آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی

بدھ کے روز نیپال میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی گئی تھی۔ ادھر چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سیلاب سے نیپال میں 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ

    نیپال میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ملک میں ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث تشویش بدستور برقرار ہے۔

    جمعے کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہیں۔‘

    ڈیوڈ فشر کے مطابق بُدھ کے روز آنے والی تباہی سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    ریڈکریسنٹ نے ہنگامی امدادی کارروائیوں اور جان بچانے والی فوری ضروریات کے لیے عطیہ دہندگان سے تقریباً ڈھائی کروڑ سوئس فرانک (تقریباً تین کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر) فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک کر دیا گیا ہے۔

  2. نیپال کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی

    بدھ کے روز نیپال میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔

    نیپال پولیس نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی گئی تھی۔

    ادھر چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    سیلاب کے بعد نیپال میں بین الاقوامی امدادی اداروں اور کئی ممالک کی حکومتوں نے ہنگامی امداد اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال میں تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔

    یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق دس ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔

  3. ہم چین کے ساتھ مسلسل قریبی رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں: نیپالی وزیر خارجہ

    نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال سے جب صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ اس بحران کے دوران چین کی جانب سے بروقت معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئیں، تو انھوں نے کہا کہ واقعے کی نوعیت ایسی تھی کہ ممکن ہے ابتدائی مرحلے میں خود چینی حکام کے پاس بھی مکمل اور واضح معلومات موجود نہ ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ضروری معلومات اور تفصیلات اب چین کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں۔ ہم واقعے کے بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قریبی سطح پر ہم آہنگی جاری ہے۔‘

    ان کے مطابق چین نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کے مقام پر بننے والی جھیل کی نگرانی کر رہا ہے بلکہ ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات بھی نیپال کو فراہم کر رہا ہے تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

  4. وینزویلا نے امریکہ کے ساتھ تیل کے معاہدے کی تصدیق کر دی

    وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تیل کے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے وینزویلا کی معاشی بحالی میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری جبکہ 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث عالمی تیل کی رسد دباؤ کا شکار ہے، جبکہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی بلند قیمتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں رسائی فراہم کرے گا۔ انھوں نے اسے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو ملکی معیشت کی تعمیر نو اور توانائی کے شعبے کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

    تاہم، تیل کے ذخائر پر کنٹرول یا ملکیت کی منتقلی کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کے مطابق کئی اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ذخائر کی ملکیت کس طریقہ کار اور کس وقت منتقل کی جائے گی۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دونوں ممالک 12 آئل فیلڈز سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد نجی کمپنیاں، جن میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، ان شعبوں کی ترقی اور پیداوار بڑھانے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  5. نیپال کے سیلاب میں 320 انڈین شہری تاحال لاپتہ: وزارتِ خارجہ

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ ’نیپال میں آنے والے سیلاب کے بعد 320 انڈین شہری تاحال لاپتہ ہیں۔‘

    وزارت کے مطابق اب تک 84 انڈین شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان میں تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 21 افراد بھی شامل ہیں جو جمعے کو انڈیا واپس پہنچے۔ اس کے علاوہ تریشولی-ون منصوبے پر کام کرنے والے 63 افراد کو بھی بحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق مزید 149 انڈین شہری آج چین سے بحفاظت نیپال پہنچے ہیں۔ تقریباً 400 انڈین شہری چین میں محفوظ ہیں اور انڈین سفارتخانہ ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’انھیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔‘

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار جمعے کی رات 10 بجے تک کے ہیں۔

    نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کے مطابق سیلاب اور دیگر واقعات میں اب تک 616 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

  6. پیٹرول کی کمی پوری کرنے کے لیے ذخائر استعمال کریں گے: پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے ترجمان

    ایرانی پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ملک میں اس وقت یومیہ تقریباً 13 کروڑ 20 لاکھ لیٹر پیٹرول پیدا ہو رہا ہے۔‘

    رضا سپہوند کے مطابق موجودہ حالات میں روزانہ پیٹرول کی کھپت 13 کروڑ 70 لاکھ لیٹر سے زیادہ ہے، جبکہ ستمبر کے اختتام تک یہ مقدار 14 کروڑ لیٹر سے تجاوز کر جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ طلب اور رسد کے اس فرق کو پورا کرنے کے لیے ’پیٹرول کے ذخائر‘ استعمال کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ گزشتہ برسوں میں بھی کیا جاتا رہا ہے، تاکہ آگے چل کر زیادہ کھپت والے دنوں سے نمٹا جا سکے۔‘

