اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران کا امریکہ سے مطالبہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘ عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ حملے ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں کیے گئے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے نکلنے کی جانب ایک 'اہم قدم' قرار دیا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک معروف تاجر اور کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح سمیت کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین کے اندر قائم کردہ سکیورٹی زون میں موجود رہیں گی۔
لائیو کوریج
امریکی عہدیدار کی کویت اور بحرین میں فوجی اڈوں پر حملوں کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images
اس سے قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملے کے ردِ عمل میں امریکہ نے ایران میں تازہ حملے کیے ہیں اور اس کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
اب ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملوں میں کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملے کے جواب میں ایران پر تازہ ترین امریکی کارروائی کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس خطے میں امریکہ کے آٹھ فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنی کارروائیوں کو ایرانی سرزمین کے خلاف ’امریکی جارحیت‘ کی ردِعمل میں ’فیصلہ کن جواب‘ قرار دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ طور پر یہ کارروائیاں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات 2:00 بجے سے 3:00 بجے کے درمیان کی ہیں، جس میں آٹھ ’اہم امریکی فوجی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ’کویت میں علی السالم ایئر بیس‘ اور ’بحرین میں سلمان پورٹ پر قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر‘ شامل ہیں۔
خیال رہے اس سے قبل امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’مسلسل جارحیت‘ کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔
تاہم پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا بحری ٹریفک ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے، جو جہاز بھی (ایرانی شرائط کی) خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے، ان کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکہ کی ایران میں نئی کارروائیاں: سینٹکام کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’مسلسل جارحیت‘ کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ حملے ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں کیے گئے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر عندیہ دیا کہ ’ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہ رہے۔‘
ایران نے اب تک ان تازہ حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
سینٹکام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پابندی کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور پانامہ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی کیکو پر ڈرون حملہ کیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔
تازہ حملوں کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ ’بہت ممکن‘ ہے کہ تہران ’کبھی سبق نہیں سیکھے گا۔‘
ہفتے کی شام انھوں نے مزید لکھا: ’ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام عسکری طور پر مکمل کرنا پڑے جو ہم نے بہت کامیابی سے شروع کیا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا!‘
امریکی حملوں کے بعد کے گھنٹوں میں کویت اور بحرین دونوں نے اطلاع دی کہ ان کے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں۔
کویتی مسلح افواج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’کویت کے فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں‘ اور عوام سے سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے کہا کہ وہ ’پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقامات کا رخ کریں۔‘
یہ تازہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ نے دو روز قبل کہا تھا کہ اس نے 25 جون کو سنگاپور کے جھنڈے تلے چلنے والے کارگو جہاز ایم وی ایور لاولی پر ڈرون حملے کے ردِعمل میں ایران پر جوابی حملے کیے تھے۔
سینٹکام نے ان امریکی حملوں کو ’طاقتور ردِعمل‘ قرار دیا اور کہا تھا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ’بلاجواز جارحیت‘ واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ اس کارگو جہاز کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ’غیر منظور شدہ راستہ‘ استعمال کر رہا تھا اور اس نے امریکی جوابی حملوں کو خود جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کی صبح جاری بیان میں کہا کہ اس نے اس کے جواب میں امریکی مفادات سے منسلک اہداف پر مزید حملے کیے ہیں اور موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ’معاہدہ توڑنے والی امریکی حکومت‘ کو ٹھہرایا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں ایران کی جانب سے 60 دن تک بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
قطر اور سعودی عرب کے درمیان خطے کی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلۂ خیال
،تصویر کا ذریعہ@MofaQatar_EN
قطر کے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔
قطری حکام کے مطابق اس گفتگو میں خاص طور پر ان سفارتی کوششوں پر بات کی گئی جن کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے جانے کے بعد خطے میں نئی سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
گفتگو کے دوران قطری وزیرِ اعظم نے کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے اور مذاکرات و سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھایا جائے۔ ساتھ ہی انھوں نے حالیہ پیش رفت کے تناظر میں مشترکہ اقدامات اور رابطوں کو جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔
اسرائیل لبنان معاہدہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم ہے: صدر یورپی کمیشن
،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے نکلنے کی جانب ایک ’اہم قدم‘ قرار دیا۔
انھوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ جب تک لبنان جنگ میں ہے، مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں ہے۔‘
انھوں نے واشنگٹن کے ثالثی کے کردار کو بھی سراہا۔
وون ڈیر لیین نے زور دیا کہ ’اگلے اہم اقدامات غیر ریاستی گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے۔‘
