آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لکی مروت سے روانہ ہونے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک پہنچ گیا: ملٹری آپریشن اور ڈرون حملے قبول نہیں، سہیل آفریدی

اتوار کی دوپہر خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک پہنچ گیا ہے۔ بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے مگر حالیہ مذاکرات میں بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنھیں ان کی حکومت صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کی شب جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع مشکل راستے یا آسان راستے سے حل ہو سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے اوہائیو کے شہر وینڈالیا میں ایک ریلی میں شرکت کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے بارے میں مجھے ایک فیصلہ کرنا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی اقدامات اور کارروائیوں کے نتیجے میں ایران ’شدید کمزور‘ ہو چکا ہے اور اس نے ’جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے تقریباً تمام منصوبے ترک کر دیے ہیں۔‘

    تاہم ایران مسلسل جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کی تردید کرتا رہا ہے۔

  2. حکومت نے خصوصی حالات سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے: پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے خصوصی حالات سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔‘

    انھوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’حالیہ مہینوں میں دشمن کا منصوبہ ملک کی اہم شریانوں کو کاٹ دینا رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ہم نے اقتصادی جنگ میں دشمن کے مقاصد کو حاصل نہیں ہونے دیا۔‘

    حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے ’اقتصادی دباؤ کی حکمتِ عملی‘ کے تحت ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جو اس بار تیل اور مالیاتی شعبے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایران کی گاڑیوں، ریلوے، مینوفیکچرنگ اور فولاد کی صنعتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  3. یمنی حوثیوں کا آرامکو کی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ

    خبر رساں اداروں کے مطابق یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صنعاء اور یمن کے دیگر علاقوں پر سعودی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔

    روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سنیچر کی صبح ریاض میں آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب دھویں اور آگ کے ایک بڑے بادل کو دیکھا گیا۔

    سعودی حکام نے تاحال آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی تصدیق نہیں کی جبکہ آرامکو نے بھی تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

  4. حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک: ’لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے کے بعد اختتام پذیر ہوا، جس کے بعد حکومتی نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کی جانب سے بار بار مداخلت کے باعث کسی مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق نہ ہو سکا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات میں شریک پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور مختلف نکات پر اپنی جماعتی قیادت سے مسلسل مشاورت بھی کی جاتی رہی۔

    اس مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کے سیاسی امور پر مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا بنیادی محور خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورت حال تھا۔ ان کے بقول حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر تعاون پر آمادہ نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے معاملے پر حکومت نے لچک دکھائی، لیکن دیگر اہم امور پر اتفاق نہ ہو سکا۔

    رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا مجوزہ لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن نکات پر اتفاق نہیں ہو سکا وہ سب کے سامنے ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف تعاون کی صورت میں مستقبل میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے۔

    حکومت اور تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم فریقین ابھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ کب ہوگا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہییں جن سے خیبر پختونخوا کے عوام میں نفرت، تقسیم یا تناؤ پیدا ہو، یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات متاثر ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کسی اقدام کی گنجائش نہیں اور ایسے اقدامات اٹھارویں ترمیم کی روح سے بھی متصادم ہوں گے۔‘ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ تاحال یہ طے نہیں ہو سکا کہ حکومت اور تحریکِ انصاف کے وفود کے درمیان بات چیت کا اگلا دور کب ہوگا۔

    وفاقی وزیر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا کی قیادت کی ہدایات پر مسودہ بار بار تبدیل کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں اور اسی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے میں جانوں کے ضیاع پر مزید انتظار ممکن نہیں، تاہم جو بھی فیصلہ ہوگا آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔

    ادھر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ چار مرتبہ مسودہ حتمی شکل کے قریب پہنچا لیکن ہر بار اسے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو بھیجا جاتا تھا اور وہاں سے نئی ترامیم آ جاتی تھیں۔ ان کا الزام تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا گیا۔ ان کے مطابق مسودے میں لانگ مارچ ختم کرنے کی شق بھی شامل تھی، تاہم اپوزیشن نے دہشت گردی سے متعلق نکات پر اعتراضات اٹھائے۔

    وفاقی وزیر امیر مقام نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی قیادت مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود لانگ مارچ کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم بعض مسودات پر رضامند ہو جاتی تھی لیکن بعد میں خیبر پختونخوا کی قیادت کی جانب سے انھیں مسترد کر دیا جاتا تھا۔