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیٹرول کی فراہمی میں مشکلات کو جنگی حالات اور ملک کی آمدنی میں کمی سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’درآمدی راستے بند ہونے کے باعث پیٹرول سمیت اشیا کی ملک میں آمد مشکل ہو گئی ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاریں اور بعض پیٹرول پمپس کی بندش دکھائی گئی ہے، خصوصاً تہران میں۔

  7. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا جوہری تجربات روکنے پر زور

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’جوہری تجربات اعتماد کو تباہ کرتے، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دیتے اور ان معاشروں سے غداری کے مترادف ہیں جو آج بھی ماضی کے جوہری تجربات کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

    گوتریس نے اپنے پیغام میں تمام جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ جوہری تجربات پر عائد موجودہ پابندیوں کی پاسداری کریں اور ’جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے پر عمل درآمد کریں۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’آئیے جوہری تجربات کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔‘

  8. رنگوں سے بھرا شہر ملبے کا ڈھیر بن چُکا ہے

    وسطی نیپال کے علاقے نوواکوت میں واقع دیوی گھاٹ سے سامنے آنے والی نئی تصاویر بدھ کو آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی اور بربادی کو واضح کرتی ہیں۔

    یہ مقام ایک مقدس اور اہم زیارتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، جو دریائے تریشولی اور دریائے کالی گنڈکی کے سنگم پر واقع ہے۔

  9. سیلاب سے ملنے والی سینکڑوں لاشیں اب شناخت کے قابل نہیں رہیں: حکام

    نیپال کے جنوبی وسطی ترائی علاقے میں واقع چتوان ضلع کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد اب تک ملنے والی 233 لاشوں میں سے صرف چار کی شناخت ہو سکی ہے۔

    واضح رہے کہ نیپال میں آنے والے سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 616 تک جا پہنچی ہے۔

    چتوان کے ضلعی انتظامیہ کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طبی مراکز اور دریاؤں کے کناروں سے ملنے والی لاشیں اور انسانی باقیات گلنے سڑنے کی حالت میں ہیں اور اب ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔‘

    حکام کا کہنا ہے کہ ’باقی 229 لاشیں عارضی مراکز اور طبی اداروں میں رکھی گئی ہیں، جبکہ ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔‘

  10. اسرائیلی فوج کا جنین میں فضائی حملہ، حماس کے اہم رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انھوں نے جمعے کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں ایک ’سیل‘ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے، جس میں حماس کے ایک رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    حماس اور اسلامی جہاد دونوں نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے انھیں مغربی کنارے میں اپنے ’اہم ترین‘ رہنماؤں میں شامل قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق جنین میں حملے کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے جنھیں اس نے ’دہشت گرد‘ قرار دیا۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہلاک ہونے والوں میں قیس البطاوی بھی شامل تھے، جو جنین کیمپ میں حماس کی مقامی سرگرمیوں کے ذمہ دار تھے۔‘ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کیمپ آپریشن آئرن وال کے دوران ختم کر دیا گیا تھا اور البطاوی متعدد ’دہشت گردانہ سرگرمیوں‘ کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کارروائی فضائی حملے کے ذریعے کی گئی، جس میں البطاوی کے ’دو مزید ساتھی‘ بھی مارے گئے، جبکہ ان کی گاڑی سے ایک ’ہتھیار‘ بھی برآمد ہوا۔‘

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے البطاوی کی ہلاکت پر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور انھیں اپنے ان رہنماؤں میں شامل قرار دیا جنھوں نے جنین گورنری میں متعدد ’القسام کارروائیوں‘ کی نگرانی اور انھیں انجام دینے میں کردار ادا کیا۔

    ادھر اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے بھی البطاوی کی ہلاکت پر تعزیت کرتے ہوئے انھیں مغربی کنارے میں القدس بریگیڈز کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا۔

