تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، سہیل آفریدی کا عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہاں ایک عام سپاہی ہمارے ارکانِ اسمبلی کو روک لیتا ہے، لیکن ایک سابق وزیرِ اعظم کو انصاف نہیں مل رہا۔

خلاصہ

  • ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر
  • حوثیوں کا سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا: اتحادی افواج کا دعویٰ
  • لانگ مارچ کا روٹ تبدیل، پہلے خیبر پھر پشاور جائیں گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
  • لانگ مارچ ختم کریں تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، وزیر اعظم شہباز شریف: مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کریں، بیرسٹر گوہر کا جواب
  • امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ: تحریک انصاف کا لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں پہنچ پائے گا، گورنر خیبر پختونخوا
  • ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھنٹے کے دوران دو حملے، ایف بی آر اور ٹریفک پولیس کے پانچ اہلکار ہلاک: پولیس

لائیو کوریج

  1. وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی لانگ مارچ کے شرکا کو صوابی پہنچنے کی ہدایت: سہیل آفریدی کی شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے، طلال چوہدری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    Sohail Afridi
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی، جو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں، نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔

    وزیر اعلی کی قیادت میں لانگ مارچ چار اکتوبر کو لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے شروع ہوا اور کرک سے ہوتا ہوا گذشتہ رات کوہاٹ کے علاقے لاچی پہنچا جہاں مظاہرین نے قیام کیا۔

    پشاور کے بعد لانگ مارچ کا آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا اس بارے میں اب تک پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ لانگ مارچ جی ٹی روڈ کے ذریعے نوشہرہ اور صوبہ پنجاب کے ساتھ خیر آباد کی جانب جا سکتا ہے جبکہ ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ لانگ مارچ صوابی کی جانب جا سکتا ہے۔

    اس ہی دوران وزیراعلیٰ نے گذشتہ روز لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ اکتوبر سے ٹی ٹوئنٹی میچ شروع ہوگا اور انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ پاکستان کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔

    گذشتہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مارچ ایک ٹیسٹ میچ ہوگا اور وہ اسلام آباد میں آٹھ مختلف راستوں سے داخل ہوسکتے ہیں۔

    فی الحال پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ابھی صوبے کے جنوبی اضلاع تک ہی محدود ہے اور اس کے بعد صوبے کے دیگر علاقوں جیسے ملاکنڈ ڈویژن، ہزارہ ڈویژن، سنٹرل خیبر پختونخوا جیسے پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد فہیم کا کہنا ہے کہ اصل عوامی قوت کا اندازہ اس وقت ہوگا جب لانگ مارچ پشاور سے روانہ ہوگا اور صوابی پہنچے گا۔

    وزیر اعلی سہیل آفریدی کیا کہتے ہیں؟

    کوہاٹ کی تحصیل لاچی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ منگل کے روز سہ پہر 3 بجے کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک سے پشاور کی جانب سفر شروع ہوگا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں خود کو تھکانا نہیں، ہماری جدوجہد طویل ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ پیغام دنیا کو پہنچانا ہے کہ خیبرپختونخوا عمران خان کا ہے، عمران خان کا تھا اور عمران خان کا ہی رہے گا۔

    سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردی مسلط کی گئی ہے۔

    Talal chaidhry

    ’وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے‘

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے آغاز سے پہلے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے تھے اور توقع کی جا رہی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے لیکن آخری لمحے میں بتایا گیا کہ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

    منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جانتے بوجھتے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق ہو گیا تھا۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے اپوزیشن سے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی مذاکرات میں موجودگی کی درخواست کی تاہم اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تمام فیصلے کرنے کا مکمل اختیار ہے۔

    وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ پہلے دن کے مذاکرات کے بعد حزبِ اختلاف کے رہنما فوری طور پر پشاور روانہ ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب وزیر داخلہ نے لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے انھیں خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر اعتماد میں لیا۔

    طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے روز اپوزیشن کے ساتھ تمام سیاسی معاملات بشمول بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت، ان سے ملاقاتوں اور مقدمات کے امور پر بات ہوئی۔

