آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ریاض میں دھماکوں کی اطلاعات، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ دوسری جانب حوثی گروہ انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس نارے میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، حوثیوں کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

    بی بی سی عربی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ سفارت کاروں نے بتایا کہ انھیں اپنی سفارت خانوں کی عمارتوں کے اندر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صورتِ حال سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سکولوں نے احتیاطی اقدامات اپنائے ہیں اور کم از کم ایک سکول میں بچوں کو حفاظت کے لیے تہہ خانے میں منتقل کر دیا گیا۔

    کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں کام کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ بعض کمپنیوں نے اپنے دفاتر خالی کروا لیے ہیں۔

    ریاض میں موجود نیویارک ٹائمز کے ایک نامہ نگار نے بھی مختصر وقفے کے دوران یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

    امریکی جریدے کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی حکام کی جانب سے شہریوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق معلومات شیئر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایسی معلومات پھیلانے کی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق حوثی گروہ انصار اللہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ میزائل اپنے ہدف پر لگا جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تاہم اس دعوے کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  2. افغانستان: طالبان مخالف گروہوں کے ’انڈین ساختہ ہیلی کاپٹر مار گرانے‘ اور طالبان کے حملے پسپا کرنے کے دعوے, بی بی سی مانیٹرنگ

    طالبان مخالف گروپ ’افغانستان گرین ٹرینڈ‘ (اے جی ٹی)، جس کی قیادت افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کرتے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی فورسز نے سات اکتوبر کو صوبہ پنجشیر میں ایک ’سمارٹ آپریشن‘ کے دوران طالبان کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

    جمعرات (آٹھ اکتوبر) کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ’اے جی ٹی‘ نے کہا کہ ’انڈیا میں تیار کردہ چیتا ہیلی کاپٹر، جو طالبان کے زیرِ استعمال تھا، شام سوا سات بجے ایک آپریشن میں مار گرایا گیا ہے۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار دو پائلٹ اور طالبان کے زیرِ انتظام فضائیہ کے چیف آف سٹاف اس واقعے میں شدید زخمی ہوئے جنھیں رات گئے کابل لے جایا گیا جہاں وہ سردار داؤد خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ دفاع یا پنجشیر کے مقامی طالبان حکام نے تاحال اس مبینہ حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اسی طرح طالبان مخالف دوسری بڑے گروہ ’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ (اے ایف ایف) نے مشرقی صوبہ نورستان اور شمال مشرقی صوبہ بدخشان میں طالبان کے خلاف مزید نئے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایک بیان میں گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بدھ کی شب نورستان کے ضلع کامدیش میں طالبان کے حملوں کو پسپا کیا اور تقریباً چھ گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران 11 طالبان جنگجو ہلاک اور کم از کم آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

    افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان نے بدھ کی صبح اُن کے متعدد ٹھکانوں اور مورچوں پر حملے کیے، جن کا ’شدید مزاحمت‘ کے ساتھ جواب دیا گیا۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے ’دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور انھیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اے ایف ایف کے جنگجو نورستان کے ضلع کامدیش میں ’آزاد کرائے گئے علاقوں‘ میں فعال ہیں اور اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اردگرد کے دیہات اور علاقوں میں صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

    جمعرات کو جاری کردہ ایک اور بیان میں اے ایف ایف نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے بدخشان کے ضلع کوران و منجان سے صوبہ پنجشیر جانے والی شاہراہ پر ایک حملے میں طالبان کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا۔

    اس معاملے پر طالبان حکام کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔

    اس سے قبل طالبان مخالف گروپ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وسطی صوبہ غور میں ایک حملے کے دوران طالبان کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

    دوسری جانب طالبان کی پولیس سپیشل فورس (پی ایس ایف) نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے چار ایسے افراد پر مشتمل گروہ کو پکڑا ہے جن کا تعلق طالبان مخالف مسلح گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) سے ہے اور وہ کابل میں اقوام متحدہ کے ایک دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    افغان حکام کے مطابق ان چاروں افراد کو افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن ’یوناما‘کے کابل میں واقع دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے ’اس گروہ نے حال ہی میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے یوناما کے دفتر اور اس کے عملے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم سپیشل پولیس فورسز نے حملہ کرنے سے پہلے ہی انھیں گرفتار کر لیا۔‘

  3. ہماری کوشش ہے جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا: پی ٹی آئی چیئرمین

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ ہم بہتری کی طرف جائیں اور جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم اگر معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔

    جمعرات کے روز پی ٹی آئی کے چیئرمین چارسدہ میں صوبائی وزیر فضل شکور کی رہائش گاہ کا دورہ کیا

    بیرسٹر گوہر نے نے فضل شکور کی گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ

