آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 650 سے زائد: لاشوں کو محفوظ رکھنا مشکل، مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین شروع

نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 2,498 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ 219 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. نیپال میں فوجی اڈے پر پریشان حال خاندانوں اور امدادی حکام کی بڑی تعداد جمع

    نیپال کے ضلع نوواکوٹ میں موجود بی بی سی کے صحافیوں نے بتایا ہے کہ اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ایک فوجی اڈے پر جمع ہیں۔

    بی بی سی نیپالی کے ساتھیوں نے موقع کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔

    ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اپنے پیاروں کی تلاش میں رشتہ دار بے چینی کے عالم میں جمع ہیں، جبکہ ہیلی کاپٹر زمین پر موجود ہیں اور بعض اوپر پرواز بھی کر رہے ہیں۔

    تصاویر میں یونیفارم میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اس وسیع امدادی اور تلاش کی کارروائی کو منظم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

  2. تباہی کی شدت کے باعث لاشوں کی شناخت بڑا چیلنج بن گئی, کٹھمنڈو سے بی بی سی نیوز کی نمائندہ آزادہ مشیری

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سب سے بڑا چیلنج ہلاکتوں کا شکار ہونے والوں کی شناخت ہے، کیونکہ آفت کا دائرہ اور تباہی کی شدت بہت زیادہ ہے۔

    میں اس وقت کٹھمنڈو کے ایک مردہ خانے کے باہر موجود ہوں، جہاں حکام نے داخلی دروازوں کے دونوں جانب برآمد ہونے والی لاشوں کی تصاویر آویزاں کر رکھی ہیں تاکہ لواحقین آ کر اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔

    یہ تصاویر انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ان میں مردہ خانے میں موجود لاشوں یا ان کے ملنے کے وقت کی تصاویر شامل ہیں، جن میں بعض بچوں اور شیرخواروں کی تصاویر بھی ہیں۔

    ان تصاویر کی مدد سے شناخت کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ لوگ اپنے موبائل فون اٹھائے تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان میں ان کے عزیز شامل ہیں یا نہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    دوسری جانب ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

  3. نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی

    نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 2,498 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ 219 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق امدادی اور تلاش کی کارروائیوں کے لیے 18,700 سے زائد امدادی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

  4. عالمی حدت سے ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں, نوین سنگھ کھڈکا، بی بی سی ورلڈ سروس کے ماحولیاتی نامہ نگار

    اس تباہ کن سیلاب کا سبب بننے والے گلیشیئر کے انہدام میں موسمیاتی تبدیلی نے کتنا کردار ادا کیا، اس بارے میں آئندہ دنوں میں تفصیلی اور ہدفی تحقیقات سے زیادہ واضح معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

    تاہم ایک بات پہلے ہی معلوم ہے کہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئرز، برفانی میدانوں، برف کے ذخائر اور مستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئرز کا پتلا ہونا اور پیچھے ہٹنا نہ صرف ان کے ٹوٹنے یا منہدم ہونے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ اس سے برفانی جھیلیں بھی تیزی سے بھر جاتی ہیں، جو بعد میں پھٹ کر تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ برف اور برفانی تہیں پہاڑی ڈھلوانوں کو اسی طرح سہارا دیتی ہیں جیسے سیمنٹ عمارتوں کو مضبوط رکھتا ہے۔ جب یہ برف تیزی سے پگھلتی ہے تو پہاڑ غیر مستحکم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں چٹانیں گرنے، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور ملبے کے سیلاب جیسے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہندوکش۔ہمالیہ خطے میں حالیہ برسوں میں ایسے واقعات زیادہ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے پہاڑوں کی زیادہ بلندی والی جگہوں پر اب برف باری کے بجائے بارش ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جو پہاڑی ڈھانچے کو مزید غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔

    مارچ میں انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیویلپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس خطے میں برف کے ضیاع کی شرح سنہ 2000 کے بعد سے دوگنی ہو چکی ہے۔

  5. نیپال سیلاب: لاشوں کو محفوظ رکھنا مشکل، مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین شروع

    نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے تاکہ لواحقین بعد میں انہیں تلاش کر سکیں۔