  5. پنجگور اور کوئٹہ میں بم دھماکے اور فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں دو بچوں سمیت تین افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور اور دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے اور فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں دو بچوں سمیت تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

    بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا واقعہ ضلع پنجگور کے علاقے گوارگو میں پیش آیا۔

    متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی جاوید بلوچ نے فون پر بتایا کہ گوارگو میں فتح علی بازار کے علاقے میں پانچ بچے کھیل رہے تھے کہ اس دوران ایک ٹھوس شے دکھائی دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں سے ایک نے اس کو پتھر مار کر توڑنے کی کوشش کی جس کے باعث دھماکہ ہوا۔

    ڈی ایس پی جاوید بلوچ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں دو بچے ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

    زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں آٹھ سال سے 12 سال کے درمیان ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    ادھر کوئٹہ شہر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق ہزارہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد پکنک منانے بولان گئے تھے کہ واپسی پر نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔

    نیو سریاب پولیس کے ایس پی عابد بخاری نے بتایا کہ ان افراد پر فائرنگ مغربی بائی پاس کے علاقے میں کی گئی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں ان میں سے ایک نوجوان مارا گیا جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

    ایس پی بخاری نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم انھوں نے اس سلسلے میں ٹارگٹ کلنگ کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

  6. انڈین بی ایس ایف کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ، دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے ناظم الامور سے احتجاج

    پاکستان کے علاقے قصور میں بین الاقوامی سرحد پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    سنیچر کی شام انڈیا کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ملک کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستان سے سرحد پار غیرقانونی دراندازی میں مسلسل سہولت کاری پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

    بیان کے مطابق وزارت خارجہ نے دو اکتوبر کو پنجاب کے فیروزپور سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں قطعی طور پر مسترد کر دیا۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو بتایا گیا کہ تین افراد انڈیا میں داخل ہوئے تھے اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے پاکستان واپس جانے کے لیے متعدد انتباہات کے باوجود وہ سرحدی باڑ کی جانب پیش قدمی کرتے رہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد سے فوری سکیورٹی خطرہ لاحق ہونے کے باعث بی ایس ایف کو کارروائی کرنا پڑی۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ سرحد پار دراندازی، منشیات کی سمگلنگ اور اس میں پاکستانی سرحدی فورسز کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کرے اور اس سلسلے میں مناسب تدارکی اقدامات اٹھائے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی سرحد کے تقدس کا احترام یقینی بنانا چاہیے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔

    اس سے قبل پاکستان نے بی ایس ایف کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اپنے دو شہریوں کی ہلاکت پر انڈیا کے ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق انڈین حکام کو واضح کیا گیا کہ پاکستان ہلاک ہونے والے افراد کو ’درانداز‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔

    سنیچر کے روز ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ میں انڈین ناظم الامور کو طلب کیا گیا تاکہ بین الاقوامی سرحد کے بیدیاں سیکٹر میں 2 اکتوبر کے واقعے پر پاکستان کا شدید احتجاج درج کرایا جا سکے۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کا یہ استعمال قطعی طور پر غیر ضروری اور انتہائی غیر متناسب تھا جس کے نتیجے میں دو قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔

    گذشتہ روز پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع قصور کے ’لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی پاکستانی شہری سرحدی پِلر سے چند قدم آ گے ہی بڑھے تھے کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے انھیں بغیر وارننگ دیے ہدف بنایا۔‘

    دوسری جانب انڈیا کے سرکاری میڈیا ’آل انڈیا ریڈیو‘ نے بی ایس ایف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں پاکستانی شہری انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے اور ’غیرقانونی طور پر انڈیا پاکستان سرحد پار کر رہے تھے۔‘

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے ناموں سے کی ہے۔

    پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ انڈین میڈیا نے بھی فالس فلیگ آپریشن کی روش کو زندہ رکھتے ہوئے معصوم شہریوں کو درانداز قرار دیا، مگر حقیقت میں ان تینوں افراد میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

  7. سعودی عرب نے سنیچر کے روز دارالحکومت صنعا پر 26 فضائی حملے کیے: حوثیوں کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے سنیچر کے روز دارالحکومت صنعا پر 26 فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق حملوں میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    دوسری جانب خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز نے اطلاع دی ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے مضافاتی علاقے میں واقع تیل کی تنصیبات سے دھواں اور شعلے اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔ تاہم سعودی حکام اور حوثیوں کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    اس سے قبل سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی مراکز اور تنصیبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی فورسز کے مطابق کارروائی کا مقصد حوثیوں کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

    ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو صوبہ تعز میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ حالیہ حملوں اور زمینی لڑائیوں نے یمن میں جاری تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

  8. روس کی دعوت پر افغان وزارتِ دفاع کا وفد ’سینٹر-2026‘ فوجی مشق میں شامل

    افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کے ایک اعلیٰ سطح فوجی وفد نے روس کی دعوت پر سٹریٹیجک فوجی مشق ’سینٹر-2026‘ میں شرکت کی ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق وفد کی قیادت جوائنٹ ملٹری ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ عبداللہ بن مسعود نے کی۔ بیان میں کہا گیا کہ وفد نے روس میں ہونے والی فوجی مشقوں اور ان سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت کی۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ یہ شرکت روسی فیڈریشن کی جانب سے دی گئی باضابطہ دعوت کے بعد عمل میں آئی۔ افغان حکام کے مطابق اس دورے کا مقصد فوجی تربیت، پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور دفاعی شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان وفد نے مشقوں کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا اور شریک ممالک کے فوجی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

    واضح رہے کہ ’سینٹر-2026‘ روس کی بڑی سٹریٹیجک فوجی مشقوں میں شمار ہوتی ہے، جن میں مختلف ممالک کے فوجی وفود اور دستے شرکت کرتے ہیں۔

  9. خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش قابلِ قبول نہیں، صوبائی وزیر اطلاعات

    خیبر پختونخوا کے ترجمان شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریکِ انصاف کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا کے سامنے بعض تصاویر اور الزامات کے ذریعے تحریکِ انصاف، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جسے ان کی جماعت مسترد کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے الزامات سے جوڑنا مناسب نہیں اور سیاسی معاملات پر گفتگو حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

    شفیع جان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور صوبے کے لاکھوں خاندان اس جنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پختونوں کو دہشت گرد قرار دینا یا ایسا تاثر پیدا کرنا ان خاندانوں کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کو کھویا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم الزام تراشی نہیں، حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

  10. رکن ممالک سٹریٹجک ذخائر سے 325 ملین بیرل تیل جاری کر چکے ہیں: بین الاقوامی توانائی ایجنسی

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ اس کے رکن ممالک اب تک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 325 ملین بیرل تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مارکیٹ میں فراہم کر چکے ہیں۔

    یہ اعلان ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب جی 7 ممالک نے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تعاون سے، عالمی منڈی میں رسد کے خدشات کم کرنے کے لیے فوری طور پر مزید 100 ملین بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے اتحادی ممالک پر زور دیا تھا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے وہ اپنے ڈیزل کے ذخائر کا کچھ حصہ مارکیٹ میں لائیں۔

    ماہرین کے مطابق ڈیزل کی سپلائی میں کمی کی ایک بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ہے، جبکہ روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں نے بھی عالمی منڈی کو متاثر کیا ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے مارچ میں وعدہ کیا تھا کہ وہ تزویراتی ذخائر سے مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل جاری کریں گے۔ اس منصوبے میں برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ سمیت تمام جی 7 ممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب جی 7 ممالک نے یہ بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی نہیں لگائیں گے، حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے ایسی پابندی کی دھمکی دی گئی تھی۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اس پابندی کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔

  11. خیبر پختونخوا میں بدامنی بڑھی تو گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہو سکتی ہے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا حل آئینی اور سیاسی راستوں میں تلاش کیا جانا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات اور افغانستان سے کیے جانے والے حملوں کے تناظر میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ پر غور کر رہی تھی، جو آئین میں موجود ایک اختیار ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی رائے یہ تھی کہ ایسے اقدامات سے قبل تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو موجودہ صورتحال کا سیاسی حل نکالنا چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف سے بات چیت کر کے اسے لانگ مارچ ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، جیسا کہ اسلام آباد گذشتہ دس روز سے بند ہے اور تحریک انصاف سیاسی سطح پر کافی کامیاب ہو چکی ہے، اب سیاسی قیادت کو ایسے اقدامات کرنے چاہییں جو کشیدگی کم کرنے کا باعث بنیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک جانب تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مسلسل احتجاجی اور سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ مؤثر تعاون نہیں کر رہی۔

