آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ کو دوبارہ نشانہ بنانے کا دعویٰ: ریاض، خمیس مشیط کی طرف داغے گئے تین بلیسٹک میزائل تباہ کر دیے، ترکی المالکی

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے ریاض اور خمیس مشیط پر داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔ دوسری جانب ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی ہیں جبکہ سفارتکاروں نے بتایا کہ انھیں سفارت خانوں کی عمارتوں میں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ریاض میں میزائل کا ملبہ گرنے سے بچوں کی نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے: سعودی سول ڈیفنس

    سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

    ترکی المالکی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے جبکہ ریاض کی جانب داغے گئے دو مزید بیلسٹک میزائل بھی فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔

  2. پی ٹی آئی کے ایم پی اے عبدالسلام آفریدی مردان سے مبینہ طور پر اغوا، اہلِ خانہ کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کے اہل خانہ نے کا دعویٰ کیا ہے کہ عبدالسلام آفریدی کو مردان میں واقع ان کے ہجرے کے باہر سے (مبینہ طور پر) بعض نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے ہیں۔

    بی بی سی سی اردو کے عزیز اللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالسلام آفریدی کے بھانجے اور داماد ڈاکٹر سجاد نے الزام عائد کیا کہ عبدالسلام آفریدی تقریبا پونے تین بجے کے قریب چمتار کے علاقے میں جانے کے لیے نکلے تاکہ سہیل آفریدی کی قیادت میں وہاں ایک سے دو روزمیں پہنچنے والے آزادی مارچ کی تیاروں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    ڈاکٹر سجاد نے الزام عائد کیا کہ ’عبدالسلام آفریدی ابھی ہجرے سے باہر نکلے ہی تھے کہ چار گاڑیاں آئیں جن میں سادہ لباس میں مسلح افراد نے ان کو روک کر گاڑی سے اتارا اور کہا کہ آپ آ جائیں۔ ‘

    ّاکٹر سجاد کے مطابق ’ان کے ساتھ گن مین اور گارڈ موجود تھے تاہم عبدالسلام آفریدی نے انھیں کسی قسم کی مزاحمت کرنے سے روکا اور جس کے بعد وہ مسلح افراد انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کے لے گئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ایف آئی ار درج نہیں ہوئئ تاہم پولیس کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او آئے اور واقعے سے متعلق تفصیل لے کر گئے ہیں۔‘

    ڈاکٹر سجاد کے مطابق اس خبر کے فورا بعد بیرسٹر گوہر بھی آئے اور اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔

    دوسری جانب عبدالسلام آفریدی کے ڈرائیور بلال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ گاڑی چلا رہے تھے کہ اچانک اھراف سے چار گاڑیاں آئیں اورعبدالسلام آفریدی کی گاڑی کو روک کر ان سے ساتھ چلنے کو کہا۔

    ڈرائیور کے مطابق ’اس وقت ایم پی اے نے کہا کہ آپ لوگ مزاحمت نہ کریں۔‘

  3. پاکستان کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستانی فضائیہ کے طیارے استعمال کیے جانے کی تردید

    پاکستان کی حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان فضائیہ کے طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں امریکی جریدے دی نیویارک ٹائمز کی اُس خبر کو ’جھوٹی اور من گھڑت‘ قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان فضائیہ کے طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے ایک بار پھر کہا جاتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایسی کسی تعیناتی یا کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔

    دی نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کے خلاف حملوں میں پاکستانی فضائیہ کے جیٹ استعمال کیے جا رہے۔

    اس کے علاوہ اخبار نے امریکی فوج کے سابق افسر کرنل ڈیوڈ او سمتھ، جو پاکستان میں امریکی فوجی اتاشی اور ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سینیئر تجزیہ کار بھی رہ چکے ہیں، کا ایک بیان بھی اپنی خبر میں شامل کیا تھا۔

    ڈیوڈ او سمتھ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اگرچہ انھیں خفیہ اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

  4. پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پانچواں روز، سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ پشاور پہنچ گیا

    پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کی قیادت میں حیات ٹول پلازہ، پشاور پہنچ گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد اتوار کے روز سے ضلع لکی مروت سے شروع ہونے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر پشاور کے حوالے سے ایک شیڈول بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق آٹھ اکتوبر کو پشاور میں حیات آباد ٹول پلازہ سے یہ مارچ بھانے ماڑی چونگی جائے گا۔

