آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خاران میں مسلح حملہ آوروں کا پولیس اور سی ٹی ڈی تھانوں پر حملہ، عمارتوں کو نقصان، پانچ افراد زخمی

لوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے سٹی پولیس سٹیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے پر حملہ کر کے عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے بعض حصوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دیے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اب تک کی اہم خبریں

    بی بی سی کے لائیو پیج میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر صبح سے اب تک کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔

    • ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر ذوالقدر نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ’آبنائے ہرمز پر لگائی گئی پابندی مزید سخت ہو جائے گی‘ اور اس کے نتیجے میں دیگر اہم آبی گزرگاہیں اور تجارتی راستے بھی بند ہو سکتے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔‘
    • یمن کے حوثیوں کے زیرِ انتظام میری ٹائم کوآرڈینیشن باڈی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ گروہ باب المندب کی آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
    • ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس ’حقیقی معنوں میں ہتھیار نہیں ڈالتی‘، اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ادھر حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا انخلا کسی بھی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ’بنیادی شرط‘ ہے۔
    • بی بی سی ویریفائی کی تحقیقات کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں کئی عرب ممالک میں امریکہ سے منسلک فوجی اڈوں اور شہری تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ تہران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
    • کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آج صبح سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’دشمن ڈرونز‘ کا سراغ لگا کر انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کویتی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شہری اگر کسی دھماکے کی آواز سنیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔‘
  2. ہم نے دشمن ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے: کویتی فوج کا دعویٰ

    کویتی فوج نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے آج صبح سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’دشمن ڈرونز‘ کا سراغ لگا کر انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔

    کویتی فوج کے مطابق ایک ’ایرانی حملے‘ میں ملک کی متعدد اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    فوج نے بتایا کہ شمالی کویت میں واقع ایک سرکاری تنصیب اور بوبیان جزیرے پر ایک کمپنی سے منسلک شہری مقامات کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے اور ٹکڑوں سے کچھ نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  3. مراکش سے سپین میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 60 ہزار افراد کے ذمہ دار انسانی سمگلر ہیں: وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز

    ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے مراکش سے سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں تقریباً 60 ہزار افراد کے غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے بعد اس واقعے کا ذمہ دار انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کو قرار دیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بڑی نقل مکانی کے دوران کم از کم 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پیڈرو سانچیز نے اس واقعے کو ’سپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جبکہ اٹلی نے ردعمل میں سپین کے ساتھ یورپی یونین کے شینگن معاہدے کے تحت سرحدی آمدورفت کی سہولت عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    یہ پیش رفت سپین کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سیوٹا یا سپین کے ایک اور علاقے میلیلا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں روکے جانے والے تارکینِ وطن کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

    سپین میں حکام کے مطابق جمعے کی شام تک 48 ہزار سے زیادہ افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے تھے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے واپس جانے والے ایک شخص نے کہا کہ ’یہ بالکل بھی اچھا نہیں اور نہ ہی کوئی خوشگوار تجربہ ہے۔ لوگ یہاں مر رہے ہیں۔ میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ ابھی تک نہیں آئے تو مت آئیں، ایسا ہرگز نہ کریں۔‘

    شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع سیوٹا آبنائے جبرالٹر کے ذریعے سپین کے مرکزی علاقے سے الگ ہے۔ یہ طویل عرصے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم راستہ رہا ہے۔ گرمیوں کے مہینوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے منظم کیے جانے والے ایسے سفر میں عموماً اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

    مراکش سیوٹا اور سپین کے ایک اور علاقے میلیلا پر اپنا دعویٰ بھی رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں علاقے کئی برسوں سے سپین اور مراکش کے درمیان سفارتی کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ یہ یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں بھی ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں سرحد عبور کرنے کی کوششوں میں اضافے کے بعد مقامی حکام نے میڈرڈ سے مدد کی اپیل کی تھی، تاہم جمعرات کے روز سرحدی انتظامات بظاہر ناکام ہونے کے بعد علاقے میں افراتفری کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

  4. بلوچستان میں تخریب کاری کے خدشے کے پیشِ نظر نائٹروجن سے بنی کھاد کی نقل و حمل پر پابندی عائد, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    تخریب کاری کے مقاصد کے لیے استعمال کے خدشے کے پیش نظر بلوچستان میں 15یوم کے لیے نائٹروجینیس کھادوں یعنی نائٹروجن سے بنی کھاد کی نقل و حمل پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ جنرل زراعت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے مطابق ’امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے بلوچستان کے تمام اضلاع میں نائٹروجینیس فرٹیلائزرز کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘

    حکمنامے کے مطابق یہ فیصلہ نائٹروجینیس فرٹیلائزرز کے دھماکہ خیز مواد کی تیاری اس میں ممکنہ استعمال اور تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ پابندی آئندہ احکامات تک نافذ العمل رہے گی۔

    حکمنامے کے مطابق نائٹروجینیس فرٹیلائزرز، جن میں یوریا، کیلشیم امونیم نائٹریٹ، امونیم نائٹریٹ اور پوٹاشیم نائٹریٹ شامل ہیں کی فروخت، خریداری، سپلائی اور تقسیم فوری طور پر بند کر دی گئی ہے۔

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ پابندی کی مدت مکمل ہونے کے بعد مجاز اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو آئندہ کے لائحہ عمل سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا اور حکومت بلوچستان اس دوران ان کھادوں کی فروخت، خریداری، سپلائی اور تقسیم کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے ایس او پیز مرتب کرے گی۔

    حکمنامے کے مطابق احکامات تک تمام موجودہ سٹاک کا مکمل ریکارڈ اور انوینٹری برقرار رکھنا لازم ہوگا۔

  5. قطر تین ایرانی پائلٹس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے: ایرانی فوج کے ترجمان

    ایرانی فوج کے ترجمان امیر محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ’قطر ان تین ایرانی پائلٹس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے جو رواں سال مارچ میں قطری فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے بعد لاپتا ہو گئے تھے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امیر محمد اکرمینیا نے کہا کہ ’ہماری تحقیقات اب بھی جاری ہیں، لیکن قطر ان تینوں پائلٹس کے بارے میں لاعلمی کا دعویٰ کر رہا ہے۔‘

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق 11 مارچ 2026 کو ایرانی فضائیہ کے دو سوخو-24 جنگی طیاروں نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر حملہ کیا تھا، تاہم واپسی کے دوران خلیج فارس کے اوپر قطری فضائی دفاعی نظام نے ان طیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔‘

    رپورٹس کے مطابق ان طیاروں میں سے ایک کے پائلٹ میجر مجید کاظمی کی لاش حال ہی میں ایران واپس لائی گئی ہے، جبکہ دیگر تین ایرانی پائلٹس کے بارے میں اب تک کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

  6. تجارتی جہاز بحفاظت بحیرۂ احمر عبور کر گیا: یورپی یونین کے بحری سکیورٹی مشن کا دعویٰ

    یورپی یونین کے بحری سکیورٹی مشن ایسپائیڈیز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اطالوی جنگی بحری جہاز برگامینی کی حفاظت میں ایک تجارتی جہاز بحفاظت بحیرۂ احمر عبور کر گیا ہے۔‘

    ایسپائیڈیز نے سنیچر کے روز جاری بیان میں جہاز کے پرچم، ملکیت یا اس کے سامان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور بعد ازاں سعودی جہازوں پر حملوں کے بعد حالیہ ہفتوں میں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔

    اس صورتِ حال نے تجارتی بحری آمدورفت کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایسپائیڈیز یورپی یونین کا ایک بحری سکیورٹی مشن ہے، جسے فروری سنہ 2024 میں بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

  7. مُلک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے: کویتی فوج کا دعویٰ

    کویت کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ملک کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے کیے گئے ’ڈرون حملوں‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

    کویتی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شہری اگر کسی دھماکے کی آواز سنیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔‘

    فوج کی جانب سے اسی بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    کویتی فوج نے اپنے بیان میں ان حملوں کو ایران کی جانب سے کی گئی ’جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

  8. عمان کے قریب ایک اور آئل ٹینکر کے قریب دھماکے کی اطلاعات

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے عمان کے علاقے خصب کے قریب ایک اور آئل ٹینکر کے قریب دھماکے کی اطلاع دی ہے۔

    ادارے کے مطابق سنیچر کے روز اسے اطلاع موصول ہوئی کہ عمان کے خصب سے تقریباً 34 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک آئل ٹینکر کے کپتان نے اپنے جہاز کے قریب پانی کا ایک بڑا چھینٹا اٹھنے اور دھماکے کی آواز سننے کی اطلاع دی۔

    میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اب تک جہاز کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اس سے قبل بھی برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے بتایا تھا کہ عمان کے علاقے لیما سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران اور عمان کے اطراف سمندری حدود میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب متعدد تجارتی جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ امریکہ نے بھی خطے میں بحری افواج تعینات کی ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

  9. خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ہم نے لوگوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی: قالیباف کا دعویٰ

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ابتدائی گھنٹوں میں حکام نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی رابطہ کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے 29 مارچ کو علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کے واقعات کی تفصیلات بیان کیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد 29 مارچ کی رات آٹھ بجے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس خبر کا اعلان اگلے روز صبح آٹھ بجے کیا جائے گا۔‘

    تاہم قالیباف کے مطابق بیرونِ ملک ذرائع ابلاغ کی جانب سے علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کیے جانے کے بعد حکام کو یہ اعلان مقررہ وقت سے پہلے کرنا پڑا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’یہ فیصلہ ان کے اور اس وقت کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے درمیان مشاورت سے کیا گیا تھا۔ طے یہ پایا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کی ہلاکت کی خبر ’صبح سویرے، اس وقت دی جائے گی جب لوگ ناشتے کی میز پر ہوں گے۔‘

    قالیباف نے مزید کہا کہ ’اسی وقت یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس اعلان کے ذریعے عوام سے ’سڑکوں پر نکلنے‘ کی اپیل کی جائے گی۔‘

  10. اسرائیلی فوج کا نابلس کے شمال میں واقع قصبے عصیرہ الشمالیہ میں چھاپہ، متعدد گھروں کی تلاشی

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فوج نے سنیچر کی علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے شمال میں واقع قصبے عصیرہ الشمالیہ میں کارروائی کرتے ہوئے درجنوں گھروں پر چھاپے مارے۔

    سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے وفا نے بتایا کہ ’اسرائیلی فوج قصبے کے مختلف علاقوں میں داخل ہوئی اور متعدد گھروں کی تلاشی لی۔‘

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے متعدد فلسطینی شہریوں کو ایک گھر میں جمع کر کے اسے عارضی فیلڈ تفتیشی مرکز میں تبدیل کر دیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

    وفا کی رپورٹ میں فوری طور پر کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

    تاہم دوسری جانب فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق جمعہ کی شب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک فلسطینی ہلاک جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے۔

    وفا کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے غزہ شہر کے جنوب میں واقع صبرہ محلے میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی ہلاک ہو گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک اور اسرائیلی حملہ نصیرات پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں واقع ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جس میں 10 فلسطینی زخمی ہوئے۔

    وفا کے مطابق زخمیوں کو علاج کے لیے العودہ میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

  11. خلیج اور اردن میں ایرانی حملوں سے امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے نئے شواہد سامنے آئے ہیں: بی بی سی ویریفائی, احمد نور، شیری ہان الاخرس اور مارک ایلیسن، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی تحقیقات کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں کئی عرب ممالک میں امریکہ سے منسلک فوجی اڈوں اور شہری تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ تہران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی کی تحقیقاتی ٹیم نے 12 جولائی 2026 سے شروع ہونے والی نئی کشیدگی کے بعد کویت، بحرین، عراق اور اردن میں کم از کم نو فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد کی نشاندہی کی ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ 12 جولائی کے بعد ان مقامات پر نقصانات کے نئے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون سنہ 2026 میں کہا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں ’تباہ‘ ہو چکی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ ان ویڈیوز سے کیا جن کی اصلیت اور مقام کی تصدیق کی جا چکی تھی۔ اس کے علاوہ سرکاری بیانات اور ایرانی حکام کے دعووں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    تحقیقات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی کشیدگی کے آغاز کے بعد بھی ایران خطے میں امریکہ سے منسلک فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کچھ صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کی ٹیم نے اس دوران متعدد گمراہ کن ویڈیوز کی بھی نشاندہی کی، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی تصاویر ہیں۔

    تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض ویڈیوز پرانی تھیں، جبکہ کچھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی تھیں۔

  12. عمان کے قریب آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے: یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانیہ کی بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز‘ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عمان کے شہر لیما سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    جہاز کے مالک کمپنی کے سکیورٹی افسر کے مطابق حملے میں ٹینکر کے انجن روم کو نقصان پہنچا ہے جس کے بعد جہاز اپنی سمت برقرار رکھنے اور سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