یورپی کمیشن کے صدر نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین خطے میں استحکام کے لیے اس راستے کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے اور پناہ گزینوں کی مدد کے لیے 100 ملین یورو مختص کیے جانے کے ساتھ درکار انسانی امداد بھی فراہم کرتا رہے گا۔‘
لبنان کے ساتھ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک دھچکا ہے: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکہ کی ثالثی میں لبنان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انھوں نے اسے اسرائیل کے لیے ایک ’تاریخی کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’کل اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے بعد ہم ایک تاریخی معاہدے تک پہنچے ہیں، جو ریاستِ اسرائیل کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا بلکہ ایران اور حزب اللہ کی پوزیشن کو بھی کمزور کرے گا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین کے اندر قائم کردہ سکیورٹی زون میں موجود رہیں گی۔ یہ زون تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی تک پھیلا ہوا علاقہ ہے جسے اسرائیلی فوج نے اپنی سکیورٹی ضروریات کے پیشِ نظر قائم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس علاقے میں اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔‘
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور لبنان دونوں نے اسرائیل کے اس مؤقف کو تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے لبنانی سرزمین کے اندر اس سکیورٹی زون کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس وقت تک اس سکیورٹی زون میں رہیں گے جب تک حزب اللہ اور دیگر تمام مسلح تنظیمیں مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتیں اور اسرائیل کو لبنان کی سرزمین سے کسی قسم کا خطرہ باقی نہیں رہتا۔‘
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں مسلسل دوسرے روز زلزلے کے جھٹکے، 125 مکانات متاثر، 19 افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
ضلع موسیٰ خیل سمیت بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں سنیچر کے روز دوسرے دن بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق 26 اور 27 جون کو ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری میں آنے والے زلزلوں کے باعث متعدد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی افراد معمولی زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 27 جون کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں تحصیل کنگری میں 35 گھروں کو نقصان پہنچا اور 13 افراد معمولی زخمی ہوئے۔
سنیچر کی شام پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت لاہور اور ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا اور زلزلے کی گہرائی 178 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
اس سے ایک روز قبل، 26 جون کو بھی زلزلے کے جھٹکوں سے مکانات متاثر ہوئے تھے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق دونوں زلزلوں کے باعث مجموعی طور پر 125 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 19 افراد معمولی زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کے لیے میڈیکل کیمپس بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔
کوئٹہ میں معروف تاجر اور کراچی کے سیاح سمیت تین افراد ہلاک، متعدد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک معروف تاجر اور کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح سمیت کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والا سیاح اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ذاتی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
کوئٹہ میں معروف تاجر ہاشم نورزئی کے قتل کا واقعہ بلیلی کے علاقے میں کسٹمز چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
واقعے کے خلاف مقتول کے لواحقین اور تاجروں نے بلیلی کے قریب شاہراہ پر لاش کے ہمراہ احتجاج کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کے مطابق تفتیش سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاح کی ہلاکت کا واقعہ ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں پیش آیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق ایک خاندان ذاتی گاڑی میں سیر کے لیے کوئٹہ آ رہا تھا، تاہم گوگل میپ کی غلط رہنمائی کے باعث وہ راستہ بھٹک کر دشت پہنچ گئے۔
انھوں نے بتایا کہ وہاں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے وابستہ مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں خاندان کے سربراہ علی جمیل ہلاک جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہو گئیں۔ خاتون کو چار گولیاں لگی ہیں اور وہ زیرِ علاج ہیں، جبکہ دونوں کمسن بچے محفوظ رہے ہیں۔
اب تک اس واقعے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
ادھر ضلع زیارت کے علاقے پراسپیکٹ پوائنٹ پر پولیس چوکی پر پہاڑوں سے مسلح افراد نے حملہ کیا۔ ایک مقامی پولیس اہلکار کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت علاقے میں تبلیغی جماعت کے افراد اور پکنک منانے والے شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ فائرنگ کے دوران تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ہلاک جبکہ پولیس کے تین اہلکار زخمی ہو گئے۔
درایں اثناء ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں پولیس کی ایک گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں چار اہلکار معمولی زخمی ہو گئے۔
کراچی میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکہ اور فائرنگ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ واقعہ سنیچر کی شب گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا ہے اور عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
دھماکے کی نوعیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں ابھی تک سرکاری طور پر معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق، سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
ریسکیو کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق اس واقعے میں ابھی تک تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے سی ای او ڈاکٹر عابد جلال، جو اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ رینجرز کا دفتر ہے جہاں پہلے دستی بم پھینکا گیا، جس کے بعد سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اب تک دو رینجرز اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم فائرنگ تاحال جاری ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت کسی کو بھی جائے وقوعہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ واقعے کی نوعیت کا فوری تعین کیا جائے، پولیس بلا تاخیر جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے اور ضروری اقدامات یقینی بنائے۔