    بھوٹیکوشی اور ترشولی ندیوں میں آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنا مشکل ہونے کے باعث مختلف اضلاع میں اجتماعی تدفین کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ صحت اور فوڈ ہائیجین کے مشترکہ ترجمان ڈاکٹر سمیر کمار ادھیکاری کے مطابق لاشوں کی تدفین اور انتظام کا کام قومی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ چتوان اور مشرقی نوالپاراسی میں یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ اسی طرح رسووا، نواکوٹ، تناہون، کاسکی، گورکھا اور دیگر اضلاع میں بھی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور انتظام کیا جا رہا ہے۔‘

  6. تبت میں تباہ کن سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی کی تصاویر اب سامنے آ رہی ہیں

    چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں آنے والے طوفانی سیلاب کے بعد کی ویڈیوز جاری کی ہیں، جن میں امدادی اور ریسکیو کارکنوں کو کیچڑ اور ملبے کے درمیان لاپتہ افراد کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق امدادی ٹیمیں جمعے کی دوپہر گیئرونگ کے متاثرہ علاقے میں پہنچیں۔ امدادی کارکنوں کو وہاں پہنچنے کے لیے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا شکار ندی نالوں کو عبور کرنا پڑا۔

    لہاسا فائر اینڈ ریسکیو ٹیم کے رکن ژاؤ منگ چی نے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علاقے کی صورتحال کو ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’سرحدی چوکی کے قریب پورا علاقہ دلدلی کیچڑ سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہاں قدم رکھتے ہی پاؤں کیچڑ میں دھنس جاتے تھے۔‘

    تبت میں آنے والے اس سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 554 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ حکام سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔

  7. زلفی بخاری کا سی این این کو انٹرویو: عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی وضاحت میں کیا کہا گیا؟

    سی این این نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا انٹرویو نشر کیا ہے، جس میں انھوں نے عمران خان کی صحت، 18 اگست کو ہسپتال منتقلی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد، طبی ریکارڈ تک رسائی اور 16 ستمبر کو ہونے والی سماعت سے متعلق مختلف خدشات کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکومت نے ایک تفصیلی ردعمل دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت نے زلفی بخاری کے انٹرویو کے بعد یہ جواب اسے بھی بھیجا ہے۔

    سی این این کی میزبان بیکی اینڈرسن کے ساتھ انٹرویو میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تو آزاد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کو عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرنے اور ان کی میڈیکل رپورٹس تک رسائی کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم اپنے والد کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ کرکٹ کی دنیا کی متعدد معروف شخصیات نے بھی ان کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    زلفی بخاری کے مطابق ہسپتال منتقلی کے وقت عمران خان نے اپنی بہن سے کہا تھا، ’وہ مجھے آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی ان کا منصوبہ ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل نہ کیے جانے اور ان کے طبی معاملات میں مکمل شفافیت نہ ہونے سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔

    اس کے ردعمل میں حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چند غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے ایک مخصوص سزا یافتہ قیدی (عمران خان) کے بارے میں گمراہ کن رپورٹس نشر کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب سمجھا گیا ہے کہ اس معاملے پر متعلقہ اداروں کے ساتھ پہلے سے شیئر کیا گیا حکومتی مؤقف عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔‘

    بیان کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف حوالہ اور ریکارڈ فراہم کرنا ہے بلکہ اس امر کو بھی اجاگر کرنا ہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت دانستہ طور پر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔

    حکومت نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے حقائق پر مبنی جو نکات وار جواب پہلے ہی متعلقہ اداروں کو فراہم کیا جا چکا ہے، اسے یہاں من و عن دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قید پاکستان جیل رولز، عدالتی ہدایات اور ایک اہم سیاسی شخصیت کے لیے درکار سکیورٹی انتظامات کے مطابق ہے۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی مسترد کیا گیا کہ انھیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے یا بنیادی سہولتوں سے محروم کیا گیا ہے۔

    حکومت کے مطابق عمران خان کو ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد اور ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل ہے۔ انھیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کی سہولت اور مناسب غذائی انتظامات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ان کی رہائش سات سیلوں پر مشتمل علیحدہ حصے میں ہے جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولتیں موجود ہیں۔