    ہماری کوشش ہے کہ عوام اگر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے نکلتے ہیں تو اس کے جواب میں کوئی ایسا اقدام نہ ہو جس سے پورا نظام درہم برہم ہو جائے، چاہے وہ ایمرجنسی یا گورنر راج ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھی حالانکہ وہ اپنے لیڈر سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات میں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ اتحاد میں ہوں اور انھیں اتحاد میں شامل کرنے کی بڑی کوششیں کیں۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی طرف ایک حکومتی وفد جا چکا ہے، امید ہے کہ مولانا صاحب اچھا کردار ادا کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت ڈیڈ لاک ہے اور چیزیں بہتری کی طرف نہیں جا رہیں۔

    ’اگر اسی طرح لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اے این پی، جماعتِ اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کا مشکور ہیں کہ انھوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

    ’تمام افراد یہی سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو حالات ہیں ان کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک حکومت یا پی ٹی آئی کے خلاف اقدام نہیں ہوگا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی غصے میں ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا تو صوبے میں تناؤ بڑھے گا۔

    ’صوبہ پہلے ہی بہت گھمبیر صورتحال سے گزر رہا ہے، اختیارات نام کی کوئی چیز نہیں، پہلے ہی غیر اعلانیہ گورنر راج ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی عروج پر ہے، یہ وقت نہیں کہ ایسے اقدامات کیے جائیں۔

  4. مصر ’مکہ دفاعی اتحاد‘ میں شامل ہونے سے کیوں ہچکچا رہا ہے؟, اومنیہ النجار، ماہر مشرق وسطیٰ، بی بی سی مانیٹرنگ

    سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدےکو فعال بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جسے خطے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس سب کے بیچ مصر کی اِس اتحاد میں ممکنہ شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں کئی مہینوں سے جاری ہیں، تاہم قاہرہ نے اب تک اس اتحاد کی رُکنیت اختیار کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    مصر کا محتاط رویہ ایک وسیع تر سٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ قاہرہ کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان تینوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن وہ ایسے کسی بھی فوجی انتظام میں شامل ہونے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے جو اس کی سفارتی حدود کو محدود کر سکتے ہوں یا اسے علاقائی تنازعات میں الجھا سکتے ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے غزہ، بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں سنگین سلامتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    چنانچہ مصر کی ہچکچاہٹ کی وجہ اتحاد کی مخالفت نہیں بلکہ اس کی وہ دیرینہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ متوازن شراکت داریوں کو ترجیح دیتا ہے۔

    مکہ اتحاد میں شامل ہونے کے حوالے سے مصر کی سست روی بظاہر صدر عبدالفتاح السیسی کے اُن سابقہ بیانات کے برعکس دکھائی دیتی ہے جن میں انھوں نے ایک مشترکہ عرب فوجی قوت اور علاقائی سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور رابطے کے ایک نئے عرب۔اسلامی فریم ورک کے قیام کی حمایت کی تھی۔

    یاد رہے کہ مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر ترکی کا متعدد معاملات میں ایک اہم شراکت دار ہے اور بعض نامعلوم تکنیکی مسائل کے حل کے بعد وہ مستقبل میں مکہ اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔

    13 اگست کو مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا تھا کہ قاہرہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے معاہدے میں مصر کو شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ مصر کے آئین اور اس کے نتیجے میں قانونی ذمہ داریوں کی روشنی میں اس معاملے پر گہرائی سے غور کیا جائے گا۔

    سنہ2014 کے مصری آئین کے آرٹیکل 152 کے مطابق مصر کا صدر نہ تو جنگ کا اعلان کر سکتا اور نہ ہی ریاست کی حدود سے باہر مصری فوجی دستے تعینات کر سکتا ہے، جب تک کہ ’قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت سے منظوری‘ حاصل نہ کر لی جائے۔

    عبدالعاطی نے یہ بھی کہا تھا کہ مصر، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طریقہ کار کے تحت مکمل رابطہ اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

    فی الحال یہ واضح ہے کہ مصر مکہ اتحاد میں باضابطہ شمولیت کے حوالے سے اپنے آپشنز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے اور اس ضمن میں بظاہر دو اہم عوامل اُس کے فیصلے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

    جغرافیائی و سیاسی ترجیحات میں توازن

    قاہرہ اپنے موجودہ معاہدوں اور اتحادوں، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے بھی محتاط ہے۔

    مکہ اتحاد میں شمولیت مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے، ایران کے ساتھ تعلقات اور ریاض و ابوظہبی کے درمیان جاری رقابت کے تناظر میں جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    معاہدے میں شمولیت کا مطلب حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مصر نے سعودی عرب پر یمنی تحریک کے حملوں کی سرکاری سطح پر مذمت کی ہے، تاہم قاہرہ ایسی کسی کشیدگی سے بچنا چاہے گا جو بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں اس کے مفادات کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