    ’مذاکرات سے میثاقِ جمہوریت ٹو کا اغاز ہونے جا رہا تھا۔‘

    وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ معاہدے سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ قائم ہونا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مسودے کی تیاری کے بعد تمام اہم سیاسی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے مسودے میں کی جانے والی بار بار کی تبدیلیاں بھی باہمی رضامندی سے حل کی گئیں۔

    طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حتمی منظوری کے لیے دستاویزات اعلیٰ حکام کو بھیجی جا رہی تھیں۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے۔

  2. یمنی حکومتی فورسز کا حوثیوں پر امدادی ٹرک پر ڈرون حملے کا الزام، پاکستانی ڈرائیور کی ہلاکت کی اطلاعات

    حوثی

    یمنی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے ماریب صوبے جانے والے ایک امدادی ٹرک کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کا پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    یمنی ایمرجنسی فورسز کے فرسٹ ڈویژن کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس حملے کو ایک سنگین کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عسکریت پسند گروہ دور دراز علاقوں اور صحرائی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے متحرک نیٹ ورکس اور چھوٹے گروہوں کے ذریعے محدود نوعیت کی کارروائیاں کرتے ہیں جن میں ڈرون اور گھات لگا کر حملے شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے چند ہفتے قبل بھی حوثیوں پر دو سویلین ٹرکوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ حکومتی فورسز کے مطابق اس واقعے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان شامل تھے جو ایک طبی کانفرنس سے واپس آ رہے تھے۔

  3. دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ امریکی فوج کا سابق افسر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا اعلان

    نِڈال ملک حسن
    ،تصویر کا کیپشنامریکی فوج کے میجر اور معالج نِڈال ملک حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 32 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

    امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی فوج کے میجر اور معالج نِڈال ملک حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 32 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

    سوموار کے روز پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سزا کی سفارش کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے۔

    یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی پہلی فوجی سزائے موت ہو گی۔

    حسن کو 13 افراد کے قتلِ عمد اور 32 افراد کے قتل کی کوشش کے الزامات میں فوجی افسران پر مشتمل 13 رکنی جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر انھیں سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی۔

    پارنیل نے کہا کہ امریکی فوج کے سیکریٹری پھانسی کے وقت اور مقام کا تعین کریں گے۔

    حسن اس وقت امریکی فوج کے ان چار قیدیوں میں شامل ہیں جنھیں سزائے موت دی گئی ہے۔

    امریکی فوجی قانون کے مطابق کسی بھی فوجی کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

    اس کے علاوہ سزا پر عمل درآمد سے قبل ریویو اپیل اور اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں حتمی فیصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔

    1983 میں امریکی کورٹ آف اپیلز فار دی آرمڈ فورسز نے فوجی سزائے موت کو غیر آئینی قرار دیا تھا، تاہم اس جت اگلے ہی سال اس وقت کے صدر رونالڈ ریگن کے دور میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

  4. یمنی فورسز کی باب المندب پر پیش قدمی، حوثیوں کا سعودی عرب میں آرامکو کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمنی فورسز

    یمن میں سوموار کے روز لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے جہاں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے صوبہ تعز میں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے اس کی فورسز نے المخا شہر اور آبنائے باب المندب کے قریب بعض مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں نے بھی سعودی عرب کے اندر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسی دوران ریاض کی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی جانب سے ’یمن ڈان‘ (یمن کی سحر) نامی ایک بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

    یمنی حکومتی خبر رساں اداروں نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی مدد سے حکومتی حامی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد تعز کے مغرب میں واقع ساحلی شہر المخا کا کنٹرول سنبھال لیا۔

    یمن کے وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب واقع ہوائی اڈے کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    تاہم حوثیوں نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی فورسز کی پیش رفت، خاص طور پر تعز میں، سے متعلق اطلاعات ’غلط‘ ہیں۔

    گروہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے تعز صوبے کے المعافر اور المواسط اضلاع سے حکومت نواز جنگجوؤں کو پسپا کر دیا ہے۔

