ایران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں: محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔‘ آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم، جو تہران کے دورے پر آئے تھے، سے ملاقات میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ’ایک ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. مری میں سکول وین کھائی میں جا گری، وین میں آگ بھڑک اُٹھنے سے ڈرائیور سمیت 10 بچے زخمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    Mehtab Abassi

    مری میں ایک سکول وین موڑ کاٹتے ہوئے درخت سے ٹکرا کر کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں وین آگ بھڑک اُٹھی جس کی وجہ سے ڈرائیور سمیت اس میں سوار 10 طالب علم جھلس کر زخمی ہوئے ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے وقت وین میں 10 سے زائد بچے سوار تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق بریک فیل ہونے کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور وین درخت سے ٹکرانے کے بعد کھائی میں جا گری۔

    ریسکیو حکام کے مطابق مری میں لوئر موہڑا بڑاہوترکے قریب سکول وین بے قابو ہوکر سڑک سے نیچےجاگری جس کے بعد وین میں آگ لگ گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ کھائی میں گرنے کے بعد سکول وین میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں 10 طالب علم جھلس کر زخمی ہوئے۔

    مقامی انتظامیہ نے زخمی بچوں کو وین سے نکال کر اپنی مدد آپ کے تحت قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

    پولیس کے مطابق زخمیوں میں تین افراد کی حالت زیادہ تشویش ناک ہے، جن میں سکول وین کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔ شدید جھلسنے والے تینوں افراد کو مزید علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔

  2. کسی بھی جارحیت کا جواب فیصلہ کن اور تباہ کن ہوگا: ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کی امریکہ کو تنبیہ

    IRNA
    ،تصویر کا کیپشنایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل علی عبداللہی

    ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے ایک پیغام میں خبردار کیا ہے کہ ’ایران کی مسلح افواج، اسلامی مزاحمت کے جنگجوؤں اور مزاحمت کاروں کے ساتھ مل کر، اسلامی اُمت کے خلاف کسی بھی خطرے کا ’فیصلہ کن اور تباہ کن‘ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک سے تہران روانگی سے قبل کہا ہے کہ ’قطر کے ذریعے ایران کا سات نکاتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب ایران امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘

    عباس عراقچی نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پیر کو قطری ثالث کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں ایران کا مؤقف امریکہ تک پہنچایا گیا۔‘ ان کے مطابق توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس کا جواب منگل کو ثالثوں کے ذریعے ایران تک پہنچ جائے گا۔

  3. ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی پیشکش، ٹرمپ نے ایگزیوس کی رپورٹ مسترد کر دی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی اس حالیہ رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے ’ایران کو پابندیاں اٹھانے اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی ہے۔‘

    ٹرمپ نے پیر کی شب سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کو پابندیاں اٹھانے اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ یہ بات درست نہیں۔ میں نے انھیں ایسی کوئی پیشکش نہیں کی۔‘

    انھوں نے ایگزیوس کی اس رپورٹ اور اس نوعیت کی دیگر رپورٹس کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایگزیوس کی رپورٹ بھی دیگر کئی رپورٹس کی طرح ’ایک من گھڑت کہانی‘ ہے، جسے صرف ’ٹرمپ مخالف ذہنی کیفیت‘ کو تسکین دینے کے لیے شائع کیا گیا۔‘

    اس سے قبل ایگزیوس کے سینیئر رپورٹر باراک راوِد نے پیر کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پابندیاں عارضی طور پر اٹھانے اور ایرانی اثاثے جاری کرنے کی درخواست پر رضامند ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے بدلے وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مطلوبہ ضمانتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  4. نئی ڈیڈ لائن دینے سے پہلے اپنی پیش گوئیوں کی میعاد دیکھ لیں: فاطمہ مہاجرانی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیانات کے ردعمل میں کہا ہے کہ نئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے پہلے امریکی حکام اپنی پیش گوئیوں کی ’میعاد‘ دیکھ لیں۔

    فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’امریکی حکام نے ایک بار پھر نئی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے مگر اس مرتبہ ایرانی معیشت کے لیے۔ ایران اپنے عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے تعمیر، استقامت اور اپنے حقوق کے دفاع کا عمل جاری رکھے گا۔ نئی ڈیڈ لائن کا اعلان کرنے سے پہلے اپنی پیش گوئیوں کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ دیکھ لیں۔‘

