پاکستان کے علاقے قصور میں
بین الاقوامی سرحد پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو
پاکستانی شہری ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ناظم الامور کو طلب کرکے
احتجاج ریکارڈ کروایا۔
سنیچر کی شام انڈیا کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک
بیان میں کہا گیا کہ ملک کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن
کے ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستان سے سرحد پار غیرقانونی دراندازی میں مسلسل
سہولت کاری پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
بیان کے مطابق وزارت خارجہ نے دو اکتوبر کو پنجاب کے فیروزپور سیکٹر
میں بین الاقوامی سرحد پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو بے
بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں قطعی طور پر مسترد کر دیا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی
حکام کو بتایا گیا کہ تین افراد انڈیا میں داخل ہوئے تھے اور بارڈر سکیورٹی فورس
(بی ایس ایف) کی جانب سے پاکستان واپس جانے کے لیے متعدد انتباہات کے باوجود وہ
سرحدی باڑ کی جانب پیش قدمی کرتے رہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد سے فوری سکیورٹی خطرہ لاحق ہونے کے
باعث بی ایس ایف کو کارروائی کرنا پڑی۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ سرحد پار
دراندازی، منشیات کی سمگلنگ اور اس میں پاکستانی سرحدی فورسز کے ممکنہ کردار کی
تحقیقات کرے اور اس سلسلے میں مناسب تدارکی اقدامات اٹھائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی سرحد کے تقدس کا
احترام یقینی بنانا چاہیے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے
چاہییں۔
اس سے قبل پاکستان نے بی ایس ایف کی جانب سے
فائرنگ کے نتیجے میں اپنے دو شہریوں کی ہلاکت پر انڈیا کے ناظم الامور کو طلب کرکے
شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق انڈین حکام کو واضح کیا گیا کہ
پاکستان ہلاک ہونے والے افراد کو ’درانداز‘
قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔
سنیچر کے روز ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے
کہ وزارت خارجہ میں انڈین ناظم الامور کو طلب کیا گیا تاکہ بین الاقوامی سرحد کے
بیدیاں سیکٹر میں 2 اکتوبر کے واقعے پر پاکستان کا شدید احتجاج درج کرایا جا سکے۔
ترجمان
دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کا یہ استعمال قطعی طور پر غیر ضروری اور انتہائی
غیر متناسب تھا جس کے نتیجے میں دو قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
گذشتہ روز پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع قصور کے ’لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی پاکستانی شہری سرحدی پِلر سے چند قدم آ گے ہی بڑھے تھے کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے انھیں بغیر وارننگ دیے ہدف بنایا۔‘
دوسری جانب انڈیا کے سرکاری میڈیا ’آل انڈیا ریڈیو‘ نے بی ایس ایف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں پاکستانی شہری انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے اور ’غیرقانونی طور پر انڈیا پاکستان سرحد پار کر رہے تھے۔‘
پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے ناموں سے کی ہے۔
پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ انڈین میڈیا نے بھی فالس فلیگ آپریشن کی روش کو زندہ رکھتے ہوئے معصوم شہریوں کو درانداز قرار دیا، مگر حقیقت میں ان تینوں افراد میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