برطانوی وزیرِ اعظم کا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بلیو پرنٹس دینے کا اعلان, ڈین جانسن، کیئو (یوکرین) سے نامہ نگار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اینڈی برنہم برطانیہ کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر یوکرین کے دارالحکومت کیئو پہنچے ہیں۔
یہ دورہ سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے 35 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، اور اس دوران وہ ایک ایسے معاہدے کا اعلان کریں گے جس کے تحت یوکرین برطانوی سٹورم شیڈو کروز میزائل کے اپنے ماڈلز تیار کرنا شروع کرے گا۔
جس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بلیو پرنٹس برنہم یوکرین کو فراہم کر رہے ہیں، وہ روس کے اندر تقریباً 241 کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میزائل بنانے والے ادارے کے مطابق یہ ساکن اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ انھیں دن اور رات، ہر قسم کے موسمی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور ان میں جدید نیویگیشن نظام نصب ہیں۔

اگرچہ یوکرین کے طویل فاصلے تک حملہ کرنے والے ڈرون اس سے بھی دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تاہم یہ اس بات کا ایک اہم اشارہ ہے کہ بین الاقوامی شراکت دار ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یوکرین کو امید ہے کہ یہی طرزِ تعاون پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملے گا، جن کی اسے روسی بیلسٹک حملوں کے خلاف دفاع کے لیے اشد ضرورت ہے۔
یوکرین کے دار الحکومت کیئو کے تاریخی سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کے سامنے یوکرین کے یومِ آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا: ’روس کی جانب سے میرے ملک کو دی جانے والی نا قابلِ قبول دھمکیوں کے باوجود ہم یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے کہا: ’روس پر دباؤ برقرار رکھنے کا یہی وقت ہے۔‘
بین الاقوامی سطح پر اپنے پہلے اہم خطاب میں اینڈی برنہم نے یوکرینی عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا: ’یوکرینی عوام کی غیر معمولی قوت واقعی حیران کن ہے۔‘
جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے سامنے ’سر نہیں جھکائے گا۔‘
اپنی تقریر میں زیلینسکی نے کہا: ’یوکرینی عوام بادشاہوں اور حکمرانوں کے قدموں تلے بچھنے والے پتھر نہیں بنیں گے۔ یوکرینی عوام سر نہیں جھکائیں گے۔‘

















