سعودی عرب، ترکی اور
پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدےکو فعال بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جسے خطے میں ایک
اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سب کے بیچ مصر کی اِس
اتحاد میں ممکنہ شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں کئی مہینوں سے جاری ہیں، تاہم قاہرہ
نے اب تک اس اتحاد کی رُکنیت اختیار کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
مصر کا محتاط رویہ ایک وسیع
تر سٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ قاہرہ کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان
تینوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن وہ ایسے کسی بھی فوجی انتظام میں شامل ہونے
سے گریزاں دکھائی دیتا ہے جو اس کی سفارتی حدود کو محدود کر سکتے ہوں یا اسے
علاقائی تنازعات میں الجھا سکتے ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے غزہ، بحیرہ
احمر اور قرنِ افریقہ میں سنگین سلامتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
چنانچہ مصر کی ہچکچاہٹ کی
وجہ اتحاد کی مخالفت نہیں بلکہ اس کی وہ دیرینہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ متوازن
شراکت داریوں کو ترجیح دیتا ہے۔
مکہ اتحاد میں شامل ہونے کے
حوالے سے مصر کی سست روی بظاہر صدر عبدالفتاح السیسی کے اُن سابقہ بیانات کے برعکس
دکھائی دیتی ہے جن میں انھوں نے ایک مشترکہ عرب فوجی قوت اور علاقائی سلامتی چیلنجز
سے نمٹنے کے لیے تعاون اور رابطے کے ایک نئے عرب۔اسلامی فریم ورک کے قیام کی حمایت
کی تھی۔
یاد رہے کہ مکہ معاہدے پر
دستخط کے بعد ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر ترکی کا متعدد معاملات
میں ایک اہم شراکت دار ہے اور بعض نامعلوم تکنیکی مسائل کے حل کے بعد وہ مستقبل
میں مکہ اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔
13 اگست کو مصری وزیر خارجہ بدر
عبدالعاطی نے کہا تھا کہ قاہرہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے معاہدے میں
مصر کو شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ مصر کے آئین اور اس کے نتیجے
میں قانونی ذمہ داریوں کی روشنی میں اس معاملے پر گہرائی سے غور کیا جائے گا۔
سنہ2014 کے مصری
آئین کے آرٹیکل 152 کے مطابق مصر کا صدر نہ تو جنگ کا اعلان کر سکتا اور نہ ہی
ریاست کی حدود سے باہر مصری فوجی دستے تعینات کر سکتا ہے، جب تک کہ ’قومی دفاعی
کونسل سے مشاورت اور ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت سے منظوری‘ حاصل نہ کر
لی جائے۔
عبدالعاطی نے یہ بھی کہا تھا
کہ مصر، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طریقہ کار کے تحت مکمل رابطہ اور
ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
فی الحال یہ واضح ہے کہ مصر مکہ اتحاد میں باضابطہ شمولیت کے حوالے
سے اپنے آپشنز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے اور اس ضمن میں بظاہر دو اہم
عوامل اُس کے فیصلے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
جغرافیائی
و سیاسی ترجیحات میں توازن
قاہرہ
اپنے موجودہ معاہدوں اور اتحادوں، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک کے
ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے بھی محتاط ہے۔
مکہ
اتحاد میں شمولیت مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے، ایران کے ساتھ تعلقات اور
ریاض و ابوظہبی کے درمیان جاری رقابت کے تناظر میں جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب
کر سکتی ہے۔
معاہدے
میں شمولیت کا مطلب حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔
اگرچہ مصر نے سعودی عرب پر یمنی تحریک کے حملوں کی سرکاری سطح پر مذمت کی ہے، تاہم
قاہرہ ایسی کسی کشیدگی سے بچنا چاہے گا جو بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں اس کے
مفادات کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
اسرائیل
کے خلاف حوثی حملوں کے باعث بحیرہ احمر سے گزرنے والی بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے،
جس کے نتیجے میں مصر کو نہرِ سویز کی آمدنی میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اسی
دوران ایتھوپیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں شدت اختیار کرتی رقابتوں نے
قاہرہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی افریقہ سے متعلق خارجہ پالیسی کی ترجیحات،
بالخصوص بحیرہ احمر کی سلامتی سے متعلق امور، پر زیادہ توجہ دے۔
یمن
میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کی مصر کی خواہش کی ایک وجہ 1960 کی دہائی میں
وہاں کی گئی اس کی مہنگی فوجی مداخلت بھی ہو سکتی ہے۔
چھوٹے
پیمانے کے انتظامات کو ترجیح
مصر
بظاہر محدود دائرۂ کار اور کم فوجی خطرات والے علاقائی سلامتی انتظامات کو زیادہ
اہمیت دے رہا ہے۔
مصر
پہلے ہی ریجنل فور (R4) گروپ کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان
شامل ہیں، اور یہ ممالک باقاعدگی سے علاقائی امور پر مشاورت کرتے ہیں۔
حوثیوں
کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد مصر 13 اگست کو ریاض
کی قیادت میں قائم ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد میں بھی شامل ہوا تھا۔
اس کے
علاوہ مصر نے ترکی کے ساتھ اپنے دفاعی شراکت داری اور فوجی پیداوار کے تعاون میں
بھی اضافہ کیا ہے، خصوصاً مشترکہ ڈرون اور یو اے ویز کی تیاری کے شعبے میں۔