    اس کے علاوہ سعودی قیادت والے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف اپنی فضائی اور بحری کارروائیوں میں بھی توسیع کی ہے۔

    اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

    اتحاد نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری افواج نے اسلحے کے گوداموں اور بارودی مواد سے بھرے گئے کشتیوں اور بحری سرنگوں کے ذخیرہ مراکز کو تباہ کیا۔

    دوسری جانب حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے سبا کا کہنا ہے کہ سوموار کو دارالحکومت صنعا پر ہونے والے حملوں میں دو خواتین ہلاک جبکہ بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔

    حوثیوں کا سعودی عرب پر تازہ حملوں کا دعویٰ

    حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے اندر تین فوجی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، رابغ میں آرامکو کی ایک آئل ریفائنری، ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب خبر رساں ادارے اے ایف پی اور کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب رہائشیوں کے مطابق ریاض کے شمالی علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    حوثی گروہ نے شہری ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ اور مدینہ کی فضائی حدود کے علاوہ سعودی عرب کی فضائی حدود اس کی فورسز کے نشانے پر ہیں۔

  5. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی: امریکی فوج کا 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ

    Iran blockade

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران اس کی افواج نے مشرقِ وسطیٰ میں 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے کی کوشش کرنے والے جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کا دوبارہ آغاز 14 جولائی کو کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 130 جہازوں کا رخ موڑنے کے علاوہ امریکی افواج نے ایسے تین جہازوں کو بھی ناکارہ بنایا ہی جو احکامات پر عمل کرنے سے انکار کر رہے تھے۔

    سینٹ کام کا مزید کہنا ہے کہ گذشتہ 12 ہفتوں کے دوران اس نے ایسے 13 تجارتی جہاز تباہ کیے جو یا تو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا پاسدارانِ انقلاب کے اربوں ڈالر مالیت کے مبینہ خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

    سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا: "امریکی فوج اس مشن پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ہم ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کے خلاف فوری کارروائی کریں گے۔ ہماری افواج اعلیٰ تربیت یافتہ، پیشہ ور اور بھرپور کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔"

  6. ’بعض خطرات‘ کے باعث امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ اڈے سے ہٹایا گیا تھا: صدر ٹرمپ کی تصدیق

    Trump

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ’بعض خطرات‘ کے باعث اپنی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ اڈے سے ہٹا دیا تھا۔

    امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے اتوار کو تصدیق کی تھی کہ اس نے اپنے بمبار طیارے، جن میں اندازاً ایک درجن بی ون بمبار شامل تھے، اس اڈے سے واپس امریکہ میں اپنے مستقل اڈوں پر منتقل کر دیے ہیں۔

    سوموار کے روز کو نبراسکا روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایک ’خطرے‘ کے متعلق اطلاع ملی تھی، جس کے بعد طیاروں کو وہاں سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اس سے قبل سوموار کے روز ہی برطانوی وزیرِاعظم کے دفتر کے ترجمان نے اصرار کیا تھا کہ آر اے ایف فیئر فورڈ محفوظ ہے۔ ترجمان نے گذشتہ ہفتے ٹرمپ کے ان ریمارکس کا بھی حوالہ دیا، جن میں انھوں نے اس اڈے کے حوالے سے برطانیہ کی ’پولیس، دفاعی اور سکیورٹی سروسز‘ کی تعریف کی تھی۔

  7. بریکنگ, مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس، ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کی منظوری

    Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar, Federal Minister for Defence, Khawaja Muhammad Asif, and the Chief of Army Staff & Chief of Defence Forces, Field Marshal Syed Asim Munir attended the Emergency Meeting of the Strategic Political and Defence Committee ( S-PDC) established under the Makkah Joint Defence Agreement on 5 October 2026 in Riyadh .