    ایرانی حکومت کی ترجمان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ دعوے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جنھوں نے ایک بار پھر ایران کو ’تباہ‘ کرنے اور ایران کے ساتھ جنگ کے جلد خاتمے کی بات کی ہے۔

    ٹرمپ نے پیر کو یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کے نمائندوں اور مذاکرات کے ثالثوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ہے۔

  5. قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکہ کو آگاہ کر دیا، اب امریکی جواب کا انتظار ہے: عباس عراقچی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک سے تہران روانگی سے قبل کہا ہے کہ ’قطر کے ذریعے ایران کا سات نکاتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب ایران امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘

    عباس عراقچی نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پیر کو قطری ثالث کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں ایران کا مؤقف امریکہ تک پہنچایا گیا۔‘ ان کے مطابق توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس کا جواب منگل کو ثالثوں کے ذریعے ایران تک پہنچ جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مشن امریکی فریق کو ان شرائط سے آگاہ کرنا اور دیگر تمام ممالک اور عالمی برادری کو یہ بتانا تھا کہ ایران کے پاس اس معاملے میں ایک منصوبہ موجود ہے۔ اس کی شرائط مکمل طور پر منصفانہ اور منطقی ہیں اور اگر امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی معاہدے یا پُرامن حل کے خواہاں ہیں تو ہم نے یہ حل پیش کر دیا ہے۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی ان قیاس آرائیوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں لچک دکھانے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ چند گھنٹوں سے مختلف ذرائع ابلاغ میں پروپیگنڈا جاری ہے اور ایران سے متعلق دعوے کیے جا رہے ہیں اور باتیں منسوب کی جا رہی ہیں۔ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ہماری شرائط واضح ہیں۔‘

    عباس عراقچی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ سفارت کاروں کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے۔

    ان کے بقول اس دورے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران، امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے پیش کرنے کی کوشش کے برعکس، بالکل بھی تنہا نہیں بلکہ اسے بہت زیادہ احترام حاصل ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ متعدد ملاقاتوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ممالک کے عوام اور حکام ایران کے اقدامات اور دنیا کی سب سے بڑی ’ورچوئل فوج‘ کے خلاف اس کی مزاحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس پر بہت سے مختلف ممالک اور لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔

  6. کیچ میں گھر پر حملہ، خاتون سمیت دو افراد ہلاک، تین زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک گھر پر حملے میں ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق بلوچستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی اور مشیر برائے کھیل مینا مجید بلوچ نے ایکس پر الگ الگ بیانات میں حملے کی مذمت کی ہے۔

    مینا مجید بلوچ نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ مبینہ طور پر ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے وابستہ افراد نے ایک گھر پر کیا۔

    ان کے مطابق حملے میں ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے جبکہ مسلح افراد نے ایک 12 سالہ بچے کو بھی اغوا کر لیا۔

    مینا مجید بلوچ نے سوال اٹھایا کہ ’بلوچ حقوق کے نام نہاد دعویدار اس کالعدم تنظیم کے حملے کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’بلوچ حقوق کی بات کرنے کا تقاضا ہے کہ انسانی جان، خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے بلاامتیاز آواز اٹھائی جائے۔‘ ان کے مطابق کسی بھی شرپسند مسلح گروہ کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

  7. سیاسی قوتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہتھیار اٹھانے والوں سے بات نہیں ہو سکتی: وزیر اعلیٰ بلوچستان

    سرفراز بگٹی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتوں سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔

    لاہور میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ ’غلط بیانیہ‘ ہے، اور صوبے کے حالات کو سمجھنے کے لیے حقائق اور تصورات میں فرق کرنا ضروری ہے۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پسماندگی پاکستان کے تمام صوبوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، تاہم اس بنیاد پر کہیں بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔

    میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا اور آئین کا آرٹیکل پانچ ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔

    ان کے بقول نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے حکومت مختلف سطحوں پر نوجوانوں سے رابطے میں ہے اور ان کی بات سن رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو تاریخی تناظر اور حقائق کی بنیاد پر سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کی صورتحال کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی تاریخی حقائق کو مد نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضا مندی سے ہوا تھا۔