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو معاملات گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے آئینی اقدامات کی طرف بھی جا سکتے ہیں، جن کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ تمام سیاسی فریقین کو پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے پر کوئی قابل قبول راستہ نکالنا چاہیے اور ایک ایسا اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے جس کے تحت سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں کو سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے وہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے اور ان کے نتیجے میں ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا، جو تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پیپلز پارٹی کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے اور اگر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ایسے فیصلے کرنے چاہییں جو ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے اور دہشت گردی کے مؤثر مقابلے میں مددگار ثابت ہوں۔

  12. حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور سنیچر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق مذاکراتی عمل کی میزبانی کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی اور اپوزیشن وفود اجلاس میں شریک ہیں۔

    مذاکرات میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر امیر مقام، وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی اور انصاف کی بحالی ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور انھیں علاج معالجے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر امیر مقام نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خلوصِ نیت سے بات چیت کے عمل میں شریک ہے اور امید ہے کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔

  13. بعض وزرا کے بیانات اور لانگ مارچ روکنے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے جیسی باتوں پر مایوسی ہوئی: چیئرمین تحریک انصاف

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باعثِ حیرت ہے کہ ان کے مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور انتہائی قدم اٹھانے کی باتیں ہو رہی ہیں جو جمہوری روایات میں نہیں ہونی چاہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سیاست میں اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے اور کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی عمل آگے بڑھتا رہے۔ ان کے بقول جمہوری نظام میں مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔

    انھوں نے بعض وفاقی وزرا کے حالیہ بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے شدید مایوسی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کو درپیش اہم معاملات پر مذاکرات جاری ہوں تو ایسے موقع پر اشتعال انگیز یا منفی بیانات ماحول کو خراب کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور ایسے وقت میں تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بات چیت کا عمل مثبت انداز میں آگے بڑھ سکے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی بحران کے حل کے لیے جاری کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔

  14. سہیل آفریدی کے لانگ مارچ سے متعلق ٹویٹ پر حکومتی ردعمل: ’ایسے بیانات مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور آئین پاکستان اسے پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ اپنے بیان میں انھوں نے اعلان کیا کہ چار اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے احتجاجی مارچ کا آغاز ہوگا اور یہ جدوجہد آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گی۔

    وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سہیل آفریدی کی پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات مذاکرات کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے گریز کرے جس سے مذاکرات کو نقصان پہنچے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سہیل آفریدی کی مخالفین اور ہماری قیادت کے خلاف گفتگو کسی وزیراعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان نہیں، سہیل آفریدی کی گفتگو انتہائی غیر شائستہ اور قابلِ مذمت ہے۔‘

    اپنے ٹویٹ میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں، تاہم ان کے بقول عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کارکنوں کو قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    انھوں نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے موجودہ حکمتِ عملی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق فوجی آپریشنز، نقل مکانی اور ڈرون حملے مسائل کا مستقل حل نہیں ہیں اور ان پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخوا سیاحت کے لیے جانے جاتے تھے، جبکہ موجودہ حالات میں صوبہ دوبارہ دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔

    انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں امن و امان کے قیام کے لیے ایک صفحے پر ہیں تو پھر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کیوں بہتر نہیں ہو رہی۔

    سہیل آفریدی نے نو مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دے گی۔ انھوں نے کارکنوں اور عوام سے چار اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت پہنچنے کی اپیل بھی کی۔

  15. صنعا میں دھماکوں کی اطلاعات، حوثیوں نے سعودی فضائی حملوں کا الزام عائد کر دیا

    یمن کے دارالحکومت صنعا میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں کم از کم پانچ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا کے مختلف علاقوں کو سعودی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں کے مطابق دو لڑاکا طیاروں کو شہر کے اوپر پرواز کرتے اور میزائل داغتے دیکھا گیا۔

    تاحال حملوں یا ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    حوثی باغی، جو ایران کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں، سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے اہداف پر حملے کرتے رہے ہیں، جبکہ خود بھی سعودی قیادت میں اتحاد اور یمنی حکومتی افواج کی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    صنعا کے علاوہ حوثیوں کا شمالی یمن کے بڑے حصے اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں پر بھی کنٹرول برقرار ہے۔

  16. کوشش ہے مسائل کا حل جمہوری انداز میں نکالا جائے، مذاکرات سے بہتری کی امید ہے: شیری رحمان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ موجودہ سیاسی معاملات کا حل جمہوری انداز میں نکالا جائے تاکہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے بقول مذاکراتی عمل کا مقصد مختلف معاملات کو میز پر لا کر زیر غور لانا اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔

