آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، سہیل آفریدی کا عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہاں ایک عام سپاہی ہمارے ارکانِ اسمبلی کو روک لیتا ہے، لیکن ایک سابق وزیرِ اعظم کو انصاف نہیں مل رہا۔

خلاصہ

  • ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر
  • حوثیوں کا سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا: اتحادی افواج کا دعویٰ
  • لانگ مارچ کا روٹ تبدیل، پہلے خیبر پھر پشاور جائیں گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
  • لانگ مارچ ختم کریں تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، وزیر اعظم شہباز شریف: مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کریں، بیرسٹر گوہر کا جواب
  • امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ: تحریک انصاف کا لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں پہنچ پائے گا، گورنر خیبر پختونخوا
  • ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھنٹے کے دوران دو حملے، ایف بی آر اور ٹریفک پولیس کے پانچ اہلکار ہلاک: پولیس

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، سہیل آفریدی کا عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، مگر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہاں ایک عام سپاہی ہمارے ارکانِ اسمبلی کو روک لیتا ہے، لیکن ایک سابق وزیرِ اعظم کو انصاف نہیں مل رہا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں دو آئین چل رہے ہیں، ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان کے اس آئین نے ہمارے پورے ملک کو متحد رکھا ہے، مگر طاقتور حلقے اسے محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہیں۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو شوکت خانم انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی ڈاکٹر اور نرسز کی نگرانی میں علاج کیا جائے۔

  3. ایرانی پائلٹس کے حوالے سے قطری حکام سے بات چیت ہوئی ہے: ایرانی وزیرِ داخلہ

    ہم پہلے ہی یہ اطلاع دے چکے ہیں کہ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی قطری حکام سے ملاقات کے لیے دوحہ گئے تھے۔

    اب اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایرانی پائلٹوں کے معاملے پر قطر کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔

    اُنھوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تکنیکی ٹیم واپس آئے گی اور کام کو آگے بڑھانے کے لیے مزید اجلاس منعقد کرے گی۔‘

    ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں جس کا آغاز فروری میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے دو لڑاکا طیاروں نے قطر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن واپسی پر انھیں فوجی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ چار پائلٹوں میں سے ایک ہلاک ہو چکا ہے اور اس کی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی ہیں، تاہم مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے اعلان کیا کہ باقی تینوں پائلٹ زندہ ہیں اور قطر کی حراست میں ہیں۔

    قطر نے ایران کے ان بیانات کی تردید کی ہے۔

  4. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 19 پیسے فی لیٹر اضافہ، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 91 پیسے کمی

    پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 19 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 394 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ڈیزل کی قیمت ایک روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 395 روپے 85 پیسے ہو گئی ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی یہ قیمت سات اکتوبر کے لیے ہے۔

  5. ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر

    قطر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی رکا نہیں ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے شعبۂ اطلاعات و ابلاغ کے ڈائریکٹر ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کا مقصد ایسے حل تک پہنچنا ہے جس پر آگے پیش رفت ممکن ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری ہے اور مختلف معاملات پر پیغامات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقوں کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔

  6. حوثیوں کا سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا: اتحادی افواج کا دعویٰ

    سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ہے۔

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ بیلسٹک میزائل ’شدت پسند حوثی ملیشیا‘ کی جانب سے داغا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ یمنی حکومت اور اتحادیوں نے ’آپریشن فجر الیمن‘ کے نام سے ایک عسکری کارروائی شروع کی ہے۔ یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور ’حوثی بغاوت‘ کا خاتمہ ہے۔

  7. آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوجی کمانڈر کا دعویٰ

    ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ایک سینیئر کمانڈر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری ہے اور اب تک 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل شمخال جعفری نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ’دشمن‘ کو اپنے بحری جہاز اور بحری ساز و سامان ایرانی سرحدوں سے بہت دور تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی افواج نے مخالف فریق کا کچھ ساز و سامان ’مالِ غنیمت‘ کے طور پر حاصل کیا ہے، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    دوسری جانب سینٹکام نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج 130ویں تجارتی بحری جہاز کا راستہ تبدیل کروا چکی ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق یہ ناکہ بندی 14 جولائی کو امریکی صدر کے حکم پر دوبارہ شروع کی گئی تھی اور اس کا ہدف وہ جہاز ہیں جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔

    امریکی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ایسے تین جہازوں کو ناکارہ بنایا جو امریکی احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے، جبکہ گذشتہ 12 ہفتوں کے دوران 13 تجارتی جہاز تباہ کیے گئے۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ خفیہ تجارتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

  8. اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ بد عنوانی کے الزام پر معطل

    محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران نوید اشرف کو کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات پر معطل کر دیا ہے، جبکہ ان کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عمران نوید اشرف کو 90 روز کے لیے معطل کیا گیا ہے اور انھیں انسپکٹریٹ آف پریزنز پنجاب، لاہور کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    حکام نے سینٹرل جیل لاہور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ، کاشف علی کو سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک تعینات کر دیا ہے۔

  9. لانگ مارچ کا روٹ تبدیل، پہلے خیبر پھر پشاور جائیں گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب قافلہ پہلے خیبر جائے گا، جس کے بعد پشاور روانہ ہو گا۔

    کوہاٹ سے روانگی کے موقع پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل منصوبے کے تحت قافلے نے پشاور جانا تھا، تاہم خیبر کے عوام کی درخواست پر شیڈول تبدیل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’کل جو پشاور سے چارسدہ کا پلان تھا اس کو تھوڑا تبدیل کر دیا ہے کیونکہ خیبر کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم ان مہمانوں کی مہمان نوازی کریں گے، تو کل خیبر جائیں گے، پھر اس کے بعد پشاور جائیں گے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو پُر امن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے لانگ مارچ کو کرکٹ میچ سے تشبیہ دی۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوور باقی ہیں اور بہت سے کھلاڑی بھی باقی ہیں۔ آرام آرام سے کھیلیں گے۔‘

    تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ نے چار اکتوبر کو لکی مروت سے روانہ ہونا تھا، پانچ اکتوبر کو کرک اور کوہاٹ، جبکہ چھ اکتوبر کی شام پشاور پہنچنا تھا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے بنیادی مطالبات میں بانی تحریک انصاف عمران خان کے علاج کی سہولت، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کا حق اور ان کی ’انصاف کے مطابق رہائی‘ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، جس کے بعد احتجاج کا راستہ اپنایا گیا۔

    انھوں نے زور دیا کہ لانگ مارچ کا مقصد پُر امن انداز میں احتجاج ریکارڈ کرانا ہے اور کارکن کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔

  10. پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست، وفاق کو نوٹس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

    شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور آصف خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ رہا ہے، اس لیے شرکا کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ معظم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار لانگ مارچ کے میزبان ہیں جبکہ مارچ کے شرکا ان کے مہمان ہوں گے، لہٰذا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انھیں مناسب سکیورٹی فراہم کرے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی نمٹائی جا چکی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت فریق تھیں، اس لیے موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔

    اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ کم از کم عبوری ریلیف دیا جائے اور لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے۔

    دورانِ سماعت وکیل نے یہ بھی درخواست کی کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر کیس کو کل تک ملتوی کرنے کے بجائے آج عدالتی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقِ مخالف کو سنے بغیر کیس میں پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔ بینچ نے کہا کہ اگر متعلقہ فریق وقفے کے بعد سماعت کے لیے تیار ہوتا تو کیس دوبارہ سنا جا سکتا تھا، تاہم چونکہ دوسرا فریق اس وقت تیار نہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔

    عدالت نے عبوری ریلیف کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  11. بحری جہاز پر حملے سے 11 انڈین شہری زخمی ہوئے: وزارتِ خارجہ انڈیا

    انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ خلیج عمان کے قریب بحری جہاز پر حملے میں انڈیا کے 11 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاناما کا پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا جب اسے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    بیان کے مطابق بحری جہاز کے 19 رکنی عملے میں 17 انڈین شہری شامل تھے، جبکہ زخمی ہونے والے 12 افراد میں سے 11 کا تعلق انڈیا سے تھا۔

    انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ عمانی حکام کی مدد سے زخمی عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور انھیں عمان کے شہر خصب میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

  12. مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کریں: بیرسٹر گوہر کا وزیر اعظم کو جواب

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلسلہ منقطع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، اور مطالبہ کیا ہے کہ بات چیت کو لانگ مارچ سے مشروط نہ کیا جائے۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انھوں نے پہلے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’آج نہیں تو کل‘ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں اور کسی حل کے پہنچنے تک بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

    ’چین بریک ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آپ مسلسل بیٹھیں، باقاعدگی سے بیٹھیں، ضرور کوئی حل نکلے گا۔‘

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جمعہ اور سنیچر کو مذاکرات کے دو دور ہوئے، جن کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔

    جبکہ آج وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس پر ردعمل میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو لانگ مارچ سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔

    انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق تحریک انصاف نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ محض فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہوگی بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز بات چیت چاہتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو اپنے اپنے تحفظات اور خدشات میز پر رکھ کر متعدد نشستوں میں ان پر بات کرنی چاہیے تھی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بغیر کسی پیشگی شرط کے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہوئی، تاہم ان کے بقول حکومت نے وہ سنجیدگی اور فراخ دلی نہیں دکھائی جو اس عمل کے لیے ضروری تھی۔

  13. سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر قیاس آرائی پر مبنی ہے: پاکستان

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی سے متعلق خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کو ’قیاس آرائی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’فیکٹ چیکر وزارتِ اطلاعات و نشریات‘ نامی اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات خفیہ ہیں اور انھیں میڈیا کی قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا پہلے ہی واضح اظہار کر چکا ہے اور اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل روئٹرز کی تین اکتوبر کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کی روک تھام میں مدد کے لیے 30 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔

    روئٹرز کی رپورٹ میں، جس کا حوالہ وزارتِ اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک میں دیا، ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ فوجی دستے گذشتہ سال سے مختلف مراحل میں سعودی عرب پہنچے جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید تعیناتی عمل میں آئی۔

    وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس سے گریز کیا جانا چاہیے جو نامعلوم اور غیر منسوب ذرائع پر مبنی ہیں۔

    وزارتِ اطلاعات کے مطابق اگر کوئی سوالات ہوں تو متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جانا چاہیے، نہ کہ غیر مصدقہ اعداد و شمار اور تفصیلات شائع کی جائیں۔

  14. عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقات کے لیے عدالت میں درخواست دائر

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقات کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

    درخواست ڈاکٹر عظمیٰ کے شوہر احد خان نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے دائر کی ہے۔

    درخواست میں ہوم ڈیپارٹمنٹ، سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے ڈاکٹر عظمیٰ کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اہلِ خانہ اور وکلا کو کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر عظمیٰ سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم جاری کیا جائے۔

  15. لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، پھر بات چیت ہو گی: وزیر اعظم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی مشروط پیش کش

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ’میں ابھی بھی آپ سے یہ گزارش کروں گا کہ آپ ہوش کے ناخن لیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنوں کو ختم کریں۔ آپ اس کو ختم کریں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھیں گے، بیٹھ کر بات کریں گے۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا ’تاکہ انھیں سمجھایا جا سکے کہ اس (دھرنے اور لانگ مارچ) راستے کو ترک کریں۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔‘

    تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی عمل کے آخری مراحل میں جن امور پر اتفاق ہو چکا تھا ان میں دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

    شہباز شریف نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کا ’ایک ہی مقصد تھا کہ یہ بات چیت کسی طرح بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘

    اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ ملکی معیشت بنتی ہے اور اس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اور ’یہ ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، ’اسے ہم ہر صورت یقینی بنائیں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران اجتماعی کاوشوں اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے اور اب معیشت کی ’گروتھ اور ترقی کا وقت آ چکا ہے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ اگر کوئی اس مرحلے پر معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اقدام ’ملک دشمنی‘ کے مترادف ہے کیونکہ اس سے ’ترقی کے پہیے جام‘ ہوتے ہیں اور عوام کی جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  16. کوئٹہ میں 2900 سکیورٹی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ، 871 پولیس اہلکار برطرف

    بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 2900 جدید سکیورٹی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ محکمانہ اصلاحات کے تحت 871 پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

    یہ فیصلے منگل کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سکیورٹی اور پولیسنگ سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیے گئے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے اجلاس کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پولیسنگ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔

    اجلاس میں سکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ’کوئٹہ انٹیگریٹڈ سکیورٹی پروجیکٹ‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ’کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور‘ کے تحت شہر بھر میں 2900 جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ شدت پسندی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بلوچستان پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے کوئٹہ انٹیگریٹڈ سکیورٹی پروجیکٹ کے تحت کوئیک رسپانس فورس کے نئے سٹیشن بھی قائم کیے جائیں گے۔

    حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بلوچستان پولیس میں اصلاحات اور محکمانہ خود احتسابی کا عمل جاری ہے۔ غیر حاضری اور غفلت کے الزامات پر 871 اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کے ساتھ تعینات 1005 پولیس اہلکاروں کی خدمات واپس محکمہ پولیس کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری تربیت اور مطلوب وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے پولیس کو شدت پسندی کے خلاف میدان میں اتارا ہے تو مکمل سرپرستی بھی کریں گے۔ ہم اپنی بہادر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘

  17. ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھنٹے کے دوران دو حملے، ایف بی آر اور ٹریفک پولیس کے پانچ اہلکار ہلاک: پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھنٹے کے اندر نا معلوم مسلح افراد کے دو مختلف حملوں میں پانچ اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق پہلا واقعہ بائی پاس روڈ کے قریب پیش آیا جہاں ہائی وے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور کانسٹیبل حبیب موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سبحان زخمی ہوئے۔

    پولیس کے مطابق دوسرا حملہ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے قریشی موڑ پر ہوا، جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ضلعی پولیس افسر ضیاء الدین نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والوں میں دو ایف بی آر کے مستقل اہلکار تھے جبکہ ان کے ساتھ دو نجی ملازمین بھی موجود تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایف بی آر اہلکاروں کے ساتھ معاونت کے لیے موجود دو ملازم کنٹریکٹ پر کام کرتے تھے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے مطابق کنٹرول روم کو بھٹی پمپ، یونیورسٹی روڈ کے مقام پر کسٹمز پولیس پر فائرنگ اور حملے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ سے چار افراد کی لاشیں تحویل میں لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیں۔

    حکام نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    ضلع میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کا سلسلہ

    ڈیرہ اسماعیل خان میں 2026 کے دوران پولیس، کسٹمز، ایف بی آر اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

    14 جنوری کو کھتی پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تین فروری کو پروآ تھانے پر حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 11 فروری کو پنیالہ کے علاقے وانڈہ بدھ میں پولیس ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور ڈی ایس پی سمیت ایک اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    18 فروری کو یارک پولیس سٹیشن اور قریبی کسٹمز دفتر کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک کسٹمز اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    14 مارچ کو کھتی پولیس چیک پوسٹ پر دوبارہ حملہ کیا گیا جس میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوئے، جبکہ 24 اپریل کو درابن پولیس سٹیشن پر راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

    19 مئی کو یارک پولیس سٹیشن کے باہر فائرنگ میں پولیس کانسٹیبل عبدالعزیز ہلاک ہوئے، جبکہ 31 جولائی کو چودھوان کے علاقے شاہ عالم موڑ کے قریب پولیس پارٹی پر حملے میں اے ایس آئی فقیر محمد اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    25 اگست کو درازندہ کے ڈوگ شپیلہ پولیس پوسٹ پر حملے میں تین پولیس اہلکار اور دو راہگیر زخمی ہوئے۔ 28 اور 29 اگست کو امین فارم کے علاقے میں پولیس گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    26 ستمبر کو درازندہ کے امان میلہ میں پولیس، کسٹمز اور ایکسائز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے۔

