آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لکی مروت سے روانہ ہونے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک پہنچ گیا: ملٹری آپریشن اور ڈرون حملے قبول نہیں، سہیل آفریدی

اتوار کی دوپہر خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک پہنچ گیا ہے۔ بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے مگر حالیہ مذاکرات میں بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنھیں ان کی حکومت صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. پشتونوں کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے والی ہر قوت کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہیں گے، سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلہ پیر کو کرک سے اپنے اگلے مرحلے کی جانب روانہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کرک کے عوام ہمیشہ سیاسی شعور اور بیداری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ عوام ایسے ہی نظریات کے حامی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک سمجھدار وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو کرپشن کریں اور قومی مفادات پر سمجھوتے کریں۔ انھوں نے پشتونوں کے مسائل، فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ہر اس قوت کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہیں گے جو ان کے بقول پشتونوں کے مفادات کے خلاف فیصلے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر پارٹی رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں اور یہ سب ملک کے نوجوانوں اور عوام کے مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔

    سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے تحریک کا حصہ بنیں، ورنہ حکمران عوام کے وسائل پر قابض رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق لانگ مارچ کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جبکہ صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ’طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار ان کی تحریک کا مقصد کامیابی حاصل کرنا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے۔

  2. وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لانگ مارچ سے خطاب، ’ملٹری آپریشن اور ڈرون حملے قبول نہیں‘

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں کسی نئی ملٹری کارروائی یا ڈرون حملوں کی پالیسی قبول نہیں کرے گی اور خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہییں۔

    لکی مروت میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت سیاست اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنھیں ان کی حکومت صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں خیبرپختونخوا پر ایسی پالیسیاں مسلط کی جاتی رہی ہیں جن کے منفی اثرات صوبے کو بھگتنا پڑے، تاہم اب ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن اور پالیسیوں کے مطابق حکومت چلائی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عوامی مینڈیٹ کی بالادستی برقرار رکھی جائے گی۔ انھوں نے شرکا سے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں کے بارے میں سوال کیا جس پر شرکا نے مخالفت کا اظہار کیا۔

    سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے وفاقی حکومت کو اپنی موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور خیبرپختونخوا حکومت کو اپنی پالیسی پر عمل درآمد کا موقع دینا چاہیے۔ ان کے بقول اگر صوبائی حکومت کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو 100 دنوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صوبے کے جنوبی اضلاع گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور سکیورٹی کارروائیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور کسی بھی ایسی پالیسی کی مخالفت کی جائے گی جس کے نتیجے میں عام شہری متاثر ہوں۔

    اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ نے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے عوامی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے نوجوان اور عوام عمران خان کی قیادت کی حمایت کرتے ہیں۔

    لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ تحریک آگے بڑھتی رہے گی اور مختلف اضلاع میں عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سیاسی عمل میں متحرک کردار ادا کرنا چاہیے اور ملک کے مستقبل کے فیصلوں میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔

    وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ماضی کی طرح آئندہ بھی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کریں گے جنھیں وہ اپنے صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔

  3. مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس کل ریاض میں ہوگا

    ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تین رکن ممالک پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز ریاض میں منعقد ہوگا۔

    وزارت کے مطابق ترکی کے وزرا اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ یہ تینوں ممالک مکہ دفاعی معاہدے کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن کے صدر نے اتوار کو ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایران سے منسلک حوثیوں سے علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور حملوں کے بعد اس آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے جمعے کو کہا تھا کہ ایران حوثیوں کے ساتھ سیاسی ثالثی کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ توقع ہے کہ ریاض میں ہونے والے اجلاس کے دوران اس تجویز اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

  4. مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ عمران خان تک رسائی کا مطالبہ تسلیم نہ کرنا تھا: تحریکِ انصاف کا وفاقی وزرا کی نیوز کانفرنس پر ردِعمل

    پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت اور پی ٹی آئی و تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز اختتام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ عمران خان تک رسائی کا مطالبہ تھا تاکہ پارٹی قیادت اہم سیاسی اور قومی معاملات پر ان سے مشاورت کر سکے، تاہم حکومت نے اسے معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔ پارٹی نے عمران خان کے فوری طبی معائنے اور علاج کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پر مبنی حکمتِ عملی بنانے پر زور دیا ہے۔

    پارٹی کے مطابق کسی بھی انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں شہریوں کے تحفظ اور مقامی حالات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کا 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مؤقف کو 'سیاسی ہٹ دھرمی' قرار دینے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان تک رسائی ملنے کی صورت میں وزیرِ اعلیٰ ان سے سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر براہِ راست مشاورت کر سکتے تھے۔