  11. امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تیل کا معاہدہ: ’ہم نے 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر بڑا کنٹرول حاصل کر لیا ہے،‘ ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن نے وینزویلا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جسے انھوں نے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق مذاکرات وینزویلا کی عبوری حکومت اور نجی شعبے کی شرکت سے ہوئے۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے وینزویلا کے ثابت شدہ 65 ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر میں سے نصف سے زیادہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے پر امریکی ٹیکس دہندگان کو کوئی لاگت نہیں آئے گی اور اس سے امریکہ کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے۔‘

    وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ کے ساتھ تیل کے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس معاہدے سے ملک کی بحالی پر ’نمایاں اثر‘ پڑے گا اور وینزویلا میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری جبکہ حکومت کو 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔‘

    معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر کی ہے اور پیٹرول کی بلند قیمتیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہیں۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’معاہدے سے عالمی سطح پر تیل کی رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور طویل مدت میں امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مذاکرات میں وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کیا۔‘

    ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ ’معاہدے کے تحت وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے ملک کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔‘

    تاہم تیل کے ذخائر کا کنٹرول کس طرح منتقل کیا جائے گا اور یہ عمل کب ہوگا، اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔

    یونیورسٹی آف ٹیکساس کے انرجی انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو جارج پینیون کے مطابق ملکیت کی منتقلی کے طریقہ کار اور وقت سمیت کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔

    اس سے قبل ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ ’امریکہ اور وینزویلا تقریباً 90 ارب بیرل کے ثابت شدہ ذخائر رکھنے والے 12 تیل کے ذخائر کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان ذخائر کی ترقی میں نجی کمپنیوں، جن میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، کا کردار ہوگا۔

  12. نعیم قاسم کا لبنان اسرائیل معاہدے سے ایک بار پھر انکار، ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘

    لبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعے کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی حمایت یافتہ گروپ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘

    انھوں نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ’ہم فریم ورک معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات اس وقت شروع ہوئے تھے جب دو مارچ کو حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے کے بعد جنگ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حملوں اور لبنان میں زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لبنانی حکام کے مطابق جنگ میں 4,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جون کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے تھے، جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کا مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ اس عمل کا آغاز ’ٹیسٹ زونز‘ سے ہونا ہے۔

    نعیم قاسم نے اس معاہدے کو ’ناجائز، غیر قانونی، توہین آمیز اور لبنان کی خودمختاری کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ ’حزب اللہ ٹیسٹ زونز اور کسی بھی تصدیقی طریقہ کار کی مخالفت کرتی ہے۔‘

    انھوں نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد کی حمایت بھی کی اور کہا کہ ’ہم سر بلند رکھیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘

  13. مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام پر ایرانی حکام کا ردعمل، حکومت کی حمایت اور ’سماجی اتحاد‘ پر زور

    ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک پیغام سامنے آنے کے بعد کئی ایرانی حکام نے اس پر ردعمل دیا ہے۔ پیغام میں مسعود پزشکیان کی حکومت کی حمایت اور ملک میں ’سماجی اتحاد‘ برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعے کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان کی حکومت کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور ناکہ بندی کے دوران عوام کی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ملکی پیداوار بڑھانے اور لین دین میں امریکی ڈالر کا کردار بتدریج ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

    رہبرِ انقلاب سے منصوب کیے جانے والے اس بیان میں کہا گیا کہ ’گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی اور ااسرائیلی جارحیت کے باوجود ایرانی قوم نے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے صدر پزشکیان سمیت سرکاری اداروں کے ملازمین اور منتظمین کی ان کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا جن کے ذریعے عوام کو اشیا اور مختلف خدمات کی فراہمی، جنگ سے متاثرہ اہم علاقوں کی بحالی اور توانائی کے انتظام کو یقینی بنایا گیا۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے مہنگائی، بے روزگاری، اشیا اور خدمات کی قیمتوں و منڈی کے انتظام، اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور اسے ضروری شعبوں کی جانب منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار بڑھانے پر سنجیدہ توجہ دینے پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ڈالر کے کردار کو بتدریج ختم کیا جانا چاہیے اور معیشت سے متعلق تمام پالیسیوں میں ’مزاحمتی معیشت‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان تمام مسائل کے حل کی بنیادی کنجی زیادہ سے زیادہ ملکی پیداوار پر انحصار ہے، تاہم جہاں ملکی پیداوار کافی نہ ہو وہاں درآمدات کا درست اور دانشمندانہ استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’ایران کا دشمن یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ترقی کا راستہ امریکہ کی پیروی اور اس کے مطالبات تسلیم کرنے میں ہے، لیکن ماضی میں ایران اور اس کے وسائل کے ساتھ امریکہ کے رویے سے اس کے برعکس ثابت ہوتا ہے۔‘

