سی این این نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا انٹرویو نشر کیا ہے، جس میں انھوں نے عمران خان کی صحت، 18 اگست کو ہسپتال منتقلی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد، طبی ریکارڈ تک رسائی اور 16 ستمبر کو ہونے والی سماعت سے متعلق مختلف خدشات کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکومت نے ایک تفصیلی ردعمل دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت نے زلفی بخاری کے انٹرویو کے بعد یہ جواب اسے بھی بھیجا ہے۔
سی این این کی میزبان بیکی اینڈرسن کے ساتھ انٹرویو میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تو آزاد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کو عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرنے اور ان کی میڈیکل رپورٹس تک رسائی کی اجازت دی جانی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم اپنے والد کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ کرکٹ کی دنیا کی متعدد معروف شخصیات نے بھی ان کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔
زلفی بخاری کے مطابق ہسپتال منتقلی کے وقت عمران خان نے اپنی بہن سے کہا تھا، ’وہ مجھے آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی ان کا منصوبہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل نہ کیے جانے اور ان کے طبی معاملات میں مکمل شفافیت نہ ہونے سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔
اس کے ردعمل میں حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چند غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے ایک مخصوص سزا یافتہ قیدی (عمران خان) کے بارے میں گمراہ کن رپورٹس نشر کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب سمجھا گیا ہے کہ اس معاملے پر متعلقہ اداروں کے ساتھ پہلے سے شیئر کیا گیا حکومتی مؤقف عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔‘
بیان کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف حوالہ اور ریکارڈ فراہم کرنا ہے بلکہ اس امر کو بھی اجاگر کرنا ہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت دانستہ طور پر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔
حکومت نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے حقائق پر مبنی جو نکات وار جواب پہلے ہی متعلقہ اداروں کو فراہم کیا جا چکا ہے، اسے یہاں من و عن دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قید پاکستان جیل رولز، عدالتی ہدایات اور ایک اہم سیاسی شخصیت کے لیے درکار سکیورٹی انتظامات کے مطابق ہے۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی مسترد کیا گیا کہ انھیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے یا بنیادی سہولتوں سے محروم کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق عمران خان کو ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد اور ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل ہے۔ انھیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کی سہولت اور مناسب غذائی انتظامات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ان کی رہائش سات سیلوں پر مشتمل علیحدہ حصے میں ہے جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولتیں موجود ہیں۔
حکومت نے کہا کہ جیل ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دورانِ قید تقریباً 198 ملاقاتیں ہوئیں جن میں 900 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان افراد میں خاندان کے ارکان، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی رہنما اور دیگر منظور شدہ افراد شامل تھے۔ حکومت کے مطابق عمران خان کی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی دی گئی جبکہ آخری ریکارڈ شدہ ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے پاکستان اور بیرونِ ملک اپنے اہلِ خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ رکھا، جس میں 21 مارچ 2026 کو ان کے ایک بیٹے سے ہونے والی گفتگو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست 2026 کو ان کی بہنوں سے ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
حکومت نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ بیان کے مطابق دورانِ قید ان کا تقریباً 30 مرتبہ ماہر ڈاکٹروں اور میڈیکل بورڈز نے معائنہ کیا، جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ماہرین شامل تھے۔
حکومت کے مطابق ریٹینا کی بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، ریٹینا امیجنگ، ادویات اور فالو اپ علاج فراہم کیا گیا۔ مختلف طبی جائزوں، جن میں جولائی 2026 اور 21 اگست 2026 کے معائنے بھی شامل ہیں، میں ان کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا۔
بیان میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا انٹرویو کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عمران خان ’سو فیصد فٹ‘ ہیں، ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق ہے اور ان کی آنکھ کا مسئلہ بھی تقریباً ٹھیک ہو چکا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تمام طبی معائنے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کیے گئے اور متعلقہ انتظامی اقدامات بھی مکمل کیے گئے۔ حکومت نے زور دیا کہ صحت کے معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور اس معاملے کا جائزہ طبی ریکارڈ اور عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت اور وکلا کو ہدایت کی تھی کہ مزید کارروائی تک عمران خان کی صحت یا طبی رپورٹس میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔ حکومت کے مطابق ایک قیدی کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور اس کی خفیہ طبی معلومات کو سیاسی مہم کا حصہ بنانے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
حکومت نے عمران خان کے بیٹوں سے متعلق تاثر پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے پاس نائیکوپ موجود ہے، جو پاکستان میں داخلے کے لیے قابلِ قبول سفری دستاویز ہے، اور وہ جب چاہیں ملک آ سکتے ہیں۔ تاہم جیل میں ملاقات کا معاملہ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی طریقۂ کار کے تحت طے ہوتا ہے۔
حکومت نے آخر میں سی این این پر زور دیا کہ آئندہ رپورٹنگ میں سرکاری ریکارڈ، طبی دستاویزات اور حراست سے متعلق حقائق کو مدِنظر رکھا جائے اور ان میں موجود معلومات اور سیاسی نوعیت کے دعووں کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