  5. پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات اور علاج سمیت دیگر مطالبات کے لیے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ پہلے روز کے اختتام پر لانگ مارچ کے شرکا نے بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر اپنا پہلا پڑاؤ ڈال دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پیر سے لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہو گا اور یہ مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا صوابی اور پھر پشاور پہنچے گا۔

    پہلے روز لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تصاویر۔

  6. ہم روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے، کسی گورنر راج یا ایمرجنسی کو نہیں مانتے: وزیرِ اعلی سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے آغاز پر خطاب

    حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔

    شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ آج ہم ضلع خیبر کی جانب روانہ ہوں گے اور پیر کو خیبر میں تعداد لاکھوں تک پہنچ جائے گی۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب ہم صوابی پہنچیں گے تو وہاں لاکھوں لوگوں کا ایک سمندر موجود ہوگا۔ ہم ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے اور جب ہم صوابی پہنچیں گے تو یہ تحریک ملک کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہوگی اور ہر چوک سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہو گا۔

    مذاکرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ کل جو مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد میں گئی وہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے گئی تھی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ایک مائنڈ سیٹ جو بند کمروں میں فیصلے کرتا ہے، کل وہ ایک اور فیصلہ آپ پر مسلط کرنے جا رہا تھا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہاں پر عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم کسی ایسی پالیسی کو نہیں مانتے جس میں پشتونوں کا نقصان ہو، خیبرپختونخوا میں راج صرف عمران خان کا ہو گا، نہ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی مانتے ہیں۔

  7. گورنر خیبر پختونخوا کا لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر سہیل آفریدی پر توہینِ عدالت کا الزام

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک پہنچنا توہینِِ عدالت اور عدالتی ہدایات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ جب وزیراعلیٰ خود عدالتی احکامات کی پاسداری نہیں کرتے اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے ریاستی وسائل کا استعمال کرتے ہیں، تو ان کے کارکنوں سے قانون کی پابندی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

  8. وزیرِ داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ گئے، گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ گئے ہیں، جہاں اُنھوں نے گورنر ہاٰؤس میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا۔

    محسن نقوی ایسے وقت میں پشاور پہنچے ہیں جب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کے لیے لکی مروت پہنچ چکے ہیں، جہاں صوبے کے مختلف علاقوں سے تحریکِ انصاف کے کارکن جمع ہو رہے ہیں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق تحریکِ انصاف کے ساتھ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں۔

    محسن نقوی نے لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خدانخواستہ اگر کوئی جان گئی تو اس کے ذمے دار سہیل آفریدی ہوں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی جتھے کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

  9. حکومت چاہتی تھی کہ خیبر پختونخوا میں وفاق کے تمام اقدامات اور آپریشنز کی توثیق کی جائے: سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ناکامی کی بنیادی وجہ حکومت کا یہ اصرار تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت، صوبے میں دہشت گردی کے خلاف وفاق اور اس کے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات اور آپریشنز کی توثیق کرے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی اقدامات کے نفاذ کی توثیق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    اُن کے بقول پی ٹی آئی کی ٹیم کا موقف یہ تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کسی بھی صورت میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں اور چند ماہ قبل اسمبلی میں منعقدہ صوبے کے عمائدین کے جرگے کی مشاورت اور سفارشات کی روشنی میں باہمی اتفاقِ رائے سے لائحہ عمل مرتب کریں۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ صرف ایسا لائحہ عمل ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ حکومت مشاورت اور اتفاقِ رائے کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔

    اُن کے بقول پی ٹی آئی نے ہمیشہ ایسے اندھا دھند آپریشنز کی مخالفت کی ہے جن کے نتیجے میں بے گناہوں کا خون بہتا ہو یا بڑی تعداد میں لوگ اپنے ہی صوبے کے اندر بے گھر ہونے پر مجبور ہو جاتے ہوں۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی (TTAP) کی مذاکراتی ٹیم کا بنیادی مطالبہ عمران خان تک فوری رسائی، انھیں شوکت خانم انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت کے ساتھ ایک قائم شدہ میڈیکل بورڈ کے ذریعے تشخیص و علاج کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

    اُن کے بقول حکومتی ٹیم، عمران خان کی اہلخانہ اور وکلاء کے ساتھ ملاقاتوں کی بحالی کے علاوہ کوئی اور پیشکش کرنے پر تیار نہیں تھی۔