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے ’مایوس کن گفتگو‘ سے گریز کرنے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے روکنے پر زور دینا ایک واضح پالیسی ہے۔‘ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور سماجی اتحاد، قومی طاقت اور سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا کہ ’اس پیغام کو تمام حکام کے لیے ’آنکھیں کھول دینے والا‘ ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی قسم کی ’مایوس کن گفتگو‘ سے گریز کیا جائے، جبکہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والا ہر اقدام قومی اور مذہبی اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔‘

  14. ایران سے رابطہ اور اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں: پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران سے رابطہ اور اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حکام کے آبنائے ہرمز کھلے ہونے سے متعلق بیانات کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی فورس کے مطابق ’امریکہ یہ بیانات تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے دے رہا ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار ہے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ختم نہیں ہوتی اور ایران کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘

  15. امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے امارات میں بینک مصر کی شاخ پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی وزارتِ خزانہ نے متحدہ عرب امارات میں بینک مصر کی شاخ کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

    بینک مصر، مصر کا دوسرا بڑا سرکاری بینک ہے، جس کی متحدہ عرب امارات میں بھی شاخ موجود ہے۔

    امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ امارات میں بینک مصر کی شاخ ’ایرانی حکومت کی امریکی ڈالر تک رسائی کے اہم ترین راستوں میں سے ایک‘ ہے اور وزارت کے جائزوں کے مطابق اس بینک نے جنوری 2024 سے رواں سال جون تک 103 کمپنیوں کے لیے تقریباً ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالی لین دین انجام دی، ایسی کمپنیاں جو ممکنہ طور پر ایران کے ’شیڈو بینکاری نیٹ ورک‘ کا حصہ ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر لکھا: ’امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تہران کی معیشت کی باقی ماندہ شریانیں بھی کاٹ دے گا اور بالآخر ایرانی حکومت کی جانب سے پیدا کیے جانے والے خطرات کا خاتمہ کرے گا۔ ہم نے ایرانی حکومت کے حامیوں اور سہولت کاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کے فوائد حاصل نہیں کر سکتے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ امارات میں بینک مصر کی شاخ نے ’اس انتباہ کو آزمانے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور آج ہم اس بینک کو ایرانی حکومت کی واضح اور مسلسل حمایت پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے پہلا قدم اٹھا رہے ہیں۔‘

  16. نیپال میں سیلاب: اب تک ہم کیا جانتے ہیں

    • نیپال میں سیلاب کو آئے 60 گھنٹے سے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
    • نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے، جبکہ 2000 افراد تا حال لاپتہ ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
    • ادارے کے مطابق ان لاپتہ افراد میں 517 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم اس سے قبل نیپالی پولیس نے بتایا تھا کہ 575 غیر ملکی شہری لاپتہ ہیں، جن میں 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
    • چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں پانچ افراد ہلاک اور 550 سے زائد لاپتہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان اعداد و شمار میں نیپال میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد شامل ہیں یا نہیں۔
    • چینی حکام لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی ایک عارضی جھیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جھیل میں شگاف پڑنے اور مزید پانی کے اخراج کے خدشے کے باعث تلاش کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں، تاہم بعد میں امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
    • دنیا بھر میں متعدد خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر ہیں۔
  17. کرک میں کارروائی کر کے دو شدت پسند ہلاک کر دیے: محکمۂ انسداد دہشت گردی کا دعویٰ

    محکمۂ انسداد دہشت گردی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سی ٹی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق، اطلاع موصول ہوئی کہ تھانہ خرم کی حدود میں نیکی صاحب زیارت کے قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر اور نائب کمانڈر شعیب عرف سیف نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سڑک کو بند کر رکھا ہے اور بارودی مواد نصب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر کوہاٹ ریجن کی ٹیموں نے اضافی نفری کے ساتھ علاقے کا رخ کیا۔

    حکام کے مطابق اہلکاروں کی آمد پر مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