    حکومت نے کہا کہ جیل ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دورانِ قید تقریباً 198 ملاقاتیں ہوئیں جن میں 900 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان افراد میں خاندان کے ارکان، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی رہنما اور دیگر منظور شدہ افراد شامل تھے۔ حکومت کے مطابق عمران خان کی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی دی گئی جبکہ آخری ریکارڈ شدہ ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے پاکستان اور بیرونِ ملک اپنے اہلِ خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ رکھا، جس میں 21 مارچ 2026 کو ان کے ایک بیٹے سے ہونے والی گفتگو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست 2026 کو ان کی بہنوں سے ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

    حکومت نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ بیان کے مطابق دورانِ قید ان کا تقریباً 30 مرتبہ ماہر ڈاکٹروں اور میڈیکل بورڈز نے معائنہ کیا، جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ماہرین شامل تھے۔

    حکومت کے مطابق ریٹینا کی بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، ریٹینا امیجنگ، ادویات اور فالو اپ علاج فراہم کیا گیا۔ مختلف طبی جائزوں، جن میں جولائی 2026 اور 21 اگست 2026 کے معائنے بھی شامل ہیں، میں ان کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا۔

    بیان میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا انٹرویو کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عمران خان ’سو فیصد فٹ‘ ہیں، ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق ہے اور ان کی آنکھ کا مسئلہ بھی تقریباً ٹھیک ہو چکا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ تمام طبی معائنے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کیے گئے اور متعلقہ انتظامی اقدامات بھی مکمل کیے گئے۔ حکومت نے زور دیا کہ صحت کے معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور اس معاملے کا جائزہ طبی ریکارڈ اور عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت اور وکلا کو ہدایت کی تھی کہ مزید کارروائی تک عمران خان کی صحت یا طبی رپورٹس میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔ حکومت کے مطابق ایک قیدی کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور اس کی خفیہ طبی معلومات کو سیاسی مہم کا حصہ بنانے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

    حکومت نے عمران خان کے بیٹوں سے متعلق تاثر پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے پاس نائیکوپ موجود ہے، جو پاکستان میں داخلے کے لیے قابلِ قبول سفری دستاویز ہے، اور وہ جب چاہیں ملک آ سکتے ہیں۔ تاہم جیل میں ملاقات کا معاملہ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی طریقۂ کار کے تحت طے ہوتا ہے۔

    حکومت نے آخر میں سی این این پر زور دیا کہ آئندہ رپورٹنگ میں سرکاری ریکارڈ، طبی دستاویزات اور حراست سے متعلق حقائق کو مدِنظر رکھا جائے اور ان میں موجود معلومات اور سیاسی نوعیت کے دعووں کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔

  8. کردستان کے علاقے میں تیل کی پیداوار دوبارہ شروع ہو گئی ہے: عراقی وزیر برائے قدرتی وسائل

    عراق کے قدرتی وسائل کے وزیر کمال محمد کا کہنا ہے کہ کردستان کے علاقے میں تیل کی پیداوار دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    عراق کے قدرتی وسائل کے وزیر نے ہفتہ 28 ستمبر کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران ملک کے آئل فیلڈز اور تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد تیل کمپنیوں نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے اور خطے میں تیل کی پیداوار 220,000 سے 230,000 بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

    کمال محمد نے مزید کہا، ’سرسنگ آئل فیلڈ کے استثنا کے ساتھ، جسے کئی ڈرون حملوں کے بعد مزید نقصان پہنچا، تمام آئل فیلڈز نے دوبارہ پیداوار شروع کر دی ہے۔‘ گذشتہ برس، امریکی کمپنی ایچ کے این انرجی، جو عراق کے کردستان ریجن میں سرسنگ آئل فیلڈ کا انتظام کرتی ہے، نے اعلان کیا کہ اس نے منگل، 14 جولائی 2025 کی صبح ڈرون حملوں کے بعد پیداواری کارروائیاں معطل کر دی ہیں، جس کی وجہ سے آئل فیلڈ میں کئی دھماکے ہوئے۔

    ایک روز قبل، کردستان کی علاقائی حکومت کی انسداد دہشت گردی پولیس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ پیر کی شام کو دو ڈرونز نے عراقی کردستان میں خرم اللہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ کردستان کے علاقے میں سیکورٹی ذرائع نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ڈرون ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں سے اڑائے گئے تھے۔