    حکام کے مطابق علاقے کی کوسٹ گارڈ کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    اب تک کسی جانی نقصان یا سمندر میں آئل ٹینکر سے تیل کے رساؤ کی اطلاع نہیں ملی۔

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اس علاقے سے گزرنے والے تمام جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور عمان کے اطراف سمندری کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب متعدد تجارتی جہازوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ امریکہ نے خطے میں اپنے بحری دستے تعینات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آئل ٹینکر پر حملے کس نے کیا ہے۔

  13. حماس کے مکمل طور پر ’ہتھیار ڈالنے‘ تک غزہ سے فوج کا انخلا ممکن نہیں: اسرائیل

    ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس ’حقیقی معنوں میں ہتھیار نہیں ڈالتی‘، اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

    دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ ’وہ اپنے بھاری ہتھیار صرف اس صورت میں حوالے کرے گی جب اسرائیل غزہ میں ’ہر قسم کی جارحیت‘ ختم کرے اور اپنی تمام افواج واپس بلا لے۔‘

    یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ’مکمل غیر مسلح ہونے‘ کے معاہدے تک پہنچ گیا ہے۔‘

    جمعے کے روز کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے پر اسرائیل ’بہت خوش‘ ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ’ایک بڑا قدم‘ قرار دیا۔ تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس مسودے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

    یہ معاہدہ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔

    گزشتہ سال ستمبر میں پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام، حماس کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو جیسے نکات شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس کے ساتھ طے پانے والی تازہ تجویز پر ان کی اسرائیل کے ساتھ ’باہمی اعتماد‘ موجود ہے اور حماس کے ہتھیار بورڈ آف پیس کے حوالے کیے جائیں گے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حماس پہلے ہتھیار ڈالے گی یا اسرائیلی فوج پہلے غزہ سے واپس جائے گی، تو انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’غزہ کی صورتِ حال ’انتہائی پیچیدہ‘ ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے تاحال اس تازہ تجویز پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔

    تاہم ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ ’حماس کے حقیقی معنوں میں غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ میں اپنی موجودہ ’ییلو لائن‘ پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔‘

    ییلو لائن غزہ کے اندر وہ حد بندی ہے جہاں گزشتہ سال امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیل نے اپنی افواج منتقل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    اس معاہدے کے مطابق اسرائیل کو عارضی طور پر ییلو لائن کے پیچھے واقع علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنا تھا، جو غزہ کے تقریباً 53 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اسرائیلی فوج غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے،‘ جبکہ مئی میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی ہدایت 70 فیصد علاقے تک پیش قدمی کی تھی۔

    ادھر حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا انخلا کسی بھی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ’بنیادی شرط‘ ہے۔

    تنظیم نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت بھی اس معاہدے کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

  14. عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون 'ناقابلِ قبول' قرار

    ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے میں تعاون کو، چاہے وہ ماضی کے دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ’کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے کسی ریاست کی سرزمین یا تنصیبات کے استعمال کی اجازت دینا بین الاقوامی قانون کے تحت ’جارحیت‘ تصور کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں نشانہ بننے والے ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ’برطانیہ ایران کے ساتھ کسی جنگ کا حصہ نہیں ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارت کاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔‘ تاہم برطانوی حکومت یا خود ایڈ ملی بینڈ نے تاحال اس ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیلات الگ سے جاری نہیں کی ہیں۔

    ایڈ ملی بینڈ نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کے بعد ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔‘

  15. حوثیوں کی باب المندب سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کی تردید

    یمن کے حوثیوں کے زیرِ انتظام میری ٹائم کوآرڈینیشن باڈی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ گروہ باب المندب کی آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    ادارے نے سنیچر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت بدستور مفت ہے۔‘

    یہ ردعمل اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے بدھ کے روز علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک سعودی عرب کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد جنوبی بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے پر غور کر رہی ہے۔

  16. صدر ٹرمپ کی ایران پر شدید حملوں کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔‘

    جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم انھیں بڑی شدت سے نشانہ بنائیں گے اور بالآخر وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ اب ہم مزید یہ برداشت نہیں کر سکتے۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس تنازع کا خاتمہ نظر نہیں آ رہا اور دونوں جانب سے ایک بار پھر جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    اے ایف پی نے اس سے قبل اپنے ایک تجزیے میں لکھا تھا کہ ’پانچ ماہ کی جنگ کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش نہیں کر سکے اور ان کے پاس دستیاب اختیارات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔‘

    خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فضائی حملے اب تک ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ نے امریکی صدر کو ایک پیچیدہ مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔‘

  17. امریکی حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز پر پابندی مزید سخت ہو جائے گی: ایران

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر ذوالقدر نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ’آبنائے ہرمز پر لگائی گئی پابندی مزید سخت ہو جائے گی‘ اور اس کے نتیجے میں دیگر اہم آبی گزرگاہیں اور تجارتی راستے بھی بند ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’ایسی صورتِ حال کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور امریکی ووٹروں تک پہنچیں گے۔‘

    بی بی سی فارسی کی جانب سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا اور سکیورٹی اداروں سے قریبی ذرائع ابلاغ نے ایک گمنام سینئر سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کے جواب کے لیے ایک ’وسیع منصوبہ‘ تیار کر رکھا ہے۔

    اس اہلکار نے ’امریکی ذرائع ابلاغ میں ایران کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متعلق خبروں کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے حملے کیے گئے تو ایران کے ردعمل میں اسرائیل کے اہم بنیادی ڈھانچے اور خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

  18. پاکستان کا غزہ میں قیام امن کے منصوبے پر ’پیشرفت‘ کا خیرمقدم

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان ’غزہ امن منصوبے کے تحت تخفیفِ اسلحہ پر عملدرآمد کے لیے بورڈ آف پیس کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘

    ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’اس پیش رفت کے حصول کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک، جن میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ شامل ہیں، خصوصی ستائش کے مستحق ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت میں یہ بورڈ آف پیس کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔‘

    پاکستان نے یہ امید ظاہر کی کہ اس پیشرفت کے ساتھ ’غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔‘

    ’پاکستان یہ بھی امید کرتا ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کا باعث بنیں گی۔‘

  19. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: کولگام میں مزدوروں پر فائرنگ سے ایک ہلاکت, ریاض مسرور، بی بی سی اردو/سرینگر

    انڈیا کے زیر انتظامِ زیرِ کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام میں پولیس حکام کے مطابق جمعے کی شام نامعلوم مسلح افراد نے غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

    حکام کے مطابق یہ حملہ کولگام کے کیلم علاقے میں واقع ایک اینٹوں کے بھٹے پر اس وقت ہوا جب وہاں موجود مزدور کام میں مصروف تھے۔

    ان کے بقول مبینہ شدت پسندوں نے اچانک مزدوروں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں اور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے فوری بعد دونوں زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 36 گڑھ سے تعلق رکھنے والا دیپک نامی مزدور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    دوسرے زخمی مزدور کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    واقعہ کے فوراً بعد انڈین فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ وادی کشمیر کے جنوبی خطے میں گذشتہ چند دنوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    وادی میں غیر مقامی مزدوروں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

  20. ایران کی فوجی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے: ٹرمپ

    کیمپ ڈیوڈ میں نامہ نگاروں کی موجودگی میں کابینہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی مسلح افواج میں جدید کاری اور سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور ایران کی فوجی صورتحال کو ’انتہائی سنگین‘ قرار دیا۔

    ایران کے خلاف جنگ کے پانچویں مہینے میں داخل ہونے کے تناظر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائی اور بحری افواج تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی میزائل صلاحیت، جبکہ ڈرون اور میزائل سازی کی صلاحیت بھی ’تقریباً ختم‘ ہو چکی ہے۔

    ایک اور خطاب میں ٹرمپ نے ہسپانوی ساحلوں پر پہنچنے والے ہزاروں تارکینِ وطن کی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے اس صورتحال کو ’حملہ‘ قرار دیا۔ انھوں نے ہسپانوی حکومت کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کی اور امریکہ کو ’زمین پر سب سے محفوظ مقام‘ قرار دیا۔

    اگرچہ ٹرمپ نے ابھی تک کسی ممکنہ امن معاہدے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حماس کی جانب سے مشروط تخفیفِ اسلحہ کی پیشکش پر بات کرتے ہوئے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    روبیو نے کہا، ’بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا، لیکن یہ ہونا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اس پر اتفاق کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک حقیقی اور قابلِ حصول ہدف ہے۔‘

    اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین نہیں کہ مینیسوٹا کے پانی کی فراہمی کے نظام پر ہونے والے سائبر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