدت میں کمی آئی تھی اور جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں یا تو ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی جہاز یا کشتی جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گی، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ ہو چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اسے بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع بدستور جاری ہے۔

  11. ترجمان پاسدارانِ انقلاب: جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی کا کہنا ہے کہ ’جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتائج امریکہ کو ’اقتصادی اور عسکری محاذوں پر‘ بھگتنا ہوں گے۔‘

    انھوں نے اس حملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’نام نہاد اقتصادی جنگ‘ کے دوران کی جانے والی ایک ’مہلک سٹریٹجک غلطی‘ قرار دیا ہے۔

    حسین محبی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ اقدام اس کے منصوبہ سازوں کے خلاف طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا اور امریکہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔‘

    واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام کی 200 روزہ مزاحمت‘ کے بعد ’دشمن‘ اب نفسیاتی جنگ کے ذریعے ’قومی استحکام اور عوامی ثابت قدمی کو کمزور کرنے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’ایران کے خلاف جاری دباؤ کا مقصد عوامی اعتماد کو متاثر کرنا اور داخلی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم ایرانی قوم ان کوششوں کے مقابلے میں اپنی مزاحمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘

  12. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے جزیرہ لارک پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے ’چند‘ اہلکاروں اور علاقے مکینوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    • گذشتہ روز پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے استنبول میں ملاقات ہوئی۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا کہ ’وینزویلا کے تیل کو امریکہ کے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹریٹجک تیل ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
    • ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست یعنی آج استنبول میں منعقد ہوگا۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