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پائے جانے والے مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں مکہ اور مدینہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی اور ضرورت پڑنے پر فوجی قوت اور صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    خیال رہے سات اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ریاض میں مکہ اتحاد برائے دفاع کی سٹریٹیجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات اور حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    سوموار کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا گیا کہ اس مقصد کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

    اعلامے کے مطابق ’یہ تمام اقدامات طے شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گے۔‘

    مکہ دفاعی اتحاد میں شامل فریقین کا کہنا تھا کہ اس سے فوجی تیاری، باہمی دفاعی تعاون اور خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیت مزید مضبوط ہو گی۔دفا یہ تمام اقدامات طے شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گے۔ فریقین کا کہنا تھا کہ اس سے فوجی تیاری، باہمی دفاعی تعاون اور خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیت مزید مضبوط ہو گی۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق اس ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ اتحاد برائے دفاع کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    تینوں ممالک نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اتحاد کے مقاصد کے حصول اور اسے مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق فریقین نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ ساتھ ہی سعودی عرب کے شہروں، شہری تنصیبات اور معاشی مراکز پر ہونے والے حملوں کو بھی قابلِ مذمت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا دھمکی کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان اور ترکی نے سعودی مسلح افواج کی تیاری، چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی افواج نے مملکت کو درپیش خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا ہے اور ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    تینوں ممالک کی کمیٹی نے اجلاس سے پہلے ہونے والے سیاسی اور عسکری مشاورتی عمل کے نتائج کا جائزہ لیا اور پیش کی گئی سفارشات کی منظوری دی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مکہ اتحاد برائے دفاع مشترکہ دفاع اور خطرات کے مقابلے میں متحد مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

    Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar, Federal Minister for Defence, Khawaja Muhammad Asif, and the Chief of Army Staff & Chief of Defence Forces, Field Marshal Syed Asim Munir attended the Emergency Meeting of the Strategic Political and Defence Committee ( S-PDC) established under the Makkah Joint Defence Agreement on 5 October 2026 in Riyadh .

    کمیٹی نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔

    فریقین کا کہنا تھا کہ اس سے عسکری تیاری، باہمی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو گی۔

    اجلاس کے اختتام پر تینوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر رکن ملک کی سلامتی دراصل تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق فریقین کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع پر عملی اقدامات سے نہ صرف باہمی دفاعی تعاون مضبوط ہو گا بلکہ یہ بھی ثابت ہو گا کہ تینوں ممالک اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے متحد اور پُرعزم ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

  8. دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے ایک کو اغوا کاروں نے ہلاک کر دیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Ambulence 1122
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا ہونے والے 12مزدوروں میں سے ایک کو اغوا کاروں نے ہلاک کر دیا ہے۔

    دُکی میں پولیس حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مزدور کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تھا۔

    دُکی پولیس حکام کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد مارے جانے والے مزدور کی لاش ان کے آبائی علاقے رحیم یار خان بھجوا دی گئی۔

    ہلاک ہونے والے مزدور سمیت 12 مزدوروں کو 25 ستمبر کی شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کے بعد اغوا کیا تھا۔

    مزدور کی ہلاکت سے قبل سماجی رابطوں کی میڈیا پر ایک ویڈیو(جس کی بی بی سی آزادانہ طورپر تصدیق نہیں کرسکا) میں مغویوں نے اپنی بازیابی کی درخواست کی تھی۔

    ہلاک ہونے والے مزدور کی لاش کہاں سے ملی؟

    اگرچہ ان مزدوروں کو ضلع دُکی سے اغوا کیا گیا تھا تاہم مارے جانے والے مزدور کی لاش دُکی سے متصل ضلع کوہلو سے ملی۔

    دکی پولیس کے ایک اہلکار فیض محمد نے بتایا کہ مارے جانے والے مزدور کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی جن کا تعلق ضلع رحیم یار خان سے تھا۔ انھوں نے بتایا کہ مارے جانے والے مزدور کی لاش ضلع کوہلو کے علاقے نربن سے ملی تھی۔

    دُکی پولیس کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مزدور کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ قانونی کارروائی کے بعد مارے جانے والے مزدور کی لاش رحیم یارخان بھجوا دی گئی۔ مزدوروں کو ضلع دُکی میں کہاں سے اغوا کیا گیا تھا؟

