وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی لانگ مارچ کے شرکا کو صوابی پہنچنے کی ہدایت: سہیل آفریدی کی شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے، طلال چوہدری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی، جو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں، نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔
وزیر اعلی کی قیادت میں لانگ مارچ چار اکتوبر کو لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے شروع ہوا اور کرک سے ہوتا ہوا گذشتہ رات کوہاٹ کے علاقے لاچی پہنچا جہاں مظاہرین نے قیام کیا۔
پشاور کے بعد لانگ مارچ کا آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا اس بارے میں اب تک پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ لانگ مارچ جی ٹی روڈ کے ذریعے نوشہرہ اور صوبہ پنجاب کے ساتھ خیر آباد کی جانب جا سکتا ہے جبکہ ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ لانگ مارچ صوابی کی جانب جا سکتا ہے۔
اس ہی دوران وزیراعلیٰ نے گذشتہ روز لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ اکتوبر سے ٹی ٹوئنٹی میچ شروع ہوگا اور انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ پاکستان کے کونے کونے سے لوگ صوابی پہنچیں، جہاں سے آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
گذشتہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مارچ ایک ٹیسٹ میچ ہوگا اور وہ اسلام آباد میں آٹھ مختلف راستوں سے داخل ہوسکتے ہیں۔
فی الحال پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ابھی صوبے کے جنوبی اضلاع تک ہی محدود ہے اور اس کے بعد صوبے کے دیگر علاقوں جیسے ملاکنڈ ڈویژن، ہزارہ ڈویژن، سنٹرل خیبر پختونخوا جیسے پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد فہیم کا کہنا ہے کہ اصل عوامی قوت کا اندازہ اس وقت ہوگا جب لانگ مارچ پشاور سے روانہ ہوگا اور صوابی پہنچے گا۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی کیا کہتے ہیں؟
کوہاٹ کی تحصیل لاچی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ منگل کے روز سہ پہر 3 بجے کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک سے پشاور کی جانب سفر شروع ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں خود کو تھکانا نہیں، ہماری جدوجہد طویل ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ پیغام دنیا کو پہنچانا ہے کہ خیبرپختونخوا عمران خان کا ہے، عمران خان کا تھا اور عمران خان کا ہی رہے گا۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردی مسلط کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAPP
’وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے‘
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے آغاز سے پہلے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے تھے اور توقع کی جا رہی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے لیکن آخری لمحے میں بتایا گیا کہ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جانتے بوجھتے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق ہو گیا تھا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے اپوزیشن سے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی مذاکرات میں موجودگی کی درخواست کی تاہم اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تمام فیصلے کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ پہلے دن کے مذاکرات کے بعد حزبِ اختلاف کے رہنما فوری طور پر پشاور روانہ ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب وزیر داخلہ نے لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے انھیں خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر اعتماد میں لیا۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے روز اپوزیشن کے ساتھ تمام سیاسی معاملات بشمول بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت، ان سے ملاقاتوں اور مقدمات کے امور پر بات ہوئی۔
’مذاکرات سے میثاقِ جمہوریت ٹو کا اغاز ہونے جا رہا تھا۔‘
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ معاہدے سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ قائم ہونا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مسودے کی تیاری کے بعد تمام اہم سیاسی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے مسودے میں کی جانے والی بار بار کی تبدیلیاں بھی باہمی رضامندی سے حل کی گئیں۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حتمی منظوری کے لیے دستاویزات اعلیٰ حکام کو بھیجی جا رہی تھیں۔
انھوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی اخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے۔




