    جب شیری رحمان سے پوچھا گیا کہ ایک طرف مذاکرات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ٹویٹ کر دیا ہے کہ وہ لانگ مارچ لے کر آ رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اپنی پارٹی پوزیشن پر بات کر سکتی ہے، تاہم مذاکرات سے متعلق امور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ فی الحال وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹویٹس یا بیانات پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل جاری ہے اور امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ ’امید پر دنیا قائم ہے، ہمیں امید ہے کہ چیزیں بہتر ہوں گی۔‘

  17. تہران جنگی حملوں کا سب سے بڑا ہدف، 60 ہزار سے زائد گھر متاثر: گورنر تہران

    تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے حملوں میں تقریباً 45 فیصد کا ہدف صوبہ تہران تھا، جس کے باعث صوبے کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔

    انھوں نے بتایا کہ صوبہ تہران اور شہرِ تہران میں 23 ہزار ٹن سے زائد بم استعمال کیے گئے، جبکہ 60 ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹس معمولی نقصان سے لے کر مکمل تباہی تک مختلف درجات کے نقصان کا شکار ہوئے۔

    گورنر تہران کے مطابق جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد میں ایک تہائی سے زائد کا تعلق بھی صوبہ تہران سے تھا، تاہم انھوں نے جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  18. اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع

    وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کر دی ہے۔ رینجرز 15 اکتوبر تک اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے گی، اس سے قبل وفاقی حکومت نے رینجرز کی تعیناتی کی منظوری 5 اکتوبر تک دی تھی۔

    اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تین ہزار رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی میں توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان رینجرز کے تین ہزار اہلکار پانچ اکتوبر سے 15 اکتوبر تک اسلام آباد میں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ حکام کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کا مقصد سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنا ہے۔

    حکام کے مطابق تعینات کیے جانے والے رینجرز اہلکار حساس مقامات، سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں بھی حصہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ دارالحکومت میں حالیہ دنوں کے دوران سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ عوامی اجتماعات کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  19. آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں پر حملے، برطانوی ایجنسی

    برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں پر الگ الگ حملے کیے گئے ہیں، جس سے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

    برطانوی بحری اتھارٹی کے مطابق پہلے واقعے میں ایک ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکل رہا تھا کہ اسے ایک نامعلوم پراجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز میں معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کا نظام متاثر ہوا۔ تاہم عملے نے آگ پر قابو پا لیا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی۔

    چند گھنٹوں بعد پیش آنے والے دوسرے واقعے میں عمان کے مشرق میں ایک خام تیل بردار جہاز بھی نامعلوم پراجیکٹائل کی زد میں آیا۔ برطانوی ایجنسی کے مطابق اس حملے میں بھی عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حملوں کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار بحری راستے سے گزرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس علاقے میں بحری جہاز رانی کو متعدد خطرات کا سامنا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایسے حملے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں بلکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

  20. بیڈیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت، انڈیا کے ناظم الامور طلب

    پاکستان نے بین الاقوامی سرحد کے قریب بیڈیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے انڈیا کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں شہری دو اکتوبر کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’بی ایس ایف اہلکاروں نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف ’بلااشتعال مہلک طاقت‘ استعمال کی، جو ’بالکل بلاجواز اور حد سے زیادہ‘ تھی اور اس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ہلاک ہونے والے افراد کو ’درانداز‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔‘

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

    پاکستان نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج اور کی گئی کارروائی سے پاکستانی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔

    وزارتِ خارجہ نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنائے، متعلقہ دوطرفہ معاہدوں اور سرحدی طریقہ کار کی پابندی کرے، ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ شب پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحد پر قائم شہر قصور میں بین الاقوامی سرحد پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا تھا۔

    تاہم ان ہلاکتوں کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ آتے رہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ضلع قصور کے ’لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی پاکستانی شہری سرحدی پِلر سے چند قدم آ گے ہی بڑھے تھے کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے انھیں بغیر وارننگ دیے ہدف بنایا۔‘

    دوسری جانب انڈیا کے سرکاری میڈیا ’آل انڈیا ریڈیو‘ نے بی ایس ایف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں پاکستانی شہری انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے اور ’غیرقانونی طور پر انڈیا پاکستان سرحد پار کر رہے تھے۔‘

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے ناموں سے کی تھی۔

    پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا تھا کہ انڈین میڈیا نے بھی فالس فلیگ آپریشن کی روش کو زندہ رکھتے ہوئے معصوم شہریوں کو درانداز قرار دیا، مگر حقیقت میں ان تینوں افراد میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