  18. احسن اقبال نے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات سے متعلق وزیر اعظم کا پیغام پہنچایا: جماعت اسلامی

    جماعت اسلامی کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا ہے اور پٹرولیم لیوی سے متعلق جاری مذاکرات کے حوالے سے وزیر اعظم کا پیغام پہنچایا ہے۔

    جماعت اسلامی کی پریس ریلیز کے مطابق احسن اقبال نے ٹیلی فونک رابطے میں وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے بات چیت کی۔

    لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ملاقات کے لیے جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کی جانب سے جلد شیڈول طے کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں رہنما طے شدہ شیڈول کے مطابق ملاقات کریں گے، جس کے انتظامی اور دیگر امور کو حتمی شکل دینے کے لیے جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان تفصیلات جلد طے ہوں گی۔

    لیاقت بلوچ کے مطابق وزیر اعظم اور امیر جماعت اسلامی کی متوقع ملاقات میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمن وزیر اعظم سے ملاقات میں بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز سے متعلق امور پر بھی بات کریں گے۔

    جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

  19. دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملوں سے تین افراد زخمی ہوئے: سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا دعویٰ

    سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے کہا ہے کہ جازان اور نجران کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

    جی اے سی اے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق یہ حملے پانچ اکتوبر 2026 کی شام کیے گئے۔

    اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر نقصان کا جائزہ لے رہی ہے اور مسافروں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

  20. پنجاب بھر میں آئندہ 10 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ: تحریک انصاف کا لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں پہنچ پائے گا، گورنر خیبرپختونخوا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ یہ پنجاب کے ضلع اٹک سے آگے بڑھ پائے۔

    نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ ’وہ اٹک سے آگے نہیں جا پائیں گے۔ یہ اُن کی خوش فہمی ہے مگر وہ اٹک سے آگے قدم تو رکھ کر دکھائیں۔ اُن میں اتنی سکت نہیں ہے۔ کہاں ہے وہ 20 لاکھ کا مجمع جس کی وہ بات کر رہے تھے۔ شاید اٹک تک آتے آتے دو ہزار لوگ بھی اُن کے ساتھ نہیں ہوں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’جب بھی وفاق نے شدت پسندی کے معاملے پر خیبرپختونخوا کو سپورٹ کرنے کی بات اور کوشش کی تو انھوں (خیبرپختونخوا حکومت) نے ہمیشہ یہی کہا کہ فوج یہاں (صوبے) سے نکل جائے۔ یہ وفاق کو کہتے ہیں کہ ایسے ملک (افغانستان) سے بات کریں جو پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے۔‘

    پنجاب بھر میں دس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

    دوسری جانب پنجاب کے محکمہ داخلہ نے منگل کی صبح صوبے بھر میں اگلے دس روز کے لیے دفعہ 144کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ آئندہ دس روز کے لیے ہو گا جس کے تحت کسی بھی پبلک مقام، شاہراہ اور موٹر وے پر پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کو اکھٹا ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ملک دشمن اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے صوبے میں شدت پسندانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے جن میں پبلک مقامات پر خودکش حملوں کے علاوہ بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی ان ممکنہ کارروائیوں میں جلسے جلوس اور احتجاج آسان ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کی روشنی میں پنجاب پولیس کے سربراہ کے علاوہانسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کی طرف سے کہا گیا کہ شدت پسند تنظیموں کی ایسی ممکنہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    اس نوٹیفکیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے19 ستمبر کے حکمنامے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کے معمولات زندگی کو یقینی بنانا اور ان کے جان ومال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اس کے علاوہ اس حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا کہکوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والہ شخص سڑک کو بند نہیں کریں۔