شدت پسند گروہ جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ابھی بھی جاری ہے۔
حزب اللہ نے لبنان-اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا، ’اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہے گی‘
،تصویر کا ذریعہIRNA
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ’فریم ورک معاہدے‘ کو مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کے خلاف اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سنیچر کے روز جاری بیان میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ’اس معاہدے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل کیا جانا چاہیے اور اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کرنا ایک ’انتہائی خطرناک تجویز‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ اسرائیلی قبضے کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے اور لبنانی علاقوں کے الحاق کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔‘
ارنا کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان کے خلاف جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے 60 روز میں مکمل انخلا کی ضمانت دی گئی تھی، جبکہ موجودہ معاہدے میں لبنان نے اپنی سفارتی برتری اور مزاحمت کی طاقت کھو دی ہے۔‘
انھوں نے اس معاہدے کو ’ذلت آمیز، شرمناک اور خودمختاری سے دستبرداری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حزب اللہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔‘
تہران کا عراق سے ایران مخالف کرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران نے تہران میں تعینات عراقی سفیر کے ذریعے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران مخالف کرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے مؤثر اقدامات کرے۔
نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق یہ پیغام تہران میں عراق کے سفیر یاسر الحجاج کے ذریعے پہنچایا گیا، جس کی ایک نقل بغداد اور دوسری عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن کی حکومت کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے عراقی حکومت اور کردستان کی مقامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ایران مخالف کرد گروہوں کے رہنماؤں اور ارکان کو ایران کے حوالے کیا جائے یا پھر انھیں ایک مقررہ مدت کے اندر کسی تیسرے ملک منتقل کر دیا جائے۔
تاحال عراقی حکومت، اور کردستان کی مقامی حکومت اور ایران مخالف کرد گروہوں کی جانب سے اس خبر پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران اور عراق نے تین سال سے زائد عرصہ قبل سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے مقصد سے ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
مارچ 2023 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت عراق نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین، بالخصوص عراق کے کردستان ریجن، کو مسلح گروہوں کی جانب سے ایران کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے کے بعد کردستان کی مقامی حکومت نے ایران مخالف بعض کرد جماعتوں کو غیر مسلح کیمپوں میں منتقل بھی کر دیا تھا۔
ادھر گزشتہ روز ایران کے شہر بانے کے نواحی علاقوں میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پاسدارانِ انقلاب سے قریبی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان جھڑپوں میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق جھڑپوں کا ایک اہم مرکز سقز - بانے شاہراہ پر واقع بانے شہر کی داخلی چیک پوسٹ تھی، تاہم اب تک کسی بھی کرد جماعت نے ان واقعات پر تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب حزب حیات آزاد کردستان کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے خودکش ڈرون کے ذریعے بانے کے نواحی گاؤں شیوی کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ اُن کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایسے حملے دوبارہ کیے گئے تو وہ اس کا جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد اور لاہور سمیت مُلک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت لاہور اور ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا اور زلزلے کی گہرائی 178 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
محکمے کے مطابق اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، مانسہرہ، شانگلہ، سوات، چکوال، ایبٹ آباد، ٹیکسلا، ہری پور اور بونیر میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کا جواب فوری اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا: محسن رضائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ نے خطے میں اپنی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائیوں کی پشت پناہی کرکے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
ایکس پر محسن رضائی نے اپنے اس بیان میں مزید کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو ہوا دے کر امریکہ نے نہ صرف پہلی بلکہ پانچویں شق کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کا جواب فوری اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کی 14 نکات میں سے پہلے پیراگراف یا پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔
تاہم جس پانچویں شق کا ذکر محسن رضائی نے کیا ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، بغیر کسی فیس کے۔
اسرائیلی فوج کے ڈرون کی مدد سے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ پر حملے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے سنیچر کے روز خبر دی کہ اسرائیلی ڈرون نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ پر حملہ کیا ہے۔
یہ فضائی حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی ثالثی میں ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری جھڑپوں اور حزب اللہ کے ساتھ سرحد پار فائرنگ کے بعد دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