    اسرائیل کے خلاف حوثی حملوں کے باعث بحیرہ احمر سے گزرنے والی بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مصر کو نہرِ سویز کی آمدنی میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    اسی دوران ایتھوپیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں شدت اختیار کرتی رقابتوں نے قاہرہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی افریقہ سے متعلق خارجہ پالیسی کی ترجیحات، بالخصوص بحیرہ احمر کی سلامتی سے متعلق امور، پر زیادہ توجہ دے۔

    یمن میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کی مصر کی خواہش کی ایک وجہ 1960 کی دہائی میں وہاں کی گئی اس کی مہنگی فوجی مداخلت بھی ہو سکتی ہے۔

    چھوٹے پیمانے کے انتظامات کو ترجیح

    مصر بظاہر محدود دائرۂ کار اور کم فوجی خطرات والے علاقائی سلامتی انتظامات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

    مصر پہلے ہی ریجنل فور (R4) گروپ کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان شامل ہیں، اور یہ ممالک باقاعدگی سے علاقائی امور پر مشاورت کرتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد مصر 13 اگست کو ریاض کی قیادت میں قائم ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد میں بھی شامل ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ مصر نے ترکی کے ساتھ اپنے دفاعی شراکت داری اور فوجی پیداوار کے تعاون میں بھی اضافہ کیا ہے، خصوصاً مشترکہ ڈرون اور یو اے ویز کی تیاری کے شعبے میں۔

  5. پاکستان اور بحرین کا آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور

    پاکستان اور بحرین نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    جمعرات کے روز اسلام آباد میں پاکستان۔بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس ہوا جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ کارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔

    بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اجلاس کے نتیجے میں مختلف مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بنا کر ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام باقاعدہ رابطے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، زراعت اور غذائی تحفظ، مہارتوں کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیرِ خارجہ کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی، کیونکہ یہ راستے علاقائی اور عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی صورتحال، بشمول افغانستان اور سندھ طاس معاہدہ، بھی زیرِ بحث آئے۔ انھوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ کسی غیر ملکی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

    سندھ طاس معاہدے کے متعلق بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک خطرناک کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

    بحرین کے وزیرِ خارجہ نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے اور تیل، گیس اور معدنیات کے حوالے سے توانائی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس اگلے ماہ منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں بحرین کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات بہت مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کو آئندہ تین برسوں میں اپنی باہمی تجارت دوگنی کرنی چاہیے۔

  6. اے آئی چپس کی طلب میں اضافہ، سام سنگ کو ریکارڈ 80 ارب ڈالر منافع کی توقع

    جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اسے اپنی سہ ماہی آمدنی میں نو گنا اضافے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

    سام سنگ کے اندازے کے مطابق ستمبر کے اختتام تک تین ماہ کی مدت کے لیے اس کا آپریٹنگ منافع بڑھ کر 107.4 کھرب وون (80 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مسلسل چوتھی سہ ماہی ہوگی جس میں کمپنی کو ریکارڈ منافع حاصل ہو گا۔

    سام سنگ دنیا میں میموری چِپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مقامی حریف ایس کے ہائنکس اور امریکہ کی مائکرون بھی ایسی چِپس تیار کرتی ہیں جو اینویڈیا جیسی اے آئی کمپنیوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    جنوبی کوریائی کمپنی کو اگست میں متعارف کروائی گئی اپنی نئی فولڈنگ ڈیوائسز سے بھی منافع کی توقع ہے۔

    کمپنی کے تیسرے سہ ماہی کے مکمل مالی نتائج اکتوبر کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔

    مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹر چِپس کی عالمی سطح پر طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی سے وابستہ چِپ ساز کمپنیوں کی آمدنی اور حصص کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  7. رائل نیوی کے اہلکار کو غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزام پر تحویل میں لیا گیا ہے: برطانوی پولیس

    برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ رائل نیوی کے ایک اہلکار پر ایک غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بیڈفورڈشائر سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ ٹیڈی ینگ پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کا ایک الزام بھی شامل ہے، جس سے ایک نامعلوم غیر ملکی طاقت کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

    انھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے اور انھیں جمعرات کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج کے ایک حاضر سروس رکن کے خلاف یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ الزامات رائل ایئر فورس کے اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ کے حالیہ واقعے سے متعلق نہیں، جس کے بعد اڈے کے قریب مشتبہ سرگرمی کی اطلاع پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    منگل کو اس واقعے کے سلسلے میں ایک ساتویں شخص کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی پولیس بدستور کر رہی ہے۔