  8. ایران کے سابق حکومتی عہدیداروں کا تہران سے این پی ٹی سے نکلنے کا مطالبہ

    ایران جوہری پاور پلانٹ

    ایران کے 30 سے زائد سابق حکومتی عہدیداروں، جن میں سابق وزرا اور سابق نائب صدور بھی شامل ہیں، نے ایک کھلے خط کے ذریعے ایرانی حکومت سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    خط پر دستخط کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے این پی ٹی میں موجود رہنا اب ’ملکی مفاد‘ میں نہیں رہا۔

    اس خط میں سپریم قومی سلامتی کمیٹی، حکومت اور پارلیمان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تحت تعاون روکنے اور اس سے با ضابطہ علیحدگی کے قانونی عمل کا آغاز کریں۔

    خط پر دستخط کرنے والوں میں محمد رضا میرتاج الدینی، محمد رضا رحیمی اور مسعود زریبافان شامل ہیں، جو سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں نائب صدر رہ چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ سابق وزیر اطلاعات حیدر مصلحی اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور کے نائب صدور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی، میثم لطیفی اور انسیہ خزعلی بھی خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران 1970 میں این پی ٹی کا رکن بنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال نہ کرنے کی پابندی تسلیم کی تھی۔

  9. پاکستان کے زیر انتظام کمشیر میں عوام دو ماہ کا راشن جمع کر لیں، چار اکتوبر کو ’اہم کال‘ دی جائے گی: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

    راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اجتماع (24 جون کی تصویر)
    ،تصویر کا کیپشنراولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اجتماع (24 جون کی تصویر)

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ عوام تین اکتوبر تک اگلے دو ماہ کا راشن جمع کر لیں، ’چار اکتوبر کو انتہائی اہم کال کا اعلان ہو گا۔‘

    راولاکوٹ سے جاری ایک اعلامیے میں کمیٹی نے تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کاروبار کھلے رکھیں تاکہ عوام اشیائے خور و نوش خرید سکیں۔

    کمیٹی کا کہنا ہے کہ چار اکتوبر کو حکومت سے کیے گئے معاہدوں کا ایک سال مکمل ہونے پر ’بد عہدیوں‘ کے خلاف یوم سیاہ منایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

  10. افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ کا جائزہ لینے والے وفد کی آرمی چیف سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملنے والا امریکی وفد

    ایک امریکی وفد نے پاکستانی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ وفد امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ کا جائزہ لے رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق امریکہ کی افغانستان میں جنگ پر بنائے گئے کمیشن میں شامل شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان میں طویل تنازع کے دوران پاکستان کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے سٹریٹیجک، سفارتی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے وقت علاقائی تناظر اور پاکستان کے تجربے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بیان کے مطابق امریکی وفد نے افغانستان کے تنازع کے دوران پاکستان کے دیرینہ کردار اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

  11. ایرانی وفد کی آج نیو یارک میں ثالثوں سے ملاقات متوقع

    عباس عراقچی

    ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی وفد کے ہمراہ آج نیو یارک میں ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت کے حوالے سے پیش کی گئی تازہ تجاویز اور مؤقف زیرِ غور آئیں گے۔

    اسنا نے کہا ہے کہ اس ملاقات میں امریکی حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہو گا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی نئی تجویز مسترد کر چکا ہے۔ تاہم عباس عراقچی نے کہا تھا کہ وہ نیو یارک میں قیام کریں گے تاکہ ثالثوں کے ذریعے اس معاملے پر براہِ راست پیغامات وصول کر سکیں اور ان پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران کی تجویز مسترد کیے جانے کے باوجود تہران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور اسی ہفتے شروع ہو سکتا ہے۔

    اسنا کے مطابق عراقچی نے امریکی صدر کے متضاد بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ہم ثالثوں کی جانب سے حتمی مؤقف موصول ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔

    ’بہرحال ہماری شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب کوئی بھی پیش رفت ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔ ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

  12. آئین کا تقاضا ہوا تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جا سکتا ہے: اعظم نذیر تارڑ