    شیڈول کے مطابق جمعرات کے روز پشاور میں کوہاٹی چوک سرکلر روڈ،جمیل چوک، پیر زکوڑی پل، کبوتر چوک سے ہوتا ہوا رات تقریبا نو بجے چار سدہ روڈ پر پہنچے گا۔

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود تصاویر اور کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قافلے میں شرکاء کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم، عمران خان کی تصاویر اور پارٹی پرچم ہیں، جبکہ کارکنان اس دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔

  5. حوثیوں کی جانب سے ریاض اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے تین بلیسٹک میزائل تباہ کر دیے: ترکی المالکی

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔

    ترکی المالکی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے جبکہ ریاض کی جانب داغے گئے دو مزید بیلسٹک میزائل بھی فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔

    ان کے مطابق یہ میزائل حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تھے۔

    اس سے قبل حوثی گروہ انصار اللہ نے جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    بی بی سی عربی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے خبر دی تھی کہ جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

  6. مکہ معاہدے کے تحت ترکی پر لازم نہیں کہ فوجی دستے کسی دوسرے ملک جارحانہ کارروائیوں کے لیے بھیجے: ہاکان فیدان

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق انھوں نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے تحت کسی دوسرے ملک پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    جمعرات کے روز انقرہ میں ہنگری کی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انیتا اوربان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’معاہدے کو پارلیمان میں پیش کرنے کے لیے ضروری تمام کام مکمل کر لیا گیا ہے۔‘

    ہاکان فیدان کے مطابق اس معاہدے کے تحت اگر دستخط کنندہ ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر فریق اس کے دفاع میں اس کا ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جارحانہ نہیں دفاعی معاہدہ ہے۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کے تحت ترکی پر لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے فوجی دستے کسی دوسرے ملک میں جارحانہ کارروائیوں کے لیے تعینات کرے۔

    روس یوکرین جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے خبردار کیا کہ اس تنازعے کو بحیرہ اسود تک پھیلنے نہیں دینا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بحیرہ اسود کو تنازعے کے ایک نئے محاذ میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘

  7. ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، حوثیوں کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

    بی بی سی عربی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ سفارت کاروں نے بتایا کہ انھیں اپنی سفارت خانوں کی عمارتوں کے اندر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صورتِ حال سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سکولوں نے احتیاطی اقدامات اپنائے ہیں اور کم از کم ایک سکول میں بچوں کو حفاظت کے لیے تہہ خانے میں منتقل کر دیا گیا۔

    کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں کام کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ بعض کمپنیوں نے اپنے دفاتر خالی کروا لیے ہیں۔

    ریاض میں موجود نیویارک ٹائمز کے ایک نامہ نگار نے بھی مختصر وقفے کے دوران یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

    امریکی جریدے کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی حکام کی جانب سے شہریوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق معلومات شیئر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایسی معلومات پھیلانے کی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق حوثی گروہ انصار اللہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ میزائل اپنے ہدف پر لگا جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تاہم اس دعوے کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  8. افغانستان: طالبان مخالف گروہوں کے ’انڈین ساختہ ہیلی کاپٹر مار گرانے‘ اور طالبان کے حملے پسپا کرنے کے دعوے, بی بی سی مانیٹرنگ

    طالبان مخالف گروپ ’افغانستان گرین ٹرینڈ‘ (اے جی ٹی)، جس کی قیادت افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کرتے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی فورسز نے سات اکتوبر کو صوبہ پنجشیر میں ایک ’سمارٹ آپریشن‘ کے دوران طالبان کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