    ٹیڈی ینگ کو منگل کے روز بیڈفورڈشائر میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    الزامات 26 نومبر 2024 سے 21 مئی 2025 کے درمیان کے عرصے سے متعلق ہیں اور ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ینگ نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’ۂگمعلومات افشا کرنے کے جرم کی تیاری کے لیے" اقدامات کیے تھے۔

  8. مقبوضہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی سرگرمیاں بند، صرف سات سفارت کاروں کو محدود سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت: اسرائیل

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے سے زیادہ تر سفارت کار واپس چلے جائیں گے، تاہم برطانیہ کا اصرار ہے کہ قونصل خانہ ’بند نہیں کیا جا رہا‘ اور ’برطانوی مشن‘ کے طور پر کام کرجاری رکھے گا۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں لکھا کہ ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ بات یہاں تک پہنچے۔‘

    انھوں نے کہا کہ 20 سفارت کار اور قونصل جنرل اسرائیل چھوڑ دیں گے، جبکہ سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم عمارت میں رہ سکتی ہے، لیکن اس کی سرگرمیوں کا دائرہ ’بہت محدود‘ ہوگا۔

    برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جواب میں کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اہلکاروں کو ’عارضی طور پر واپس بلا لیا گیا‘ ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ مشن ’فلسطینی عوام کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔‘

    اسرائیل نے ستمبر میں کہا تھا کہ وہ قونصل خانہ بند کر دے گا۔ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا، جنھیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

    1838 میں قائم ہونے والا برطانیہ اس قونصل خانے کو یروشلم کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    یہ تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے الگ ہے، جو اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کا بنیادی مرکز ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے کہا کہ ملک نے 8 ستمبر کو برطانوی پابندیوں کے جواب میں اعلان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ آج اپنی سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے۔‘

    تاہم جمعرات کی صبح عمارت کے باہر برطانوی پرچم اب بھی لہراتا ہوا دیکھا گیا، جبکہ متعدد اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہوتے بھی دیکھا گیا۔

    سعار نے تسلیم کیا کہ یہ عمارت ’برطانوی حکومت کی ملکیت‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے عمارت میں کام جاری رکھنے کے لیے ’صرف سات سفارت کاروں پر مشتمل ایک ٹیم کو محدود پیمانے پر سرگرمیاں‘ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

  9. ’21 لاکھ گمشدہ‘ گولیوں کی خبر پر صحافی کو سائبر کرائم نوٹس، صحافتی تنظیموں کا احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حماد علی کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ایک خبر کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    نجی ٹی وی چینل 92 سے وابستہ صحافی حماد علی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نوٹس سابق لیویز فورس کے اسلحے سے متعلق اپنی ایک خبر پر جاری کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد چھوٹے اسلحے کی لاکھوں گولیاں ریکارڈ کے مطابق منتقل نہیں ہوئیں۔

    صحافی کو یہ نوٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ این سی سی آئی اے کے حکام کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ سابق لیویز فورس کے ایک اہلکار کی شکایت پر ان سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔

    حماد علی نے بتایا کہ ان کی خبر میں پولیس کے تحفظات کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے مطابق پولیس کو ایس ایم جی سمیت چھوٹے اسلحے کی تقریباً 28 لاکھ گولیاں منتقل ہونی چاہیے تھیں، تاہم ریکارڈ کے مطابق تقریباً چھ لاکھ گولیاں ہی موصول ہوئیں، جبکہ 21 لاکھ سے زائد گولیوں کا فرق سامنے آیا۔

    ان کے بقول این سی سی آئی اے حکام نے انھیں بتایا کہ شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خبر سے اس کی دل آزاری ہوئی اور سابق لیویز فورس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

    حماد علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکام سے پوچھا کہ جب خبر میں کسی فرد کا نام تک نہیں لیا گیا تو کسی مخصوص شخص کی دل آزاری کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ جس فورس کا حوالہ دیا گیا اس کا پولیس میں انضمام ہو چکا ہے۔

    صحافی کے مطابق انھوں نے اپنی خبر کے حق میں شواہد بھی پیش کیے، جن میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ایک ایف آئی آر شامل تھی۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں سابق لیویز اہلکار روشن خان کے گھر پر چھاپے، اسلحے اور بڑی تعداد میں گولیوں کی برآمدگی کا ذکر موجود ہے اور اس سلسلے میں گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انھیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور مزید شواہد فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

    دریں اثنا بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے صحافی کو نوٹس جاری کرنے اور بار بار طلب کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے صدر منظور احمد رند اور جنرل سیکریٹری شاہ حسین ترین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو نوٹسز، مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کا رجحان تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی پر ہراساں کرنا آزادیِ صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر بلوچستان بار کونسل کے رکن اور سینیئر وکیل راحب خان بلیدی نے بھی صحافی کے خلاف کارروائی کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر دباؤ میں لانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