  9. ایک خوابوں کا سفر، آخری واٹس ایپ پیغام اور پھر لاپتا ہونے والی خاتون کی کہانی

    بدھ کی صبح 08:03 بجے سُبھراشری چکرورتی نے اپنے شوہر سودیپتو بھٹاچاریہ کو آخری واٹس ایپ پیغام بھیجا، ’ہم چین میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ اس سے چند منٹ قبل انھوں نے نیپال کی سرحد پر امیگریشن مکمل ہونے کے بعد پاسپورٹ پر لگنے والی مہر کی تصویر بھی بھیجی تھی۔

    پھر اچانک رابطہ منقطع ہو گیا۔

    43 سالہ سُبھراشری اُن سینکڑوں انڈین شہریوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    سُبھراشری کولکتہ کے ایک ہسپتال میں کریٹیکل کیئر میڈیکل ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ ان کے شوہر کے مطابق وہ جسمانی طور پر فِٹ تھیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت بھی رکھتی تھیں، مگر یہ سب کچھ اُن کے اہلِ خانہ کو اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ 08:03 کے بعد اُن کے ساتھ کیا ہوا۔

    ان کے شوہر کہتے ہیں، ’08:03 کے بعد کیا ہوا؟ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔‘

    ماونٹ کیلاش کا سفر سُبھراشری کا برسوں پرانا خواب تھا۔ لاپتہ ہونے سے چند روز قبل انھوں نے کھٹمنڈو سے اپنے خاندان کو تصاویر بھیجی تھیں جن میں وہ مندروں اور دربار سکوائر کی تاریخی عمارتوں کے درمیان مسکراتی نظر آتی ہیں۔

    ان کے شوہر یاد کرتے ہیں، ’وہ بہت پُرجوش تھیں۔ یہ اُن کے خوابوں کا سفر تھا۔‘

    سُبھراشری 21 اگست کو کولکتہ سے روانہ ہوئیں، نیپال کے راستے کھٹمنڈو پہنچیں اور وہاں چند روز گزارنے کے بعد زائرین کے ایک گروپ کے ساتھ تبت کی جانب روانہ ہوئیں۔

    26 اگست کی صبح وہ سرحد کے قریب تھیں۔ فون پر آخری گفتگو میں انھوں نے شوہر کو بتایا تھا کہ موسم ٹھیک ہے۔ بعد میں پیغام بھیجا کہ نیپالی امیگریشن مکمل ہو چکی ہے اور گروپ تبت میں داخلے کا انتظار کر رہا ہے۔

    اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔

    دوپہر میں جب سیلاب کی خبریں سامنے آئیں تو سودیپتو نے اپنی اہلیہ، اُن کے ساتھی زائرین، ٹور آپریٹر اور گروپ منیجرز سے رابطے کی بارہا کوشش کی، مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔

    کئی دن گزرنے کے باوجود خاندان کو ابھی تک سُبھراشری کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل سکی۔

    ان کے شوہر کہتے ہیں، ’ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ بچ گئی ہیں یا نہیں۔ لاپتہ افراد، ہلاک شدگان اور بچائے گئے لوگوں کی فہرست جاری کی جائے تاکہ ہمیں کوئی خبر مل سکے۔‘

    پھر وہ اپنے کرب کو ان الفاظ میں بیان کرتے، ’میں آپ کو کیا بتاؤں؟ کئی راتوں سے نیند نہیں آئی، بس فون پر خبریں تلاش کر رہے ہیں۔‘

  10. امریکی پابندیوں کے خلاف بینک آف مصر کا قانونی چارہ جوئی کا اعلان

    بینک آف مصر نے کہا ہے کہ وہ امریکی محکمۂ خزانہ کے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا جس کے تحت متحدہ عرب امارات میں اس کی شاخوں کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    مصر کے بڑے بینکوں میں شمار ہونے والے بینک آف مصر نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں اس کی شاخیں بدستور متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق صارفین کو بینکاری خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

    بینک کے خلاف امریکی اقدام واشنگٹن کی جانب سے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کی مہم کے تحت کی جانے والی پہلی علانیہ کارروائیوں میں سے ایک تھا، جس پر 30 دن کے اندر عمل درآمد ہونا تھا۔

    امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخیں ایران کے ساتھ مالی لین دین اور ایرانی حکومت کی معاونت میں ملوث رہی ہیں، اس لیے انھیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    اس کے جواب میں بینک آف مصر نے کہا ہے کہ وہ ضروری قانونی اور ریگولیٹری اقدامات کرے گا اور مقررہ مدت کے دوران امریکی محکمۂ خزانہ سے رابطہ بھی کرے گا۔

    ادھر مصر کے مرکزی بینک نے جمعے کو واضح کیا کہ ایران سے متعلق امریکی پابندیاں صرف متحدہ عرب امارات میں بینک آف مصر کی شاخوں تک محدود ہیں اور ان کا اطلاق کسی دوسرے مصری بینک پر نہیں ہوتا۔

  11. توانائی منڈیوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا بوجھ امریکی صارفین اٹھا رہے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کا براہ راست اثر عام امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق توانائی کی منڈیوں کو ’کھیلنے‘ یا ان پر اثرانداز ہونے کی بڑی کوششیں جاری ہیں۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ امریکی حکومت سے وابستہ بعض عناصر میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے قیمتوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ذاتی مفادات حاصل کیے جا سکیں اور امریکی صدر کو ایک ’ہارتی ہوئی جنگ‘ میں الجھائے رکھا جا سکے۔

    عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل کے حامی بعض حلقے جنگ سے متعلق ’حد سے زیادہ پرامید‘ اندازے پیش کر رہے ہیں اور جنگ کے حق میں بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ان تمام سرگرمیوں کا اصل بوجھ امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے، جو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات براہ راست محسوس کر رہے ہیں۔

  12. امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی درآمدات کو مشکلات کا سامنا ہے، پارلیمانی اقتصادی کمیشن کے رکن

    پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے لیے درآمدات کو مشکل بنا دیا ہے۔

    ان کے مطابق ایران کی 210 ملین ٹن درآمدات میں سے 83 فیصد جنوبی بحیرۂ چین کے راستے آتی ہیں، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اس تجارتی راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔

    جعفر قادری نے کہا کہ ایران کو یومیہ 15 سے 20 ملین لیٹر پٹرول کے خسارے کا سامنا ہے، جبکہ ہر لیٹر پٹرول درآمد کرنے پر حکومت کو تقریباً ایک ڈالر خرچ کرنا پڑتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں ماضی کی طرح بلا پابندی پٹرول فراہم کرنا منطقی نہیں، کیونکہ اس کا ایک حصہ سمگل بھی ہو جاتا ہے۔

    رکن پارلیمنٹ کے مطابق حکومت کو توازن برقرار رکھنے کے لیے بعض کنٹرول نافذ کرنے ہوں گے، جن میں کوٹہ کم کرنا یا قیمتوں میں ردوبدل جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

  13. سیلاب سے نیپال میں 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ

    نیپال میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ملک میں ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث تشویش بدستور برقرار ہے۔

    جمعے کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہیں۔‘

    ڈیوڈ فشر کے مطابق بُدھ کے روز آنے والی تباہی سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    ریڈکریسنٹ نے ہنگامی امدادی کارروائیوں اور جان بچانے والی فوری ضروریات کے لیے عطیہ دہندگان سے تقریباً ڈھائی کروڑ سوئس فرانک (تقریباً تین کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر) فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک کر دیا گیا ہے۔

  14. نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی

    بدھ کے روز نیپال میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔

    نیپال پولیس نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی گئی تھی۔

    ادھر چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    سیلاب کے بعد نیپال میں بین الاقوامی امدادی اداروں اور کئی ممالک کی حکومتوں نے ہنگامی امداد اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال میں تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔

    یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق دس ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔

  15. ہم چین کے ساتھ مسلسل قریبی رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں: نیپالی وزیر خارجہ

    نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال سے جب صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ اس بحران کے دوران چین کی جانب سے بروقت معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئیں، تو انھوں نے کہا کہ واقعے کی نوعیت ایسی تھی کہ ممکن ہے ابتدائی مرحلے میں خود چینی حکام کے پاس بھی مکمل اور واضح معلومات موجود نہ ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ضروری معلومات اور تفصیلات اب چین کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں۔ ہم واقعے کے بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قریبی سطح پر ہم آہنگی جاری ہے۔‘