    اعظم نذیر تارڑ

    پاکستان کے ٹیلی وژن چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا تقاضا ہو تو لگنی چاہیے، اور لگے گی بھی۔

    ٹیلی وژن چینل کی رپورٹ کے مطابق صحافی نے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات ہو رہی ہے، تو اس کا کوئی طریقۂ کار زیر غور ہے، اور اگر ہےتو وہ کیا ہو گا؟

    جیو نیوز کی نشر کردہ گفتگو میں اعظم نذیر تارڑ جواب دیتے ہیں: ’اگر ایسے حالات ہوئے، یا ہیں، جہاں آئین تقاضا کرتا ہے کہ گورنر راج لگایا جائے یا ایمرجنسی نافذ کی جائے تو بالکل ایسا ہو سکتا ہے اور ہو گا بھی۔‘

    اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ آئین میں جو طریقۂ کار طے ہے، جب اس کے مطابق ضرورت پیش آئے گی تو متعلقہ آئینی اقدامات کیے جائیں گے۔

    جبکہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی ’مرضی اور مینڈیٹ‘ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اپنے نظریے پر قائم ہیں اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

  13. ایشین گیمز، جیولین تھرو: ارشد ندیم ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہے

    ارشد ندیم

    پاکستان کے اولمپیئن جیولن تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم ایشین گیمز 2026 میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور مردوں کے جیولن تھرو کے فائنل میں چوتھی پوزیشن پر رہے۔

    جاپان کے شہر ناگویا میں ہونے والے فائنل مقابلے میں ارشد ندیم کی پہلی تھرو 76.69 میٹر دور گئی، جبکہ ان کی دوسری تھرو ضائع ہوئی۔

    تاہم، تیسری تھرو میں ارشد ندیم جیولن 80.29 میٹر دور پھینکنے میں کامیاب ہوئے۔

    البتہ ان کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی تھرو بھی ضائع ہو گئیں۔

    اس مقابلے میں ارشد ندیم چوتھے نمبر پر آئے اور اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے اور میڈل حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

    مقابلے میں سری لنکا کے رومیش پاتھیراج نے 88.55 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ انڈیا کے یشویر سنگھ 85.72میٹر تھرو کے ساتھ دوسرے اور انڈیا کے ہی روہت یادیو 84.35 میٹر تھرو کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

    گذشتہ سال ارشد ندیم نے 86.4 میٹر دور نیزہ پھینک کر ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔

    پاکستانی ایتھلیٹ نے سنہ 2024 میں پیرس اولمپکس میں 92.97 دُور نیزہ پھینک کر اولمپک ریکارڈ قائم کیا تھا۔

  14. آج بعض لوگ ایران کو دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں: مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام

    مجتبیٰ خامنہ ای

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جو قوتیں کبھی ایران پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی تھیں، اب انھیں ایران کی عسکری صلاحیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں نے گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔

    ایرانی رہبر اعلیٰ نے کہا کہ آج ایران انحصار اور کمزوری کے مرحلے سے نکل کر خود مختاری، طاقت اور اسلامی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا: ’وہ ماضی، جس کی طرف ہمارا دشمن واپس جانا چاہتا ہے، گزر چکا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران اب ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں خود جارح اور غلبہ پسند طاقتیں ’پناہ ڈھونڈتی ہیں اور جنگ کے خاتمے کی التجا کرتی ہیں۔‘

    ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جانشینی کے بعد سے عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی براہِ راست صوتی یا ویڈیو پیغام جاری ہوا ہے۔ ان سے منسوب تمام پیغامات اب تک صرف تحریری شکل میں سرکاری ذرائع ابلاغ یا ان سے منسلک ذرائع کے ذریعے ہی شائع کیے گئے ہیں۔

  15. ایران نے فضائی پابندیوں کے خلاف با ضابطہ شکایت دائر کر دی

    ایرانی ایئرلائن کا طیارہ

    ایران کے سول ایوی ایشن ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی فضائی صنعت پر عائد پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم (آئی سی اے او) کو ایک با ضابطہ شکایت ارسال کی گئی ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایرانی سول ایوی ایشن تنظیم کے سربراہ ابوذر شیرودی نے کہا کہ ’ہوائی اڈوں، طیاروں اور ریڈار نظام پر حملے بین الاقوامی قوانین اور رائج ضوابط کے تحت جنگی جرائم کی واضح مثال ہیں۔‘