  10. پونچھ میں گرفتار پاکستانی لڑکی وطن واپس، کولگام میں پانچ مبینہ سہولت کار گرفتار, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے انڈین علاقے میں داخل ہونے والی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک نوجوان لڑکی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    فوج کے مطابق 19 سالہ سامیہ عظیم، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ کے گاؤں بھینس گالا کی رہائشی ہیں، دو اکتوبر کو مبینہ طور پر غلطی سے راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی عبور کر کے انڈین علاقے میں داخل ہو گئی تھیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کا سرحد پار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ نادانستہ طور پر دوسری جانب پہنچ گئی تھی۔ فوج کے مطابق بُدھ کے روز پونچھ کے چکن دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد انھیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ کارروائی کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھیں حکام نے عسکریت پسندوں کے مبینہ سہولت کار قرار دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت تجمل حسین میر، رحمت علی نائیکو، تحریم احمد بٹ، منظور احمد بٹ اور کفایت احمد ڈار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان کے قبضے سے دو پستول، تین میگزین، 40 گولیاں اور تین دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ادھر شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک پرانی زیرِ زمین پناہ گاہ کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حکام کے مطابق پناہ گاہ سے ایک اے کے 47 رائفل، تین ہینڈ گرنیڈ، 857 اے کے راؤنڈز، 192 پیکا راؤنڈز، آٹھ میگزین، ایک سائلنسر اور پستول کی 83 گولیاں برآمد کی گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گاہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی اور اس کارروائی سے علاقے میں عسکریت پسندی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں ہندوارہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  11. روہنگیا پناہ گزینوں کے بعد کشمیر میں بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا آغاز, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب حکام نے بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 300 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وادئ کشمیر اور جموں میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف حکومتی اقدامات میں تیزی آئی ہے، جس کے تحت بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت اور ان کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق انڈین وزارتِ داخلہ کی جانب سے مئی میں تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ وادیٔ کشمیر اور جموں میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تقریباً 600 غیر قانونی تارکینِ وطن کئی برسوں سے مقیم ہیں۔

    بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا پس منظر

    انڈین حکام کے مطابق جموں و کشمیر، خصوصاً جموں کے مختلف علاقوں میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمان گذشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان میں سے متعدد افراد قانونی سفری دستاویزات یا ویزا کے بغیر سرحد پار کرکے یہاں پہنچے۔

    حالیہ برسوں میں سکیورٹی خدشات اور آبادیاتی توازن برقرار رکھنے کے نام پر ان کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ مختلف آپریشنز کے دوران متعدد بنگلہ دیشی شہریوں کو حراستی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کی شہریت کی تصدیق کے بعد انھیں فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے۔

    ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کو دو الگ الگ گروپوں میں تقریباً 300 بنگلہ دیشی شہریوں کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے کیا گیا، جہاں سے انھیں بنگلہ دیش منتقل کیا جا رہا ہے۔

    روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں

    بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کو روہنگیا پناہ گزینوں کی بے دخلی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سنہ 2017 میں میانمار کی ریاست راکھین میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان بے گھر ہوئے۔ ان میں سے بیشتر نے بنگلہ دیش میں پناہ لی، جبکہ چند ہزار افراد طویل سفر طے کر کے جموں و کشمیر پہنچے، جہاں وہ عارضی بستیوں میں آباد ہو گئے۔

    انڈین حکومت روہنگیا باشندوں کو قانونی پناہ گزین کا درجہ نہیں دیتی، کیونکہ انڈیا نے 1951 کے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے۔ اسی پالیسی کے تحت روہنگیا افراد کو بھی حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

    سکیورٹی اور آبادیاتی خدشات

    بی جے پی اور اس کے حامی سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی سے خصوصاً جموں خطے میں وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مقامی آبادی کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ شناختی دستاویزات سے محروم افراد کو شدت پسند یا جرائم پیشہ عناصر استعمال کر سکتے ہیں، جس سے سکیورٹی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان ان دلائل سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکین انتہائی غربت اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھیں صحت، تعلیم اور صفائی سمیت بنیادی سہولیات تک مناسب رسائی حاصل نہیں۔

    بین الاقوامی قوانین اور قانونی پیچیدگیاں

    صحافی اور تجزیہ کار ہارون ریشی کے مطابق بین الاقوامی قانون کا ایک اہم اصول ’نان ریفولمنٹ‘ ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔

    ان کے بقول اگرچہ انڈیا اس بین الاقوامی معاہدے کا فریق نہیں، تاہم انڈین سپریم کورٹ متعدد مواقع پر آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت غیر ملکیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دے چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کی واپسی کا عمل صرف انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سفارتی اور قانونی مرحلہ بھی ہے، کیونکہ اس کے لیے بنگلہ دیشی حکام سے شہریت کی تصدیق اور دیگر سرکاری کارروائیاں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بے دخلی کے عمل میں شفافیت، قانونی نمائندگی اور متاثرہ افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ حکام اس اقدام کو قومی سلامتی اور قانون کے نفاذ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

  12. حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

    یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کے دوران حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ شام، سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان کے مطابق حملہ جمعرات کو کیا گیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب چند روز قبل اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دے چکا ہے۔

    ادھر یمنی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز، جن میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز، جائنٹس بریگیڈز اور مشترکہ افواج شامل ہیں، نے ملک کے کئی محاذوں پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے اور حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسی تناظر میں خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ شام، سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیر غور تجاویز میں دفاعی تعاون سے لے کر حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف آپشنز شامل ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایک شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ شام اس وقت بنیادی طور پر اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

    شامی سفارت کار نے کہا کہ اگر سعودی عرب کسی قسم کے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست کرتا ہے تو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت غور کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی کسی بھی ممکنہ شمولیت سے تنازع کے فرقہ وارانہ اور علاقائی پہلو مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے خبردار کیا کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم حساس نوعیت کے علاقائی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، جس سے تمام فریق گریز کرنا چاہتے ہیں۔

    شام کے عبوری سربراہ احمد الشارع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ مبصرین کے مطابق دمشق اور ریاض کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون شام کی عرب دنیا میں دوبارہ شمولیت اور علاقائی سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب یمن میں جاری زمینی کارروائیوں کے باوجود سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش رفت محدود بتائی جا رہی ہے، جبکہ حوثی سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  13. افغانستان میں 25 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم، خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں: پاکستانی حکام کی انتونیو گوتریس سے ملاقات

    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ملاقات کی، جس میں عالمی و علاقائی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور اقوام متحدہ کے امن مشنز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں اس وقت 25 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنا بھرپور کردار جاری رکھے گا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی پولیس افسران اور اہلکار بھی اقوام متحدہ کی پولیس فورس کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان امن مشنز کے دوران اب تک 181 جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

    اس موقع پر انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں اور امن مشنز میں اس کی شمولیت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر وزیر داخلہ نے قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی مدد اور معاونت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں سپیشل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور وزارتِ داخلہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  14. لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج پشاور سے شروع ہوگا، صوبے کے مستقبل کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، بند کمروں میں نہیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعرات کو لانگ مارچ کے اگلے مرحلے میں بھرپور شرکت کر کے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔

    رات گئے جاری کیے گئے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ دوپہر دو بجے حیات آباد انڈر پاس سے شروع ہوگا۔ انھوں نے پشاور کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بڑی تعداد میں نکل کر یہ پیغام دیں کہ ’پشاور عمران خان کے ساتھ تھا، ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ ہموار ہو۔ ان کے بقول صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونے چاہییں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت اور ’پھولوں کا شہر‘ ہے، جسے دوبارہ تشدد، گولیوں اور دھماکوں کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    انھوں نے پشاور کے شہریوں سے لانگ مارچ میں فعال شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی موجودگی کے ذریعے عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کریں۔

    تحریک انصاف کا لانگ مارچ گذشتہ چند روز سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔

  15. حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے اور باب المندب میں حملوں کا دعویٰ

    یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے صوبہ تعز میں سعودی عرب کے زیرِ استعمال ترک ساختہ بیرقدار آقنچی جاسوسی ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری کے مطابق ڈرون تعز میں ’ہوسٹائل مشن‘ پر مامور تھا اور اسے ’مناسب ہتھیاروں‘ کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔

    ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ حوثی فورسز نے آبنائے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ان کے اجتماعات کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

    یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل حملہ کیا ہے۔ یحییٰ ساری کے مطابق اس ہفتے کے دوران ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا یہ تیسرا موقع ہے۔

    دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حوثیوں کے دعوؤں پر سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  16. جڑواں شہروں میں وی آئی پی نقل و حرکت، احتجاج اور کرکٹ سرگرمیوں کے باعث ٹریفک متاثر ہونے کا امکان

    وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں آج وی آئی پی نقل و حرکت، تاجروں کے متوقع احتجاج اور کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے باعث بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ میٹرو بس سروس کے چند اوقات میں محدود آپریشن کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور بحرین کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے۔ ان کی نقل و حرکت کے دوران ریڈ زون، ایکسپریس وے اور پرانے ایئرپورٹ کے اطراف ٹریفک کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران نے آج سہ پہر تین بجے سے پانچ بجے کے درمیان آبپارہ چوک میں احتجاج اور ممکنہ شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج کے باعث آبپارہ اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