لبنان اور اسرائیل نے اس معاہدے کو پہلا قدم قرار دیا، جس کے تحت حزب اللہ کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے جبکہ اسرائیلی افواج لبنان سے انخلا کریں گی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس معاہدے پر عملدرآمد کس طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاہدے میں تعاون نہیں کرے گی۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز تنظیم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نامی تنظیم کی جانب سے ایک اعلان سامنے آیا کہ سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کے پل (برج) کو نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ ہے اور خبر جاری ہونے تک کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایک اہم برطانوی فوجی ادارہ ہے جو عالمی سطح پر بحری جہازوں کے راستوں کی نگرانی اور سکیورٹی کی اطلاعات فراہم کرتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اُن کی بحریہ نے ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد، اس کے ایسے راستے سے گزرنے کو جواز بنایا جسے ایران "غیر مجاز" قرار دیتا ہے، اور اسی بہانے ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تاجروں اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا اتوار سے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان, نصیر چوہدری، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں
تاجروں اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں خطے میں جاری ہڑتال
کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں
مرکزی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین گوہر کشمیری اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر اعظم رسول کی جانب سے اعلان کیا گیا
ہے کہ وہ کل سے ہڑتال ختم کرتے ہوئے تمام بازار کھول دیں گے۔
یاد رہے کہ نو جون سے کالعدم قرار
دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر خطے میں مکمل ہڑتال جاری تھی، جس
کے باعث کاروباری مراکز بند تھے جبکہ ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی۔
ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر اعظم رسول کا کہنا تھا کہ ’کل یعنی بروز اتوار سے ہر قسم کی ہڑتال ختم کر کے ٹریفک کو معمول کے مطابق کھول دیا جائے گا۔‘
،تصویر کا کیپشندائیں جانب مرکزی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین گوہر کشمیری اور بائیں جانب اعظم رسول صدر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن
دوسری جانب مرکزی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین گوہر کشمیری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آج سب تاجروں سے درخواست کی ہے کہ بازار اور دکانیں کھولیں تاکہ زندگی معمول کی جانب واپس آ سکے۔‘
دونوں رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ’کالعدم قرار دی گئی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی اب عملی طور پر اپنی حیثیت کھو چکی ہے، اسی لیے تاجر اور ٹرانسپورٹر اس کا حصہ نہیں رہیں گے۔‘
انھوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں انٹرنیٹ کو بحال کیا جائے، بنکوں کو کھولا جائے اور پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بحرین کی ایرانی ڈرون حملوں کی مذمت
بحرین کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے خبر سامنے آئی ہے کہ ’بحرین نے سنیچر کے روز اپنی سرزمین پر ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔‘
بحرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ’ملک کو اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔‘
دوسری جانب ایران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے خطے میں امریکی افواج سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس نے نہ تو ان اہداف کی تفصیلات جاری کیں اور نہ ہی ان کے مقام کی نشاندہی کی۔
ناکام امریکی صدر کو نہ مذاکرات کے اصولوں کا احساس ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام: ابراہیم عزیزی
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ’ناکام امریکی صدر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں۔‘
ابراہیم عزیزی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔‘ ان کے بقول ’ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ انھیں نہ تو مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی پاسداری کا کوئی احساس۔ جنگ بندی کی یہ لاپرواہ خلاف ورزی، ہمیشہ کی طرح، بالآخر ان کے لیے پسپائی اور ندامت کا باعث بنے گی۔ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔‘
انھوں نے یہ بیان ’سنیچر کی صبح اس وقت جاری کیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر چار خودکش ڈرون حملے کیے اور ایران پر دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ یہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی۔ مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور ملک پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق کسی جامع معاہدے تک پہنچنا بھی ہے۔
امریکی حملے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کا کہنا ہے
کہ امریکی حملے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ
کی جانب سے جاری ایک بیان
میں کہا گیا ہے کہ ایران کی ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر امریکی حملہ نہ صرف اقوامِ متحدہ کے
چارٹر کے آرٹیکل دو کی شق چار کی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ 18 جون کو جنگ کے خاتمے سے
متعلق مفاہمتی یادداشت کی شق 1 کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ کا
کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اُن
تمام فریقوں پر عائد ہوتی ہے جو کسی بھی طرح ایران کے خلاف امریکہ کی جارحانہ
کارروائیوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
بعد ازاں پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ’حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔‘
سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 25 اور 26 جون کو بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق 25 جون کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ’کارروائی کے نتیجے میں انڈین حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین شدت پسند ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے 26 جون کو ضلع مستونگ میں ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاعات پر پیشگی بنیاد پر انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خودکش بمبار سمیت پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے زیرِ استعمال اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید کسی بھی شدت پسند کی موجودگی کا امکان ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں خوارجیوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔‘