ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: عدالت کا ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف درج مقدمے میں ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی ایس پی لیگل کی گرفتاری کا عندیہ دیا ہے، جبکہ کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو مخاطب کر کے کہا کہ عدالت ایک فورس کی مانند ہے، جسے اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم موجودگی اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جج نے انگریزی میں گفتگو کرنے پر اردو میں بات کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی دستاویز کی پرنٹ کاپی مسترد کرتے ہوئے اصل دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران جج نے کمرۂ عدالت میں ہتھکڑی منگوا کر سکیورٹی انچارج کو ہدایت دی کہ ڈی ایس پی کو جانے نہ دیا جائے، جبکہ گیٹ پر موجود عملے کو بھی کہا جائے کہ انھیں باہر نہ جانے دیا جائے۔ عدالت نے درست معلومات فراہم نہ کیے جانے پر گرفتاری کا عندیہ بھی دیا۔
عدالت نے جوڈیشل فورس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔‘
ڈی ایس پی نعیم یوسف نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں ہیں اور ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔ اس پر وکیلِ صفائی ریاست علی نے کہا کہ ’بدنیتی دیکھیں، عدالتوں کے ساتھ مذاق بنایا ہوا ہے۔‘
بعد ازاں جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی حکم جاری کریں گے اور تفتیشی افسر کی عدم دستیابی سے متعلق بھی فیصلہ دیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