    ادھر کرکٹ ٹیم کی پریکٹس سیشن کے لیے سٹیڈیم آمدورفت بھی آج ٹریفک پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ٹیم کے تقریباً 4:15 بجے سٹیڈیم روانہ ہونے اور 8:35 بجے ہوٹل واپس پہنچنے کی توقع ہے۔

    میٹرو بس انتظامیہ کے مطابق سروس بعض اوقات میں جزوی طور پر بند رہے گی۔ میٹرو سٹیشنز پر تین بجے سے 4:40 بجے اور 7:55 بجے سے نو بجے تک عارضی پابندیاں متوقع ہیں، جبکہ میچوں کے دوران 6th روڈ، شمس آباد اور فیض آباد سٹیشنز پر میٹرو نہیں رکے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسلام آباد اور راولپنڈی کے اندر تمام مرکزی سڑکیں اور موٹرویز کھلی ہیں اور کسی شاہراہ کی مکمل بندش کی اطلاع نہیں۔

    دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے شہریوں نے موبائل فون اور ڈیٹا سروسز میں تعطل کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

    اسلام آباد کے ریڈ زون کے متعدد داخلی و خارجی راستے بند، شہریوں کو ٹریفک میں تاخیر کا سامنا

    وفاقی دارالحکومت کے حساس علاقے ریڈ زون میں سکیورٹی اقدامات کے باعث بُدھ کی صبح متعدد داخلی اور خارجی راستے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور سفر میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ٹریفک حکام کے مطابق صبح آٹھ بج کر 39 منٹ تک سیرینا گیٹ، نادرا گیٹ، ایکسپریس گیٹ (ڈی چوک) اور پریڈ ایونیو پر ٹی کراس باری امام کے راستے آمدورفت کے لیے بند تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ان راستوں کی بندش کے باعث ریڈ زون کی جانب جانے والی ٹریفک کا دباؤ متبادل راستوں پر منتقل ہو رہا ہے، جس سے ملحقہ سڑکوں پر بھی رش اور سست روی کا خدشہ ہے۔

    تاہم مارگلہ گیٹ اور میریٹ گیٹ کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھا گیا ہے اور شہریوں کو انہی راستوں کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق سکیورٹی انتظامات کے تحت ریڈ زون کے اطراف عارضی سفری پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں، جبکہ متاثرہ اور آس پاس کی شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کے باعث تاخیر متوقع ہے۔

  17. امریکہ ’جلد ہی ایران سے نکل جائے گا‘، تیل کی قیمتیں چٹان کی طرح نیچے گرنے والی ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ’جلد ہی ایران سے نکل جائے گا‘ اور ان کے بقول تیل کی قیمتیں ’چٹان کی طرح گرنے والی ہیں‘۔

    ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے خواہاں ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا تہران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے قابل قبول اقدامات کرنے پر آمادہ ہے یا نہیں۔

    انھوں نے کہا، ’میں سمجھتا ہوں کہ معاہدہ ایک ایسی چیز ہے جو میں واقعی کرنا چاہتا ہوں، لیکن کیا ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کچھ پیش کرنے کو تیار ہے؟ ہم ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    ٹرمپ نے گذشتہ دنوں لاس اینجلس اور سان ڈیاگو پر مبینہ ایرانی حملے سے متعلق اپنے متنازع بیانات کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حملے ہوئے تو امریکہ سخت ردعمل دے گا اور اپنے ملک کے دفاع کو یقینی بنائے گا۔

    یہ گذشتہ ماہ کے دوران ٹیکساس کا ان کا تیسرا دورہ تھا، جہاں وہ ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کے سلسلے میں سرگرم ہیں۔ وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

  18. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

    پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان تقریباً 1.2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا اہل ہو جائے گا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق یہ معاہدہ اس کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 210 ملین ڈالر موصول ہوں گے۔ اس کے ساتھ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو دی جانے والی مجموعی رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مشکل بین الاقوامی حالات کے باوجود پاکستان میں پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر درست سمت میں رہا ہے اور حکومت میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے، سرکاری مالیات مضبوط بنانے، مہنگائی کو سٹیٹ بینک کے ہدف تک لانے، توانائی شعبے کی اصلاحات، سماجی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    فنڈ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھا۔ مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو چار فیصد رہی، جبکہ پورے مالی سال کے لیے شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گئی جبکہ بنیادی افراطِ زر قابو میں رہی۔ اسی دوران مضبوط ترسیلاتِ زر کی بدولت جاری کھاتہ تقریباً متوازن رہا اور ستمبر کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حکومتی معاشی پالیسیوں پر بڑھتے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم جیوپولیٹیکل کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی سختی اور تجارتی رکاوٹیں اب بھی اہم خطرات ہیں۔