    جمعرات (آٹھ اکتوبر) کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ’اے جی ٹی‘ نے کہا کہ ’انڈیا میں تیار کردہ چیتا ہیلی کاپٹر، جو طالبان کے زیرِ استعمال تھا، شام سوا سات بجے ایک آپریشن میں مار گرایا گیا ہے۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار دو پائلٹ اور طالبان کے زیرِ انتظام فضائیہ کے چیف آف سٹاف اس واقعے میں شدید زخمی ہوئے جنھیں رات گئے کابل لے جایا گیا جہاں وہ سردار داؤد خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ دفاع یا پنجشیر کے مقامی طالبان حکام نے تاحال اس مبینہ حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اسی طرح طالبان مخالف دوسری بڑے گروہ ’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ (اے ایف ایف) نے مشرقی صوبہ نورستان اور شمال مشرقی صوبہ بدخشان میں طالبان کے خلاف مزید نئے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایک بیان میں گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بدھ کی شب نورستان کے ضلع کامدیش میں طالبان کے حملوں کو پسپا کیا اور تقریباً چھ گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران 11 طالبان جنگجو ہلاک اور کم از کم آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

    افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان نے بدھ کی صبح اُن کے متعدد ٹھکانوں اور مورچوں پر حملے کیے، جن کا ’شدید مزاحمت‘ کے ساتھ جواب دیا گیا۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے ’دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور انھیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اے ایف ایف کے جنگجو نورستان کے ضلع کامدیش میں ’آزاد کرائے گئے علاقوں‘ میں فعال ہیں اور اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اردگرد کے دیہات اور علاقوں میں صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

    جمعرات کو جاری کردہ ایک اور بیان میں اے ایف ایف نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے بدخشان کے ضلع کوران و منجان سے صوبہ پنجشیر جانے والی شاہراہ پر ایک حملے میں طالبان کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا۔

    اس معاملے پر طالبان حکام کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔

    اس سے قبل طالبان مخالف گروپ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وسطی صوبہ غور میں ایک حملے کے دوران طالبان کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

    دوسری جانب طالبان کی پولیس سپیشل فورس (پی ایس ایف) نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے چار ایسے افراد پر مشتمل گروہ کو پکڑا ہے جن کا تعلق طالبان مخالف مسلح گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) سے ہے اور وہ کابل میں اقوام متحدہ کے ایک دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    افغان حکام کے مطابق ان چاروں افراد کو افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن ’یوناما‘کے کابل میں واقع دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے ’اس گروہ نے حال ہی میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے یوناما کے دفتر اور اس کے عملے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم سپیشل پولیس فورسز نے حملہ کرنے سے پہلے ہی انھیں گرفتار کر لیا۔‘

  9. ہماری کوشش ہے جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا: پی ٹی آئی چیئرمین

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ ہم بہتری کی طرف جائیں اور جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم اگر معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔

    جمعرات کے روز پی ٹی آئی کے چیئرمین چارسدہ میں صوبائی وزیر فضل شکور کی رہائش گاہ کا دورہ کیا

    بیرسٹر گوہر نے نے فضل شکور کی گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ

    ہماری کوشش ہے کہ عوام اگر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے نکلتے ہیں تو اس کے جواب میں کوئی ایسا اقدام نہ ہو جس سے پورا نظام درہم برہم ہو جائے، چاہے وہ ایمرجنسی یا گورنر راج ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھی حالانکہ وہ اپنے لیڈر سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات میں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ اتحاد میں ہوں اور انھیں اتحاد میں شامل کرنے کی بڑی کوششیں کیں۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی طرف ایک حکومتی وفد جا چکا ہے، امید ہے کہ مولانا صاحب اچھا کردار ادا کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت ڈیڈ لاک ہے اور چیزیں بہتری کی طرف نہیں جا رہیں۔

    ’اگر اسی طرح لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور معاملات اسی طرح گھمبیر رہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اے این پی، جماعتِ اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کا مشکور ہیں کہ انھوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

    ’تمام افراد یہی سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو حالات ہیں ان کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک حکومت یا پی ٹی آئی کے خلاف اقدام نہیں ہوگا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی غصے میں ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا تو صوبے میں تناؤ بڑھے گا۔

    ’صوبہ پہلے ہی بہت گھمبیر صورتحال سے گزر رہا ہے، اختیارات نام کی کوئی چیز نہیں، پہلے ہی غیر اعلانیہ گورنر راج ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی عروج پر ہے، یہ وقت نہیں کہ ایسے اقدامات کیے جائیں۔