    ان کے بقول ایران نے اس معاملے پر ایک شکایت دی ہیگ کی عدالت میں بھی دائر کی ہے۔

    ابوذر شیرودی نے کہا کہ ’ہوائی اڈوں اور طیاروں پر حملوں اور بمباری کے معاملے میں آئی سی اے او نے ایران کے مؤقف کی تائید کی ہے، تاہم ہیگ کی عدالت میں یہ معاملات ابھی زیرِ سماعت ہیں اور اس حوالے سے ہمیں تا حال کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو اس معاملے میں کسی قسم کا ہرجانہ ملے گا یا نہیں، اس کا انحصار ہیگ کی عدالت کے فیصلے پر ہو گا۔

    گذشتہ ہفتے سے ایران کی فضائی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد مختلف ممالک کے ہوائی اڈوں نے ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    عراق، جارجیا، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان اور عمان نے ایرانی پروازوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی ایئرلائنز اس صورتِ حال کے بعد نئے فضائی راستے کھولنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں۔

  16. صوبائی پولیس کا بجٹ 103 فیصد بڑھایا، وفاقی حکومت کو پالیسی تبدیل کرنا ہو گی: سہیل آفریدی

    سہیل آفریدی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کر کے یہ وسائل پولیس کو فراہم کیے۔

    پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے وسائل مہیا کیے گئے اور پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا۔

    ان کے بقول پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط بنانے، سپیشل برانچ کو مستحکم کرنے اور پولیس کو جدید اسلحہ اور دیگر ضروری آلات فراہم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔

    تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گزشتہ 22 برس سے جاری پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام متعلقہ فریقوں، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔

    سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن کے اندر خیبر پختونخوا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے بقول صوبے کے سٹیک ہولڈرز کی رائے سننے کے لیے آمادگی نہیں دکھائی جا رہی۔

    انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی دھمکیوں کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

  17. سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی میں 70 فیصد افغانی ملوث پائے گئے: طلال چوہدری کا الزام

    طلال چوہدری اور عطا اللہ تارڑ

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی کے واقعات میں 70 فیصد افغانی ملوث پائے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان بار ہا یہ الزام لگا چکا ہے کہ شدت پسند پاکستان میں کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سر زمین استعمال کرتے ہیں، جبکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

    طلال چوہدری نے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور دو طرفہ فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے اور دوست ممالک کے ذریعے بھی اپنے خدشات افغان طالبان حکومت تک پہنچاتا رہا ہے۔

    وزیر مملکت برائے داخلہ کے بقول پاکستان نے ڈوزیئرز کی فراہمی، مذاکرات اور براہ راست رابطوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے، تاہم سرحد پار سے شدت پسند سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کو وسائل اور بجٹ فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم، انھوں نے الزام لگایا کہ ’ایسا نہیں کیا گیا۔‘

    وزیر مملکت برائے داخلہ نے دعویٰ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کا محکمہ (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سی ٹی ڈی) آج تک پورے خیبر پختونخوا میں مکمل طور پر فعال نہیں ہے اور ’بغیر وسائل کے فورسز مؤثر انداز میں نہیں لڑ سکتیں۔‘

    طلال چوہدری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو ’نہ گاڑیاں فراہم کی گئیں، نہ تربیت، نہ سی ٹی ڈی کو مکمل فعال کیا گیا، نہ سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور نہ ہی فارنزک لیبارٹریوں کا انتظام کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں تحصیل کی سطح تک سیف سٹی منصوبے فعال ہو چکے ہیں۔

    وزیر مملکت کے مطابق پنجاب میں شدت پسندی کے خاتمے میں سکیورٹی فورسز کو وسائل، قیادت اور اختیارات کی فراہمی نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ ’خیبر پختونخوا میں نہ وسائل مہیا کیے گئے اور نہ قیادت فراہم کی گئی۔‘

    طلال چوہدری نے کہا کہ قیادت اور وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اختیارات فراہم کرنا بھی خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم نئے پولیس ایکٹ کے تحت پولیس کے اختیارات بھی واپس لینے کی کوشش کی گئی۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں موجود غیر رجسٹرڈ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں شدت پسندی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

    عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن صوبائی حکومت کے اختیار میں تھی، تاہم اس حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ شدت پسندی کی روک تھام کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل اور فنڈز کو خیبر پختونخوا حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

  18. تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز، سعودی وزیر خارجہ کی روبیو سے ملاقات متوقع

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً تین فیصد اضافہ ہوا ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    تیل کی قیمت میں یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد ہوا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

    تاہم اسی دوران سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔

    روئٹرز کو ذرائع نے بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے رواں ماہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکہ سے فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم واشنگٹن نے فضائی حملے کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

    ذرائع کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کو حملوں کے اہداف کے تعین سے متعلق معلومات اور معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے آج ایک بار پھر کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گی اور جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمت میں نمایاں کمی آئے گی۔

  19. سیالکوٹ ایئرپورٹ انتظامیہ کی قطر ایئرویز کی پرواز کے جموں میں اترنے کی تردید, احتشام شامی، صحافی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے قطر ایئرویز کی پرواز کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں لینڈ کرنے سے متعلق خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تردید کی ہے۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق دوحہ سے سیالکوٹ آنے والی قطر ایئرویز کی پرواز 27 ستمبر کو علی الصبح سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری اور اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق دوبارہ دوحہ کے لیے روانہ ہوئی۔

    سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ترجمان محمد عمیر خان نے کہا کہ نجی فلائٹ ٹریکنگ سافٹ ویئر ’فلائٹ ریڈار 24‘ میں تکنیکی خرابی اور جی پی ایس کی غلط معلومات کے باعث مذکورہ پرواز کو غلط مقام پر دکھایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ قطر سے آنے والی پرواز نے جموں، انڈیا میں نہیں بلکہ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پاکستان پر لینڈ کیا تھا، جس کی تصدیق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ریڈار سسٹم سے بھی کی جا سکتی ہے۔

    ترجمان کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 میں موجود تکنیکی خرابی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں طیارے کو بار بار ایک ہی علاقے میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    Flightradar24
  20. آبنائے ہرمز میں 14 ستمبر کو پاسدارانِ انقلاب کے حملے میں امریکی بحریہ کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے تھے: این بی ایس

    US Central Command
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے تین امریکی سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ایران کے میزائل حملے میں امریکی میرین کور کے آٹھ اہلکار ’زخمی‘ ہوئے ہیں۔

    ان تین ذرائع نے این بی سی کو بتایا کہ 14 ستمبر کو ایران کے حملے کے وقت امریکی فوجی اس بحری جہاز پر موجود تھے جسے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ذرائع نے بحری جہاز کی نوعیت نہیں بتائی، تاہم کہا کہ یہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز نہیں تھا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بعض حملوں کی وجہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو قرار دیا تھا، تاہم اس نے کہا تھا کہ ان کوششوں کے دوران امریکی فوج کے کسی بھی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے بھی چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فوجی دستے پہلی بار ایک پروجیکٹائل کو امریکی جنگی جہاز کے اوپر دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    این بی سی کی رپورٹ میں زخمی ہونے والے آٹھ امریکی میرین اہلکاروں کی تفصیلات کچھ یوں دی گئی ہیں:

    • آٹھ میرین اہلکاروں میں سات فوجی اور ایک افسر شامل تھے اور وہ ایک انفنٹری بٹالین کی جنگی ٹیم کے حصے کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
    • انھیں پہنچنے والے نقصانات میں دھوئیں کا سانس کے ذریعے اندر جانا۔
    • ان آٹھ میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں ہوا اور واقعے کے کچھ ہی دیر بعد سب دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔
    • ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے 14 ستمبر کو ہونے والے اس حملے کے وقت عوامی طور پر اس بارے میں اطلاع نہیں دی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی اس واقعے سے متعلق سوال کے جواب میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
    • ان آٹھ میرین اہلکاروں کے نام حملے کے تقریباً 10 روز بعد امریکی محکمہ دفاع کے ہلاکت و زخمی ہونے کے ریکارڈ کے ڈیٹا بیس میں درج کیے گئے۔