    ہلاک ہونے والے مزدور سمیت 12 مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کے علاقے پلری سے اغوا کیا تھا جن میں سے دس کا تعلق پنجاب سے ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق یہ مزدور شاہراہ کی تعمیر کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ کام کررہے تھے جس کے کیمپ پر 30 سے 40 نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔

    اس حملے میں کمپنی کا ایک پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا تھا جبکہ مسلح افراد نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ 12 مزدوروں کو اغوا کرلیا تھا۔

    دو تین روز قبل ان مزدوروں کی ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے لگی ۔ اس ویڈیو میں مغویوں میں سے ایک یہ درخواست کررہا تھا کہ ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں ورنہ ان کو نقصان پہنچایا جائے گا۔

  9. قومی ایکشن پلان سے متعلق رپورٹ ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی‘: سپیکر کے پی کا وزیر اعظم شہباز شریف کو خط

    بابر سلیم سواتی

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو ایک خط لکھا ہے جس میں صوبے میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں 2025 کے امن جرگہ اعلامیہ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان سے متعلق رپورٹ ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی۔‘

    خط کے مطابق خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری سے ایک خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد سکیورٹی صورتحال پر جامع رپورٹ تیار کرنے کا اختیار دیا گیا۔

    سپیکر نے لکھا کہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے گورنر، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں کی قیادت، منتخب نمائندوں، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں سے رابطہ کیا۔

    خط کے مطابق اس مشاورتی عمل کے تسلسل میں 12 نومبر 2025 کو ایک امن جرگہ منعقد کیا گیا جس میں 30 سے زائد سیاسی رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔

    بابر سلیم سواتی کے خط میں تحریر ہے کہ جرگے نے شدت پسندی، سکیورٹی اور پائیدار امن سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا تھا، جو وزیراعظم کے دفتر کو بھی ارسال کیا گیا۔

    خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی نے سکیورٹی سے متعلق سرکاری محکموں اور اداروں سے تفصیلی بریفنگز حاصل کیں، تاہم کور کمانڈر الیون کور کے دفتر کی جانب سے بریفنگ نہیں دی گئی۔

    سپیکر کے مطابق کمیٹی کا مقصد سکیورٹی اداروں کے آپریشنل امور میں مداخلت نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کو ان معاملات سے آگاہ رکھنا ہے جو براہ راست ان کے ووٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔

    بابر سلیم سواتی کا خط

    سپیکر کے مطابق مجوزہ رپورٹ کو قومی ایکشن پلان میں شمولیت کے لیے وفاقی حکومت اور شدت پسندی کے مؤثر تدارک کے لیے صوبائی حکومت کو بھجوایا جانا تھا، تاہم ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے رپورٹ مکمل نہیں کی جا سکی۔‘

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی کمیٹی اب بھی متعلقہ فریقوں اور کور کمانڈر الیون کور کے دفتر سے رابطے میں ہے تاکہ مشاورت کے بعد رپورٹ مکمل کی جا سکے۔

    سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے خط کے مطابق رپورٹ منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کی جائے گی اور پھر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رہنما پالیسی دستاویز کے طور پر شیئر کی جائے گی۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی نمائندوں کی قیادت اور سرپرستی میں رائے عامہ کو منظم کر کے شدت پسندی پر قابو پانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

    سپیکر کے مطابق رپورٹ تیار ہونے اور صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم کو بھجوا دی جائے گی ’تاکہ اسے نیشنل ایکشن پلان میں شامل کیا جا سکے۔‘

    بابر سلیم سواتی نے خط کا متن اور عکس سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کیا ہے۔

  10. فلائی دبئی پرواز کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا: امریکی نائب صدر

    جے ڈی وینس

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز سے متعلق واقعے میں ایران کے کردار کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

    جے ڈی وینس نے یہ بیان الاسکا کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں دیا۔

    یاد رہے کہ فلائی دبئی کی پرواز بدھ کے روز دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے تل ابیب کے بین گورین ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد اچانک 17000 فٹ (5,200 میٹر) سے زیادہ نیچے آ گئی تھی جس کے باعث جہاز پر سوا مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