    پریس ریلیز کے مطابق دونوں جانب سے کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ فائرنگ رکنے کے بعد علاقے کی تلاشی لی گئی تو دو شدت پسندوں کی لاشیں ملیں جبکہ ان کے دیگر ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے تھے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک افراد کے قبضے سے دو سب مشین گنز، دو ہینڈ گرینیڈز، چھ میگزین اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے جنھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

  18. نجی املاک شدت پسندی کے لیے استعمال ہوئیں تو مالکان کو سہولت کار سمجھا جائے گا: وزیراعلیٰ بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر مستونگ میں انگور کے باغات سے سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوتا ہے تو جائیداد کے مالکان سہولت کار تصور کیے جائیں گے۔

    جمعہ کے روز سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت ایسی کارروائیاں نہیں چاہتی جن سے عام شہری متاثر ہوں، اگرچہ شدت پسند اکثر عام انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔

    مستونگ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور انگور کے باغات اور نجی جائیدادوں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر کسی باغ سے سکیورٹی فورسز کے قافلوں یا وزیر داخلہ پر حملہ کیا جاتا ہے تو باغات کے مالکان یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے کہ انھیں اپنی زمین پر شدت پسندوں کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

    ان کے بقول اگر نجی ملکیت شدت پسندی کے لیے استعمال کی جاتی ہے تو اس کے مالک کو بھی سہولت کار سمجھا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ باغات کے مالکان کو بار بار تنبیہ کی جا رہی ہے۔ اگر شدت پسندی کے لیے نجی جائیدادوں کا استعمال جاری رہا تو حکومت کے پاس لوگوں کو وہاں سے منتقل کر کے دوسری جگہ آباد کرنے یا شدت پسندی کے لیے استعمال کیے جانے والے باغات کو ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

    میر سرفراز بگٹی کے مطابق یہ بات قابل قبول نہیں کہ نجی املاک شدت پسندی کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔

  19. بریکنگ, نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 579 ہو گئی:حکام

    نیپال میں حکام نے سیلاب سے متاثر افراد کی تازہ اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے۔

    نیپال کے قومی ادارہ برائے آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام کی جانب سے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 4,000 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے تاہم 517 غیرملکی شہریوں سمیت تقریباً 2,000 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے 15,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    کچھ دیر قبل ہم نے نیپالی پولیس کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ 575 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔

    یاد رہے کہ نیپال کی پولیس اور قومی ادارہ برائے آفات دونوں ادارے الگ الگ ہیں اور ان کے اعداد و شمارجاری کرنے کے دوران دو گھنٹے کا فرق ہے۔

  20. لاپتہ برطانوی خاتون کے شوہر جو ’خود بدترین صورتحال کے لیے تیار کر رہے ہیں‘, جیمس کیلی، بی بی سی

    نیپال کے سیلاب میں لاپتہ ایک برطانوی خاتون کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    وکرم کولگاٹلا کو اب خدشات ہیں کہ آیا ان کی اہلیہ گیتھا ریڈی اچانک آنے والے سیلاب میں زندہ بچ سکی ہیں یا نہیں۔

    لندن سے تعلق رکھنے والے وکرم کا کہنا ہے کہ 43 سالہ گیتھا ہفتے کے روز ایک مذہبی مقام کی زیارت کے لیے اس علاقے گئی تھیں اور انھیں چار ستمبر کو واپس آنا تھا۔

    سیلاب آنے کے بعد سے ان کا گیتھا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ان کے بقول برطانوی قونصل خانے سے بھی انھیں ’زیادہ معلومات‘ نہیں مل رہی ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ قونصل خانے نے انھیں بتایا ہے کہ وہ ’تازہ معلومات کے لیے نیپال پر انحصار کر رہے ہیں۔‘

    50 سالہ وکرم اور ان کی 12 اور 14 سالہ دو بیٹیاں کسی بھی خبر کے انتظار میں بے چینی سے وقت گزار رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ میری دو چھوٹی بیٹیاں ہیں اور ان کے سکول اگلے ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔ بچے اب بھی اس بات پر یقین نہیں کر رہے۔‘

    ’ان کا خیال ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقے میں پھنسی ہوئی ہیں اور واپس آ جائیں گی۔ موبائل فون کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔ میں انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھیں۔‘