    آئی ایم ایف نے مالی سال 2027 کے بجٹ پر مؤثر عمل درآمد کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جی ڈی پی کے دو فیصد بنیادی سرپلس کے ہدف کے ذریعے سرکاری قرضوں کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے خطرات کی بنیاد پر آڈٹ، ڈیجیٹل انوائسنگ اور تیسرے فریق کے ڈیٹا کے استعمال سمیت ٹیکس اصلاحات جاری رکھی جائیں گی۔

    سماجی شعبے کے حوالے سے آئی ایم ایف نے کہا کہ صحت اور تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کے 2.2 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہو چکے ہیں اور حکومت انھیں مالی سال 2027 میں 2.8 فیصد تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ساتھ ہی ہدفی نقد امدادی پروگراموں میں اضافے اور مستحقین کی بہتر رجسٹریشن کے ذریعے کمزور طبقے کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    فنڈ نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی کے موجودہ معاونتی پروگرام کو مرحلہ وار ختم کرنے کا مشورہ بھی دیا، جبکہ کسی بھی مستقبل کی امداد کو محدود، عارضی اور صرف مستحق طبقوں تک محدود رکھنے کی سفارش کی۔

    آئی ایم ایف نے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ مہنگائی کو مطلوبہ ہدف میں واپس لانے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے، جبکہ شرح مبادلہ میں لچک کو معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے جاری رکھا جائے۔

    توانائی کے شعبے کے بارے میں آئی ایم ایف نے بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گردشی قرضے کے دوبارہ اضافے کو روکنے کے لیے بجلی اور گیس کے شعبوں میں لاگت میں کمی، کارکردگی میں بہتری، نجی شعبے کی شمولیت اور گیس کے نقصانات میں کمی ضروری ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق آرٹیکل فور مشاورت کے دوران معیشت کو زیادہ ویلیو ایڈڈ سرگرمیوں کی جانب منتقل کرنے، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے، سرکاری اداروں کی گورننس بہتر بنانے، مسابقت بڑھانے، کاروباری و تجارتی رکاوٹیں کم کرنے اور بدعنوانی کے خلاف اداروں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آر ایس ایف پروگرام کے تحت پاکستان پبلک سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے مالیاتی نظام، آبپاشی کے پانی کی قیمتوں اور وصولیوں، توانائی کی بچت کے معیارات اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کاربن اخراج کم کرنے کی اصلاحات پر بھی کام جاری رکھے گا۔

  19. پی ٹی آئی لانگ مارچ: پشاور کے چند نجی سکول جمعرات کو بند رہیں گے، موبائل سروس متاثر ہونے کی اطلاعات, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مارچ کے باعث پشاور کے چند نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے جمعرات کے روز بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سکول انتظامیہ کی جانب سے بدھ کی شام والدین کو پیغامات کے ذریعے چھٹی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

    جمعرات کو پی ٹی آئی کا مارچ پشاور شہر سے ہوتا ہوا پشاور اور چارسدہ کی حدود تک جائے گا۔ مارچ کی آمد کے پیش نظر بعض نجی سکولوں نے طلبہ کے لیے جمعرات کو تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ سرکاری سکولوں کی بندش کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب پشاور کے چند علاقوں میں موبائل فون سروس بند ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، تاہم اس کی سرکاری طور پر نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔

    پی ٹی آئی کا مارچ اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا تھا اور بدھ کو قبائلی ضلع خیبر پہنچا۔ جمعرات کو مارچ کے پشاور شہر سے گزرنے کا پروگرام ہے۔

    بی بی سی نے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے حکام سے رابطے کی کوشش کی، تاہم موبائل فون سروس متاثر ہونے کے باعث رابطہ نہیں ہو سکا۔

  20. سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت، پروازوں میں رکاوٹ کا خدشہ: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر امور نے سعودی عرب میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور حوثیوں کی جانب سے ایئرپورٹس اور فضائی حدود کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے پیش نظر امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’حوثی ماضی میں سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں، جن میں شہری ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق موجودہ فوجی تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے سعودی عرب میں موجود امریکی شہریوں کو صورتحال پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی کی صورتحال کے باعث پروازیں منسوخ ہو سکتی ہیں، فضائی حدود بند کی جا سکتی ہیں اور سفر میں رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔‘

    امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر سے قبل اپنی پرواز کی روانگی کی صورتحال ایئرلائن اور متعلقہ ایئرپورٹ سے براہِ راست معلوم کریں۔