    بعد ازاں یہ پتا چلا کہ اس کی وجہ فرسٹ آفیسر کی جانب سے ساتھی پائلٹ پر حملہ تھا۔ تاہم مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو میں کر کے اور طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا۔

  11. سعودی فضائی حدود ہماری کارروائیوں کا میدان ہوں گی: حوثیوں کا دعویٰ

    یمنی حوثی

    یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے ائیرلائنز کو تنبیہ کی ہے کہ سعودی عرب کی فضائی حدود ’محفوظ نہیں‘ ہیں اور خبردار کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج کی کارروائیاں سعودی فضائی حدود میں بھی ہو سکتی ہیں۔

    حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی فضائی حدود ہماری مسلح افواج کی کارروائیوں کا میدان ہوں گی۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی حکومتی فورسز اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کی جانب سے ’فجر الیمن‘ آپریشن جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

  12. یمن میں حالیہ فضائی حملوں سے متعلق دعوے جھوٹ ہیں: حوثیوں کا دعویٰ

    حوثی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو میں کہا ہے کہ یمن میں حالیہ فضائی حملوں اور یمنی فورسز کی پیش رفت سے متعلق سامنے آنے والے دعوے سعودی فریق کا ’جھوٹ‘ ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مخالف فریق کی ’فوجی کامیابیاں‘ صرف میڈیا اور سوشل میڈیا تک ہی محدود ہیں۔

    حزام الاسد کے مطابق زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے اور ان کے بقول مخالف فورسز ’مسلسل پسپا‘ ہو رہی ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی حکومتی فورسز اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج، ’فجر الیمن‘ آپریشن کے تحت باب المندب اور دیگر علاقوں میں پیش رفت کے دعوے کر رہی ہیں۔

    اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ’فجر الیمن‘ آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 324 ’اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا۔

  13. سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے پابند ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس کی پاسداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب اور یمن کی سرکاری افواج یہ نہیں چاہتیں کہ آبنائے باب المندب کے قریب علاقے پر حوثیوں کا کنٹرول برقرار رہے‘، اور یمن میں جاری کارروائی کو ’ان علاقوں کی واپسی کے لیے جوابی حملہ‘ قرار دیا جن پر حوثیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔

    ان کے بقول ’ہمیں اس پیش رفت کی توقع تھی۔‘

    روبیو نے کہا: ’سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے اور وہ ان سے لاحق خطرے سے بخوبی آگاہ ہے، اس لیے اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

  14. آپریشن ’فجر الیمن‘: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    یمنی فورسز
    • یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور ’حوثی بغاوت‘ کا خاتمہ ہے۔
    • سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے تصدیق کی کہ وہ یمنی حکومتی فورسز کی کارروائی میں فضائی حملوں کے ذریعے حصہ لے رہا ہے۔
    • یمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دار الحکومت صنعا کی جانب ’سٹریٹیجک حملہ‘ شروع کر دیا ہے۔
    • اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ’فجر الیمن‘ آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 324 ’اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا۔
    • حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا میں دو سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک طالبہ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئی ہیں۔
    • المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
  15. روسی ڈرون حملے میں ترکی کے مال بردار جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے: زیلنسکی کا الزام

    یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے الزام لگایا ہے کہ روسی ڈرونز نے ایک سویلین مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے۔

    زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ جہاز ترکی کی ملکیت تھا اور مکئی (کارن) لے کر جا رہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز میں آذربائیجان اور انڈیا کے شہری بھی سوار تھے۔

    یوکرینی صدر نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایک اور شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کے 11 ارکان کو بچا لیا گیا ہے جن میں سے ایک زخمی ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے بحیرہ اسود میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے متعدد عملی تجاویز پیش کی تھیں، جبکہ بعض دیگر ممالک نے بھی اس حوالے سے تجاویز دی تھیں۔

    انھوں نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو معمول کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے بجائے ’شدت پسندی اور سویلین جہازوں کو ڈبونے‘ کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔

    زیلنسکی کے مطابق عالمی غذائی تحفظ کی بحالی کے لیے روس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  16. یمنی فورسز کا باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے، جبکہ حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز (تین اکتوبر کی تصویر)
    ،تصویر کا کیپشنیمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز (تین اکتوبر کی تصویر)

    یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب اور تعز کے مغرب میں واقع ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی ’فجر الیمن‘ کے نام سے جاری آپریشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد صنعا کی جانب پیش قدمی ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں صنعا کے نواحی علاقے بنی حشیش میں ایک طالبہ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئی ہیں۔

    المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران حوثیوں سے وابستہ ایک ادارے نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود میں پروازوں کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے۔ بی بی سی عربی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک سعودی کارروائیاں جاری رہیں گی، سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں ہوں گی۔

    اسحاق ڈار سعودی عرب میں

    دوسری جانب ریاض میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کا ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے، جس میں حوثیوں کے حملوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع اور افواج کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں۔

  17. گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری: نو کمپنیوں کو اہل قرار دے دیا گیا

    نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس

    وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی کی زیرِ صدارت نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے لیے نو کمپنیوں اور کاروباری گروپس کو پری کوالیفائی کر لیا گیا ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق گیپکو کے 51 سے 100 فیصد شیئرز اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے لیے 11 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ پری کوالیفائی ہونے والوں میں ترکی کے تین اور پاکستان کے چھ بڑے کاروباری گروپس شامل ہیں۔

    ترکی سے ایکٹور الیکٹرک، گینویرا انرجی اور چنگیز انرجی پری کوالیفکیشن کے مرحلے میں کامیاب قرار پائیں، جبکہ پاکستان سے اینگرو انرجی، حب پاور، سفائر، شیرازی انویسٹمنٹس، آرٹسٹک ملنرز اور اے کے ڈی سکیورٹیز کو اہل قرار دیا گیا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے گیپکو کی نجکاری کے عمل سے اپنی درخواست باضابطہ طور پر واپس لے لی ہے، جبکہ الشریف کنٹریکٹنگ مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کر سکی۔

    نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں اسلام آباد، کراچی اور لاہور ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی از سرِ نو تشکیل کی منظوری دی گئی۔

    دوسری جانب زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

  18. غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے: سہیل آفریدی کا الزام

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کرک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کر رہے ہیں
    ،تصویر کا کیپشنوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کرک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کر رہے ہیں

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کرک سے روانگی کے موقع پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلط کی گئی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے۔

    اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ’خیبر پختونخوا کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا‘ اور صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ہر اس پالیسی سے باغی ہیں، جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نا سمجھی ہے تو میں یہ نا سمجھی بار بار کروں گا۔‘

    سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پورے ملک میں اس سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہا ہوں، خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے۔‘

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان ملک میں حقیقی سیاسی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

    اپنی تقریر کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کارکنوں سے صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں تھا، جبکہ دوسرا پڑاؤ کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق ‏چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔

    متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

  19. نئی جنگ کی صورت میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک لپیٹ میں آئیں گے: ایرانی فوج

    علی عبداللہی

    ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع کی گئی تو ’اس کی آگ خطے میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک تک پہنچے گی۔‘

    علی عبداللہی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے برعکس، ایران امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا منتظر نہیں ہے اور اپنے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا ’سخت‘ جواب دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران ’ہر قسم کے خطرے‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ’بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مراکز کے بارے میں ایجنسی کے تبصرے ’بے بنیاد‘ ہیں۔

  20. یمنی افواج کا باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی
    ،تصویر کا کیپشنیمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی

    یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

    ان کا یہ بیان یمن کی وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔

    بیان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن ’فجر الیمن‘ جاری ہے، اور ذو باب کا ہوائی اڈہ بھی حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

    یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورسز نے ذو باب اور المخا کے درمیان رابطہ سڑک کاٹ دی ہے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘

    بیان میں ذو باب کے علاقے میں موجود حوثی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حکومتی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