    ان کے مطابق چین نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کے مقام پر بننے والی جھیل کی نگرانی کر رہا ہے بلکہ ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات بھی نیپال کو فراہم کر رہا ہے تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

  16. وینزویلا نے امریکہ کے ساتھ تیل کے معاہدے کی تصدیق کر دی

    وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تیل کے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے وینزویلا کی معاشی بحالی میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری جبکہ 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث عالمی تیل کی رسد دباؤ کا شکار ہے، جبکہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی بلند قیمتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں رسائی فراہم کرے گا۔ انھوں نے اسے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو ملکی معیشت کی تعمیر نو اور توانائی کے شعبے کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

    تاہم، تیل کے ذخائر پر کنٹرول یا ملکیت کی منتقلی کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کے مطابق کئی اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ذخائر کی ملکیت کس طریقہ کار اور کس وقت منتقل کی جائے گی۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دونوں ممالک 12 آئل فیلڈز سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد نجی کمپنیاں، جن میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، ان شعبوں کی ترقی اور پیداوار بڑھانے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  17. نیپال کے سیلاب میں 320 انڈین شہری تاحال لاپتہ: وزارتِ خارجہ

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ ’نیپال میں آنے والے سیلاب کے بعد 320 انڈین شہری تاحال لاپتہ ہیں۔‘

    وزارت کے مطابق اب تک 84 انڈین شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان میں تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 21 افراد بھی شامل ہیں جو جمعے کو انڈیا واپس پہنچے۔ اس کے علاوہ تریشولی-ون منصوبے پر کام کرنے والے 63 افراد کو بھی بحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق مزید 149 انڈین شہری آج چین سے بحفاظت نیپال پہنچے ہیں۔ تقریباً 400 انڈین شہری چین میں محفوظ ہیں اور انڈین سفارتخانہ ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’انھیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔‘

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار جمعے کی رات 10 بجے تک کے ہیں۔

    نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کے مطابق سیلاب اور دیگر واقعات میں اب تک 616 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

  18. پیٹرول کی کمی پوری کرنے کے لیے ذخائر استعمال کریں گے: پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے ترجمان

    ایرانی پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ملک میں اس وقت یومیہ تقریباً 13 کروڑ 20 لاکھ لیٹر پیٹرول پیدا ہو رہا ہے۔‘

    رضا سپہوند کے مطابق موجودہ حالات میں روزانہ پیٹرول کی کھپت 13 کروڑ 70 لاکھ لیٹر سے زیادہ ہے، جبکہ ستمبر کے اختتام تک یہ مقدار 14 کروڑ لیٹر سے تجاوز کر جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ طلب اور رسد کے اس فرق کو پورا کرنے کے لیے ’پیٹرول کے ذخائر‘ استعمال کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ گزشتہ برسوں میں بھی کیا جاتا رہا ہے، تاکہ آگے چل کر زیادہ کھپت والے دنوں سے نمٹا جا سکے۔‘

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیٹرول کی فراہمی میں مشکلات کو جنگی حالات اور ملک کی آمدنی میں کمی سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’درآمدی راستے بند ہونے کے باعث پیٹرول سمیت اشیا کی ملک میں آمد مشکل ہو گئی ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاریں اور بعض پیٹرول پمپس کی بندش دکھائی گئی ہے، خصوصاً تہران میں۔

  19. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا جوہری تجربات روکنے پر زور

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’جوہری تجربات اعتماد کو تباہ کرتے، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دیتے اور ان معاشروں سے غداری کے مترادف ہیں جو آج بھی ماضی کے جوہری تجربات کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

    گوتریس نے اپنے پیغام میں تمام جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ جوہری تجربات پر عائد موجودہ پابندیوں کی پاسداری کریں اور ’جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے پر عمل درآمد کریں۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’آئیے جوہری تجربات کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔‘

  20. رنگوں سے بھرا شہر ملبے کا ڈھیر بن چُکا ہے

    وسطی نیپال کے علاقے نوواکوت میں واقع دیوی گھاٹ سے سامنے آنے والی نئی تصاویر بدھ کو آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی اور بربادی کو واضح کرتی ہیں۔

    یہ مقام ایک مقدس اور اہم زیارتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، جو دریائے تریشولی اور دریائے کالی گنڈکی کے سنگم پر واقع ہے۔