  10. مصر ’مکہ دفاعی اتحاد‘ میں شامل ہونے سے کیوں ہچکچا رہا ہے؟, اومنیہ النجار، ماہر مشرق وسطیٰ، بی بی سی مانیٹرنگ

    سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدےکو فعال بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جسے خطے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس سب کے بیچ مصر کی اِس اتحاد میں ممکنہ شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں کئی مہینوں سے جاری ہیں، تاہم قاہرہ نے اب تک اس اتحاد کی رُکنیت اختیار کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    مصر کا محتاط رویہ ایک وسیع تر سٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ قاہرہ کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان تینوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن وہ ایسے کسی بھی فوجی انتظام میں شامل ہونے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے جو اس کی سفارتی حدود کو محدود کر سکتے ہوں یا اسے علاقائی تنازعات میں الجھا سکتے ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے غزہ، بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں سنگین سلامتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    چنانچہ مصر کی ہچکچاہٹ کی وجہ اتحاد کی مخالفت نہیں بلکہ اس کی وہ دیرینہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ متوازن شراکت داریوں کو ترجیح دیتا ہے۔

    مکہ اتحاد میں شامل ہونے کے حوالے سے مصر کی سست روی بظاہر صدر عبدالفتاح السیسی کے اُن سابقہ بیانات کے برعکس دکھائی دیتی ہے جن میں انھوں نے ایک مشترکہ عرب فوجی قوت اور علاقائی سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور رابطے کے ایک نئے عرب۔اسلامی فریم ورک کے قیام کی حمایت کی تھی۔

    یاد رہے کہ مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر ترکی کا متعدد معاملات میں ایک اہم شراکت دار ہے اور بعض نامعلوم تکنیکی مسائل کے حل کے بعد وہ مستقبل میں مکہ اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔

    13 اگست کو مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا تھا کہ قاہرہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے معاہدے میں مصر کو شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ مصر کے آئین اور اس کے نتیجے میں قانونی ذمہ داریوں کی روشنی میں اس معاملے پر گہرائی سے غور کیا جائے گا۔

    سنہ2014 کے مصری آئین کے آرٹیکل 152 کے مطابق مصر کا صدر نہ تو جنگ کا اعلان کر سکتا اور نہ ہی ریاست کی حدود سے باہر مصری فوجی دستے تعینات کر سکتا ہے، جب تک کہ ’قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت سے منظوری‘ حاصل نہ کر لی جائے۔

    عبدالعاطی نے یہ بھی کہا تھا کہ مصر، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طریقہ کار کے تحت مکمل رابطہ اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

    فی الحال یہ واضح ہے کہ مصر مکہ اتحاد میں باضابطہ شمولیت کے حوالے سے اپنے آپشنز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے اور اس ضمن میں بظاہر دو اہم عوامل اُس کے فیصلے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

    جغرافیائی و سیاسی ترجیحات میں توازن

    قاہرہ اپنے موجودہ معاہدوں اور اتحادوں، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے بھی محتاط ہے۔

    مکہ اتحاد میں شمولیت مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے، ایران کے ساتھ تعلقات اور ریاض و ابوظہبی کے درمیان جاری رقابت کے تناظر میں جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    معاہدے میں شمولیت کا مطلب حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مصر نے سعودی عرب پر یمنی تحریک کے حملوں کی سرکاری سطح پر مذمت کی ہے، تاہم قاہرہ ایسی کسی کشیدگی سے بچنا چاہے گا جو بحیرہ احمر اور قرنِ افریقہ میں اس کے مفادات کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

    اسرائیل کے خلاف حوثی حملوں کے باعث بحیرہ احمر سے گزرنے والی بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مصر کو نہرِ سویز کی آمدنی میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    اسی دوران ایتھوپیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں شدت اختیار کرتی رقابتوں نے قاہرہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی افریقہ سے متعلق خارجہ پالیسی کی ترجیحات، بالخصوص بحیرہ احمر کی سلامتی سے متعلق امور، پر زیادہ توجہ دے۔

    یمن میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کی مصر کی خواہش کی ایک وجہ 1960 کی دہائی میں وہاں کی گئی اس کی مہنگی فوجی مداخلت بھی ہو سکتی ہے۔