  10. لکی مروت میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تیاریاں، مختلف علاقوں سے قافلے روانہ، سہیل آفریدی کا کنٹینر گنڈی چوک پہنچ گیا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی کال پر خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں گنڈی چوک اس وقت سیاسی سرگرمی کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع کے علاوہ بلو چستان سے قافلے پہنچ رہے ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے چار اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر میں سنیچر کی شب دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کے لوگ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے اپنے اپنے علاقوں سے روانہ ہو رہے ہیں۔

    گنڈی چوک اور قریبی علاقوں میں موبال فون کے سگنلز نہ آنے کی اطلاعات ہیں اور وہاں کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

    ادھر جنوبی وزیرستان اپر سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے روانہ ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کے قافلے کو پولیس نے مکین کے علاقے دو سڑک کے مقام پر روکنے کی کوشش کی اور اس دوران کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیل پھینکے گئے ہیں جس سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    مقامی لوگوں کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر کے علاقہ مکین سے پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد مارچ میں شرکت کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم دو سڑک کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری نے قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

    وزیرستان اپر کے پولیس افسر اشفاق خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس کی جانب سے شرکاء کو پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

    پولیس کے مطابق احتجاجی دھرنے کے دوران بعض شرکاء نے پولیس بیریئرز پر حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کارروائی احتجاج کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ پولیس اہلکاروں اور سرکاری املاک کے تحفظ سمیت کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کی گئی۔

    ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے قافلے کی قیادت سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ مارچ عمران خان کے ساتھ عہد کی تجدید اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے تسلسل کا اظہار ہے، عمران خان کے لیے پہلے بھی قربانیاں دیں ہیں، آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات اور ان کی طویل قید کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

    اس کے علاوہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا کنٹینر گنڈی چوک پہنچ گیا ہے جبکہ ان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے لیے گنڈی چوک پر ہیلی پیڈ تیار کیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مختلف علاقوں سے قافلوں کی روانگی کی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جہاں راستوں میں رکاوٹیں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔

  11. فوجی کارروائی یا پابندیوں سے مسئلے کا حل ممکن نہیں: عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے لیے نہ تو فوجی راستہ اختیار کرنے سے مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی مزید پابندیاں عائد کرنے سے۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’امریکہ ماضی میں جنگ اور سفارت کاری، دونوں میں ناکام ہو چکا ہے۔ پابندیوں کے ذریعے نئے حل آزمانے سے بھی اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘

    ایران میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں اور ناظم الامور کے ساتھ ملاقات میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’صرف مذاکرات کے ذریعے، انصاف اور برابری کی بنیاد پر اور باوقار و سفارتی طریقے سے نکالا گیا حل ہی اس جنگ کے خاتمے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شروع کی گئی اس غیر قانونی اور غیر منصفانہ جارحیت کے خاتمے کا حتمی راستہ ہو سکتا ہے۔‘

    امریکہ کی جانب سے نئی فوجی کارروائی کے امکان کے حوالے سے ایران کی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ دانش مندی اور عقلمندی کا راستہ اختیار کرے گا، لیکن اگر وہ دوبارہ فوجی حل کی طرف بڑھتا ہے تو ہم پہلے سے زیادہ تیار ہیں اور اپنے دفاع کے لیے جو بھی ضروری اقدام ہوا، کریں گے۔‘

  12. خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور صوبے کو درپیش حالات پیش نظر سکیورٹی معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران صوبآئی حلکومت نے وفاق کے ساتھ معاہدے سے انحراف کیا ہے۔

    ان کا دعوی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر ایک عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا۔

    اس معاہدے کے مجوزہ نکات میں پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی روک تھام، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، عبوری افغان حکومت سے رابطوں سے گریز، اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی شامل تھی۔

    • سکیورٹی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی

    • دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ طور پر کام کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں حاصل کرنے سے روکنا

    • ٹی ٹی پی/ ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت

    • افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، جس میں وطن واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ شامل ہے

    • عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا

    • انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈنگ

    • انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری اور مسلح افواج کے ساتھ زیادہ مضبوط تعاون

    • سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے

    • نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ جب صوبہ جنگ کی حالت میں ہو تو سکیورٹی کو سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

  13. پی ٹی آئی کے سات مطالبات: ’یقین دہانیوں پر عمل ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کریں گے‘ سہیل آفریدی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی ’غیر آئینی یا غیر قانونی‘ نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ پی ٹی آئی کے مطالبات تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘

    انھوں نے ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے سات مطالبات بھی پیش کیے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکمت کے سامنے پیش کیے جانے والے سات مطالبات:

    • وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات: وزیرِ اعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوں، جن میں اہم سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر بات ہو اور دو ماہ میں مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
    • مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی: حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی معاملات اور اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے اور ایک ماہ میں قابلِ عمل حل کے لیے سفارشات پیش کرے۔
    • عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حقوق: جیل قوانین اور آئین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق دیے جائیں اور جہاں قانون اجازت دے وہاں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی رائے کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔
    • اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم ان ملاقاتوں کو قانوناً ممنوع سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
    • قیدیوں کی قانونی درخواستوں پر کارروائی: عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں سمیت دیگر قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق دس دن میں کارروائی شروع یا مکمل کی جائے، جبکہ سیاسی قیدی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہا کیا جائے۔
    • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان: وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے مسلسل مشاورت کریں اور 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے ایک واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں۔
    • یقین دہانیوں پر عمل اور لانگ مارچ: وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی، تاہم خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی اپنے پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔
  14. اسلام آباد مفاہمت کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے ایران کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں طے کردہ سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

    آج پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے امریکی تجاویز کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ’وقت ضائع کرنے اور یک طرفہ مطالبات مسلط کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب تک اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر ہماری سات شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔‘

    باقر قالیباف اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایران ’نہ پرجوش ہے اور نہ خوف زدہ‘ بلکہ ’ایک طرف لڑ بھی رہا ہے اور دوسری طرف مذاکرات بھی کر رہا ہے۔‘

    ان کے مطابق ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ فوجی محاذ پر موجود ہے اور ’نئی حیران کن کارروائیوں‘ کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کرے گا، جبکہ سفارت کاری کے ذریعے بھی ’فوجی میدان میں اپنی برتری قائم‘ کرنے اور ایرانی عوام کے حقوق منوانے کی کوشش جاری رکھے گا۔

    امریکی حکام کے ’متضاد‘ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی مجموعی پالیسی اور قومی سلامتی کا فیصلہ امریکی حکام کی سوشل میڈیا پوسٹس یا روزانہ دیے جانے والے انٹرویوز کی بنیاد پر نہیں کرتا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایران اپنے اقدامات کا فیصلہ دشمن کے حقیقی رویے اور عملی اقدامات کو دیکھتے ہوئے کرتا ہے، نہ کہ میڈیا میں ہونے والی بیان بازی کی بنیاد پر۔

  15. حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار: لانگ مارچ آج لکی مروت سے شروع ہوگا، سہیل آفریدی

    پاکستان تحریکِ انصاف کے خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج اتوار چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایکس پر مارچ کا تفصیلی شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مارچ کا آغاز آج یعنی اتوار کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ہوگا۔‘

    سہیل آفریدی کے مطابق ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے افراد مارچ میں شامل ہوں گے اور قافلہ رات کو کرک کے قریب قیام کرے گا۔

    ان کے مطابق پانچ اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے مقامی افراد مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگا اور رات کو کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک پر اس لانگ مارچ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’چھ اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد مارچ میں شامل ہوں گے۔ قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور رات متنی کے قریب گزارے گا۔‘

    پھر انھوں نے بتایا کہ سات اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے مارچ دوبارہ روانہ ہوگا۔ اس موقع پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی قافلے میں شامل ہوں گے، جبکہ پشاور کے دیگر علاقوں سے لوگ کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ کے مقامات پر مارچ کا حصہ بنیں گے۔ اس رات قافلہ چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام کرے گا۔‘

    سہیل آفریدی کے مطابق آٹھ اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی اور چارسدہ اور مہمند کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آٹھ اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ خیرآباد کے مقام پر جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔‘ ان کے مطابق لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا لائحۂ عمل خیرآباد میں ہی بتایا جائے گا۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں کیا ہوا؟

    لانگ مارچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہوا، تاہم کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی اور فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہا۔

    مذاکرات سنیچر کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت شروع ہوئے اور رات گئے تک جاری رہے۔

    اپوزیشن کے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے مذاکرات ختم ہونے کے بعد کہا کہ بات چیت میں ڈیڈلاک برقرار ہے اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے پر بھی اختلاف برقرار رہا۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور یہ مارچ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات شامل تھی، جبکہ دہشت گردی سے متعلق بعض معاملات پر مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔

    دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں زیادہ تر معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا لیکن خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کی یقین دہانی نہ کرانے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    ان کے مطابق حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے بھی کہا کہ حکومت نے معاہدے کے مسودے میں دو سے تین مرتبہ تبدیلیاں کیں، تاہم خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ نہیں ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون صوبائی حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر حکومت سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔

    رانا ثنااللہ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان سے ملاقات اور ان کے طبی علاج سے متعلق معاملات پر بھی بات ہوئی تھی، تاہم حکومت کے نزدیک یہ نسبتاً معمولی معاملات تھے اور انھیں جیل کے قواعد اور قانون کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔

    مذاکرات میں اتفاق نہ ہونے کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا کہ لانگ مارچ اب بھی برقرار ہے، جبکہ رانا ثنااللہ نے واضح کیا ہے کہ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  16. عراق کا آبنائے ہرمز سے 20 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کیے جانے کا اعلان

    عراق کی آئل ٹینکر کمپنی نے ایک بڑے آئل ٹینکر کے ذریعے ملک کا 20 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا ہے۔

    کمپنی کے جنرل مینیجر علی قیس عبدالجبار نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ کئی دہائیوں میں یہ کمپنی کی جانب سے اس نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ عراق اب خام تیل کو آبنائے ہرمز کے راستے براہِ راست منتقل کرے گا اور اسے معمول کے مطابق بصرہ کی بندرگاہ پر نہیں اتارے گا۔

    عراقی آئل ٹینکر کمپنی کے جنرل مینیجر نے کہا کہ اس اقدام سے سرکاری ملکیت والی عراقی آئل مارکیٹنگ کمپنی کو تیل کی فروخت اور بہتر قیمتوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عراقی آئل ٹینکر کمپنی اپنے بیڑے میں توسیع اور علاقائی شپنگ کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے خام تیل کی ترسیل کے لیے مخصوص ٹینکرز خریدنے اور حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

    عراق کو اس سے قبل ایران نے اپنے آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو عملاً بند کر دیا تھا۔

  17. یمنی مسلح افواج کا صنعاء میں حوثیوں کے خلاف حملوں کا اعلان

    یمنی مسلح افواج نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ وہ دارالحکومت صنعاء اور حوثیوں کے مرکزی گڑھ سمجھے جانے والے صعدہ میں ان کے خلاف حملے کر رہی ہیں۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ اتحاد رکھنے والی یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ فوج ’اہم اہداف‘ کو نشانہ بنا رہی ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    روئٹرز کے مطابق اس سے قبل حوثیوں سے وابستہ یمنی ٹی وی چینل ’المسیرہ‘ نے صنعاء میں ایک حملے کی خبر دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ سعودی عرب نے کیا۔

    سعودی عرب نے تاحال اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

    ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ منسلک فورسز کے درمیان 2022 میں جنگ بندی کے بعد لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے اثرات خطے تک پھیلنے کے باعث اب دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

  18. عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے نقصانات کا حساب لیا جائے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے عراق سے امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ کو عراق اور دیگر ممالک کے عوام کو پہنچنے والے نقصانات اور کیے گئے جرائم کا جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

    وزارتِ خارجہ نے امریکی فوج کے انخلا کو عراق کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے استحکام کی جانب ایک ’اہم اور ضروری قدم‘ قرار دیتے ہوئے عراقی عوام اور حکومت کو مبارکباد دی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’20 مارچ 2003 کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کے دعوے کے تحت شروع ہونے والی امریکی فوجی مداخلت اور اس کے بعد 23 سالہ فوجی موجودگی کے عراق اور خطے پر ’ناقابلِ تلافی‘ اثرات مرتب ہوئے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس دوران 10 لاکھ سے زائد عراقی ہلاک ہوئے، جن میں ہزاروں خواتین اور بچے شامل تھے، جبکہ عراق کے بنیادی ڈھانچے، سکیورٹی اور حکومتی نظام کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔

    بیان میں ماحولیاتی تباہی اور ابو غریب جیل میں عراقی مردوں اور خواتین پر تشدد جیسے جنگی جرائم کا بھی ذکر کیا گیا۔

    ایران نے عراق میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کی موجودگی کو ’تشدد، عدم تحفظ، تقسیم اور دہشت گردی کے فروغ‘ کا سبب قرار دیا اور عراقی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔

  19. موجودہ صورتحال ملک کے مشکل ترین حالات میں سے ایک ہے: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’ایران کی موجودہ صورتحال ملک کے مشکل ترین حالات میں سے ایک ہے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے حکومت کے اقتصادی رابطہ مرکز کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل انتہائی سنجیدہ ہے۔‘

    رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں وزیرِ جهادِ کشاورزی نے بنیادی اشیا کی فراہمی اور زرعی شعبے کی صورتحال پر بھی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ ’موجودہ حالات میں ملک کی ضرورت کی اشیا کی کوئی قلت نہیں ہے۔‘

    امریکی پابندیوں میں اضافے کے ساتھ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث ایرانی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    بہت سے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قیمت بڑھنے سے ان کے لیے سامان فروخت کرنا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ خریدار موجود ہونے کے باوجود انہیں وہی سامان دوبارہ زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