آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خاران میں مسلح حملہ آوروں کا پولیس اور سی ٹی ڈی تھانوں پر حملہ، عمارتوں کو نقصان، پانچ افراد زخمی

لوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے سٹی پولیس سٹیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے پر حملہ کر کے عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے بعض حصوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دیے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبے کا اعلان، حماس غیر مسلح ہونے پر راضی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ’غیر مسلح ہونے‘ کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔

    حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی تنظیم غزہ میں مکمل غیر مسلح ہونے کے بورڈ آف پیس کے منصوبے سے متفق ہے اور اس بارے میں جلد ایک باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے تاحال اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان تنظیموں کے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہونے پر غزہ سے اپنی افواج واپس بلا لے گا۔ انھوں نے اس معاہدے کو ’غزہ کے بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے تحت انتظام چلائے جانے کی جانب ایک اہم قدم‘ قرار دیا۔

    امریکہ کی ثالثی میں تیار کیے گئے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حماس کا غیر مسلحی ہونا شامل ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو بھی شامل ہے۔

  2. کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں حادثے کے بعد 34 لاشیں نکال لی گئیں: مینیجر آپریشنز پی ڈی ایم اے

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں پیش آنے والے حادثے کے باعث مارے جانے والے 34 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    گذشتہ روز اس علاقے میں پیش آنے والا حادثہ جانی نقصان کے حوالے سے بلوچستان میں رواں سال کے دوران کوئلہ کانوں میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے جمعہ کی صبح بتایا کہ مزید دو کانکنوں کی لاشوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ حادثے کی شفاف انکوائری کر کے اس حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق کانکنوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

    سورینج کہاں واقع ہے؟

    سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔

    سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

    دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں، جن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں کانکن اور مزدور وابستہ ہیں۔

    سینئر مزدور رہنما لالا سلطان کا کہنا ہے کہ سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے اور ٹھیکیداری کے نظام کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی کانوں حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے ان حادثات میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ۔

  3. ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے معاونتی نیٹ ورک پر امریکی پابندیاں

    امریکی وزارتِ خزانہ نے جمعرات کے روز چھ افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں جن کا تعلق فضائی کمپنی ’ماہان ایئر‘ سے ہے۔ واشنگٹن اس ایئرلائن پر پاسدارانِ انقلاب کی سرگرمیوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے۔

    نئی پابندیوں کا نشانہ ایک چینی شہری کے علاوہ چین، روس، ایران اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم کمپنیاں بھی بنی ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا: ’جو افراد پاسدارانِ انقلاب یا ماہان ایئر کو مالی، لاجسٹک یا تجارتی خدمات فراہم کرتے ہیں، وہ ایک شدت پسند تنظیم کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ ایسے افراد کی نشان دہی اور انھیں بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی ختم کرنے کا عمل جاری رکھے گی۔‘

    ماہان ایئر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سویلین فضائی کمپنی کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی پروازیں چلاتی ہے، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنی پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو سفری خدمات فراہم کرتی ہے اور ان کے لیے اسلحے کی منتقلی میں کردار ادا کرتی ہے۔

    تہران مسلسل ماہان ایئر اور سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرتے رہے ہیں۔

  4. سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان

    سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق جمعرات کو سعودی عرب نے ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ ہے۔

    یہ اقدام یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک میں خلل پیدا کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی، جس میں مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہو گا، جبکہ اس کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

    سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد بحری سلامتی کو مضبوط بنانے، جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی راہداریوں کو محفوظ بنانے اور باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔

    سعودی عرب کی وزارت وزارت کے مطابق ترکی، پاکستان، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مجوزہ اتحاد کی حمایت کی ہے۔ خلیج کے چھ عرب ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس بیان کی حمایت کی۔

  5. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