    چھوٹے پیمانے کے انتظامات کو ترجیح

    مصر بظاہر محدود دائرۂ کار اور کم فوجی خطرات والے علاقائی سلامتی انتظامات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

    مصر پہلے ہی ریجنل فور (R4) گروپ کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان شامل ہیں، اور یہ ممالک باقاعدگی سے علاقائی امور پر مشاورت کرتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد مصر 13 اگست کو ریاض کی قیادت میں قائم ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد میں بھی شامل ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ مصر نے ترکی کے ساتھ اپنے دفاعی شراکت داری اور فوجی پیداوار کے تعاون میں بھی اضافہ کیا ہے، خصوصاً مشترکہ ڈرون اور یو اے ویز کی تیاری کے شعبے میں۔

  11. پاکستان اور بحرین کا آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور

    پاکستان اور بحرین نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    جمعرات کے روز اسلام آباد میں پاکستان۔بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس ہوا جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ کارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔

    بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اجلاس کے نتیجے میں مختلف مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بنا کر ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام باقاعدہ رابطے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، زراعت اور غذائی تحفظ، مہارتوں کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیرِ خارجہ کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی، کیونکہ یہ راستے علاقائی اور عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی صورتحال، بشمول افغانستان اور سندھ طاس معاہدہ، بھی زیرِ بحث آئے۔ انھوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ کسی غیر ملکی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

    سندھ طاس معاہدے کے متعلق بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک خطرناک کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

    بحرین کے وزیرِ خارجہ نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے اور تیل، گیس اور معدنیات کے حوالے سے توانائی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس اگلے ماہ منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں بحرین کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات بہت مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کو آئندہ تین برسوں میں اپنی باہمی تجارت دوگنی کرنی چاہیے۔

  12. اے آئی چپس کی طلب میں اضافہ، سام سنگ کو ریکارڈ 80 ارب ڈالر منافع کی توقع

    جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اسے اپنی سہ ماہی آمدنی میں نو گنا اضافے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔

    سام سنگ کے اندازے کے مطابق ستمبر کے اختتام تک تین ماہ کی مدت کے لیے اس کا آپریٹنگ منافع بڑھ کر 107.4 کھرب وون (80 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مسلسل چوتھی سہ ماہی ہوگی جس میں کمپنی کو ریکارڈ منافع حاصل ہو گا۔

    سام سنگ دنیا میں میموری چِپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مقامی حریف ایس کے ہائنکس اور امریکہ کی مائکرون بھی ایسی چِپس تیار کرتی ہیں جو اینویڈیا جیسی اے آئی کمپنیوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    جنوبی کوریائی کمپنی کو اگست میں متعارف کروائی گئی اپنی نئی فولڈنگ ڈیوائسز سے بھی منافع کی توقع ہے۔

    کمپنی کے تیسرے سہ ماہی کے مکمل مالی نتائج اکتوبر کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔

    مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹر چِپس کی عالمی سطح پر طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی سے وابستہ چِپ ساز کمپنیوں کی آمدنی اور حصص کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  13. رائل نیوی کے اہلکار کو غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزام پر تحویل میں لیا گیا ہے: برطانوی پولیس

    برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ رائل نیوی کے ایک اہلکار پر ایک غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بیڈفورڈشائر سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ ٹیڈی ینگ پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کا ایک الزام بھی شامل ہے، جس سے ایک نامعلوم غیر ملکی طاقت کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

    انھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے اور انھیں جمعرات کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج کے ایک حاضر سروس رکن کے خلاف یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ الزامات رائل ایئر فورس کے اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ کے حالیہ واقعے سے متعلق نہیں، جس کے بعد اڈے کے قریب مشتبہ سرگرمی کی اطلاع پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    منگل کو اس واقعے کے سلسلے میں ایک ساتویں شخص کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی پولیس بدستور کر رہی ہے۔

    ٹیڈی ینگ کو منگل کے روز بیڈفورڈشائر میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    الزامات 26 نومبر 2024 سے 21 مئی 2025 کے درمیان کے عرصے سے متعلق ہیں اور ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ینگ نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’ۂگمعلومات افشا کرنے کے جرم کی تیاری کے لیے" اقدامات کیے تھے۔

  14. مقبوضہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی سرگرمیاں بند، صرف سات سفارت کاروں کو محدود سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت: اسرائیل

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے سے زیادہ تر سفارت کار واپس چلے جائیں گے، تاہم برطانیہ کا اصرار ہے کہ قونصل خانہ ’بند نہیں کیا جا رہا‘ اور ’برطانوی مشن‘ کے طور پر کام کرجاری رکھے گا۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں لکھا کہ ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ بات یہاں تک پہنچے۔‘

    انھوں نے کہا کہ 20 سفارت کار اور قونصل جنرل اسرائیل چھوڑ دیں گے، جبکہ سات افراد پر مشتمل ایک ٹیم عمارت میں رہ سکتی ہے، لیکن اس کی سرگرمیوں کا دائرہ ’بہت محدود‘ ہوگا۔

    برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جواب میں کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اہلکاروں کو ’عارضی طور پر واپس بلا لیا گیا‘ ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ مشن ’فلسطینی عوام کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔‘

    اسرائیل نے ستمبر میں کہا تھا کہ وہ قونصل خانہ بند کر دے گا۔ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا، جنھیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

    1838 میں قائم ہونے والا برطانیہ اس قونصل خانے کو یروشلم کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    یہ تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے الگ ہے، جو اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کا بنیادی مرکز ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سعار نے کہا کہ ملک نے 8 ستمبر کو برطانوی پابندیوں کے جواب میں اعلان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ آج اپنی سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے۔‘

    تاہم جمعرات کی صبح عمارت کے باہر برطانوی پرچم اب بھی لہراتا ہوا دیکھا گیا، جبکہ متعدد اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہوتے بھی دیکھا گیا۔

    سعار نے تسلیم کیا کہ یہ عمارت ’برطانوی حکومت کی ملکیت‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے عمارت میں کام جاری رکھنے کے لیے ’صرف سات سفارت کاروں پر مشتمل ایک ٹیم کو محدود پیمانے پر سرگرمیاں‘ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

  15. ’21 لاکھ گمشدہ‘ گولیوں کی خبر پر صحافی کو سائبر کرائم نوٹس، صحافتی تنظیموں کا احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حماد علی کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ایک خبر کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    نجی ٹی وی چینل 92 سے وابستہ صحافی حماد علی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نوٹس سابق لیویز فورس کے اسلحے سے متعلق اپنی ایک خبر پر جاری کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد چھوٹے اسلحے کی لاکھوں گولیاں ریکارڈ کے مطابق منتقل نہیں ہوئیں۔

    صحافی کو یہ نوٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ این سی سی آئی اے کے حکام کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ سابق لیویز فورس کے ایک اہلکار کی شکایت پر ان سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔

    حماد علی نے بتایا کہ ان کی خبر میں پولیس کے تحفظات کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے مطابق پولیس کو ایس ایم جی سمیت چھوٹے اسلحے کی تقریباً 28 لاکھ گولیاں منتقل ہونی چاہیے تھیں، تاہم ریکارڈ کے مطابق تقریباً چھ لاکھ گولیاں ہی موصول ہوئیں، جبکہ 21 لاکھ سے زائد گولیوں کا فرق سامنے آیا۔

    ان کے بقول این سی سی آئی اے حکام نے انھیں بتایا کہ شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خبر سے اس کی دل آزاری ہوئی اور سابق لیویز فورس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

    حماد علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکام سے پوچھا کہ جب خبر میں کسی فرد کا نام تک نہیں لیا گیا تو کسی مخصوص شخص کی دل آزاری کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ جس فورس کا حوالہ دیا گیا اس کا پولیس میں انضمام ہو چکا ہے۔

    صحافی کے مطابق انھوں نے اپنی خبر کے حق میں شواہد بھی پیش کیے، جن میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ایک ایف آئی آر شامل تھی۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں سابق لیویز اہلکار روشن خان کے گھر پر چھاپے، اسلحے اور بڑی تعداد میں گولیوں کی برآمدگی کا ذکر موجود ہے اور اس سلسلے میں گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انھیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور مزید شواہد فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

    دریں اثنا بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے صحافی کو نوٹس جاری کرنے اور بار بار طلب کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے صدر منظور احمد رند اور جنرل سیکریٹری شاہ حسین ترین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو نوٹسز، مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کا رجحان تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی پر ہراساں کرنا آزادیِ صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر بلوچستان بار کونسل کے رکن اور سینیئر وکیل راحب خان بلیدی نے بھی صحافی کے خلاف کارروائی کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر دباؤ میں لانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

  16. پونچھ میں گرفتار پاکستانی لڑکی وطن واپس، کولگام میں پانچ مبینہ سہولت کار گرفتار, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے انڈین علاقے میں داخل ہونے والی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک نوجوان لڑکی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    فوج کے مطابق 19 سالہ سامیہ عظیم، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ کے گاؤں بھینس گالا کی رہائشی ہیں، دو اکتوبر کو مبینہ طور پر غلطی سے راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں ایل او سی عبور کر کے انڈین علاقے میں داخل ہو گئی تھیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کا سرحد پار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ نادانستہ طور پر دوسری جانب پہنچ گئی تھی۔ فوج کے مطابق بُدھ کے روز پونچھ کے چکن دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد انھیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ کارروائی کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھیں حکام نے عسکریت پسندوں کے مبینہ سہولت کار قرار دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت تجمل حسین میر، رحمت علی نائیکو، تحریم احمد بٹ، منظور احمد بٹ اور کفایت احمد ڈار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان کے قبضے سے دو پستول، تین میگزین، 40 گولیاں اور تین دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ادھر شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک پرانی زیرِ زمین پناہ گاہ کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حکام کے مطابق پناہ گاہ سے ایک اے کے 47 رائفل، تین ہینڈ گرنیڈ، 857 اے کے راؤنڈز، 192 پیکا راؤنڈز، آٹھ میگزین، ایک سائلنسر اور پستول کی 83 گولیاں برآمد کی گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گاہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی اور اس کارروائی سے علاقے میں عسکریت پسندی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں ہندوارہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  17. روہنگیا پناہ گزینوں کے بعد کشمیر میں بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا آغاز, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب حکام نے بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 300 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وادئ کشمیر اور جموں میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف حکومتی اقدامات میں تیزی آئی ہے، جس کے تحت بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت اور ان کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق انڈین وزارتِ داخلہ کی جانب سے مئی میں تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ وادیٔ کشمیر اور جموں میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تقریباً 600 غیر قانونی تارکینِ وطن کئی برسوں سے مقیم ہیں۔

    بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی کا پس منظر

    انڈین حکام کے مطابق جموں و کشمیر، خصوصاً جموں کے مختلف علاقوں میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمان گذشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان میں سے متعدد افراد قانونی سفری دستاویزات یا ویزا کے بغیر سرحد پار کرکے یہاں پہنچے۔

    حالیہ برسوں میں سکیورٹی خدشات اور آبادیاتی توازن برقرار رکھنے کے نام پر ان کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ مختلف آپریشنز کے دوران متعدد بنگلہ دیشی شہریوں کو حراستی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کی شہریت کی تصدیق کے بعد انھیں فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے۔

    ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کو دو الگ الگ گروپوں میں تقریباً 300 بنگلہ دیشی شہریوں کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے کیا گیا، جہاں سے انھیں بنگلہ دیش منتقل کیا جا رہا ہے۔

    روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں

    بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کو روہنگیا پناہ گزینوں کی بے دخلی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سنہ 2017 میں میانمار کی ریاست راکھین میں فوجی کارروائیوں کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان بے گھر ہوئے۔ ان میں سے بیشتر نے بنگلہ دیش میں پناہ لی، جبکہ چند ہزار افراد طویل سفر طے کر کے جموں و کشمیر پہنچے، جہاں وہ عارضی بستیوں میں آباد ہو گئے۔

    انڈین حکومت روہنگیا باشندوں کو قانونی پناہ گزین کا درجہ نہیں دیتی، کیونکہ انڈیا نے 1951 کے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے۔ اسی پالیسی کے تحت روہنگیا افراد کو بھی حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

    سکیورٹی اور آبادیاتی خدشات

    بی جے پی اور اس کے حامی سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی سے خصوصاً جموں خطے میں وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مقامی آبادی کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ شناختی دستاویزات سے محروم افراد کو شدت پسند یا جرائم پیشہ عناصر استعمال کر سکتے ہیں، جس سے سکیورٹی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان ان دلائل سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکین انتہائی غربت اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھیں صحت، تعلیم اور صفائی سمیت بنیادی سہولیات تک مناسب رسائی حاصل نہیں۔

    بین الاقوامی قوانین اور قانونی پیچیدگیاں

    صحافی اور تجزیہ کار ہارون ریشی کے مطابق بین الاقوامی قانون کا ایک اہم اصول ’نان ریفولمنٹ‘ ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔

    ان کے بقول اگرچہ انڈیا اس بین الاقوامی معاہدے کا فریق نہیں، تاہم انڈین سپریم کورٹ متعدد مواقع پر آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت غیر ملکیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دے چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کی واپسی کا عمل صرف انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سفارتی اور قانونی مرحلہ بھی ہے، کیونکہ اس کے لیے بنگلہ دیشی حکام سے شہریت کی تصدیق اور دیگر سرکاری کارروائیاں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بے دخلی کے عمل میں شفافیت، قانونی نمائندگی اور متاثرہ افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ حکام اس اقدام کو قومی سلامتی اور قانون کے نفاذ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

  18. حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

    یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کے دوران حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ شام، سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان کے مطابق حملہ جمعرات کو کیا گیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب چند روز قبل اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دے چکا ہے۔

    ادھر یمنی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز، جن میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز، جائنٹس بریگیڈز اور مشترکہ افواج شامل ہیں، نے ملک کے کئی محاذوں پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے اور حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسی تناظر میں خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ شام، سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیر غور تجاویز میں دفاعی تعاون سے لے کر حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف آپشنز شامل ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایک شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ شام اس وقت بنیادی طور پر اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

    شامی سفارت کار نے کہا کہ اگر سعودی عرب کسی قسم کے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست کرتا ہے تو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت غور کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی کسی بھی ممکنہ شمولیت سے تنازع کے فرقہ وارانہ اور علاقائی پہلو مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے خبردار کیا کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم حساس نوعیت کے علاقائی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، جس سے تمام فریق گریز کرنا چاہتے ہیں۔

    شام کے عبوری سربراہ احمد الشارع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ مبصرین کے مطابق دمشق اور ریاض کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون شام کی عرب دنیا میں دوبارہ شمولیت اور علاقائی سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب یمن میں جاری زمینی کارروائیوں کے باوجود سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش رفت محدود بتائی جا رہی ہے، جبکہ حوثی سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  19. افغانستان میں 25 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم، خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں: پاکستانی حکام کی انتونیو گوتریس سے ملاقات

    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ملاقات کی، جس میں عالمی و علاقائی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور اقوام متحدہ کے امن مشنز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں اس وقت 25 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنا بھرپور کردار جاری رکھے گا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی پولیس افسران اور اہلکار بھی اقوام متحدہ کی پولیس فورس کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان امن مشنز کے دوران اب تک 181 جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

    اس موقع پر انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں اور امن مشنز میں اس کی شمولیت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر وزیر داخلہ نے قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی مدد اور معاونت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں سپیشل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور وزارتِ داخلہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  20. لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج پشاور سے شروع ہوگا، صوبے کے مستقبل کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، بند کمروں میں نہیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعرات کو لانگ مارچ کے اگلے مرحلے میں بھرپور شرکت کر کے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔

    رات گئے جاری کیے گئے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ دوپہر دو بجے حیات آباد انڈر پاس سے شروع ہوگا۔ انھوں نے پشاور کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بڑی تعداد میں نکل کر یہ پیغام دیں کہ ’پشاور عمران خان کے ساتھ تھا، ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ ہموار ہو۔ ان کے بقول صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونے چاہییں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت اور ’پھولوں کا شہر‘ ہے، جسے دوبارہ تشدد، گولیوں اور دھماکوں کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    انھوں نے پشاور کے شہریوں سے لانگ مارچ میں فعال شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی موجودگی کے ذریعے عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کریں۔

    تحریک انصاف کا لانگ مارچ گذشتہ چند روز سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